شاکر حسین شاکرکالملکھاری

ریڈیو پاکستان برائے فروخت(2): کہتا ہوں سچ/شاکر حسین شاکر

اچھا جی چھوڑیں یہ بس باتیں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پاکستان اور ریڈیو کا ساتھ کتنا پرانا ہے۔کچھ واقعات تاریخی ہوتے ہیں ان واقعات کو ادارے اور اس میں کام کرنے والے تاریخی بناتے ہیں۔ تاریخ کے اس روشن ورق کو ہم سیّد عقیل عباس جعفری کی کتاب ”پاکستان کرونیکل“ کے ذریعے دیکھتے ہیں جس میں وہ لکھتے ہیں:
”13 اور 14 اگست 1947ءکی درمیانی رات لاہور، پشاور اور ڈھاکہ اسٹیشنوں سے رات 11 بجے آل انڈیا ریڈیو سروس نے اپنا آخری اعلان نشر کیا۔ 12 بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور ظہور آذر کی آواز میں انگریزی زبان میں فضا میں ایک اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت معرضِ وجود میں آ جائے گی۔ رات کے ٹھیک 12 بجے ہزاروں سامعین کے کانوں میں پہلے انگریزی اور پھر اُردو میں یہ الفاظ گونجے
یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے
اُردو میں یہ اعلان سیّد مصطفی علی ہمدانی جبکہ انگریزی میں یہی اعلان ظہور آذر نے کیا۔“
ریڈیو پاکستان کے حصے میں صرف یہی اعزاز ہی نہیں آیا بلکہ اسی ادارے کے آرکائیو میں بانی پاکستان سے لے کر آج تک کے اہم لوگوں کی تقاریر موجود ہیں۔ حمد، نعت، قوالی، منقبت، نوحہ، سلام، مرثیہ، ڈرامہ، غزل اور گیتوں کا جو ذخیرہ ریڈیو پاکستان کے تمام سینٹرز پر موجود ہے وہ کسی بھی جگہ پر محفوظ نہیں ہے۔ یکم جنوری 1987ءمیں ریڈیو نے نئی طرز کی نشریات کا آغاز کیا۔ 23 مارچ 1995ءکو لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے آصف غزالی کی آواز میں السلام علیکم پاکستان کے نعرے کے ساتھ ایف ایم 100 کی نشریات شروع ہوئیں۔ یکم اکتوبر 1998ءکو ریڈیو پاکستان ایف ایم 101 کا آغاز کیا۔ ایف ایم 93 کی نشریات جب شروع ہوئیں تو ہر طرف اس کی نشریات کا شہرہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ ریڈیو کے سینٹر جس شہر میں قائم ہیں وہاں پر علاقائی زبانوں کی موسیقی، خبریں، ڈرامے اور پروگرامز کے ذریعے علاقے کے ٹیلنٹ کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔ یہ تو مَیں نے مختصراً ریڈیو پاکستان کا احوال بیان کیا۔
اگر موجودہ حکومت کے کارپردازوں کے پاس کسی بحران سے باہر آنے کے لیے اگر کوئی حل نہیں ہے تو اس کے لیے انہیں اچہیے کہ وہ ریڈیو پاکستان پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ ان کی تجاویز کی روشنی میں اس بحران سے نمٹا جا سکے۔ جہاں تک ریڈیو کی افادیت کی بات ہے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریڈیو کے بغیر حکومت اپنا موقف کس طرح عوام تک پہنچائے گی۔ ریڈیو اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے لوگ کبھی بھی احتجاج کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو اس ملک کے ہر سرکاری ادارے کے ملازمین نے کبھی نہ کبھی احتجاج ضرور کیا۔ لیکن ریڈیو کے ملازمین کبھی بھی احتجاج کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن موجودہ حکومت نے جب سے اسلام آباد ریڈیو کی کثیر المنزلہ عمارت کو طویل مدت کے لےے لیز پر دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام شعبے پاکستان براڈ کاسٹنگ اکیڈمی کی چھوٹی عمارت میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے تب سے کراچی تا خیبر ریڈیو ملازمین بے چینی کے عالم میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کنٹریکٹ ملازمین کو بے روزگار کر کے گھر بھجوا دیا گیا۔ جو ملازمین مستقل ہیں ان کی تنخواہوں میں بے قاعدگی چل رہی ہے۔ ایسے میں تادمِ تحریر حکومت کی طرف سے تسلی کے دو بول بھی سامنے نہیں آئے۔
ابھی مجھے ریڈیو کے بارے میں کچھ اور بھی لکھنا تھا کہ ریڈیو ملتان کے ایک سینئر افسر کا فون آیا تو وہ کہنے لگا میرے لیے کوئی نوکری تلاش کرو۔ مَیں نے پوچھا خیریت ہے؟ تو کہنے لگا موجودہ حکومت نے آتے ہی کنٹریکٹ ملازمین کو گھر بھجوا دیا ہے۔ ہماری تنخواہیں تو کئی ماہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔ ادویات کے پیسے نہیں ہیں۔ ہاؤس رینٹ بھی بڑی منت سے ملتا ہے۔ یہ حالات دیکھ کر مَیں نے اندازہ لگایا ہے کہ اب ریڈیو پاکستان اسلام آباد کی مرکزی عمارت کے بعد ملازمین کی باری ہے۔ اگر حکومت نے ہمیں بےروزگار کر دیا اور مجھے کوئی نوکری بھی نہ ملی تو مَیں گھر جا کر اپنے زیرِ تعلیم بچوں سے کہوں گا کہ تم لائنوں میں لگ کر جسے خود بھی ووٹ دیا اور ہمیں بھی ووٹ دینے پر مجبور کیا تو اب گھر کے لیے روٹی کا بندوبست کرو۔ مَیں نے کہا تمہارے زیرِ تعلیم بچے کس طرح گھر کو چلانے کے لیے وسائل لائیں گے۔ تو وہ پریشان حال ریڈیو افسر آنکھوں میں آنسو لا کر کہنے لگا شاکر بھائی مَیں خود تو بھوکا رہ لوں گا لیکن میرے بچے کیسے بھوکے رہیں گے؟ کاش مَیں نے جولائی 2018ءکو تبدیلی لانے کے لیے ووٹ نہ دیا ہوتا۔ مجھے کرپشن والا پاکستان ہی چاہیے جس میں کم از کم مجھے روزگار کا فکر تو نہیں ہوتا تھا۔ تنخواہ ابھی آئی نہیں لیکن بجلی سوئی گیس کے اضافے والے بل گھر آ گئے ہیں۔ سوچتا ہوں اس جینے سے بہتر ہے موت ہی آ جائے اور یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے۔ آنسو صاف کر کے بولا اچھا اجازت دو مجھے ریڈیو جا کر رات کی نوبجے کی خبریں فائنل کرنی ہیں کہیں اس میں وزیراعظم کی صدارت میں مشترکہ مفادات کونسل کی خبر ہی نہ غائب ہو کہ حکومتوں کے مفادات کا خیال رکھنا سرکاری میڈیا کی ذمہ داری ہوتی ہے جبکہ ملازمین کے تو کوئی مفادات نہیں ہوتے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker