اسلام آباد : سابق صدر آصف علی زرداری پرعمران خان کے قتل کی سازش کے الزامات سے متعلق مقدمہ میں عدالت نے 2 مارچ کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پرفردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیر نے شیخ رشید کےخلاف مقدمے کی سماعت کی جس میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے مقدمے کا چالان پیش کیا گیا۔
دورانِ سماعت شیخ رشید نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں ایک کانفرنس میں شریک ہونا ہے عدالت 15 مارچ کی تاریخ دے ۔
تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کی اور کہا کہ’ ہائی کورٹ کے احکامات ہیں، چالان آگیا ہے اس لیے لمبی تاریخ نہیں دے سکتے ۔شیخ رشید دومارچ کو عدالت کے سامنے پیشی یقینی بنائیں۔‘
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید کہا کہ ’سپریم کورٹ سے 120 فیصد امید ہے کہ وہ بروقت انتخابات کروائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی امید ہے کہ عام انتخابات میں ایک کروڑ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی ملے گا۔‘
واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے خلاف پی پی راولپنڈی کے ڈویژنل صدر راجہ عنایت الرحمان نے مقدمہ درج کروایا تھاہ شیخ رشید نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق دیا تھا۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ نے تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے خلاف اندراج مقدمہ سے تعلق شیخ رشید کی درخواست واپس کردی اور کہا کہ ’یہ درخواست سیشن جج کی عدالت میں جمع کرائیں ،میرا اختیار نہیں۔‘
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈیڑھ سے دو سو پولیس ملازمین نے 2 فروری کو اسلام آباد میں رات ساڑھے بارہ بجے ان کے گھر غیر قانونی ریڈ کیا جس دوران پولیس نے پونے تین لاکھ کی ر قم، چھ گھڑیاں اور ملازمین کے فون بھی چھین لیے،ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

