ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ بھائی علم دین جو کہ ہمارا ہمسایہ اور چٹا ان پڑھ تھا ۔ میرے سامنے موبائل کرتے ہوئے بولا۔یار ذرا بتانا کہ تیری بھابھی نے کیا لکھا ہے؟۔۔ میں نے اک نظر موبائل پر ڈالی اور کہا۔۔تیرا فٹے منہ ۔۔۔تو وہ باقاعدہ برا مناتے ہوئے بولا۔یار تو۔۔ تو ایسا نہ بول نا۔۔اس پرمیں نے کہا۔بھائی قسم لے لو میں نے اپنے پلے سے کچھ نہیں کہا بلکہ میں تو آپ کا میسج پڑھ رہا تھا۔۔۔۔میری بات سن کر وہ کھسیانہ سا ہو کر بولا ۔اک تو تیری بھابھی بھی نا بڑے ” مجاق ” کرتی ہے ۔۔۔ابھی ہماری بات چیت جاری تھی کہ اوپر سے ہمارے دوسرے ہمسائے ملا ہد ہد بھی تشریف لے آئے۔انہیں دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ آپ کے بارےمیں سنا تو تھا کہ انہوں نے مسجد سنبھالی ہوئی ہے۔ لیکن دیکھا پہلی بار تھا آپ نے بڑے اہتمام سے سرپرپگڑی شریف پہنی تھی۔آنکھوں میں لپ لپ سرمہ شریف تھا۔ جبکہ شلوار ٹخنوں سے اس قدر اونچی باندھی ہوئی تھی کہ ایک نظر دیکھنے پر میں سمجھا کہ شایدآپ نے نیکر پہنی ہوئی ہے۔
اپنے حلئے مبارک سے آپ جناب چلتا پھرتا نیکی کا اشتہار لگ رہے تھے۔ جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے شادی کے بعد ہدایت مل گئی ہے۔ اس پر علم دین بولا ،ملا درست فرما رہے ہیں۔ شادی کے بعد "ہر قسم کی ہدایت” مل جاتی ہے ۔لیکن وہ اس بات کو سنی ان سنی کرتے ہوئے بولے۔۔ بھائی عید پر قربانی کا کیا پروگرام ہے ؟ تو بھائی علم دین اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہنے لگا۔۔ نہیں یار اتنی مہنگائی میں تو بہت مشکل ہے۔یہ کہہ کر وہ چلتا بنا۔ اس کے جاتے ہی میں نے ملا سے کہا کہ آپ نے علم دین سے یہ سوال کیوں پوچھا؟ تو ملا کندھے اچکاتے ہوئے بڑی بے نیازی سے کہنے لگے نالج جتنا اپ ڈیٹ ہو اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ پھر باتوں باتوں میں۔۔میں نے ملا سے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ تمہاری شادی کیسی چل رہی ہے؟۔۔میرے پوچھنے کی دیری تھی۔کہ ملا کے حلق سے ایک عجیب و غریب قسم کی چیخ برآمد ہوئی (جو کہ بیک وقت درد ناک ، کربناک اور آخرش عبرتناک تھی) چیخ مارنے کے فوراً بعد۔انہوں نے بڑی خوف زدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھا اور پھر ہنستے ہوئے بولے بہت اچھی چل رہی ہے۔ میں نے کہا جب اتنی اچھی چل رہی تھی تو پھر یہ کثیرالجہتی چیخ کیوں ماری؟ تو وہ روہانسا ہو کر بولے،سچ کہہ رہا ہوں دوست ۔میں نے چیخ ماری نہیں بلکہ میرے منہ سے نکل گئی تھی۔ بات کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے تقریباًآنسونکلنے ہی والے تھے کہ آپ نے ان کا قلع قمع کرنے کے لئے جیب سے ایک عدد ریڈی میڈ ٹشو پیپر نکالا جس پر ایک مشہور شادی ہال کا نام لکھا ہوا تھا۔ ملا نےبڑی احتیاط سے اپنےآنسو ؤں کا صفایا کیا۔۔ پھر لگے ہاتھوں اسی رومال سےناک بھی صاف کرتے ہوئے بولے ۔
کچھ غلط نہ سمجھناپگلے یہ تو خوشی کے آنسو تھے۔۔۔ اس کے بعد آپ نے باقاعدہ آسمان کی طرف دیکھا اور فریاد کرتے ہوئے بولے ۔۔ویسے تو میری شادی آل اوکے ہے لیکن ایک مسلہ ہے اس سے قبل کہ وہ مسلہ بیان فرماتے ۔۔میں بڑے ترنم سے بولا ہائے میرا بالم۔۔ ہائے بڑا ظالم ۔۔کبھی کبھی کرتا ہے پیار اور کبھی مارتا ہے۔۔مصرعہ مکمل ہونے سے قبل ہی انہوں نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا پھر اپنے گھر کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگے چپ کر جا بھائی کہ دروازوں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ پھر مجھے گھورتے ہوئے بولے۔ ویسے میرے حالات اتنے بھی برے نہیں جتنی بری تیری آواز تھی۔
اس واقعہ سے تیسرے دن کی بات ہے کہ صبح صبح ہمارے دروازے پر اتنے زور سے دستک ہوئی کہ میرے سمیت سب گھر والوں نے سمجھا کہ شاید ویگو والے آ گئے ہیں۔چنانچہ یہ خیال آتے ہی کوئی یہاں چھپا کوئی وہاں چھپا۔ لیکن جب کافی دیر تک دروازہ ٹوٹنے کی آواز نہ سنائی دی تو میں ہمت کر کے باہر نکلا ۔دیکھا تو سامنے ملا ہد ہد کھڑے تھے۔ ان کی شکل مبارک دیکھ کر جی تو چاہا کہ ان کے ماں باپ سمیت آباؤ اجداد کے سب رشتوں کو آپس میں غلط ملط کر دوں۔لیکن پھر دل پہ جبر کرتے ہوئے بڑے اخلاق سے بولا ۔ آئیے سر کیسے آنا ہوا ؟۔ تو ملا جو کہ اس وقت بھی نیکی کا چلتا پھرتااشتہار بنے ہوئےتھے ۔بڑی دل سوزی سے کہنے لگے۔ کیا بتاؤں یار رات علم دین نےبکرا لے لیا ہے جسے دیکھ کر میری بیگم نے بھی لانے کو بولا ہے۔ پھر انہوں نے امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے سنا ہے کہ تمہاری منڈی میں کوئی واقفیت ہے ؟ اس پر میں بولا منڈی میں تو نہیں البتہ اس کے شروع میں ہمارے دوست استاد جمیل کی دکان ہے انہیں ساتھ لے لیں گے۔ چنانچہ میں نے گھر سے موٹر سائیکل نکالا اور استاد جمیل کی طرف چل پڑا جن کی منڈی کے پاس موٹر سائیکل ریپئرنگ کی دکان تھی۔
استادجمیل حسب معمول آدھ پاؤ نسوار منہ میں ڈالے دکان پر بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے پانہ ہاتھ میں لیا اور کہنے لگی بائیک نے پھر کوئی مستی کی ہے؟ میں بولا نہیں استاد جی ۔ پھر ملا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔بلکہ یہ بکرا لینے آئے تھے سوچا آپ کو بھی ساتھ لے لیں کہ سستا لے دیں گے۔ میری بات سن کر استاد خوش ہوئے ۔ پھر مجھے ایک سائیڈ پر لے جاتے ہوئے بولے ان کا بجٹ کتنا ہے؟۔جب میں نے ملا کا بجٹ بتایا تو اسے سنتے ہی استاد جی تین چار قدم دکان سے مین روڈ کی طرف بھاگے، پھر وہاں سے بھاگتے ہوئے واپس میری طرف آئے ۔منہ میں ڈالی ہوئی پرانی نسوار زمین پر تھوکی۔۔اور تازہ نسوار ڈالتے ہوئے بولے۔ اتنے پیسوں میں تو صرف مرغوں کا ایک سیٹ ہی آ سکتا ہے۔اور یہ بکرا لینے چلا ہے۔پھر اچانک ملا ہد ہد کی طرف دیکھ کر بڑے غصے سے بولے۔۔ کون ہےیہ شخص ؟ اس پر میں بڑی لجاجت سے بولا بھائی یہ شادی شدہ ہے۔ شادی شدہ کا نام سنتے ہی استاد کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے ۔اور وہ ملا کو بڑی ہی ممتا بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے پھر تو بے چارہ مظلوم ہوا نا۔اتناکہہ کر انہوں نے اپنے شاگردوں سے ایک مختصر سا خطاب فرمایا جس کا لب لباب یہ تھا کہ میں جا رہا ہوں اگر کسی نے کام میں کوتاہی کی تو اس کے سلامتئ اعضائے جسمانی کی کوئی گارنٹی نہ ہو گی۔
منڈی میں داخل ہوتے ہی جانے کیسے بکروں کو معلوم ہوگیا کہ ملا انہیں خریدنے آئے ہیں یہ خبر سنتے ہی کچھ شر پسند بکروں نے انہیں ٹکریں بھی ماریں ۔جواب میں ملا نے انہیں یہ کہتے ہوئے ٹکر ماردی کہ آج تمہیں بھی ٹکر کا بندہ ملا ہے ۔جبکہ بکروں کی خریداری پر ملا کا لگایا ہوا ریٹ سنتے ہی ،کچھ بیوپاری ہنس دئیے کچھ چپ رہے اور کچھ نےفحش اشارہ کرتے ہوئے اسے وہاں سے جانے کا کہا۔کچھ ناہنجار تو ایسے بھی تھے جنہوں نےملا کو چکن شاپ سے رجوع کرنے کا بولا۔ آخر تھک ہار کے انہوں نے جمیل استاد کے مشورے پر ہالف سیٹ دیسی مرغے کا لیا۔اور لوٹ کو بدھو گھر کو آئے۔
فیس بک کمینٹ

