شاکر حسین شاکرکالملکھاری

تلاشِ گمشدہ – راجہ انور!۔۔کہتا ہوں سچ/شاکر حسین شاکر

2010ءکا زمانہ تھا مَیں پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر ملتان سے اپنا ہفتہ وار پروگرام ریکارڈ کروا کے ابھی واپس ہی آیا تھا کہ میرے پروڈیوسر خرم شجرا کا فون آیا اور کہنے لگا کہ ایک ایمرجنسی پروگرام کو ریکارڈ کرنا ہے، کیا آپ دوبارہ پی ٹی وی ملتان کے سٹوڈیو آ سکتے ہیں؟ مَیں نے کہا کیوں نہیں۔ کہنے لگے حکومتِ پنجاب کی طرف سے ایک مشیر راجہ انور آئے ہوئے ہیں اُن کا انٹرویو ریکارڈ کرنا ہے۔ مَیں نے راجہ انور کا نام سنا تو ذہن میں ”جھوٹے روپ کے درشن“ والا مصنف یاد آ گیا کہ کہیں یہ وہی راجہ انور تو نہیں جو میرا محبوب لکھاری ہے۔ اُن کی اس کتاب کو زمانہ¿ طالب علمی میں کئی مرتبہ پڑھا اور ہر مرتبہ اُس کتاب کو پڑھ کر تازگی کا احساس ہوا۔ کچھ ہی دیر بعد مَیں راجہ انور کے سامنے موجود تھا۔ سرخ و سفید رنگ، لمبا قد، چھریرا بدن، چہرے پر خوبصورت فریم والی عینک یہ میرے سامنے حکومتِ پنجاب کا مشیرِ تعلیم راجہ انور تھے۔ میرے پروڈیوسر خرم شجرا نے مجھے بتایا کہ یہ آج کل حکومت پنجاب کی طرف سے نظامِ تعلیم کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم نے اسی موضوع پر ان کا انٹرویو کرنا ہے۔ مَیں نے راجہ انور کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ اگر مَیں غلطی نہیں کر رہا تو آپ چھوٹی جیل سے بڑی جیل، جھوٹے روپ کے درشن، دہشت گرد شہزادہ اور مارکسی اخلاقیات کے مصنف تو نہیں؟ مسکرا کر کہنے لگے جی! جی! مَیں وہی راجہ انور ہوں۔ مَیں نے خرم شجرا سے کہا کہ اب مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ آپ نے میرے لیے ایک ایسے شخص سے ملاقات کا سبب بنایا جن کو مَیں ایک عرصے سے تلاش کر رہا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ جلد سے جلد اُس پروگرام کی ریکارڈنگ ہو اور مَیں اپنے محبوب مصنف سے بہت سی باتیں کروں۔ وہ مصنف جو ساٹھ کے عشرے کے آخری برسوں میں راولپنڈی میں ایک طالب علم رہنما کی حیثیت سے اُبھرا، جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ مضبوط کیے اور ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں خود کو وقف کیا۔ پھر 1977ءکے بعد انہوں نے بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ مل کر ذوالفقار علی بھٹو کی جان بچانے کے لیے ایک تنظیم بنائی جس میں اُن کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اسی دوران وہ پاکستان سے فرار ہو کر جرمنی چلے گئے۔ وہاں سے ایک سال بعد وہ میر مرتضیٰ بھٹو کی دعوت پر کابل پہنچ گئے۔ یہاں پر اُن کے ساتھ اختلافات اتنے ہوئے کہ مرتضیٰ بھٹو نے انہیں افغانی کے حکام کے ذریعے جیل میں ڈلوا دیا۔ مرتضیٰ بھٹو نے اپنی طرف سے راجہ انور کے لیے موت کا گڑھا کھودا لیکن وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے۔
1984ءمیں افغانستان سے رہا ہونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر جرمنی پہنچ گئے۔ جرمنی میں قیام کے دوران انہوں نے ”ٹریجڈی آف افغانستان“ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ انہوں نے ایک کتاب میر مرتضیٰ بھٹو کے مرنے کے بعد بھی ”دہشت گرد شہزادہ“ کے نام سے لکھی کہ راجہ انور کی ایک پہچان سیاست دان کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ اسلوب قلمکار کی بھی بنی۔ پاکستان ٹیلیویژن ملتان کے سٹوڈیو میں مَیں جب راجہ انور سے اُن کی کتابوں کے بارے میں بات کر رہا تھا تو وہ مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ رہے تھے اور پوٹھوہاری لہجے میں کہہ رہے تھے کہ شاکر صاحب آج کل لوگ مجھ سے میرے پورٹ فولیو کے حوالے سے ملتے ہیں۔ چونکہ میرے پاس کروڑوں کے فنڈز ہیں اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ میری چاپلوسی کریں لیکن اُنہیں کیا پتہ کہ مَیں تو وہ سیاستدان ہوں جس نے اپنے ایک ایک عمل کی قیمت ادا کی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مَیں کسی کی خواہش پر اُس کو فنڈز نہیں دیتا کہ اس مرتبہ مَیںشہباز شریف کی دی ہوئی ذمہ داری پر پنجاب میں تعلیم کے شعبے پر کام کر رہا ہوں۔ اور جب وہ یہ سب باتیں کر رہے تھے تو مجھے معراج محمد خان مرحوم کا اُن کے بارے میں لکھا ہوا وہ پیرا یاد آ رہا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا ”وہ اپنے حلیے سے شے گویرا بھی لگتا ہے اور ہیپی بھی۔ کبھی کبھی مولوی بھی اور اکثر فلاسفروں کی طرح بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ طالب علم بھی ہے، ادیب بھی اور مقرر بھی۔ دشمنوں کے لیے وبالِ جان اور دوستوں کے لیے جِند جان۔ لیکن بہت ہی کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ انتہائی حساس انسان ہے۔ اُس کی رگوں میں انقلابی خون ہے۔ دنیا کے تانے بانے میں اُلجھنے کی بجائے عملی طور پر دنیا کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ قانون توڑتا ہے، ہنگامے کرتا ہے اس لیے جیل کا پرانا باسی ہے۔ جیل میں بھی ہمہ وقت ہنستا مسکراتا، لکھتا لکھاتا اور ساتھیوں کے ذہن گرماتا رہتا ہے۔ اکثر کہا کرتا ہے ہم پہلے آزاد تھے نہ اب قید ہوئے ہیں ہم تو معاشرے کی بڑی جیل سے تبدیل ہو کر اس چھوٹی جیل میں آئے ہیں لہٰذا قید ہو یا رہائی دونوں پر برا نہیں مناتا۔“
مَیں نے راجہ انور سے پوچھا یہ کامریڈ شہباز شریف کے ساتھ کیسے کام کر رہا ہے، کہنے لگے مجھے وہ کابینہ کے اجلاس میں بھی کامریڈ کہتے ہیں۔ اور مَیں آج بھی ذہنی طور پر اسی زمانے میں ہوں جس زمانے میں ایوب خان کے خلاف ہم نے تحریک کا آغاز کیا۔ مَیں نے راجہ انور سے کہا آئیں کھانا اکٹھے کھاتے ہیں۔ کہنے لگے اگر سادہ سی دال مل جائے تو وہ گوشت مرغی سے زیادہ لطف دے گی۔ مَیں نے کہا اگر دال ہی کھانی ہے تو پھر کسی ہوٹل میں کیوں جائیں، آپ سرکار کے مہمان ہیں سرکٹ ہاؤس کی جا کر دال کھاتے ہیں وہاں پر زیادہ اچھی پکتی ہے۔ راجہ انور سے وہ پہلی ملاقات کئی گھنٹے جاری رہی۔ فون نمبر کا تبادلہ ہوا۔ وہ چلے گئے۔ ایک دن ڈاک سے انہوں نے مجھے اپنی نئی کتاب جو افغانستان جیل میں گزرے ہوئے دنوں کے بارے میں تھی بھجوائی۔ کچھ عرصے بعد اُس کتاب کی تعارفی تقریب بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں ہوئی تو وہاں پر راجہ انور کی گفتگو نے خوب لطف دیا۔ تقریب کے بعد مَیں نے راجہ انور سے پوچھا آپ کی پہچان تو پاکستان پیپلز پارٹی تھی اب مسلم لیگ والوں کے ساتھ کام کرنا کیسا لگتا ہے؟ کہنے لگے مَیں آج بھی پارٹی میں ہوں۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مَیں جو بھی پارٹی کے بارے میں محسوس کرتا ہوں اُن کے ای میل پر لکھ کر بھجوا دیتا ہوں۔ وہ اگرچہ میری ای-میلز نہیں پڑھ سکتیں لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ میری نظر میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔
2013ءکے انتخابات کے بعد شہباز شریف نے انہیں دوبارہ اپنے ساتھ کام نہ کرنے دیا تو راجہ انور سیاسی منظرنامے سے غائب ہو گئے ایسے ہی ایک دن مَیں نے اپنی لائبریری میں اُن کی ساری کتابیں اکٹھی دیکھیں تو ان کی یاد آ گئی۔ مَیں نے اُن کا فون نمبر ڈائل کیا تو وہ نمبر بند تھا۔ مَیں نے بہاولپور میں برادرم سجاد بری سے رابطہ کیا، اُن سے راجہ انور کا نمبر لیا وہ نمبر بھی جب ڈائل کیا تو بند تھا۔ چند برس پہلے سجاد بری نے ہی بتایا تھا کہ اُن کی صحت اتنی اچھی نہ ہے تو فکر ہوا۔ اب مَیں یہ کالم لکھتے ہوئے اُن سے رابطہ کرنا چاہتا تھا، اُن کا نمبر نکالا ڈائل کیا اور اس نمبر پر ٹیپ چل رہی ہے کہ آپ کا یہ نمبر درست نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ راجہ صاحب کا نمبر تبدیل ہو گیا اور ہم تبدیل نہیں ہوئے۔ اُنہیں یاد کر رہے ہیں، اُن کی کتابیں آج بھی پہلے دن کی طرح ہمیں عزیز ہیں لیکن ہمیں راجہ انور کے بارے میں کوئی خبر نہیں دیتا، سو یہ کالم ہم نے اس لیے لکھا ہے کہ تلاشِ گمشدہ – راجہ انور! اگر کسی دوست کو اُن کے بارے میں علم ہو تو وہ ہمیں اطلاع کریں کہ ہم اُن کے لیے اُداس ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker