آج سے 33سال قبل 1988 کے انتخابات میں محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گئیں تھیں اُس وقت اُن کی عمر 35 سال تھی اور یوں وہ دنیا کی سب سے کم عمر سربراہِ حکومت اور کسی اسلامی ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم قرار پائیں۔ تاہم، 20 ماہ بعد انہیں صدر غلام اسحاق خان کے احکامات کے تحت کرپشن کے الزامات پر اس عہدے سے برطرف کر دیا گیا: ۔سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ ہماری تاریخ کا ایک اہم کردار ہیں۔ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر ضیاء الحق کے طیارہ حادثے کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو لوٹانے کا کارنامہ انجام دے چکے ہین ۔ جنرل صاحب اس وقت وائس چیف آف آرمی سٹاف تھے اور اور اگر وہ چاہتے تو اپنے آپ کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دے کر اقتدار کا منصب سنبھال لیتے مگر انہوں نے اس سے گریز کیا۔ اسلم بیگ ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف خبروں کی زینت بنتے رہے گذشتہ دنوں ان کی سوانح عمری اقتدار کی مجبوریاں پڑھنے کا موقع ملا یہ کتاب فوج کے ممتاز مصنف کرنل اشفاق حسین نے تحریر کی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انہیں اپنے گھر پر دعوت دی اور مستقبل کی وزیراعظم کی حیثیت سے ان کو اہم ملکی معاملات سے متعلق ضروری باتیں بتائیں اور صرف تین باتوں کی درخواست کی: (۱) فوج سے کوئی شکائت ہو تو مجھے بتائیے گا میں دیکھ لون گا۔یہ میری ذمہ داری ہے(۲) جنرل ضیاء الحق کے لئے آپ کا دل سخت ہے ان کے اہل خانہ کے لئے نرمی کی گنجائش رکھئے گا اور جب صدر بنانے کا وقت آئے تو غلام اسحاق خان کا نام بھی سامنے رکھئے گا وہ 1975سے لیکر اب تک ایٹمی پروگرام سے منسلک رہے ہیں ۔ محترمہ نے ان تینوں باتوں کا احترام کیا ۔
وہ لکھتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو اقتدار سنبھالے ابھی چند ہفتے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے ملٹری سیکریٹری میجرجنرل امتیاز کو میرے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ موجودہ سینئر آفیسر زمیں جنرل ضیاء الحق کے قریبی اور بااعتماد آفیسرز کون ہیں تاکہ انہیں مناسب جگہوں پر ایڈجسٹ کرلیا جائے ۔ میں حیران رہ گیا کہ جنرل امتیاز یہ پیغام لے کر آئے ہیں ۔ میں نے کہا : جنرل صاحب آپ کو تو معلوم ہے کہ فوج میں سیاسی جماعتوں والا طریقہ نہیں ہوتا کہ برسراقتدار جماعت اپنی پسند کے لوگوں کو لاتی ہے اور پچھلی جماعت کے لوگوں کو ادھر ادھر لگادیا جاتا ہے ۔فوج میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارا ہر آفیسر خواہ سینئر ہو یا جونئیر ہو وہ اپنی اہلیت اور عہدے کی مناسبت سے متعین کیا جاتا ہے ۔اس کی وفاداری کسی شخص کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ اس کی پہچان اپنے کام سے ہوتی ہے ۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت میرے ساتھ وہی آفیسرزہیں جو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تھے ۔میں نے کسی ایک کو بھی تبدیل نہیں کیاہے اور یہی سبب ہے کہ ہمارے پیشہ وروں (Professionals)کی ایک مضبوط ٹیم ہر وقت موجود ہوتی ہے جو اپنی ذمہ داری سنبھالنے کی اہل ہوتی ہے اگر محترمہ کو نام چاہئے تو ایک نام دے سکتا ہوں جو جنرل ضیاء الحق کے بہت ہی قریبی اور بااعتماد سمجھے جاتے تھے ۔وہ جنرل اسلم بیگ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میرا جواب سننے کے بعد شائد محترمہ نے مجھے تبدیل کرنے کا سوچا جیسا کہ مجھے معلوم ہواکہ ہمارے ایک کور کمانڈر اس کوشش میں تھے کہ وہ میری جگہ لے لیں اور مجھے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چئیرمین بنادیا جائے ۔ادھر محترمہ بے نظیر بھٹو کے معتمدین اشخاص میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو مجھ سے بلاوجہ کی مخاصمت رکھتے تھے وہ بھی اس سازش میں شریک ہوگئے۔
اسلم بیگ کے مطابق جب مجھے معلوم ہوا کہ ایسی کوئی کھچڑی پک رہی ہے تو میں نے فارمیشن کمانڈ کانفرنس میں اس سازش کا ذکر کیا اور سختی سے کہاکہ فوج کی طرف سے جو کوئی بھی اس سازش میں شریک ہیں وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں وگرنہ ان کے خلاف انضباطی کاروائی کی جاسکتی ہے اس کانفرنس میں وہ صاحب بھی شریک تھےجو چیف بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ظاہر ہے انہوں نے محترمہ کو بتایا۔محترمہ تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے میرے نام ایک خط میں اعتراف کیا کہ وہ مجھے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بناکر کسی اور کو چیف آف آرمی اسٹاف بنانا چاہتی تھیں لیکن ساتھیوں سے مشورے کے بعد انہوں نے یہ ارادہ ترک کردیا یہ انکی بڑائی تھی
فیس بک کمینٹ

