شاکر حسین شاکرکالملکھاری

باتیں مظہر کلیم ایم اے کی(2): کہتا ہوں سچ/شاکر حسین شاکر

مظہر کلیم ایم اے بنیادی طور پر گوشہ نشین کے طور پر جانے جاتے تھے۔ حالانکہ وہ وکالت، لکھاری اور براڈکاسٹر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ لوگوں سے اتنا میل جول اس لیے نہ رکھا کہ پھر ان کے معمولات متاثر ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر باقی لکھنے والوں کی طرح شہر کی تقریبات میں آتے جاتے تو وہ زندگی میں 5000 ناول کس طرح لکھ سکتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے کئی سال پہلے روزنامہ آفتاب ملتان میں نہ صرف بطور صحافی کام کیا بلکہ اس اخبار میں ”تماشہ میرے آگے“ کے عنوان سے 3 برس تک کالم بھی لکھا۔
مظہر کلیم ایم اے سے ریڈیو ملتان کے ڈیوٹی روم میں باقاعدگی سے ہوتی تھیں۔ آخری چند برسوں میں یہ ملاقاتیں اس لیے بھی زیادہ ہو گئیں کہ انہوں نے میری جانب محبت کا ہاتھ خود بڑھایا۔ ایک ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے کہ سرگودھا یونیورسٹی شعبہ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر عامر سہیل کا فون آیا کہ اس کا شعبہ مظہر کلیم ایم اے کے فن و شخصیت پر ایم فل کا تھیسس کرانا چاہتا ہے اور جو طالب علم یہ تھیسس کرنا چاہتا ہے اس نے سرگودھا سے ملتان آنا ہے۔ آپ طالب علم کے لیے وقت لے کر دیں۔ مَیں نے ڈاکٹر عامر سہیل کے کہنے پر مظہر کلیم ایم اے سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ آج کل شدید علیل ہیں۔ پراسٹیٹ کا آپریشن کرانا ہے۔ آپ دو تین ماہ بعد کا وقت رکھ لیں۔ مَیں نے مظہر کلیم ایم اے کی طرف سے ڈاکٹر عامر سہیل کو پیغام دیا تو وہ خاموش ہو گئے۔ اس واقعہ کے کچھ روز بعد مَیں نے مظہر کلیم ایم اے کو ریڈیو ملتان کے ڈیوٹی افسر قاسم رضا کے پاس بیٹھے دیکھا تو مَیں نے ان کی خیریت دریافت کی۔ کہنے لگے طبیعت ٹھیک نہیں ہے گھر آرام کرتے کرتے بور ہو گیا تھا تو سوچا کہ ریڈیو ملتان پر چکر لگا لوں۔ وہ ریڈیو ملتان کے سرائیکی کے مقبول ترین پروگرام ”جمہور دی آواز“ کے میزبان تھے۔ اس پروگرام کو شہرت کی بلندیوں پر شمشیر حیدر ہاشمی نے پہنچایا۔ ان کے انتقال کے بعد اس پروگرام کی بچی کھچی شہرت کو مظہر کلیم ایم اے نے اپنی میزبانی کے ذریعے محفوظ رکھا۔
اسی طرح گزشتہ برس جولائی 2017ءکو ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے جشنِ آزادی کے سلسلہ میں تقریبات کا شیڈول ترتیب دیا تو کمشنر ملتان بلال بٹ اور ڈی سی ملتان نادر چٹھہ نے کہا کہ ملتان ٹی ہاؤس جشنِ آزادی کے موقع پر کون سی تقریبات کرے گا؟ مَیں نے خالد مسعود خان کے مشورہ پر آزادی مشاعرہ اور مظہر کلیم ایم اے کے اعزاز میں تقریبات کرانے کا اعلان کیا تو ڈی سی نادر چٹھہ نے اجلاس میں ہاتھ بلند کر کے کہا مظہر کلیم ایم اے کے اعزاز کی تقریب میں بطور سامع شریک ہوں گا کہ مَیں نے اپنے بچپن میں مظہر کلیم ایم اے کی بے شمار کتب پڑھی ہیں۔ یہ تقریب 9 اگست 2017ءکو ملتان ٹی ہاؤس میں ہوئی۔ میری یادداشت کے مطابق مظہر کلیم ایم اے کے اعزاز میں ملتان کی یہ پہلی اور آخری تقریب تھی۔ نظامت کی سعادت مجھے حاصل ہوئے۔ اس کا فارمیٹ ہم نے یہ ترتیب دیا کہ ان کے فن و شخصیت پر خالد مسعود خان، رضی الدین رضی اور سجاد جہانیہ نے گفتگو کی پھر مظہر کلیم ایم اے نے کھڑے ہوئے بغیر سٹیج پر بیٹھ کر پہلے اپنے حالاتِ زندگی بیان کیے۔ پھر حاضرینِ محفل نے ان سے بے شمار سوالات کیے جس کا وہ بڑی تفصیل سے جواب دیتے رہے۔ اس تقریب میں ان کی شرکت آخر دم تک غیر یقینی کا شکار رہی کہ تقریب سے دو دن قبل ان کا فون بند ملنے لگا تو مجھے تشویش ہوئی کہ اللہ خیر کرے۔ مَیں ان کی خیریت پوچھنے ان کے گھر پہنچ گیا تو مجھے دیکھ کر کہنے لگے شاکر صاحب مَیں شاید آپ کی تقریب میں نہ آ سکوں گا ڈاکٹر نے مجھے سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے سے منع کیا ہے۔ یہ سنتے ہی مَیں پریشان ہو گیا تو تب مَیں نے ان کے بیٹے سے گزارش کی کہ وہ اپنے ابوجان کو اس تقریب میں شرکت کے لیے آمادہ کریں۔ صد شکر مظہر کلیم ایم اے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں تشریف لائے۔ جی بھر کر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیئے اور بتایا کہ میرے بزرگوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ یہ بزرگ افغانستان سے پہلے شورکوٹ اور پھر ملتان آئے۔ ان کے خاندان کے افراد فوج اور پولیس میں ملازمت کرتے تھے۔ جبکہ مَیں قانون دان اور لکھاری بن گیا۔ جبکہ میرا بھائی انجینئرنگ کی طرف چلا گیا۔ مظہر کلیم نے ساری تعلیم ملتان کے مختلف تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ملتان سے جب پنجاب یونیورسٹی کیمپس کا آغاز ہوا تو مظہر کلیم نے پہلے ہی سیشن میں ایم اے اُردو کیا۔ ایم اے کرنے کے بعد وہ بے روزگاری کے زمانے میں مختلف انشورنس کمپنیوں کے لیے کام کرتے رہے۔ جب انہوں نے اپنے روزگار کی خاطر مختلف لوگوں سے ملاقات کی تو پھر ان کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ صحافت کی طرف آئی۔ یہی فیصلہ ان کی زندگی میں شہرت لایا۔ صحافت نے ان کے لکھنے کے شوق کو جِلا بخشی۔کالم اور خبریں بناتے بناتے وہ ابنِ صفی کے انتقال کے بعد عمران سیریز لکھنے لگے۔ ان کی یہ سیریز اتنی مقبول ہوئی کہ لوگ ہر ماہ ان کے لکھنے ہوئے ناول کا انتظار کرنے لگے۔
کالم کے آغاز میں ہم نے ان کے پبلشرز یوسف برادرز کا تذکرہ کیا۔ اس ادارے میں آنے سے پہلے وہ ملتان کے معروف صحافی اور پبلشرز جمال بی اے کے ساتھ وابستہ رہے۔ جمال اپنے نام کے ساتھ بی اے لکھتے ہیں، مظہر کلیم ایم اے لکھتے ہیں کیا کبھی کسی نے اپنے نام کے ساتھ ایف اے یا میٹرک بھی لکھا؟ ہنس کر کہنے لگے کیا معلوم دیہاتوں میں کچھ لوگ اپنے ناموں کے ساتھ اپنی تعلیم بھی لکھتے ہوں۔ بہرحال مظہر کلیم کو مَیں نے جب بھی یوسف برادرز پر بیٹھے ہوئے دیکھاتو وہ اپنی مخصوص کرسی پر براجمان ہوتے۔ میز ان کے سامنے رکھی ہوتی۔ ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ۔میز پر چائے کا کپ یہ تصویر آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ وہ کہیں آنے جانے کے لیے سکوٹر استعمال کرتے تھے۔ ملتان میں صرف اہل قلم ایسے گزرے ہیں جنہوں نے لکھنے کی وجہ سے شہرت تو پائی لیکن ان کے ساتھ ان کے سکوٹر کو بھی وہی شہرت ملی جو اُن کو حاصل تھی۔ مظہر کلیم سے پہلے ڈاکٹر عاصی کرنالی اور ان کا سکوٹر معروف تھا پھر مظہر کلیم ایم اے اپنے سکوٹر پر بیٹھے ہر جگہ دکھائی دیئے۔
جہاں تک ان کے فن کی بات ہے تو وہ اپنی تحریروں میں ابنِ صفی جیسی گرفت تو نہیں رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے ابنِ صفی کے انتقال کے بعد عمران سیریز کے ذریعے لاکھوں افراد کو کتاب کے ساتھ جوڑے رکھا۔ مظہر کلیم ایم اے کا ایک کارنامہ اپنی جگہ اس لیے اہم ہے کہ انہوں نے بچوں کے لیے ہزاروں ناول لکھے۔ وہ ناول اتنے دلچسپ تھے کہ خود مَیں نے ان کے بے شمار ناول بار بار پڑھے۔ وہ اپنے اسلوب کے خود ہی بانی تھے اور خود ہی اس اسلوب کو ختم کرنے والے یہ بات درست ہے کہ جب انہوں نے عمران سیریز لکھنی بند کر دی تو ملتان سے عاطر شاہین نے ان کے ٹوٹے ہوئے سلسلے کو جوڑا۔ یوں مَیں سمجھتا ہوں کہ ابنِ صفی نے جس عمران سیریز کا آغاز کراچی سے کیا ان کے مرنے کے بعد اس سیریز کو پہلے مظہر کلیم ایم اے نے جاری رکھا جبکہ مظہر کلیم کی زندگی میں عاطر شاہین میدان میں اُترے۔ یہ بات تو طے ہے کہ عاطر شاہین کے سامنے ابنِ صفی اور مظہر کلیم کا لکھا ہوا موجود تھا اس لیے ویسا لکھنا آسان ہو جاتا ہے لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ ابنِ صفی کی تحریر کا طلسم آج بھی جاری ہے جبکہ مظہر کلیم اور عاطر شاہین نے اس سیریز کو زندہ رکھنے کے لیے آکسیجن فراہم کی۔ مظہر کلیم ایم اے کے بارے میں بے شمار یادیں باقی ہیں جن کو پھر کبھی تحریر کروں گا۔ فی الحال ہم اپنے قارئین کو یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ ملتان سے گزشتہ دنوں ایک اہم لکھنے والا کتنی خاموشی سے گزر گیا۔ اگر مظہر کلیم اُردو کی بجائے انگریزی زبان میں لکھتے تو ہمارے ہاں ماتم برپا ہوتا کہ ہم اپنوں کی بجائے دوسروں کا ماتم بڑے شوق سے کرتے ہیں۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker