اختصارئےسبط حسن گیلانیلکھاری

ڈھول میرا کلچر ہے ۔۔ سبط حسن گیلانی

سب سے پہلے تو معلوم ہونا چاہیے کہ کلچر ہے کیا؟۔ اس لفظ کے بہت سارے معنی بیان کیے گئے ہیں۔ یہ بدیسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں ہم جسے تہذیب وتمدن کہتے ہیں، سب سے بہترین ترجمہ اس لفظ کا جو میری نظر سے گزرا ہے، وہ ڈاکٹر داﺅد رہبر کا ہے۔ کلچر نام ہے زندگی کی ہنڈیا پکانے کے طریقے کا۔ ہر قوم ہر خطے کا اپنا کلچر ہوتا ہے، جس پر انہیں فخر ہوتا ہے۔ ہمارا کلچر انڈس ویلی کا کلچر ہے۔جس کے کئی رنگ ہیں۔ جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ہمارا وہ ورثہ ہے جس پر ہم جتنا بھی فخر کریں اتنا ہی کم ہے۔ یہ کلچر برداشت کا کلچر ہے۔ علم وادب کا کلچر ہے۔ امن و آشتی کا کلچر ہے۔ خون ریزی سے نفرت کا مگر ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا کلچر ہے۔ ہر مذہب، ہر زبان، ہر تہذیب کا احترام کرنے کا کلچر ہے۔ عورت کی عزت اور کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کا کلچر ہے۔ ہر مذہب کا کلچر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ مگر یہ کردار بنیادی نہیں ہوتا۔ لوگ ایک مذہب سے دوسرا مذہب اختیار کر لیتے ہیں مگر اپنے کلچر کو چھوڑے بغیر۔ اور مذہب کو بھی اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں رہا۔ جیسے عربوں نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر اپنا کلچر چھوڑے بغیر۔ اور اسلام نے اسے خندہ پیشانی سے قبول کیا تھا۔ اس لیے کہ اسلام اس ابدی حقیقت سے آگاہ تھا کہ کلچر کو چھوڑنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔اور اپنا کلچر چھوڑ کر انسان کبھی خوش نہیں رہتے بے شک وہ اپنے کلچر سے زیادہ ترقی یافتہ کلچر میں رہنا بسنا شروع کر دیں۔ مجھے مغرب میں زندگی گزارتے دو عشروں سے زیادہ کا وقت بیت گیا،مگر آج تک کوئی ایک ہم وطن بھی ایسا نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ وہ یہاں خوش ہے۔ پختہ رنگین اور صاف ستھری سڑکوں پر چلتے ہوئے اپنی ٹیڑھی میڑھی کچی دھول مٹی سے اٹی ہوئی پگڈنڈیاں یاد آتی ہیں، مہنگے ترین ریستورانوں میں بیٹھ کر ماں کے ہاتھ کا مکھن سے تڑکا ہوا گندلوں کا ساگ یاد آتا ہے۔ قدرت کے پیدا کیے ہوے ہر فروٹ کا رس پی کر بھی لسی اور ادھ رڑکا نہیں بھولتا۔سرما میں بہترین سے بہترین گرم پہناوے پہن کر بھی اپنے گاﺅں کے بنے کھیس کی بُکل کا سُکھ یاد آتا ہے۔گرم اور جدید ہیٹروں کے قریب رہ کر بھی شام کو خشک لکڑیوں سے جلائی گئی انگیٹھی یاد آتی ہے۔ مزے دار گرل گوشت کھاتے ہوئے کٹے کے گوشت کا پتلا شوربا نہیں بھولتا۔ میز پر بیٹھ کر کھاتے ہوئے چارپائی پر بیٹھ کر کھانے کو دل کرتا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ ہمارا پینڈوپن ہے؟ ذہنی پس ماندگی ہے؟۔ یا کوئی نفسیاتی اُلجھن ؟ یا پھر کلچر کا کیا دھرا؟ اس کا کھوج تو ماہرین نفسیات و عمرانیات کا کام ہے۔ اور انہی نے بتایا ہے کہ انسان جس کلچر میں آنکھ کھولتا ہے، پلتا بڑھتا ہے، اسے پھر ساری زندگی نہیں بھولتا۔ ہم بات کر رہے تھے کلچر اور مذہب کی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب ایک ہے مگر کلچر جُدا جُدا۔ مثلاً ترکی، ایران، افغانستان، پاکستان، ایک دوسرے کے پڑوسی ممالک ہیں۔ یہ سب کے سب مسلم ممالک ہیں۔ ان کا مذہب ایک ہے۔ لیکن کیا کوئی انسان بقائمی حوش و حواس کہہ سکتا ہے کہ ان کا کلچر بھی ایک جیسا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔ بلکہ ہر ایک کا اپنا الگ الگ کلچر ہے۔ لیکن ان سب ممالک کے ساتھ وہ ظلم نہیں ہوا جو ہمارے ساتھ روا رکھا گیا۔ ان ممالک میں بہت سارے اتار چڑھاﺅ آئے مگر ان کا کلچر نہیں بدلہ وہ آج بھی وہی ہے جو شروع سے تھا۔ مگر ہمارے ہاں ایسا کیا گیا۔ وہ اس لیے کہ ہم ایک نئی تخلیق ہونے والی ریاست تھے۔ جو پانچ مختلف اقوام کا اجتماع تھی۔ان پانچوں اقوام کا کلچر الگ الگ تھا۔ سندھی، بلوچی، پختون، پنجابی اور بنگالی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان پانچوں قسم کے کلچر کو یکساں عزت و احترام دے کر ایک مجموعی قومی شناخت پیدا کی جاتی۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ زمینی حقائق سے ناآشنا ہماری مقتدر قوتوں نے انسانی نفسیات اور مذہب کے تقاضوں کو سمجھے بغیر اپنا ایک انوکھا بیانیہ تشکیل دیا۔کہ تم نہ بنگالی ہو نہ سندھی نہ پختون نہ بلوچ نہ پنجابی بلکہ پاکستانی ہو۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کسی جٹ کسی گُجر کسی سید کسی ملک سے کہا جائے تم نہ جٹ ہو نہ گُجر نہ سید نہ ملک بلکہ انسان ہو۔ حالانکہ یہ ایک مکمل سچائی ہے۔ لیکن ہر مکمل سچائی کچھ دوسری جزوی سچائیوں کا ایک کُل ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ بھی ہم نے بھگت لیا۔ بنگالیوں نے یہ سودا خریدنے کی بجائے الگ ہونا برداشت کر لیا۔ جو باقی بچ گئے ماسوا پنجابیوں کے سب آج بھی اپنی ضد پر قائم ہیں۔ لیکن صبح و شام انہیں ایک ہی سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ تم کچھ نہیں ہو مگر پاکستانی۔ اور مذہبی حلقوں کا کہنا ہے تم کچھ نہیں ہو مگر اول و آخر مسلمان ہو۔ اللہ کے بندو ہوش کرو۔ کیا اسلام نے عربوں سے کہا تھا کہ تم عرب نہیں ہو مگر مسلمان؟۔ کیا عربوں نے آج تک تسلیم کیا ہے کہ ہم عرب نہیں ہیں بلکہ صرف مسلمان ہیں؟۔ کیا ایرانیوں نے ؟ ترکوں نے ؟ افغانیوں نے ؟ پھر ہم سے ایسا انوکھا مطالبہ کیوں؟۔ جو مطالبہ اللہ کے رسولﷺ نے عربوں سے نہیں کیا تھا وہ ملاں ہم سے کیوں کر رہا ہے؟۔ہم جب خود کو پنجابی، سرائیکی ،سندھی ،بلوچی ،پختون اور اردو سپیکنگ کہتے ہیں تو مقتدرہ کے ماتھے پر بل پڑتے ہیں اور جب مسلمان کے ساتھ پاکستانی ہونے کا حق مانگتے ہیں تو ملاں سیخ پا ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے پاکستان واکستان کچھ نہیں ہے سب دھرتی اللہ کی ہے اور اسلام ہی قومیت ہے۔ طالبان اور دیگر شدت پسندوں کا کیا یہ بیانیہ نہیں ہے؟یہ بات 1970سے پہلے تو کوئی ملاں نہیں کرتا تھا۔ اس کے منہ میں یہ بات ڈالی کس نے؟۔ آج اگر ضرب عزب اور ردالفساد کا ہنگام ہے، یہ محض اس لیے ہے کہ ہم نے اپنی بنیادی شناختوں سے انکار کیا۔ اپنے عظیم کلچر اپنے عظیم ورثے سے انکار کیا۔ جب تک یہ انکار اقرار میں نہیں بدلتا اس وقت تک سب کامیابیاں صرف وقتی ہوں گی۔ ہم سب الحمدوللہ مسلمان ہیں، ہمیں اس پر کوئی شرمندگی ہے نہ کوئی پچھتاوا۔ ہماری ریاست میں جو غیر مسلم رہتے ہیں وہ ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ برابر کے شہری اور بھائی ہیں، ہم سب پنجابی بلوچی سندھی پختون سرائیکی اور اردو سپیکنگ بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ عزت احترام اور برابری کی سطح پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ تب ہی ایک مضبوط اور توانا پاکستان تعمیر کر پائیں گے۔بس ہم پر بدیسی کوئی بھی کلچر مذہب کے نام پر نہ تھوپا جائے۔ میں ایک پنجابی ہوں مجھے رسم نکاح کے ساتھ ڈھول بھی بجانا ہے۔ نکاح میرا مذہب ہے ڈھول میرا کلچر ہے۔جب سے ڈھول بجنے کم ہوئے ہیں فرقہ پرستی اور شدت پسندی کے گِدھوں نے آبادیوں کو ویرانوں میں بدل ڈالا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker