اختصارئےشہزاد عمران خانلکھاری

کورونا : دنیاکو کون سی بات سمجھ نہیں رہی ؟ ۔۔شہزاد عمران خان

جنگ کا ذکرآتے ہی دنیا پر ہر طرف تباہی ،بربادی اور اجاڑ دنیا کا تصور آتا ہے جہاں پر ہر چیز تہس نہس ہوجاتی ہے ۔ کہیں میزائل سے حملہ کیا جاتا ہے تو کہیں توپ ،ٹینک اور دیگر اسلحہ استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بے پناہ تباہی پھیلتی ہے ۔ شہروں کے ذرائع آمد ورفت اور دیگر سب کچھ تباہ ہوجاتا ہے۔ مگر دنیا اب ایک انجانی جنگ لڑرہی ہے جس میں نہ تو ہتھیار استعمال ہورہے ہیں نہ تباہی نظر آرہی ہے نہ بربادی ہے اور نہ دھماکوں کی آوازیں ۔
ہرچیز اپنی جگہ جوں کی توں ہے۔ ہسپتال، سکول، انڈسٹری غرض ہر چیز مگر انسان ہیں کہ اس کا شکارہورہے ہیں۔دنیا میں جب سے کورونا کی وباءآئی ہے اس نے پوری دنیا کومفلوج کردیا ہے۔ ایک اکیلا کور ونا پوری دنیا کی آبادی کونگلتا نظرآرہاہے۔ لگ بھگ چھ ارب سے ز ائد نفوس پر مشتمل دنیا کی آبادی فوج بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں ہر انسان کورونا سے جنگ لڑرہاہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اس کے خلاف طرح طرح کے نئے تجربات کررہے ہیں کہ کس طرح اس وباءسے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ مختلف مفروضے ہیں جن کی بنیاد پر تحقیق ہورہی ہے کہ کس طرح ان مشکلات سے نکلا جائے مگر دنیا بھر کے سائنسدان تاحال ناکام دکھائی دے رہے ہیں جہاں کورونا کی وجہ سے ہزاروں انسان ہلاک ہوچکے ہیں۔لاکھوں اس مرض میں مبتلا ہیں اس بیماری سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد بہت کم دکھائی دے رہی ہے یعنی آنے والے وقت میں اس کی وجہ سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن سکتے ہیں جو دنیا کےلئے کسی سانحے سے کم نہیں ہے۔ تحقیق جاری ہے مگر اب تک یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکا کہ اس کی شروعات کیسے ہوئی۔
کورونا کے ساتھ ہر ملک جنگ لڑنے کو کہہ رہاہے مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ کیسی جنگ ہے جہاں کورونا کا تو کچھ بگڑا نہیں انسانیت کا ہی نقصان ہورہاہے۔ سائنسدان اس سے بچاؤ کی تدابیر تلاش کررہے ہیں مگر کورونا نے دنیا کومعاشی اعتبار صفر کردیا ہے۔تقریباً تمام انڈسٹریاں بندہوچکی ہیں لاکھوں بے روزگار ہوچکے ہیں پھرہم کہتے ہیں کہ کورونا سے جنگ جیت کر دکھائیں گے جب سب کچھ برباد ہوگیا پھرچاہے جنگ جیتیں یا ہاریں کیافرق پڑتا ہے۔ہزاروں مرگئے ،لاکھوں بے روزگار ہوگئے پھریہ جیت کیسی ہوگی۔ بالفرض آنے والے وقت میں اس کی ویکسین تیارہوگئی تو کیا گارنٹی ہے کہ یہ وائرس پھرسے حملہ آور نہیں ہوگا ۔ کیا سائنسدان اتنی مقدار میں ویکسین تیارکرلیں گے جو پوری دنیا کے لیے کافی ہو۔ ویکسین کسی بھی بیماری کے حملہ آور ہونے سے قبل لگائی جاتی ہے تاکہ اس بیماری سے محفوظ رہا جائے۔ سائنسدان اس ویکسین بنانے میں تو مصروف ہیں مگر ادویات کے حوالے سے تحقیق ابھی تک اس طرح نہیں لی جارہی جس طرح ہونی چاہیے کہ کون سی دوا اس وائرس کوختم کرنے میں کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔یہ معمہ بھی ابھی باقی ہے صرف سماجی دوری اور فاصلے کسی بھی طرح علاج کا نعم البدل نہیں ہوسکتے ۔ تاہم انسانیت اس انتظار میں ہے کہ دنیا کوسیکنڈ میں تباہ کرنے والے ہتھیار بنانے والے سائنسدان انسانیت کی بقاءکے لیے کب تک بیماریوں کااعلاج ڈھونڈ سکیں گے۔ہمیں ویکسین سے پہلے کسی اینٹی وائرل کی ضرورت ہے اور یہ بات پڑھی لکھی دنیا کو جانے کیوں سمجھ ہی نہیں آ رہی ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker