ادبطلعت جاویدلکھاری

غضنفر محمود ملک اور میرے قہقہوں کی دنیا۔۔طلعت جاوید

غضنفر محمود ملک کا جب بھی خیال آتا ہے ایک کھلکھلاتا ہوا چہرہ نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔ وجیہہ و جمیل چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، سرخ و سپید رنگت، قرینے سے بنے ہوئے بال، آنکھوں میں شرارت، جب دیکھئے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہوئی سی جو ذرا سی انگیخت پر فلک شگاف قہقہے میں تبدیل ہو جاتی۔ خوش خوراک، خوش لباس، خوش گفتار غرض ان کی شخصیت سے منسوب خوشی کا پہلو اس قدر نمایاں تھا کہ مَیں کبھی سوچتا کہ اس شخص کو کوئی غم فکر نہیں ہے؟ مگر ایسا بھی نہیں تھا ملک صاحب کی زندگی بھی ہماری طرح کٹھن تھی۔ انہیں بھی بہت سے مسائل درپیش تھے۔ انہیں بھی ایک سخت گیر افسر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان کی بھی جوابدہی ہوتی تھی وہ بھی لمحہ بھر کو پریشان ہوا کرتے تھے پھر چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوتی، آنکھوں میں شرارت کی چمک نظر آتی اور ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑتا۔ خود ملک صاحب تو کیا آس پاس بیٹھے ہوئے لوگ بھی ہنس پڑتے اور لمحہ بھر میں بھول جاتے تھے کہ وجہ پریشانی آخر تھی کیا۔ ملک صاحب گھی کارپوریشن میں میرے ہم عصر رہے اور پانچ برس تو ہم ایک ہی کارخانے میں خدمات سرانجام دیتے رہے، وہ کمرشل منیجر تھے اور مَیں چیف اکاؤنٹنٹ۔
1981ءکے اوائل کا ذکر ہے مَیں 26-27 برس کا نوجوان تھا، نئی شادی ہوئی تھی اور نئی سے نئی ملازمت کی تلاش میں رہتا تھا۔ طبیعت میں سیمابی کیفیت تھی۔ ایک اچھی ملازمت کے ہوتے ہوئے بھی ملازمت کے ہر اشتہار پر درخواست بھیج دیتا تھا۔ ایک روز اخبار میں گھی کارپوریشن کے ایک کارخانے میں ڈپٹی منیجر اکاؤنٹس کی خالی ا سامی کا اشتہار دیکھا تو فوراً درخواست دے دی حالانکہ چھ ماہ قبل ہی ایک سرکاری انشورنس کارپوریشن میں میری تقرری ہوئی تھی۔ شیخ صادق ہمارے ہمسائے تھے۔ ایک روز برسبیل تذکرہ اپنے ایک پرانے دوست غضنفر محمود ملک کا ذکر کیا تو مَیں نے اشتہار انہیں دکھایا۔ بولے:
”وہ اسی مِل میں تو کام کرتے ہیں آپ میرے توسط سے انہیں مل لیجئے ممکن ہے یہ آپ کی مدد کر سکیں۔“
مَیں ایک روز ان سے وقت لے کر روز گھی مِل پہنچ گیا۔ ملک صاحب نہایت خوشدلی سے ملے اور قاصد (ان دنوں چپڑاسی کو قاصد کہا جانے لگا تھا) کو بلا کر چائے لانے کو کہا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ قاصد صرف ایک کپ چائے کا لایا اور وہ بھی ملک صاحب کے سامنے رکھ دی۔ ملک صاحب نے اشارے سے کچھ کہا تو قاصد چچا قمر دین نے منہ پر رکھا ہوا رومال ہٹایا اور پان زدہ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کچھ گھگھیائے۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہ آئی مگر ملک صاحب نے مسکراتے ہوئے چائے کی پیالی میرے آگے سرکا دی اور کہا:
”مَیں ابھی چائے پی کر بیٹھا ہوں۔“
بعد میں جب مَیں اس ملز میں تعینات ہو گیا تو معلوم ہوا کہ چچا قمردین ایم ڈی صاحب کے لاڈلے قاصد تھے، چائے کا انتظام اور اختیار انہی کی ذمہ داری تھی اور وہ کفایت شعاری کی سرکاری ہدایات کے باعث کسی افسر کو ایک پیالی صبح اور ایک پیالی سہ پہر سے زیادہ دینے کے روادار نہیں تھے۔ اس روز ملک صاحب نے کمال ضبط کے ساتھ ماتھے پر شکن تک نہیں آنے دی اور خوشگوار انداز میں گفتگو کرتے رہے۔ملازمت کے حصول کے لیے ملک صاحب زیادہ مددگار ثابت نہ ہوئے مگر بہرحال مجھے یہ ملازمت مل گئی۔
ملک صاحب کمرشل منیجر تھے۔ ان کے فرائض میں ملکی خام مال اور دیگر اشیاءکی خریداری صابن اور گھی کی فروخت اور ترسیل شامل تھے۔ گھی کارپوریشن کی تھوک میں درآمد صرف خوردنی تیل اور ٹن پلیٹ کی ہوتی تھی جبکہ دیگر مصنوعات جن کا گھی تیار کرنے میں استعمال ہوتا وہ ملکی منڈیوں سے خرید کی جاتیں۔ گھی کی فروخت کے بنیادی امور یعنی قیمت فروخت اور ترسیل کا چارٹ ہیڈآفس میں طے پا جاتا تھا۔ ہیڈآفس کے منصوبہ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں گھی کی ترسیل بھی ملک صاحب کے فرائض کا حصہ تھی۔ ٹین بنانے والے ٹھیکیداروں اور گھی کی ترسیل کے ٹرکوں کا انتظام بھی کمرشل منیجر کو کرنا پڑتا۔ ان مقاصد کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جاتی تھیں اور ٹھیکیداروں کا چناؤ ہوتا۔ چیف اکاؤنٹنٹ، پروڈکشن منیجر، پرسانل منیجر اور ایم ڈی صاحب کمرشل منیجر کی معاونت کے لیے ان کمیٹیوں میں شامل ہوا کرتے تھے۔ بارہا شدید اختلاف رائے کا سامنا کرنا پڑتا ملک صاحب اپنے اخلاق اور خوشگوار مزاج کے باعث خوش اسلوبی سے معاملات حل کر لیتے تھے۔
مَیں انتظامی ڈھانچے میں سب سے کم عمر تھا مگر مالیاتی امور میں میری رائے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہو پاتا لہٰذا دیگر ممبران دل ہی دل میں مخاصمت بھی رکھتے تھے۔ ملک صاحب اپنی ناراضی کا اظہار واقعات اور لطائف کی صورت میں کرتے۔ میرے دفتر سے ملحق واش روم تھا اور چیدہ چیدہ افسران کو اس کے استعمال کے لیے میرے دفتر آنا ہی پڑتا تھا۔ اسی تناظر میں ملک صاحب ناراضی کے دوران بھی ہنس کر کہتے کہ:
”اس کے کمرے میں تو رفع حاجت کے لیے جانا پڑے گا“
ایم ڈی صاحب سے ان کے تعلقات اکثر خراب رہتے تھے۔ بنیادی وجہ ان کا بعض اوقات دفتر تاخیر سے آنا اور ایم ڈی صاحب کی تلخ اور طنز آمیز باتیں سن کر بھی مسکراتے رہنا اور کبھی کبھار قہقہہ لگا دینا تھا۔ ایک ایم ڈی صاحب السر کے پرانے مریض تھے اور کبھی تکلیف کی شدت کے باعث جریانِ خون کی شکایت بھی ہو جاتی تھی۔ ایک روز ایم ڈی صاحب نے گلہ کیا کہ مَیں نے ملک صاحب کو دیر سے آنے پر تنبیہ کرنا چاہی تو وہ پہلے ہی بول اٹھے کہ:
”سر آج تو غضب ہو گیا ہے صبح مجھے بھی خون کی تکلیف لاحق ہو گئی ہے۔“
ایم ڈی صاحب بولے:
”اب بتائیں مَیں انہیں کیا کہتا۔“
ملک صاحب اشاروں ہی اشاروں میں اپنا تنقیدی نکتہ نگاہ بیان کر کے قہقہہ لگا دیتے تھے۔ لہٰذا کسی کو شکایت نہ ہوتی ایک روز کہنے لگے:
”اب تو لباس کے بارے میں بھی لوگ بے پرواہ ہو گئے ہیں ٹویڈ کے کوٹ کے ساتھ ٹھنڈی پتلون پہن کر دفتر آ جاتے ہیں۔“
غور کیا تو ایسا لباس مَیں نے پہن رکھا تھا ساتھ ہی ملک صاحب نے قہقہہ لگایا اور بات بدل دی۔
ایک روز خوش گپیوں میں دوسروں سے حسد کرنے کا تذکرہ ہو رہا تھا تو ملک صاحب گویا ہوئے:
”کوئی شادی کر کے اپنی خوبصورت بیوی کو ساتھ لے کر صدر بازار کی سیر کرنے آ جائے تو ہم حسد سے اپنا سر تو نہیں پھوڑ سکتے۔“
ساتھ ہی ملک صاحب نے ایک قہقہہ لگایا۔ ذرا سی دیر میں ایک شریکِ محفل جو حال میں ہی اس تجربے سے گزرے تھے خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے۔
ایک روز ایک فربہی مائل فیشن زدہ خاتون ایم ڈی صاحب کے دفتر میں داخل ہوئی جس کا دروازہ ہر وقت ملک صاحب کی نظروں میں رہتا تھا۔ شہر میں صنعتی نمائش ہو رہی تھی اور وہ خاتون ایک طائفے کا حصہ ہونے کے باعث چندے کے عوض ایک سٹال فروخت کرنے آئی تھی۔ ایم۔ڈی صاحب نے مجھے طلب کر کے بجٹ کی صورتحال پوچھی۔ مصنوعات کا سٹال لگانے کا وعدہ وہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ میک اَپ کی زیادتی اور چکنائی کے باعث اس خاتون کا چہرہ چمک رہا تھا۔ ذرا سی دیر میں ملک صاحب بھی ایک فائل بغل میں دبائے اندر آ گئے اور تنقیدی نظروں سے اس خاتون کو دیکھنے لگے۔ ایم۔ڈی صاحب نے صنعتی نمائش میں سٹال کے بارے میں ملک صاحب کو ہدایات دیں جو بظاہر انہوں نے سُنی اَن سُنی کر دیں۔ وہ حق بجانب تھے کہ کمرشل منیجر ہونے کے باوجود ان سے مشورہ کیے بغیر ایم۔ڈی صاحب نے سٹال کی حامی بھر لی تھی۔ وہ خاتون دفتر سے باہر نکلیں تو ملک صاحب نے سرگوشی کے انداز میں پنجابی میں ایم ڈی صاحب سے دریافت کیا:
”سر جی اے تھندا لفافہ کون سی؟“
ساتھ ہی ان کا قہقہہ گونجا۔ ایم۔ڈی صاحب ناراضی کا اظہار کرنے ہی والے تھے کہ وہ بھی ملک صاحب کی حاضر دماغی پر بے ساختہ ہنس پڑے۔
گھی کارپوریشن میں کئی سال سے افسران بونس سے محروم تھے ترقیاں بھی نہیں ہو رہی تھیں۔ ہیڈ آفس کے افسران نے ”آفیسرز یونین“ بنائی اور ہم لوگوں کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ ایک روز ہیڈ آفس یونین کے عہدیداران کا ایک وفد ملتان آیا خفیہ اجلاس کے لیے ملک صاحب کے گھر کا انتخاب ہوا کہ وہ سب سے زیادہ متحرک تھے اور تجربے کے لحاظ سے سینئر بھی۔ لگ بھگ بیس افراد ان کے ڈرائنگ روم میں اکھٹے ہو گئے۔ اجلاس کے بعد کھانے کی میز پر آنے کی دعوت دی گئی۔ دعوتِ شیراز تھی مگر شرکاءنے نیت اور جی بھرنے تک دعوت اڑائی اور ان کے جذبہ میزبانی کی تعریف کی۔
ملک صاحب کے بے لاگ تبصروں اور بے وقت طنزیہ قہقہوں سے کچھ لوگ نالاں بھی تھے اور ادھار چکانے کا موقع تلاش کرتے رہتے تھے۔ ایک روز چھٹی کے دن کچھ ضروری کاغذات پر دستخط کرانے ایک اسسٹنٹ ان کے گھرگیا تو ملک صاحب گرم ڈریسنگ گاؤن زیب تن کیے اونی گلوبند لپیٹے سر پر چترالی ٹوپی پہنے اپنی کوٹھی کے پورچ سے گیٹ تک کا صحن جھاڑو سے صاف کر رہے تھے۔ جھاڑو بھی کوئی عام سا نہیں بلکہ سڑک کے جاروب کش والا بڑا جھاڑو تھا۔ اسسٹنٹ انہیں اس حالت میں دیکھ کر جھنیپ سا گیا اور واپس مڑنے لگا ملک صاحب نے اسے واپس جاتا دیکھ کر قہقہہ لگایا اور پوچھا:
”تم نے کبھی جھاڑو نہیں دیکھا یا بندہ نہیں دیکھا؟“
اگلے روز پوری مِل میں یہ خبر پھیل گئی کہ ملک صاحب اپنی کوٹھی کی صفائی خود کرتے ہیں۔ لیبر یونین کے عہدےداروں اور کچھ افسران نے بھی ملک صاحب کا ٹھٹھہ اڑایا جبکہ وہ خوشگوار انداز میں اپنا دفاع کرتے رہے کہ:
”اپنے گھر میں جھاڑو دے رہا تھا کسی اور کے تو نہیں۔ کئی روز سے مہترانی نہیں آ رہی تھی کوٹھی میں سوکھے پتے بکھرے پڑے تھے لہٰذا جھاڑو پھیر دیا۔“
غضنفر محمود ملک کا تعلق لاہور کے ایک کھاتے پیتے ملک گھرانے سے تھا۔ وہ نہایت خوش خوراک اور خوش پوش تھے۔ گرمیوں میں سفید یا بوسکی رنگ شرٹ اور مختلف رنگوں کی پتلون پہنتے تھے ۔ جاڑوں میں لندن سے خریدے ہوئے ٹویڈ کے کوٹ اور گرم پتلون زیب تن کرتے۔ ان کے پاس بہت پرانے گرم سوٹ، کوٹ پتلونیں اور بیش قیمت ٹائیاں موجود تھی جنہیں وہ نہایت اہتمام سے استعمال کرتے تھے۔ ہر برس جاڑوں سے پہلے وہ اپنے گرم کپڑوں کی فیشن کے مطابق قطع و برید اور ڈرائی کلیننگ کراتے۔ نہایت اعلیٰ آفٹر شیو لوشن اور پرفیوم ان کے سٹاک میں موجود رہتی تھیں جن کا استعمال وہ بے دریغ نہیں بلکہ بے حد احتیاط سے کرتے تھے۔ ان کا حلقہ احباب بے حد وسیع تھا۔ وہ محفلوں کے روح رواں ہوا کرتے تھے اور اپنے لطائف کے ذریعے سنجیدہ ماحول کو پل بھر میں خوشگوار بنا دیتے تھے۔ سٹائلش انداز میں اپنی مونگیا رنگ کی 76 ماڈل کرولا کار میں روزانہ صبح مل میں داخل ہوتے، انگلش میوزک کی آواز بند شیشوں میں سے سنائی دے رہی ہوتی تھی۔
ملک صاحب کی ترقی ہو گئی اور وہ گھی کارپوریشن کے ایک اور یونٹ میں ایم ڈی کے فرائض سنبھالنے رخصت ہو گئے۔ گاہے بگاہے ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ ان کی خوشگوار شخصیت یونہی برقرار تھی۔ پھر ایک روز ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے ایک کی بجائے دو دو دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ ہم نے سمجھا کہ ملک صاحب حسب عادت مذاق کے موڈ میں ہیں۔ وہ سنجیدہ تھے مگر ہنس بھی رہے تھے۔ میری طرف رُخ کر کے بولے:
”ابھی تم آ رہے تھے تو مَیں حیران ہو گیا کہ یہ ایک جیسے دو اشخاص کہاں سے آ رہے ہیں۔“
پھر قہقہہ لگا کر بولے:
”مَیں نے سوچا ہم سے تو ایک چیف اکاؤنٹنٹ قابو نہیں آ رہا تھا یہ دو کہاں سے آ گئے۔“
ملک صاحب نے بتایا کہ انہوں نے نیورو سرجن سے اپنے طبی معائنے کے لیے وقت لے رکھا ہے۔ چند روز بعد معلوم ہوا کہ ملک صاحب کو ”برین ٹیومر“ کی تشخیص ہوئی ہے اور ڈاکٹر نے فوری آپریشن کرانے کی ہدایت کی ہے۔
چند ماہ بعد ایک ملاقات ہوئی وہ بظاہر خوش باش لگ رہے مگر قہقہے معدوم تھے۔ انہوں نے تذکرہ کیا کہ ایبٹ آباد کے CMH میں ان کے آپریشن کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ ان کی اہلیہ کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا اور ان کے خاندان کے کچھ لوگ فوج میں ملازمت کر رہے تھے۔ لمحہ بھر کو ملک صاحب کی حسِ ظرافت جاگ پڑی اور ہنستے ہوئے بولے کہ کچھ دوست تو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ:
”جن لوگوں سے تم دماغ کا آپریشن کروا رہے ہو ان کے ہاں اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی لہٰذا کسی اور ہسپتال میں آپریشن کا بندوبست کرو۔“
اس ملاقات میں بہت دیر تک ملک صاحب ایک کی دو اور دو کی چار چیزیں نظر آنے کے دلچسپ واقعات سناتے رہے۔ ایک مدت کے بعد ہم ان کے قہقہوں میں شریک ہوئے تھے۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہ ان سے آخری ملاقات ہے۔
غضنفر محمود ملک دماغی جراحی میں جانبر نہ ہو سکے۔ اس وقت ان کی عمر 55 برس کے لگ بھگ تھی۔ ملک صاحب کے قہقہے ان کی زندگی میں نجانے کتنی پریشانیوں اور مسائل کو دنیا کی نظروں سے مخفی رکھتے تھے۔ انہوں نے دنیا کو ہمیشہ ایک مثبت پہلو سے دیکھا اور لوحِ حیات پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے مختصر سے کنبے کو بہت سے صدمات اور حادثات کا سامنا کرنا پڑا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker