پاکستان کی سیاست ہمیشہ سے طاقتوروں کے زیر اثر رہی ہے قیام پاکستان سے اب تک کوئی بھی حکومت ایسی قائم نہیں ہوئی جسے حقیقی سیاسی حکومت کہا جائے۔ اب حقیقی سیاسی حکومت کیا ہے پہلے اس کا احاطہ ضروری ہے وہ حکومت جو خالصتاً عوامی رائے سے معرض وجود میں آئے وہ حقیقی سیاسی حکومت کہلائے گی مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں سیاست دان اسٹیبلشمنٹ کی ا شیرباد کے بغیر حکومت بنانے میں ناکام رہے ۔ ہمارے عوام بھی نہایت بھولے اور سادہ لوح ہیں جو ہر پانچ دس برس کے بعد نئے آنے والے کو مسیحا سمجھ کر اس کے گن گانے لگتے ہیں عوام کو ان کے ذریعے ایسے خواب دکھائے جاتے ہیں کہ عوام ایمان کی حد تک ان سیاست دانوں پہ یقین رکھتے ہیں ان کی ہر غلط بات کو بھی درست سمجھ کر ان کی تقلید شروع کر دیتے ہیں ۔ اسٹیبلمشمنٹ ہمیشہ اپنے مہرے بدل کر عوام کے سامنے پیش کرتی ہے اور بعد میں انہیں مہروں کو اس قا بل بھی نہیں چھوڑتی کہ وہ سیاست میں زندہ رہ سکیں۔
قصور اس میں سراسر ہمارے سیاستدانوں کا ہے کہ وہ کیوں ان کے آلہ کار بنتے ہیں حالیہ کچھ عرصے میں ہونے والی سیاسی منظر نامے نے عوام کے دل سے سیاستدانوں کی محبت ختم کر دی سیاستدان اپنے مفاد کی خاطر کسی بھی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں یا کسی بھی پارٹی کو ترک کر سکتے ہیں اب سوال سیاستدانوں سے نہیں بلکہ عوام سے ہے جو ایسے لوگوں کو جو سیاست میں وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں انہیں دوبارہ کیوں منتخب کرتے ہیں 2018 میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام کو اس قدر سہانے خواب دکھائے کہ بڑے بڑے لوگ ان کی باتوں پہ ایمان لے آئے وہ ٹی وی پہ بیٹھ کر پی ٹی آئی کی حکومت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور سیاستدان اپنی پارٹی کے لیڈر کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہو گئے اس بات سے قطع نظر کہ پارٹی کے سربراہ کا اپنے قریبی لوگوں سے رویہ سب کے سامنے تھا مگر اس کے باوجود باقی سیاستدان اپنی جگہ بنانے اور دوسروں کو پچھاڑنے پہ لگے رہے۔
عمران خان کی سوچ اور عمل کسی بھی طرح ایک ڈکٹیٹر سے کم نہیں جس نے ہمیشہ یہ سوچا کہ صرف ایک وہی شخص ہے جو پاکستان کا ہمدرد ہے باقی سب غدار ہیں عمران خان کی اسی سوچ نے آج ایک بار پھر اسے تنہا کر دیا ہے رواں سال 9 مئی کو عمران خان کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا تو عمران خان کے لیڈروں نے عوام کو بہکایا اور بھڑکایا کہ قومی اداروں پہ حملہ کر دیا جائے اداروں کے خلاف عوام کے دل نفرت سے بھر دئیے کہ 9 مئی کے واقعے کے بعد عوام کا جو ری ایکشن منظر عام پہ آیا وہ نہایت خوفناک تھا اداروں کو تباہ کیا گیا کئی عمارتوں کو جلایا گیا گاڑیاں جلائی گئی غرض ہر طرح کا نقصان پہنچایا گیا وہ سب مناظر دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ریاست میں قانون نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے جس شخص کا جو دل چاہا اس نے سوشل میڈیا پہ اداروں کے خلاف بولا۔ ریاست آخر ریاست ہے اور ریاست سے ٹکرانا کسی کے بھی بس کی بات نہیں ادارے حرکت میں آئے اور جو لوگ ان تمام کارر وائیوں میں ملوث تھے انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا کیونکہ حکومت اگر یہ قدم نہ اٹھاتی تو مستقبل میں کوئی بھی جتھے لے کر اداروں پہ چڑھائی کر کے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے یہ خوش آیند فیصلہ کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے عزائم نہ لا سکیں میڈیا کیمروں کی مدد سے ان کی تلاش کی گئی اور ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ساتھ ساتھ اس پارٹی کے سیاستدانوں کو بھی گرفتار کرنا شروع کر دیا وہی سیاستدان جو کل تک عمران خان کے گن گاتے دکھائی دیتے تھے یکدم سے ہی سیاست سے علیحدگی کا اعلان کرتے نظرآئے مگر بات یہ ہے کہ جو ہزاروں لوگوں نے انہیں اپنا نمائیندہ منتخب کیا تھا کیا ان سیاستدانوں نے ان سے اس سلسلے میں کوئی مشورہ کیا یا فقط ذاتی بنیاد پہ اس فیصلے تک پہنچے ۔ یہ تمام افراد اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پارٹی چھوڑ کر سیاست سے دستبرداری کا اعلان کر کے ان ہزاروں ووٹرز کو کیا منہ دکھائیں گے اور کیا یہ تمام سیاستدان اپنے ووٹرز سے معافی مانگیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ وہ عوام سے جھوٹ بول کر فقط اپنے مفاد کے لئے منتخب ہوئے تھے ۔ ووٹرز ان سیاستدانوں کو دوبارہ سے ووٹ دیں گے اور وہ تمام پارٹیاں جو آج ان لوگوں کو دہشت گرد کہہ رہے ہیں وہ انہیں اپنی پارٹی میں جگہ دیں گے اس کا جواب اگر ہاں ہے تو پھر پاکستان میں سیاست کا کوئی مستقبل نہیں اور نا ہی عوام کا کوئی مستقبل ہے سیاستدان اور دیگر اسی طرح عیاشی کرتے رہیں گے جس کی قیمت ہماری نسلیں ادا کرتی رہیں گی۔
فیس بک کمینٹ

