Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, مئی 26, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • حجام بیگم اور ٹھنڈی ٹھار قلفی : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • پیر سپاہی ، ملتان کی کہانیاں اور رضی الدین رضی کی سوانح عمری : کلثوم رفیق کا کتاب کالم
  • پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک بیک وقت معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں : ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا مطالبہ
  • ایران امریکہ معاہدے میں بدستور بےیقینی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کوئٹہ میں ٹرین پر خود کش حملے میں اموات کی تعداد 30 ہو گئی
  • گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت ادارے کے چاروں مغوی ملازمین بازیاب
  • کوئٹہ : ٹرین کے قریب دھماکہ : عید منانے کے لیے جانے والے 20 فوجی ہلاک، 70 زخمی
  • نریندر مودی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ یورپی دورہ اور آزادی رائے کی بحث : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کوئٹہ : نامعلوم افراد نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے افسر کو سگے بھائی سمیت قتل کر دیا
  • عید سے پہلے پیٹرول 6 روپے لیٹر سستا کر دیا گیا : ایک ہفتے میں گیارہ روپے کی کمی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»ٓٓیاسر پیرزادہ کا مکمل کالم : سر گنگا رام کا مجسمہ
کالم

ٓٓیاسر پیرزادہ کا مکمل کالم : سر گنگا رام کا مجسمہ

ایڈیٹرفروری 7, 20212 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
sir ganga ram
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اتوار کی صبح ہم گاڑی لے کر نکل جاتے ہیں اور پرانے لاہور کی گلیوں اور اندرون شہر کے محلوں میں گھومتے ہیں۔ کبھی کوئی پرانا مزار اپنی جانب کھینچ لیتا ہے توکہیں کوئی اجڑا ہوا باغ راستے میں آ جاتا ہے، کبھی کسی مندر کی باقیات دکھائی دے جاتی ہیں توکہیں مسجد کے میناروں سے روشنی پھوٹتی نظر آجاتی ہے،کبھی کسی قدیم حویلی کی کشش کھینچ کے لے جاتی ہے تو کہیں کسی چوبارے پہ تاریخ آواز دے کر بلا لیتی ہے۔سردیوں کی اتوار لاہور کے نام مختص ہے۔اور کچھ نہ ملے تو اندرون شہر کا ناشتہ ہی کر لیتے ہیں، ہر مرتبہ ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو۔ لاہور دنیا کا غالباً وہ واحد شہر ہے جہاں آپ صرف نان چنے کھانے کا ہی فیصلہ کر لیں تو اُس کی درجن بھر اقسام مل جائیں گی، ایک سے بڑھ کر ایک۔آج اسی قسم کے لاہوری کھانوں کے بارے میں لکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور وجہ اُس کی یہ تھی کہ محترم واصف ناگی نے لاہور کے بارے میں اِس قدر تفصیل سے لکھ دیا ہے کہ مجھ ایسے عاشق لاہو ر کے لیے اب کچھ بچا ہی نہیں۔مگر کوشش کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں!
دنیا کے ہر بندے کو اُس شہر، گاؤں اور قصبے سے محبت ہوتی ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ جگہ چاہے بالکل عام سی ہی کیوں نہ ہو۔کرشن چندر نے ایسی ہی کیفیت کا نقشہ اپنے ناول ”غدار“ میں کھینچا ہے:”میں نے بڑی حسرت سے اس جگہ کو دیکھا۔یوں تو اس جگہ میں کوئی خاص بات نہ تھی۔ایک ریتیلا سا ٹیلا تھا۔جہاں ہم دونوں بیٹھا کرتے تھے۔سامنے بنجر زمین تھی۔افق مٹیالے بادلوں سے گھرا ہوا تھا۔یہاں کچھ بھی تو نہ تھا۔لہلہاتے ہوئے پیڑ۔خوبصورت پھول۔اوررنگین شفق۔آبشار۔پہاڑ۔پانی۔جھیل کچھ بھی نہ تھا۔جن سے اس زمین پر شاعری ہوتی ہے۔پھر بھی یہ جگہ جنت کا ٹکڑا کیوں معلوم ہوتی تھی۔؟“ پنجاب کے ایک عام سے گاؤں کا ذکر اگر ایسی رومانویت سے کیا جا سکتا ہے تو لاہو ر جیسے شہر کے ذکر سے تو کتابیں بھری جا سکتی ہیں۔اور کتابیں بھری بھی گئی ہیں۔ وجہ اِس کی یہ ہے کہ لاہور میں بیک وقت کئی قسم کی تاریخ ہے جو بکھری ہوئی ہے۔مثلاً ایک وہ جو اندرون شہر سے وابستہ ہے اور دوسری وہ جو انگریز دور سے متعلق ہے۔لاہور کا رہائشی اگر چاہے بھی تو خود کو اِس سے غیر متعلق نہیں رکھ سکتا۔انگریز دور میں جو تعمیرا ت لاہور میں ہوئیں اُن کا سہرا اگر کسی ایک شخص کے سر باندھا جا سکتا ہے تو اُس کا نام سر گنگا رام ہے۔لاہور کا یہ محسن پیدا تو مانگٹا والا میں ہوا مگر اس نے اپنی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں سے اِس شہر کو چار چاند لگا دیے۔کہتے ہیں کہ گنگا رام کے گاؤں سے نزدیک کے ریلوے سٹیشن تک کوئی ریلوے لائن نہیں تھی سو لوگوں کو سٹیشن جانے لے لیے مشکل پیش آتی تھی۔ گنگا رام نے گاؤں سے لے کر سٹیشن تک ایک دو کلومیٹر کی پٹری بچھادی جس کی باقیات آج بھی موجود ہیں۔
جو لوگ لاہو ر میں رہتے ہیں انہوں نے ہیلے کالج آف کامرس کا نام ضرور سنا ہوگا۔اِس کالج کا منصوبہ سر گنگا رام نے بنایا تھا،انہیں اندازہ تھا کہ آنے والا دور کامرس اور بینکنگ کا ہوگا، اِس لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ لاہور کا اپنا ایسا کالج ہو جہاں اِس کی تعلیم دی جا ئے۔حکومت کو گنگا رام کا منصوبہ پسند آیا مگر اِس کالج کے لیے جگہ درکار تھی جو شہر میں موجود نہیں تھی۔سر گنگا رام نے کھڑے کھڑے اپنی سترہ کنال کی کوٹھی اِس مقصد کے لیے عطیہ کر دی۔ آج ہیلے کالج آف کامرس سر گنگا رام کی تاریخی کوٹھی میں ہی قائم ہے۔سر گنگا رام کی خواب گاہ اب پرنسپل کا دفتر ہے اور کوٹھی کے کمرے کالج کے کلاس روم۔اِس کوٹھی میں گھوڑوں کے اصطبل آج بھی موجود ہیں اور اُس زمانے کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں جو کافی حد تک اپنی اصل حالت میں پائی جاتی ہیں۔ہیلے کالج کے ہاسٹل کے ایک کمرے میں بھارت کے وزیر اعظم آئی کے گجرال بھی رہ چکے ہیں، وہ پاکستان کے دورے پر آئے تو خاص طور سے اِس ہاسٹل کا دورہ کیا اور بے حد جذباتی ہوئے۔کالج کی اوپری منزل پر واقع اِس ہاسٹل کی تزئین و آرایش کا کام اِن دنوں جاری ہے، یہاں سے پرانی انارکلی اور موج دریا کا مزار دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک زمانے میں یہ کوشش بھی کی گئی کہ اِس کالج کی جگہ کمرشل پلازا بنا دیا جائے مگر شکرہوا کہ یہ بات پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔کالج کے دروازے کے بالکل ساتھ میٹرو بس کا سٹاپ ہے مگر اُس کا نام ایم اے او کالج سٹاپ رکھا گیا ہے حالانکہ اِس کا نام سر گنگا رام سٹاپ ہونا چاہیے یا پھر ہیلے کالج۔
سر گنگا رام کی سمادھی بھی لاہو ر میں ہی واقع ہے۔اگر آپ راوی روڈ کے علاقے کریم پارک میں جائیں تو وہا ں مرکزی بازار میں کسی سے پوچھ لیں،اگر و ہ پرانا رہایشی ہوا تو آ پ کو سیدھا ایک گلی میں لے جائے گا، یہ گلی دربار وارث کی طرف جاتی ہے جہاں ایک احاطہ سا بن جاتا ہے جس کے دائیں جانب ایک مسجد ہے او ر ذرا سا پرے گنگا رام کی سمادھی۔گزشتہ اتوار ہم یہاں گئے تو پولیس کا ایک جوان ڈیوٹی پر مامور تھا،اُس نے بتایا کہ یہاں کم ہی لوگ آتے ہیں۔مجھے اِس جگہ کی ویرانی دیکھ کر مایوسی ہوئی مگر پھر سوچاکہ بندہ کس کس بات کا ماتم کرے۔سمادھی پر سر گنگا رام کی تصویر تھی۔ ہم کچھ دیر وہاں خاموشی سے کھڑے رہے اور پھر باہر نکل آئے۔مال روڈ سے گذرتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس عظیم تخلیق کار نے لاہور کی کیسی کیسی شاہکار عمارتیں ڈیزائن کی ہیں،ایچیسن کالج، جی پی او، میو اسکول آف آرٹس(این سی اے)، لاہور میوزیم، لاہور ہائی کورٹ،گورنمنٹ کالج کا کیمسٹری بلاک، میو اسپتال کا البرٹ وکٹر ونگ۔یہ تمام عمارتیں فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں جن میں بیک وقت لاہور کی شان بھی جھلکتی ہے اور تاریخ بھی نظر آتی ہے۔میو اسپتال کا البرٹ وکٹر ونگ بھی میں نے حال ہی میں دیکھا ہے،اگر آ پ بیمار نہیں تو کسی شام یہاں کے سو سال پرانے درختوں کے نیچے بیٹھ کر چائے پینے کا لطف اٹھا سکتے ہیں، خاصا رومان پرور ماحول ہوتا ہے۔ہیلے کالج کے علاوہ سر گنگا رام اسپتال بھی گنگا رام ہی کی دین ہے، اِس کے علاوہ انہوں نے لیڈی میکلیگن گرلز ہائی اسکول،راوی روڈ کا یتیم خانہ اور مال روڈ پر واقع سر گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ بھی گنگا رام نے عطیہ کیں۔ ہند و اور سکھ بیواؤں کے لیے انہوں نے سوسائٹیاں بنائیں، رینالہ خورد کا ہائیڈرو اسٹیشن بھی انہوں نے تعمیر کیاجہاں سے اس زمانے میں ایک میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی تھی۔
سر گنگا رام صرف جینئس ہی نہیں تھے بلکہ وہ درد مند دل رکھنے والے انسان بھی تھے۔ عام طور سے وہ لوگ جو بہت ذہین ہوں، خاندانی رئیس ہوں یا پھر اپنی قابلیت کی بنا پر دولت اور کامیابی حاصل کر لیں اُن میں رعونت اور احساس تفاخر آجاتا ہے۔ سر گنگا رام کو ایسا کوئی مرض لاحق نہیں ہوا۔ لاہور کے اِس فرزند کی وفات تو لندن میں ہوئی مگر اِس کی سمادھی راوی کنارے لاہور میں بنائی گئی۔لاہورکے باسی اگر اپنے اِس محسن کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ سر گنگا رام کا ایک مجسمہ مال روڈ پر نصب کریں، دنیاکے ہر بڑے اور تاریخی شہر کی یہی روایت ہے،سو اہل لاہور کو بھی یہ روایت نبھانی چاہیے اور اُس مجسمے کا اتنا ہی احترام کرنا چاہیے جتنا خود گنگارام لاہور شہر کا کرتے تھے۔مجسمہ تو خیر کیا نصب ہوگا، الٹا ایک زمانے میں گلاب دیوی اور گنگا رام اسپتال کا نام بدلنے کی مہم یار لوگوں نے چلائی تھی جو شکرہے کامیاب نہ ہو سکی۔یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں منٹو جیسے حساس لکھاری نے ایک ’سیاہ حاشیہ کھینچاتھا کہ ہجوم سر گنگا رام کے بُت پر پِل پڑا، لاٹھیاں برسائیں اور بُت کے منہ پر تارکول مل دیا اور اسے جوتوں کا ہار پہنایا۔ مگر پولیس آ گئی اور گولی چلنے سے جوتوں کا ہار پہنانے والا شخص زخمی ہو گیا چنانچہ مرہم پٹی کرنے کے لیے اسے گنگا رام اسپتال بھجوا دیا گیا۔
( گردو پیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

سر گنگا رام لاہور
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleڈاکٹر صغرا صدف کا کالم :قلم نصیب ہوا رت جگوں کے ساتھ مجھے
Next Article امتیاز عالم کا کالم : کشمیر پہ قومی واہمے اور آزادی کی امنگ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

محسن نقوی: رومانوی شاعر اور ذاکر کی ہمہ جہت شخصیت : ڈاکٹر علی شاذف کا اختصاریہ

جنوری 15, 2026

لاہور: طالبہ کی ’خود کشی‘ کی کوشش، دوسری منزل سے چھلانگ لگادی ، حالت تشویش ناک

جنوری 6, 2026

لاہور کا کھوجی : یاسر پیرزادہ کا کالم

دسمبر 21, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • حجام بیگم اور ٹھنڈی ٹھار قلفی : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت مئی 26, 2026
  • پیر سپاہی ، ملتان کی کہانیاں اور رضی الدین رضی کی سوانح عمری : کلثوم رفیق کا کتاب کالم مئی 26, 2026
  • پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک بیک وقت معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں : ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا مطالبہ مئی 25, 2026
  • ایران امریکہ معاہدے میں بدستور بےیقینی : سید مجاہد علی کا تجزیہ مئی 25, 2026
  • کوئٹہ میں ٹرین پر خود کش حملے میں اموات کی تعداد 30 ہو گئی مئی 25, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.