اختصارئےشہزاد عمران خانلکھاری

شہزاد عمران خان کااختصاریہ : پیٹرول ، آئی ایم ایف امداد اور عوام

پاکستان دنیا میں تیسرے درجے کا ملک ہے جسے اپنا نظام چلانے کیلئے غیر ملکی امداد کی ضرورت رہتی ہے اس ضمن میں عالمی مالیاتی ادارے جو بھاری سود اور شرائط عائد کرتے ہیں ان تمام شرائط کا اطلاق عوام پر ہوتا ہے۔
اس تیسرے درجے کے ملک کے عوام تو پہلے ہی معاشی طور پہ کمزور ہیں ساٹھ فیصد سے زائد عوام خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ایسے قرضہ جات سے ان پر مزید ٹیکس عائد کر دئے جاتے ہیں جس سے عوام بدحال سے بدحال ہو رہی ہے امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب غریب تر ہو رہا ہے۔
جتنی بھی حکومتیں آتی ہیں سارا بوجھ عوام پہ منتقل کرتی ہیں کوئی بھی اپنی عیاشیاں کم نہیں کرتے ایک غریب ملک میں وزراء مشیر سرکاری عہدے دار جنہیں کنوینس کے لئے جو گاڑیاں دی جاتی ہیں وہ تو ترقی یافتہ ممالک کے وزرا کو بھی حاصل نہیں ہیں تنخواہ اور ڈیلی الاؤنس الگ اورریٹائر ہونے کے بعد ساری زندگی پنشن بھی دی جاتی ہے اور مراعات بھی حاصل رہتی ہیں ہر حکومت اپنے دور حکومت میں مہنگائی کا رونا رو کر عالمی اداروں سے عوام کے نام پہ پاکستان کے اثاثے گروی رکھوا کر بھاری قرض لیتی ہے اور حکومتی اللوں تللوں پہ خرچ کر دیتی ہے ۔
پاکستان میں درآمدات اور برآمدات میں فرق کیوجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہو جاتی ہے اور قرضوں میں اضافہ ہو جاتا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی وجہ سے کثیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے اگر حکومت سولر انرجی کو فی الفور ہنگامی بنیادوں پر گھروں دفاتر انڈسٹری اور دیگر تمام ضروریات پر آسان اقساط میں عوام کو مہیا کریں اس سے بھی بچت ہو سکتی ہے زر مبادلہ بچایا جا سکتا ہے اس طرح مہنگی گاڑیوں کی امپورٹ پہ بابندی ہونی چاہیے ہے ملک میں کروڑوں روپے کی گاڑیاں کسی بھی شہر کی سڑکوں پہ دوڑتی نظر آتی ہیں ٹیکس کا نظام بہتر بنایا جائے ان ڈائیرکٹ ٹیکس سسٹم کی بجائے ڈائیرکٹ ٹیکس جمع کروایا جائے جو ملک کے ریونیو میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے بصورت دیگر ملکی حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں ۔
گزشتہ رات ہی اچانک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا گیا مجھے یاد ہے زرداری کے دور حکومت میں پٹرول کی قیمت فی بیرل 155 ڈالر تک گئی مگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت 120 روپے فی لیٹر سے زائد نہیں ہوئی اب ایسا کیا ہوا کہ پٹرول کی قیمت 180 روپے فی لیٹر ہے آنے والے دنوں میں مہنگائی کا وہ طوفان آۓ گا کہ خدا کی پناہ حکمران اور دیگر ادارے سوچیں یہ ملک ہو گا تو ہی یہ ادارے ہونگے اگر خدانخواستہ ملک ہی نہ رہا تو یہ ادارے کہاں ہونگے مشکل کی اس گھڑی میں عوام کا خون چوسنے کی بجائے تمام حکومتی ادروں بشمول انصاف کے ادارے حفاظت کے ادارے فی الفور اپنے اخراجات کم کریں جن محکموں کے ملازمین کو بجلی گیس اور دیگر ضروریات مفت دی جاتی ہیں کچھ عرصہ کیلئے معطل کر دینی چاہیے ہیں اس میں پاکستان کی بقا ہے اس قوم کا پیٹ نعرے اور دعووں سے نہیں بھرے گا اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker