ارشد چوہدریتجزیےلکھاری

خواجہ سرا کا قتل اور جعلی خواجہ سراؤں سے پیدا ہونے والے مسائل ۔۔ ارشد چوہدری کی رپورٹ

پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں نوجوان مسیحی خواجہ سرا سیمی کو مبینہ طور پر ان کے ایک دوست نے دیگر تین ساتھیوں کی مدد سے قتل کیا لیکن پولیس کو ابھی تک قتل کی کوئی شہادت نہیں ملی۔لاش کے نمونے فرانزک رپورٹ کے لیے لاہور لیبارٹری بھجوادیئے گئے تاکہ ہلاکت کی اصل وجہ کا پتہ لگایاجا سکے۔
پولیس کے مطابق لاش پر تشددکے نشانات موجود نہیں، یا تو زہر دے کر انہیں قتل کیا گیا ہے یا انہوں نے خود سوزی کی ہے۔ ہلاک ہونے والے خواجہ سرا کے گرو اور چچا نے قتل کا مقدمہ درج کرایا ہے۔
خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر الماس بوبی نے کہا ہے کہ جب خواجہ سرا محبتیں کر کے بے وفائی کرتے ہیں تو منہ بولے خاوند پھر انہیں قتل کر دیتے ہیں۔ انہیں ہم جنس پرستی سے باز رہنا چاہیے اور اگر کسی سے محبت کر کے ساتھ رہنے لگیں تو کسی دوسرے کے ساتھ تعلق نہیں بنانا چاہیے۔ نوے فیصد خواجہ سراؤں کو بے وفائی پر قتل کیاجاچکاہے۔
خواجہ سرا کی ہلاکت کیسے ہوئی؟
فیصل آباد کے علاقے داود نگر میں رہائش پذیر فائزہ خواجہ سرا کے مطابق سیمی نامی مسیحی خواجہ سرا جن کی عمر 16-17سال تھی، ان کی نعمان بٹ عرف نومی سے گہری دوستی تھی جو ان کے گھر اکثر آتے جاتے تھے۔ وہ چار اپریل کو آئے اور سیمی کو زبردستی ایک فنکشن پر لے جانے کی ضد کرنے لگے۔ سیمی چلی گئیں۔ پورا دن ان کے واپس نہ آنے پر فائزہ نے معلومات لینے کی کوشش کی تو ان دونوں کا نمبر بند تھا جس پر انہیں پریشانی ہوئی۔
فائزہ کا کہنا تھا ‘شام کے وقت نعمان بٹ رکشہ پر سیمی کو گلی میں ان کےگھر کے سامنے پھینک کر روانہ ہوگیا۔ جب اسے اٹھایا تو حالت خراب اور بے ہوشی تھی، ہسپتال لے کر گئے وہاں رات گزارنے کے بعد 5 اپریل کی صبح سیمی ہلاک ہو گئیں۔’ فائزہ کے مطابق انہوں نے متعلقہ تھانہ میں ایف آئی آر درج کروائی کہ سیمی کو نعمان بٹ نے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیاہے۔
قانونی کارروائی:
مقدمے کے تفتیشی افسر طارق محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے اور قانونی کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ تاہم موسی عرف سیمی کو قتل کیا گیا یا انہوں نے خود کشی کی ہے، یہ حتمی طور پر اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود نہیں تھے اور نہ بظاہر زد وکوب کرنے کا معاملہ تھا۔ اس لیے پولیس نے لاش کے نمونے لے کر فرانزک کرانے کے لیے لاہور لیبارٹری کو بھجوا دیے ہیں جن کی رپورٹ دو تین دن بعد آئے گی اور موت کی حتمی وجہ اسی رپورٹ سے ہی ثابت ہوگی۔
تفتیشی افسر سے ملزمان کی گرفتاری کا سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ واقعے کے بعد نعمان بٹ منظر عام سےغائب رہے اور دو دن بعد عدالت سےضمانت قبل از گرفتاری کروا لی۔ دوبارہ سماعت 16اپریل کو ہے۔ پولیس کی کوشش ہوگی کہ عدالت میں موقف پیش کر کے ان کی ضمانت خارج کروائی جائے اور انہیں گرفتار کر کے باقاعدہ تفتیش شروع ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جو دیگر تین نامعلوم افراد ایف آئی آر میں نامزد ہوئے ان کے بارے میں بھی مرکزی ملزم کو ریمانڈ میں لے کر ہی پوچھ گچھ ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف گواہان اور اہل علاقہ کے بیانات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ آپس کی دوستی میں کسی تنازعے پر جھگڑا ہواہے کیوں کہ دونوں کے درمیان گہری دوستی بتائی جاتی ہے۔
الماس بوبی کا موقف
پاکستان خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر الماس بوبی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ چند سالوں میں جو 100سے زیادہ خواجہ سرا قتل ہوئے ہیں ان میں سے نوے فیصد کے قتل کا مبینہ محرک ان کی اپنے چاہنے والوں سے شادیاں کر کے بے وفائی کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی طور پر خواجہ سرا بہت کم ہیں۔ بیشتر وہ ہیں جو لڑکے یا لڑکیاں شوق میں خواجہ سرا بنتے ہیں اور وہ تقریبات میں ناچنے گانے کے دوران پیار محبت میں مردوں سے جنسی تعلقات بناتے ہیں۔
الماس بوبی نے کہا فیصل آباد میں پیش آنے والے واقعے میں بھی ان کی اطلاعات کے مطابق یہی معاملہ ہے۔ موسی عرف سیمی نے نعمان بٹ سے جنسی تعلق بنا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بغیر تصدیق کے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ بنا کر انہیں مستقل خواجہ سرا کی پہچان دینے کی پالیسی بنائی جس پر انہیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے اسے سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیاتھا کہ جعلی خواجہ سرا بن کر ہم جنس پرستی کو فروغ مل رہا ہے اور بعض این جی اوز غیر ملکی فنڈنگ سے اس معاملہ کو پروان چڑھانے کا باعث بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشاور میں میشا، فیصل آباد میں ریشم، رولپنڈی میں تانی اور نائلہ نامی خواجہ سراؤں کو بھی ایسے ہی قتل کیا گیا اور اسی طرح پشاور میں نازو نامی خواجہ سرا نے صداقت نامی شخص سے دوستی کی، اس کے لاکھوں روپے خرچ کروائے، بعد میں بے وفائی پر اس نے اگست 2018میں ان کے ٹکڑے کر کے انہیں قتل کردیا۔
الماس بوبی کے مطابق دیگر کیسوں میں بھی خواجہ سراؤں کے عاشق ملوث تھے اس لیے خواجہ سراؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشے پر توجہ دیں اور مردوں سے جنسی تعلقات بنا کر جان داؤ پر نہ لگائیں۔
( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker