2018 انتخاباتسرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

این اے 156 اور حامد سعید کاظمی کے ساتھ شاہ محمود کا وعدہ : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

اس سے پہلے کہ ہم حلقہ NA156 کی تازہ ترین صورتحال سے آپ کو آگاہ کریں ایک واقعہ آپ کے سامنے لانا چاہتے ہیں کہ ابھی انتخابات میں کچھ ہفتے باقی تھے کہ آصف علی زرداری ملتان آئے ایئرپورٹ سے سیدھا مخدوم احمد محمود کے ہمراہ سابق وفاقی وزیر سیّد حامد سعید کاظمی کے گھر پہنچے۔ جہاں پر انہوں نے حامد سعید کاظمی سے کہا کہ وہ لیاقت پور کے جس حلقے سے انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں اس کی بجائے لیاقت پور کے ہی دوسرے حلقے میں انتخاب لڑ لیں کیونکہ سیّد حامد سعید کاظمی کی طویل عرصے تک اپنے حلقے سے غیرحاضری نے اُن کے ووٹر کو دور کر دیا تھا۔ لیکن سیّد حامد سعید کاظمی بضد رہے کہ انہوں نے اُسی حلقے میں ہی الیکشن لڑنا ہے جہاں سے جیت کر وہ وفاقی وزیر بنے تھے۔ آصف علی زرداری نے جب حامد سعید کاظمی کا کھرا کھرا جواب سنا تو انہوں نے مزید وقت ضائع کیے بغیر کاظمی ہاؤ س سے رخصت لی اور ایئرپورٹ چلے گئے۔
اس کہانی میں تین کردار موجود تھے، دو کردار آصف علی زرداری اور مخدوم احمد محمود ملتان سے روانہ ہو چکے تھے جبکہ سیّد حامد سعید کاظمی اپنے گھر سے اٹھے اور اُس تقریب میں چلے گئے جہاں پر مخدوم شاہ محمود قریشی پہلے سے موجود تھے۔ یہاں پر انہوں نے ایک نئی کہانی سے شاہ محمود کو آگاہ کیا اور کہا کہ آصف علی زرداری مجھے آپ کے مقابلے میں ملتان شہر سے کھڑا کرنا چاہتے تھے لیکن مَیں نے انکار کر دیا۔ پھر شاہ محمود قریشی نے میڈیا کے سامنے حامد سعید کاظمی کی بتائی ہوئی کہانی بیان کر دی۔ اس کہانی کا آخری جملہ یہ تھا سیّد حامد سعید کاظمی کی اس محبت کو دیکھتے ہوئے مَیں عمران خان سے ان کے لیے بات کروں گا۔ تالیاں بجیں، مخدوم صاحب اور کاظمی صاحب کے حامی خوش ہوئے اور دونوں نے اپنے اپنے گھروں کی راہ لی۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا، کاغذاتِ نامزدگی جمع ہوئے۔ 29 جون کو ریٹرننگ آفیسرز کے پاس پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا آخری دن تھا اور حامد سعید کاظمی NA176 سے آزاد اُمیدوار کے طور پر کھڑے ہیں اور اس کہانی کا ڈراپ سین ہو چکا ہے جو انہوں نے شاہ محمود قریشی کو جا کر بتائی تھی کہ مجھے پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے حلقے میں کھڑا کرنا چاہتی ہے اس واقعے کی تصدیق کے لیے جب ہم نے یوسف رضا گیلانی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر یہ واقعہ حقیقت پر مبنی ہوتا تو آصف علی زرداری کے ساتھ اُس ملاقات میں مَیں موجود ہوتا کہ یہ پیپلز پارٹی ضلع ملتان کا معاملہ تھا۔ اس ساری کشمکش میں یہ ہوا کہ یوسف رضا گیلانی نہ صرف NA156 بلکہ وہ NA155 میں بھی اپنا اُمیدوار نہ لا سکے یوں شاہ محمود قریشی کے لیے 2018ءکے انتخابات میں یہ نشست جیتنا آسان ہو گئی۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی یہ کیوں جیت رہے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے اس حلقے میں اپنے اُمیدوار کا اعلان نہ صرف تاخیر سے کیا بلکہ انہوں نے اُس نوجوان کو شاہ محمود کے مقابلے میں ٹکٹ دیا جو 2013ءکے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا انتخاب PTI کے حاجی جاوید انصاری سے ہار چکا تھا۔ اس کے علاوہ اس حلقے سے دو مرتبہ MNA منتخب ہونے والے رانا محمود الحسن کو جب ٹکٹ نہ ملا تو آغاز میں انہوں نے کھلم کھلا عامر سعید انصاری کی حمایت سے انکار کر دیا لیکن بعد میں پارٹی قیادت کے کہنے پر انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے لیکن درونِ خانہ کی اطلاع ہے کہ وہ ابھی تک دل سے اُن کے لیے ووٹ نہیں مانگ رہے۔ اور رانا محمود الحسن کا شاہ محمود سے بھی رابطہ چل رہا ہے یعنی
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و محمود
اس دوران شاہ محمود قریشی معاملات کافی بہتر کر چکے تھے۔ یوں انتخابی مہم کے آغاز میں ہی بہتر صورتحال مل گئی۔ اس وقت شاہ محمود قریشی کو بظاہر کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے شہر کے تمام بڑے دھڑے اور ونگز کو اپنے ساتھ ملا رکھا ہے۔ حالانکہ پاکستان تحریکِ انصاف ملتان اور ضلع کے تمام عہدیداران شاہ محمود کے خلاف پریس کانفرنس کر چکے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی عہدیدار نے شاہ محمود کے خلاف انتخابی مہم چلانے کا اعلان نہیں کیا۔ سوائے پاکستان تحریکِ انصاف کے اس نوجوان نے (جس کا نام شیخ سلمان نعیم ہے) جو انہی کے مقابلے پر پی پی 217 میں کھڑا ہے اور جس کے بارے میں واقفانِ حال کا یہ کہنا ہے کہ وہ اس وقت حلقے میں اتنا مقبول ہے کہ اگر وہ NA156 پر بھی کھڑا ہو جاتا تو شاہ محمود قریشی کے لیے یہ انتخاب مشکل ہو جاتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ سلمان نعیم شاہ محمود کے مقابلے میں کیوں کھڑا ہوا؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ پانچ برسوں میں جن بے شمار سیاسی لوگوں کو صوبائی اسمبلی پر تحریکِ انصاف کی ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا تھا اُن میں سب سے زیادہ متحرک عوامی مقبولیت اور خوش اخلاقی کے تمام درجوں پر پورا اترنے والا سلمان نعیم ہی تھا۔ حالانکہ اس حلقے PP217 میں تحریکِ انصاف کی طرف سے رانا عبدالجبار، میاں جمیل احمد، حاجی اختر حسین بھٹہ کے علاوہ اور بھی لوگ انتخاب لڑنے کے خواہش مند تھے۔ کہ اچانک شاہ محمود قریشی کو یہ پیغام ملا کہ اگر وہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیت لیں تو تحریکِ انصاف کی طرف سے وہ وزارتِ اعلیٰ پنجاب کے مضبوط اُمیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ خبر ملتے ہی شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے ساتھ صوبائی اسمبلی میں بھی کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے اور یوں آج کل وہ ہر جگہ پر اپنی تقریر میں یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد وہ جنوبی پنجاب کے دکھوں کا مداوا کر دیں گے۔ لیکن اس انتخابات میں اُن کا ایک دکھ یہ بھی ہے کہ اُن کے اپنے ہاتھوں سے لگایا ہوا شیخ سلمان نعیم کا پودا سب سے زیادہ انہی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ ن کی اُمیدوار بیگم چوہدری عبدالوحید ارائیں کا تعلق ہے تو ہمارا خیال ہے کہ اس مرتبہ وہ رانا محمود الحسن کی حمایت سے اگر محروم رہیں تو اس حلقے میں ان کی پوزیشن تیسرے نمبر پر آ سکتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی نشستوں پر کن اُمیدواروں کو کھڑا کیا ہے ہم نے اُن کے ناموں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے دو تین سرکردہ راہنماؤ ں کو فون کیا تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ سو آپ کو اس وقت یہی بتانا مقصود تھا کہ حلقہ NA156 میں اس وقت شاہ محمود قریشی پہلے نمبر پر ہیں، دوسرے نمبر پر عامر سعید انصاری جبکہ تیسرا نمبر ہم تنویر الحسن گیلانی کو ازراہِ مروت دے رہے ہیں کہ اگر ہم ان کے بارے میں کچھ عرض کریں گے تو ہمارے مربی و مہربان منور خورشید صدیقی ہم سے ناراض ہو جائیں گے البتہ پی پی 217 میں سلمان نعیم نے شاہ محمود قریشی کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی پوری تیاری کر رکھی ہے۔ باقی باتیں ہم 25 جولائی تک مؤ خر کیے دیتے ہیں کہ اب ”وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے“ آنے میں تھوڑے ہی دن رہ گئے ہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker