شاکر حسین شاکرکالملکھاری

شاکر حسین شاکرکا کالم:ملتان پر ڈاکٹر عنایت اﷲ کی عنایتیں

دنیا کے تمام شہر اپنے اپنے لوگوں، عمارتوں اور قدامت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ لیکن ملتان اس لحاظ سے بہت خوش قسمت شہر ہے کہ اس کی قدامت تو اپنی جگہ رہ گئی گزشتہ پانچ ہزار سالوں سے بسنے والے لوگ بھی اپنی خدمتِ خلق کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ مجھے تاریخ کے اوراق نہیں کھنگالنے اور آپ کو کسی بھی قسم کی ایسی مشکل میں بھی نہیں ڈالنا کہ آپ کالم پڑھتے پڑھتے بور ہو جائیں۔ لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہر شہر کا حسن کچھ لوگ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جہاں ہوں، جس جگہ ہوں اُن کے لیے دستِ دُعا بلند رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں سرفہرست وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خلقِ خدا کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہو۔ لاکھوں کروڑوں کے ہجوم میں اگر اس طرح کے چند لوگ بھی کسی شہر میں بستے ہوں تو اُن کی وجہ سے شہر خوبصورت ہو جاتا ہے۔ مَیں نے ہمیشہ اپنے کالموں میں اُن لوگوں کی تحسین کی ہے جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنے شہر کے لوگوں کے ساتھ نہ صرف وفا کی بلکہ اُن کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔
ایسے لوگوں میں طب کے حوالے سے ایک بڑا نام پروفیسر ڈاکٹر عنایت اﷲ کا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شہر کے بچے اور بچیوں کے لیے وقف کیا ہوا ہے اُن کو طب کی تعلیم کی بابت معلومات فراہم کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر عنایت اﷲ کا اپنا تعلیمی کیریئر اتنا شاندار ہے کہ انہوں نے اپنے تمام پیشہ ورانہ امتحانات امتیازی نمبروں سے نہ صرف پاس کیے بلکہ پہلی مرتبہ ہی اُن کو ہر امتحان میں شاندار کامیابی ملی کہ وہ بطور طالب علم بھی تحقیق پر توجہ دیتے رہے جس کے نتیجے میں کامیابیاں اُن کے قدم چومتی رہی۔ اپنی تعلیم سے خطے کے لوگوں کے علاوہ ہزاروں طلبا و طالبات کو طب کی تعلیم سے آراستہ کیا۔
ڈاکٹر عنایت اﷲ کا شمار 1980ءکے بہترین گریجوایٹس میں ہوتا ہے اور گریجوایشن کرنے کے بعد وہ شعبہ میڈیسن کے ساتھ وابستہ ہوئے اور یہ وابستگی 1986ءسے لے کر اپنی ریٹائرمنٹ تک نشتر ہسپتال اور کالج کے ساتھ رہی۔ اگرچہ ان کو پوری دنیا سے پڑھانے اور کلینک کرنے کی پیشکش بھی ملی لیکن انہوں نے اپنے آپ کو خطے کے لوگوں کے لیے وقف کر دیا۔ بطور ایس۔آر انہوں نے سینکڑوں بچوں کو اس وقت پڑھایا جب اُن کے کمرے میں بیالیس سے لے کر سینتالیس درجہ حرارت ہوتا تھا لیکن اُن کی لگن میں کبھی کمی نہ آئی۔ وہ چاہتے تھے کہ نشتر میں آنے والا ہر بچہ اور بچی اس انداز سے تعلیم حاصل کرے کہ وہ عملی زندگی میں جا کر صحیح معنوں میں خدمتِ خلق کر سکے۔ نشتر ہسپتال کا وارڈ نمبر12 اُن کا مسکن ٹھہرا اور انہوں نے بطور ڈاکٹر و پروفیسر اسی وارڈ میں خدمات سرانجام دیں۔
انڈر گریجوایٹ ہوں یا پوسٹ گریجوایٹ کی کلاسز ڈاکٹر عنایت اﷲ نے اپنے آپ کو اُن کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ حالانکہ پوسٹ گریجوایٹ کو پڑھانا اُن کی ذمہ داری نہیں تھی لیکن انہوں نے یہ ذمہ داری ازخود لے رکھی تھی تاکہ آنے والے دنوں میں جنوبی پنجاب میں طب کے جو مسائل نظر آ رہے تھے وہ ختم ہو سکیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ جب کالج اور ہسپتال میں ڈیوٹی ٹائم ختم ہو جاتا تھا اور ان کے کولیگز اپنے اپنے کلینک کرنے کو مصروف ہوتے تو تب ڈاکٹر عنایت اﷲ بچوں کو اعزازی طور پر وارڈ کے اندر پڑھا رہے ہوتے تھے۔ بطور اسسٹنٹ پروفیسر انہوں نے طب کے مختلف موضوعات پر چار کتابیں تحریر کیں جو اگرچہ نصاب کا حصہ نہیں لیکن ہیلپنگ بکس کے طور پر پاکستان، بھارت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اُن کی خمیر خیر کی مٹی سے اٹھایا گیا ہے۔ کہ وہ ہر وقت آسانیاں بانٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آج بھی اپنے علاقے مظفرگڑھ میں گاہے گاہے جا کر میڈیکل کیمپس لگاتے ہیں اور مستحق مریضوں کو مفت ادویات فراہم کرتے ہیں۔
ڈاکٹر عنایت اﷲ کو ایک طرف پڑھانے کا شوق تھا تو دوسری طرف جنرل میڈیسن میں تحقیق کی بھی لگن رہی۔ وہ تھرڈ ایئر اور فورتھ ایئر کے طالب علموں کو یوں پڑھاتے تھے کہ اگر اُن کی کلاس کا وقت صبح آٹھ بجے ہوتا تھا تو وہ آٹھ بجنے سے پہلے کلاس میں موجود ہوتے اور طالب علم بھی اُن کے آنے سے پہلے کلاس میں آ جاتے تھے کہ انہیں معلوم تھا ڈاکٹر عنایت اﷲ کبھی آنے میں تاخیر نہیں کریں گے۔ نشتر میں جہاں انہوں نے اور بہت سے طب کے حوالے سے کام کیے وہاں انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد ناصر کے ساتھ مل کر نشتر ہسپتال میں گیسٹرو انٹرالوجی کا شعبہ قائم کیا۔ جو آج کے دور میں کسی نعمت سے کم نہیں۔ ڈاکٹر عنایت اﷲ میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ مریض دیکھنے کے بعد اس کو صاف صاف بتا دیتے ہیں کہ اس کا علاج فزیشن کی بجائے سرجن کے پاس ہے یا یہ وہ بیماری ہے جس کے لیے آپ کو کسی اور ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے گا۔ وہ اپنے کلینک پر آنے والے مریضوں کو لارالپا نہیں لگاتے بلکہ اس کو کھرے انداز سے کہہ دیتے ہیں کہ آپ کا علاج میرے پاس نہیں۔ جاتے ہوئے فیس واپس لے جائیے گا اور پھر اگلے ڈاکٹر کا بھی تجویز کر دیتے ہیں کہ آپ کی بیماری کا علاج فلاں ڈاکٹر کرے گا۔
اُن کے کلینک پر نہ تو میڈیکل ریپس کا رش ہوتا ہے اور نہ ہی میڈیکل کمپنیوں والے انہیں مراعات کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ ڈاکٹر عنایت اﷲ نے اپنے مریضوں کی بیماری کا خیال رکھنا ہے نہ ادویات بنانے والی کمپنیوں کا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ آج کل پرائیویٹ میڈیکل کالج میں پڑھا رہے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے کلینک کرتے ہیں لیکن ان کی زندگی کا اصل مرکز و محور یہی ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت کیسے کی جائے کہ وہ آج بھی لالچ کی بجائے ہر اُس شخص کی اشک شوئی کرتے ہیں جو اُن کے پاس اپنی بیماری کی دوا لینے آتا ہے۔ دُعا ہے ڈاکٹر عنایت اﷲ کی عنایتیں یونہی جاری و ساری رہیں۔ کہ اس طرح کی شخصیات شہر کے وقار میں نہ صرف اضافہ کرتی ہیں بلکہ شہر کا حسن بھی اس طرح کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker