ادبشاکر حسین شاکرکالمکتب نمالکھاری

آپ مجھے بیٹی کیوں نہیں سمجھتے ؟ ثمینہ راجہ بنام انیس شاہ جیلانی (2) ۔۔ شاکر حسین شاکر

ثمینہ راجہ کے خطوط میں ان کے ملتان میں قیام کا ذکر ملتا ہے۔ ملتان میں قیام کے دوران وہ ماہ طلعت زاہدی، ضیاء شبنمی اور لطیف الزماں خاں سے گاہے گاہے ملتی ہیں۔ خاص طور پر لطیف الزماں خاں کا جب انہوں نے ذکر کیا تو مجھے یوں لگا جیسے وہ ملتان میں محفوظ ہاتھوں میں پہنچ گئی ہوں گی۔ ان خطوط میں ملتان میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے انیس شاہ جیلانی کو بہت کم خط لکھے۔ اسی عرصے میں (1982ء) ثمینہ راجہ کی شادی ہوتی ہے کہ 82ء کے بعد اگلا خط وہ 1988ء میں لکھتی ہیں۔ اپنے شریکِ سفر زمان ملک کا ذکر کرتی ہیں۔ اُسی خط میں لکھتی ہیں:
’’شادی کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد ہی آپ کے خطوط کی بے تکلفی ہمارے درمیان وجہ نزاع بن گئی تھی۔ میرے شوہر نے اپنی تمام دوستیوں اور ایک طرح کی بے راہ رویوں کا جواز ڈھونڈ لیا۔ ہماری بے ضرر دوستی پر جس طرح کی کیچڑ ملی گئی اس پر مجھے ندامت ہے بہت۔ اس وقت میرے دو بیٹے ہیں دانیال اور جہیاد۔ شادی سے پہلے مجھے معلوم تھا کہ میرا شوہر کافی غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے مگر ناتجربہ کاری اور شاعروں والی جذباتیت کی وجہ سے مَیں نے پرواہ نہیں کی۔ بعد میں خوب خوب مفلسی کے مزے چکھے۔‘‘
15 ستمبر 1994ء کے خط میں وہ اپنے اس تعلق کے ڈراپ سین کے متعلق یوں لکھتی ہیں ’’اب الگ بیٹھ کر سوچتی ہوں تو زیادہ حیرت ہوتی ہے کہ بارہ برس کیسے ایک ساتھ گزارے۔ اتنے مختلف آدمی کے ساتھ تو بارہ گھنٹے گزارنا ناممکن ہے۔ خیر اب مصالحت تقریباً ناممکن ہے۔‘‘۔ اس خط میں وہ اپنے تیسرے بیٹے محمد عہد کا ذکر بھی کرتی ہیں۔ زمان ملک سے علیحدگی کے بعد ثمینہ راجہ کا مستقل مسکن اسلام آباد رہا۔ وہ وہاں سے بیٹھ کر اپنی شاعری کے ذریعے پڑھنے والوں سے رابطہ میں رہی۔ 1998ء کے آخر کی بات ہے کہ اسلام آباد سے مجھے جناب احمد فراز کا فون آیا کہنے لگے شاید مَیں دسمبر کے آخر میں ملتان آ رہا ہوں میرے دوست اور نامور شاعر فیصل عجمی نے ایک رسالے ’’آثار‘‘ کا اجراء کیا ہے۔ ثمینہ راجہ اس کی مدیر ہیں۔ وہ بھی ہمراہ ہوں گی۔ ہم آثار کی تقریب رونمائی ملتان میں کرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ طے ہوئی مقررہ دن احمد فراز اور ثمینہ راجہ ملتان پہنچے۔ ملتان کا اکلوتا اچھا ہوٹل ’’ہالی ڈے اِن‘‘ اُن دنوں کسی کانفرنس کی وجہ سے بک تھا تو پیر ریاض حسین قریشی نے کہا آپ دونوں میرے گھر ٹھہر جائیں۔ پیر صاحب کی اہلیہ اور بچے لاہور گئے ہوئے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے فواد قریشی کا پورشن خالی تھا۔ احمد فراز اور ثمینہ راجہ کو اسی حصے میں ٹھہرایا گیا۔



فیصل عجمی کے دیئے گئے مینڈیٹ کے تحت ہائی ٹی پر ’’آثار‘‘ کا پہلا شمارہ مفت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ثمینہ راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آثار اکادمی کے تحت اہلِ قلم کی کتابیں شائع کریں گے۔ اچھی کتب پر انعامات دیں گے۔ ادیبوں کے لیے اسلام آباد میں ہاؤسنگ کالونی لا رہے ہیں وغیرہ۔ اس میں کوئی شک نہیں ثمینہ راجہ نے ’’آثار‘‘ کو نئے انداز سے شائع کیا۔ اس کے دس سے زیادہ شمارے منظرِ عام پر آئے۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ فیصل عجمی کاروباری خسارے کا شکار ہو گیا۔ احمد فراز سمیت بے شمار اہلِ قلم کے لاکھوں روپے ڈوب گئے۔ آثار بند ہو گیا۔ ثمینہ راجہ ایک مرتبہ پھر بے روزگار ہو گئی۔ انہی دنوں اسلام آباد سے ڈاکٹر غضنفر مہدی کا مجھے فون آیا احمد فراز کے نام پیغام دیا کہ احمد فراز کو ثمینہ راجہ کا اتنا ہی خیال ہے تو وہ اسے اپنے کسی گھر میں ٹھہرا دے ورنہ میرے گھر کا کرایہ باقاعدگی سے دیا جائے۔ سنا ہے ثمینہ راجہ اور غضنفر مہدی صاحب کے درمیان اس بارے میں جھگڑا بھی ہوا۔ غضنفر مہدی نے اپنا گھر کیسے خالی کرایا اس تفصیل کا مجھے علم نہیں۔ ثمینہ راجہ اس کے بعد بھی اپنے گھر (رحیم یار خان) جاتے ہوئے دو مرتبہ ملتان آئی۔ قمر رضا شہزا، رضی الدین رضی اور حامد رضا نے ملتان ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہاایک بار ان کی اسلام آباد جانے والی فلائٹ آٹھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہو گئی تو انہوں نے وہ وقت ہمارے ساتھ کتاب نگر پر گزارا۔ ہم نے ان سے شاعری سنی اور خوب سنی۔ ثمینہ راجہ بظاہر سنجیدہ دکھائی دیتی تھی لیکن جب بات چیت کرتی تو یوں لگتا جیسے ان کو دکھوں نے وقت سے پہلے ہی خاموش کر دیا ہے۔ ان کے نین نقش بظاہر سادہ تھے لیکن چہرہ پر کشش بلا کی تھی۔ آواز خوبصورت، شخصیت میں وقار، خودداری نمایاں تھی۔ وہ مرد کے جبر کا شکار ہونے کے باوجود انتہا پسند شاعرہ کی بجائے رومانس کے مختلف انداز کو اپنی شاعری کا حصہ بناتی رہی۔ انہی دنوں ثمینہ راجہ کی ایک نظم کا پھر شہرہ ہوا اور لوگ سوچنے لگے کہ ثمینہ راجہ ایک مرتبہ پھر کسی کے سحر میں مبتلا ہو گئی ہے۔ نظم ملاحظہ کریں۔
اگر اِک شخص کا جی چاہتا ہو سیر دیکھے/ چاند تاروں کی فلک کے راستے پر/ اور ہوا کے رتھ پہ بیٹھا/ دور تک ہو آئے/ ہمراہی میں اپنے دل کے ساتھی کی/ اگر جی چاہتا ہو دن میں دیکھے/ رات والے اِک دیئے کی لَو/ اُجالے میں کسی مہتاب کا چہرہ/ اور اکثر جاگتے میں خواب کا چہرہ/ اگر جی چاہتا ہو بات کرنے کو/ کسی شیریں سخن سے/ وارداتیں اس سے کہنے کو خیالوں کی/ سمجھ میں کم جو آتے ہیں/ کچھ ایسے استعاروں کی/ جو اپنے سے لگیں ملتی ہوئی/ ایسی مثالوں کی/ اگر جی چاہتا ہو زندگی کا/ خوبصورت روپ دیکھے، رنگ کھیلے/ گیت گائے/ دھوپ میں ہوتی ہوئی بارش میں بھیگے/ آنسوؤں میں مسکرائے/ اور اگر وہ آدمی/ جس سے تصور میں لپٹ کر/ چین ملتا ہو/ کبھی رہ میں نظر آئے تو جی چاہیے/ حقیقت میں بھی چھو کر دیکھنے کو/ اور اگر ۔۔۔۔۔۔
ثمینہ راجہ کی غزل اور نظم اپنی معاصر شاعری سے آگے کی تخلیق دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ثمینہ راجہ کو ہمیشہ معیاری شاعری پڑھنے والوں نے سراہا۔ وہ خود بھی کہتی تھیں کہ میری شاعری کا قاری عام قاری نہیں ہے جو خاص شاعری پڑھنا چاہے گا وہ میری شاعری کی طرف آئے گا۔
عمر کے بعد اس طرح دیر بھی ہو گی بات بھی
تو بھی قریبِ جاں ہے آج بھیگ رہی ہے رات بھی
ایک خیال کے طفیل ایک وصال کے سبب
روز تو روزِ عید تھا شب تھی شبِ برات بھی
۔۔۔۔۔۔
بات میں تیری لطف تھا آنکھ میں دلبری رہی
شاخِ نہالِ عشق یوں آج تلک ہری رہی
۔۔۔۔۔۔
دن تری یاد کے ہوئے شب ترے نام کی ہوئی
کچھ بھی نہ تھی یہ زندگی اب کسی کام کی ہوئی
سارے بدن پہ چھا گئی جیسے کہ بوئے یاسمیں
دل کو عجب طرح خوشی اس سے کلام کی ہوئی
کوئی سفر میں ساتھ تھا ہاتھ میں اُس کا ہاتھ تھا
بادِ صبا بھی معترفِ حسنِ خرام کی ہوئی
’’ثمینہ راجہ کے خط‘‘ پڑھنے کے دوران مجھے یہ شدت سے احساس رہا کہ ہمارے ہاں خواتین شاعرات کتنے مشکل حالات میں اپنے شوق کو پروان چڑھاتی ہیں۔ اس سفر کے دوران اگر ان کا جیون ساتھی ان کا ساتھ بلاوجہ تہمت لگا کر چھوڑ دے تو اس عورت کے لیے جینا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر اگر ثمینہ راجہ جیسی عورت ہو جہاں گھر میں نہ تو کوئی اخبار آتا ہو اور نہ ہی کوئی رسالہ۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی لڑکی ثمینہ شاعری کی رانی کی بجائے راجہ بن جاتی ہے تو اس کا انجام بہت جلد موت ہوتا ہے جس طرح ثمینہ راجہ کا ہوا۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب ثمینہ راجہ کا انتقال اسلام آباد میں ہوا تو اس کے کوچ کر جانے کی خبر کسی بھی اخبار میں نہیں آئی۔ البتہ بہت دنوں بعد کسی نے اپنے کالم میں اس کی موت کا ذکر کیا۔ اس طرح کی موت منصورہ احمد کو بھی آئی۔ کبھی وقت ملا تو منصورہ احمد کے بارے میں بھی لکھوں گا جس کو اپنے عروج کے زمانے احمد ندیم قاسمی نے اُردو شاعری کا سب سے بڑا ایوارڈ دلایا۔ فی الحال ہم سیّد انیس شاہ جیلانی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ایک شاندار کتاب کو مرتب کیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker