ادبپروفیسر حامد مسعولکھاری

پروفیسر حامد مسعود کی یاد نگاری : شبِ تاریک اور جگنو

معلوم تاریخ کے ہر دور میں عموماً مگر یورپ میں رہنے ساں یا احیاء العلوم کی تحریک کے بعد سے صرف اس معاشرے نے حقیقی ترقی کی ہے جس نے علم و ہنر کی نئی راہیں تلاشی ہیں۔ ان راہوں کو تلاشنے کا جنون یا تو ہم میں قدرت نے ودیعت کیا ہو تا ہے (جو یقیناً کم لوگوں میں ہوتا ہے) ۔ یا پھر ہمارے اساتذہ ہم میں پیدا کرتے ہیں بھلے وہ ہیلن کیلر کی ٹیچر اینی کی طرح تاریخ میں مذکور ہوں یا نہ ہوں مگر ان کے گہرے اثرات ان کے طلباء کی شخصیات پر ہمیشہ رہتے ہیں۔
درج ذیل سطور ان صاحبان علم و کردار کو خراج تحسین ہے جن کو ہمارا طاقت پرست معاشرہ بھلے تسلیم کرے یا نہ کرے مگر ان کی جلائی ہوئی مشعلیں بہت سے اندھیروں کے سامنے دیوار ہیں۔ ان کے طلبا جہاں بھی ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے کام کے حوالے سے دوسروں سے مختلف ضرور ہونگے یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں مختلف ہونا سزا سے کم نہیں۔
یادداشت کی پرتوں میں ایک بہت گہری پرت پر ایک نام ابھی بھی محفوظ ہے۔ یہ 1970 اور 1980 کا کوئٹہ ہے چھوٹا سا صاف ستھرا شہر۔ آ پ کو لیاقت بازار یا پرنس روڈ پر ایک بظاہر عام دکھنے والا ایک خاص شخص ملتا ہے آپ اگر اردو زبان و ادب کے طالب علم ہیں تو ان سے جان پہچان کے بغیر بھی کچھ پوچھ سکتے ہیں اگر ان کے پاس وقت ہوا تو گویا دبستاں کھل گیا۔ یہ ہیں تونسہ شریف کے نواحی قصبے سوکڑ سے تعلق رکھنے والے محترم نور محمد ہمدم صاحب جنھوں نے کسمپرسی کے عالم میں تعلیم کے کچھ درجے طے کرنے کے بعد سکول ایجوکیشن بلوچستان سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور کالج کے پرنسپل ہوئے۔
ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ چلتی پھرتی ڈکشنری ہیں۔ حد درجہ فقیرانہ مزاج کے حامل تھے یا شاید سبھی حقیقی لوگ اپنے اندر سے فقیر ہی ہوتے ہیں۔ بخدا آج آپ کو گوگل اتنی معلومات نہیں دیتا جس قدر ہمدم صاحب چند لمحوں میں عطا کر دیتے۔ ان سے فیض پانے والے لوگ آج جہاں بھی ہیں اس امر کی گواہی دیں گے کہ ہمدم صاحب جیسا استاد شاید ہی کہیں ملے۔ پھر بھٹو صاحب کے ایسے عاشق کہ جس عہد میں بھٹو صاحب کا نام لینے پر پابندی تھی، آ پ نے میلہ سبی میں قلم قبیلے (جسے ضیا کے گورنر بلوچستان کی اہلیہ بیگم ثاقبہ رحیم الدین کی سرپرستی حاصل تھی) کے زیر اہتمام مشاعرے میں بھٹو کی شان میں نظم پڑھ ڈالی اور پھر حسب توقع نتائج کا بہادری سے سامنا کیا۔
پھر کوئٹہ سے ہی انگریزی کے استاد سر جمشید احمد صاحب کہ اس دور کے طلباء کے لیے ان سے پڑھنا ایک اعزاز تھا۔ میرے ویکھ نصیب کہ مینوں راہ چوں لبھ گیا لال کے مصداق ایف ایس سی میں شاندار ناکامی کا سامنے کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں داخلہ لیتے ہی پہلے دن پہلی کلاس ہی ان کی تھی۔ کمرہ جماعت ایک بالا خانہ (دوسری منزل) پر تھا۔ ان دنوں کالج کا لان گلابوں سے اٹا ہوا۔ اس کے پیچھے سریاب روڈ۔ پھر کہیں دور سیبوں کے باغ اور پھر پہاڑ۔
جان کیٹس کے مشہور اوڈ ٹو نائٹ انگیل کو دو مہینوں میں پڑھا گیا۔ “ذکر اس پری وش کا اور پھر بیان اپنا” والی بات تھی۔ ہر نوع کے طلبا مگر سب کے سب جمشید صاحب کے مداح۔ جناح روڈ پر ان کے بھائی کوئٹہ بک سٹال چلاتے تھے۔ وہاں پر ان سے ملاقاتیں ہوتیں۔ پھر ہم میں کچھ لوگوں کو ان کی ذاتی لائبریری کی زیارت بھی ہوئی۔ زمین سے چھت تک کتابیں ہی کتابیں۔ ملتان آ جانے کے بعد بھی جب بھی کوئٹہ جانا ہوتا تو ان سے ملے بغیر واپسی ناممکن ہوتی گو اب وہ اس جہاں میں نہیں رہے لیکن دل میں رہنے والے دل سے کہاں نکلتے ہیں۔ ان کا اپنے طلباء کے ساتھ مشفقانہ رویہ سبھی کے دلوں میں نقش ہے۔
پھر ملتان میں اسی مزاج کے ٹیچر بدرالدین حیدر صاحب مل گئے۔ نہایت شائستہ اور ڈھلتی عمر میں بھی بے حد دلکش۔ جب پنجابی بولتے تو سننے والوں کو دلی اور لکھنؤ کا سواد آ جاتا (کوننڈرم یعنی بھول بھلیاں کے لیے ان کی اختراع تھی بھمبھل بھوسا) ۔ کلاسیکل ڈرامہ اور رومانوی شاعری شاید ہی کوئی ان کی طرح پڑھا سکے۔ زکریا یونیورسٹی کے اساتذہ ان سے فیضیاب (ان دنوں یہ لفظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوتا تھا) ہونے میں فخر محسوس کرتے۔
کالج میں ان کے پیریڈ میں دوسری کلاسز کے طلباء بھی بیٹھ جاتے مگر انہوں نے کبھی منع نہیں کیا۔ خالد سعید کے گہرے دوست۔ اسی ناتے مجھ سے بھی بے تکلفی کا رشتہ قائم ہو گیا۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں کینٹ میں ملے۔ ان دنوں موبائل فون آ چکے تھے۔ میں نے اپنی ازلی حماقت سے کام لیتے ہوئے ان کو موبائل فون لینے کی تجویز دی تو مجھے ترنت جواب دیا ”صاحب ڈش کے چینل بدلنے کے لیے تو ایک ملازم رکھا ہوا ہے اب موبائل فون کے استعمال کے لیے ایک اور ملازم رکھوں؟“ ۔ آج بھی شالیمار کالونی میں ان کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے عہد گزشتہ نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ دل چاہتا ہے رک کر گھنٹی بجائی جائے مگر ذہن کہتا ہے کہ اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔
بدرالدین حیدر ایک نرم رو چشمہ تھے تو اردو کے مایہ ناز ٹیچر صلاح الدین حیدر پہاڑوں سے ٹکراتے ایک دریا ہیں۔ یہ میرے اور خالدی کے ماما جی ہیں۔ مجلس احرار کے ایک وفا کیش جانثار کے گھر جنمے صلاح الدین حیدر اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ ان کی وابستگی ابتدائی دنوں سے ہی بائیں بازو کی سیاست سے رہی۔ خوش قسمت رہے کہ اس دور کو دیکھا جب عاشق عاشق ہی تھا اور معشوق ابھی ورسٹائل نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنی یادوں کو فیس بک پر شیئر کرتے رہتے ہیں اور مجھ سمیت اپنے بہت سے چاہنے والوں کی فرمائش کو تاحال ٹال رہے ہیں کہ انھیں باقاعدہ کتابی شکل میں چھاپیں۔
معاصر دنیا کے ادب پر اتنی گہری نظر رکھنے والے صاحبان علم میں وہ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کو شاید یاد نہ ہو میں نے اپنے ایم اے انگریزی کے لیے ان سے ماڈرن لٹریچر پر کچھ گپ شپ کی جسے ترتیب دے کر ایک ایسے (مضمون) کی شکل دی۔ بعد ازاں اسی ایسے کو اپنے کاملیت پسند ٹیچر بدر صاحب کو دکھایا۔ انھوں نے نہ صرف اس کی بے حد ستائش کی بلکہ اس کی ایک کاپی کروا کر اپنے ریکارڈ میں رکھ لی۔ وہ بائیں بازو سے تعلق کی وجہ سے ذاتی سطح پر بہت سے مسائل کا سامنا کر چکے ہیں مگر اس نے ان کی ذاتی شگفتگی پر اپنے سائے نہیں چھوڑے۔
آج کے عہد تاریک میں وہ ایک لائٹ ہاؤس کی مانند ہیں۔ ان کی تحریریں آنے والے وقتوں کے ممکنہ چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مگر ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم کا شکار ہمارا خطہ اکثر ایسی آوازوں کو زیادہ توجہ نہیں دیتا۔ ان کے لیے محبت کا زمزمہ بہاتی تحریریں زیادہ خوش کن ہوتی ہیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ آخری بات مردود حرم لوگوں کی ہی درست ثابت ہوتی ہے یہ الگ بات کہ ان کو ہمیشہ ہی کنارے پر جگہ ملتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker