Uncategorized

کوروناوائرس،کرکٹ 27 سال پیچھے چلی گئی ۔۔ عمران عثمانی

کوروناوائرس دنیا کو کتنا پیچھے لے گیا ،یہ تو وقت ہی فیصلہ کرے گا لیکن کرکٹ تاوقت 27سال پیچھے چلی گئی ہے اور کتنی جائے گی اسکا فیصلہ بھی وقت ہی کرے گا۔
کرکٹ اور خاص کر ٹیسٹ کرکٹ 27 سال پیچھے کیسے چلی گئی؟
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اس بات کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر انگلینڈ میں اس موسم گرما میں ٹیسٹ سیریز ممکن ہوئی تو اس میں غیر ملکی امپائرز کی بجائے انگلینڈ کے اپنے امپائرز کھڑے ہونگے،کوروناکی وجہ سے جس حد تک ممکن ہوسکا غیر ملکی آفیشلز کے سفر کومحدود کیا جائے گا اس طرح ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم کے ساتھ اس کے اپنے امپائرز کھڑے ہونگے اور اگرحالات ایسے ہی رہے تو اس کے بعد پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
اگر ایسا ہوا ،جس کا امکان بھی موجود ہے اور انٹر نیشنل کرکٹ کونسل اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کو معطل کرنے پر غور کرکے اسے لاگو کرنے جارہی ہے تو یہ کرکٹ کی دنیا میں 27سال بعد ایسا ہوگا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں نیوٹرل امپائرز کی بجائے مقامی امپائرز کھڑے ہونگے۔کرکٹ کی گلوبل باڈی نے 1993سے ٹیسٹ کرکٹ میں نیوٹرل امپائرز لازمی قرار دیدیئے تھے اس کے بعد سے اب تک کبھی بھی کوئی ٹیسٹ میچ ایسا نہیں ہوا جس میں امپائرنگ مقامی ملک کے امپائرز نے کی ہو۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کرکٹ کی عالمی دنیا اور اسکی گلوبل باڈی کو نیوٹرل امپائرنگ کا تصور پاکستان نے دیا تھا جب 1989میں کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان نے بھارت کے خلاف ہوم گرائونڈز میں نیوٹرل امپائر ز کھڑے کئے تھے،اس وقت کے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور آج کے وزیر اعظم عمران خان ہی وہ پہلے اور واحد کرکٹر تھے جنہوں نے نیوٹرل امپائرز کی آواز بلند کی اور اس کا کامیاب تجربہ کرکے دنیا کو دکھادیا جس کے بعد آئی سی سی نے اس کی پیروی کی،پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھارت،آسٹریلیا ،ویسٹ انڈیز اور کسی حد تک انگلینڈ جیسے ممالک میں 1980 سے 1990کے درمیان کھیلی گئی تمام سیریز میں بدترین امپائرنگ کا سامنا رہا تھا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker