اظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

ہر طرف سے بلا کا خطرہ ہے :ہے خبر گرم / اظہر سلیم مجوکہ

مسلسل لاک ڈاﺅن کی وجہ سے جہاں پوری دنیا ایک نئے سوشل ورلڈ آرڈر کی طرف گامزن ہے وہاں پاکستان بھی وسائل اور مسائل سے دوچار نظر آتا ہے ۔ کرونا کی وباءنے پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا رکھی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک بھی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔سب سے پہلے کرونا کے متاثر ہونے والے ملک چین نے گیارہ ہفتے کے مکمل لاک ڈاﺅن کے بعد صحت یابی کا جشن بھی منا لیا ہے اور اس کا شہر ووہان پھر سے جگمگانے لگا ہے ۔اسی طرح لگتاہے کہ ہمارے شہروں میں بھی لاک ڈاﺅن کا دورانیہ مزید بڑھایا جائے گا ابھی تک اکثر شہروں میں مکمل لاک ڈاﺅن نہیں کیا گیا بلکہ جزوی طور پر لاک ڈاﺅن ہے اور صورت حال منیر نیازی کے اس شعر کی سی بنی ہوئی ہے۔
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
سارا سارا دن گھر سے باہر رہنے والے بھی اب گھروں میں مقید ہیں اور صورتحال
کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا
اور
بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
والی بنی ہوئی ہے۔ کسی حیلے بہانے سے بھی باہر نکلنے کی کوئی صورت نکلتی دکھائی نہیں دیتی بلکہ معاملہ کچھ اس طرح سے ہے کہ
ہر طرف کی خبر رکھو یارو
ہر طرف سے بلا کا خطرہ ہے
کرونا کی وبا بلکہ بلا نے بڑے بڑوں کا پتہ پانی کر رکھا ہے حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق غریبوں کا احساس کرتے ہوئے احساس پروگرام کے تحت کچھ گھرانوں تک امداد کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے یقیناً آنے والے دن مزید صبر آزما اور تکلیف دہ ہو سکتے ہیں مگر حکم ربی ہے کہ ہر تکلیف کے بعد راحت اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ بس صبر سے اس مشکل کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے اور احتیاط ہی کرونا سے نجات کا بہترین طریقہ ہے۔ یوں بھی اب ماہ رمضان کی آمد ہے اس مبارک ماہ کے استقبال کے ساتھ ساتھ ہمیں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور نیکوں کے اس مہینے میں خالص نیکیاں ہیں کمانی چاہئیں نہ کہ زیادہ دولت کمانے کا مقصد ذہن میں رکھنا چاہیے اس رمضان المبارک میں اشیاءکی قیمتیں اگر پہلے سے کم ہوئیں تو ہم سمجھیں گے کہ لوگوں نے کرونا کی آفت سے سبق حاصل کر لیاہے اگر ملکی خزانے کو شیر مادر سمجھنے والے اس آفت سے سبق حاصل کر لیتے ہیں تو آج ان کے نام آٹے اور چینی کے بحران میں نہ آ رہے ہوتے اور ذخیرہ اندوزوں کی خصوصی قلت اور مہنگائی میں چاندی بنانے کے خواب چکنا چور نہ ہوئے ہوتے۔
کرونا نے انسانی رویوں پر خاصے اثرات مرتب کیے ہیں بہت سے منفی اثرات کے ساتھ ساتھ کئی مثبت اثرات بھی سامنے آئے ہیں مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاﺅن کو 250 دن گزر چکے ہیں اور پوری دنیا اب لاک ڈاﺅن کے اثرات سے متعارف ہو رہی ہے۔ انسان غیر ضروری مصروفیات ہلے گلے اور شور شرابے کی دنیا سے نکل کر تنہائی کی طرف آ گیا ہے۔ غور و فکر کے مواقع زیادہ مل رہے ہیں گھر بار پر توجہ کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ مراقبہ کی افادیت بھی واضح ہو رہی ہے۔ ہمارے حکمرانوں سیاست دانوں اور عوام کو بھی سوچ بچار کا ایک نادر موقع میسر آیا ہے اگر ہم کرونا کے ان مثبت پہلوﺅں پر عمل درآمد کر لیں تو پھر شاید ایک قوم کی حیثیت سے بھی سامنے آ پائیں اور ہمارے بہت سے مذہبی، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی مسائل بھی حل ہوتے نظر آئیں۔
کرونا سے متاثر ہونے والوں کی مدد کرنا جہاں حکومت کا فرض ہے وہاں ہمارے سیاست دانوں، اراکین اسمبلی ، مخیر افراد اور اداروں کو بھی کرونا کی اس جنگ میں پوری طرح سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سماجی تنظیموں کو بھی عوام میں آگاہی کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی امداد کی حکمت عملی بھی وضع کرنا چاہیے۔ شنید ہے کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہو کر وطن واپس آ رہی ہے۔ حکومتی ٹاسک فورس کو اس حوالے سے بھی کچھ اقدامات کرنا چاہیں تاکہ ان کے روزگار کا کوئی مستقل حل نکل سکے۔ حکومت کو کرونا کی تباہ کاریوں سے تو نبٹنا ہی ہے لیکن بعد از اثرات کرونا سے نبٹنے کیلئے بھی حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ اس کے لیے حکومتی وزیروں اور مشیروں کا از حد فعال اور مخلص ہونا ضروری ہے۔ حکومتی ٹاسک فورس اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مصنوعی مہنگائی کو روکنے میں بھی اپنا کردار ادا کرے اور ہم سب بھی بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریاں محسوس کرتے ہوئے انفرادی طور پر اپنی اپنی اداﺅں پر بھی غور کریں تو شاید کوئی بات بنتی نظر آ جائے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker