رضی بھائی سے میرا تعلق بہت پرانا ہے ۔لیکن ملاقات کم ہوتی رہی ہے ۔شاید وہ میرے ہم مزاج ہیں بہت جلد ناراض ہونے والے اور بہت جلد راضی ہونے والے ۔
ہمیشہ بڑے بھائی کی طرح انہوں نے میری خیریت دریافت کرنے میں پہل کی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے مجھے کال کر کے میری خیریت دریافت کی ۔ اپنی کتاب ” ستارے مل نہیں سکتے“ کا دوسرا ایڈیشن اپنے ہاتھوں سے مجھے دیا اور بہت محبت بھرے الفاظ میرے لیے لکھے ۔
بہت دنوں کے بعد رضی بھائی سے ملنے کا فائدہ ایک یہ بھی ہوا کہ بہت اچھی شاعری سننے کو ملی۔ ان کی شخصیت میں بہت تبدیلی نظر آئی اور وہ تبدیلی ان کی شاعری پر بھی اثر انداز نظر آئی ۔ رضی بھائی نے جو نئے اشعار مجھے سنائے ہیں ان میں یقینا کچھ گلے شکوے اور کچھ بے وفائیوں کا ذکر تھا ۔لوگوں کو راستہ دینے والی شاعری کی جگہ راستہ روکنے والی شاعری سننے کو ملی (جو کہ رضی جیسا آدمی عملی طور پر نہیں کر سکتا)۔
دوسرے ایڈیشن کا ٹائٹل بھی روایتی انداز سے مختلف ہے۔کتاب کا کاغذ بھی معیاری ہے۔128صفحات پر مشتمل کتاب کی اضافی شاعری آسانی سے یاد کی جاسکتی ہے ۔
رضی ہم معرفت کی منزلوں تک آن پہنچے ہیں
کسی کی بدعا کو اب دعا تسلیم کرتے ہیں
۔۔۔۔
گر جیت نہیں سکتے چلو ہار کے دیکھیں
اس جنگ میں اپنا کوئی کردار تو ہوگا
۔۔۔۔
جانتے تھے قتل ہونا ، لا پتا ہونا ہے بس
پر وہ بڑھتے جا رہے تھے ان کا رستہ عشق تھا
رضی بھائی آج بھی پرانے اخباروں میں لپٹا ہوا ایک صحافی ہے جو ہاتھ سے کتابت کی ہوئی اخباروں سے محبت کرتا ہے ،پرانی کتابوں کو سنبھال کے رکھتا ہے دراصل وہ اخبار اور رسالے نہیں ، وہ یادیں ہیں جن سے وہ بہت محبت کرتا ہے ۔
رضی بھائی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے نئے شعراء کو ہمیشہ متعارف کروایا اور جب تک نئے شعراء کو شاعری کا شوق رہا رضی کے گرد ایک حلقہ بنا رہا۔
رضی الدین رضی صحافت اور شاعری سے 46 سال سے وابستہ ہیں۔ ملتان شہر میں ادبی سرگرمیوں کا آ غاز کیا اور شعر و ادب کی تبلیغ کرتے رہے ۔مختلف اخباروں سے وابستہ رہے جن میں جنگ اور نوائے وقت شامل ہیں ۔سات اخبارات کی بانی ٹیم کے رکن بنے ۔ رضی الدین رضی کا درویشانہ مزاج درویش ہے ۔محبت ان کا مسلک ہے ۔
صحافت اور ادبی شعبوں میں رضی کے بہت سے مخالفین ایسے پیدا ہوئے جیسے بارش کے بعد پتنگے۔نکل آتے ہیں ۔
لیکن رضی کے مخالف بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ شعر و ادب کے فروغ کے لیے اور نئے لوگوں کو ادبی بیٹھک اور ادبی تنظیموں سے متعارف کروانے میں رضی نے گزشتہ دو عشروں میں جو کاوشیں کیں ان کی مثال نہیں ملتی ۔ رضی کا مزاج اور طبیعت حبیب جالب اور منیر نیازی سے بہت مماثلت رکھتے ہیں ان تھک محنت ملتان کی گرد نے رضی کی بینائی تو متاثر کر دی مگر شاعری نے اس کی جسمانی توانائی کو بحال رکھا ۔رضی کی بہت سی بری عادات میں سے ایک بری عادت یہ بھی ہے کہ رضی نئے دوستوں پر بہت جلداعتبار کرنے لگتا ہے ۔رضی کی شخصیت شہد کے چھتے کی طرح ہے جیسے جیسے اس کے گرد بیٹھے لوگوں سے بچتے بچتے رضی کے قریب جاؤ گے رضی کی شخصیت کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوتے جاؤ گے ۔ رضی کے دوستوں کی ایک کثیر تعداد اس کو چھوڑ کر اس جہان سے کوچ کر چکی ہے اور رضی ان سب کے تعزیتی ریفرنس منعقد کروا کے شاید کبھی نہ تھکتا اگر اس کو اس کے قریبی زندہ دوست چھوڑ نہ جاتے۔ دوستوں کے ہر دکھ میں شریک ہونے والا رضی دوستوں کے عزیز و اقارب کے جنازوں میں شریک ہونے والا رضی اب ولی بننے جا رہا تھا۔ رضی نے جتنے لوگوں کی تصاویر ٹی ہاؤس میں لگائی ہیں اسے اس کے صلے میں اتنی ہی دشنام طرازی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور پھر جب اس نے دیکھا کہ ٹی ہاؤس میں اب جعلی ادیبوں اور صحافیوں کی تصاویر بھی آویزاں کر دی گئی ہیں تو ایک روز اس نے اپنی تصویر خود وہاں سے اتار دی ۔رضی کی اب تک 25 کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں جن میں چار شعری مجموعے ہیں اور آٹھ کتابیں ملتان کی تاریخ و ثقافت اور ادب پر جب کہ پانچ کالموں کی کتابیں ہیں ۔ادبی تنظیموں میں رضی نے سخنور فورم کا آغاز کیا اور اس میں ادبی بیٹھک شروع کی ۔رضی بھائی ملتان پریس کلب کے عہدے دار بھی رہے ہیں ۔ ملتان یونین آف جرنلسٹ کے عہدیدار کی حیثیت سے صحافیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد بھی کر رہے ہیں ۔ ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ ہیں ۔ ملتان میں ڈیجیٹل میڈیا پر کام کرنے کا اعزاز بھی رضی کے پاس ہے پہلا آن لائن اخبار بھی رضی الدین رضی نے متعارف کروایا ۔
آج کل گرد و پیش چینل اور پبلیکیشنز سے وابستہ ہیں 40 سال سے صحافت کر رہے ہیں تقریبا 2 ہزار کالم لکھ چکے ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

