تجزیےصہیب اقباللکھاری

ملتان جلسے کی کامیابی میں گیلانی خاندان کا کیا کردار تھا ؟۔۔صہیب اقبال

پاکستان پیپلز پارٹی جو چاروں صوبوں کی مقبول سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پنجاب میں بڑی کامیابی حاصل نہ کرسکی تھی ، ناقدین سمجھتے تھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف اندرون سندھ کی سیاسی جماعت ہے اور وہ وہاں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ صورتحال بھی ایسی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب میں خلاء موجود تھا لیکن پی ڈی ایم کے 30 نومبر کے جلسے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 53 ویں یوم تاسیس کے موقع پر پیپلز پارٹی کا پنجاب خصوصی طور پر جنوبی پنجاب کا کارکن باہر نکلا اور صورتحال بدل گئی اس میں اہم کردار گیلانی خاندان کا ہے ۔یا کوئی اور محرکات ہیں یہ ایک الگ سوال ہے ۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ جب وزارت عظمیٰ پر فائز تھے تو انہوں نے ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا تھا۔ناصرف یوسف رضا گیلانی کے دور میں ملتان میں ترقیاتی کام ہوئے بلکہ ان کے والد سید علمدار حسین گیلانی تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما تھا اور سب سے بڑا ہسپتال نشتر ہسپتال ملتان بھی گیلانی خاندان کی کوششوں سے بنا ۔ یوسف رضا گیلانی نے جب 2008 میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا تو ملتان کی تقدیر بدل گئی ۔وہ شہر جو سالوں سے نظر انداز تھا وہاں ترقیاتی کام ہوئے ، ہیڈ محمد والا روڈ ہو یا پرانا شجاع آباد روڈ ،شہر میں فلائی اوور کا جال ہو یا ملتان انٹرنشنل ائیرپورٹ سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے بھی یوسف رضا گیلانی کے دور میں شروع ہوئے ۔بہرحال گیلانی خاندان کی شہر کی خدمت کی لمبی فہرست ہے جس کو ان کے ناقدین بھی تسلیم کرتے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں انتخابی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں پیچھے تھی تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی ۔جس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) وجود میں آئی جس نے گوجرانولا ، کراچی ، کوئٹہ ، پشاور میں جلسے کیے ۔ 30 نومبر کو پی ڈی ایم کا ملتان میں جلسہ ہوا ۔ 30 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس تھا تو اس جلسہ کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی نے کی ۔ ملتان و جنوبی پنجاب میں دیگر جماعتوں کی اکثریت کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی نے جلسہ کی میزبانی لی جو پاکستان پیپلز پارٹی کی پنجاب میں واپسی کی جانب پہلا قدم تھا ۔
پی ڈی ایم نے جلسہ کے انعقاد کے لیے حکومت سے اجازت مانگی تو انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور گیلانی خاندان ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے اور جلسے کی تیاری شروع کردی ۔اس دوران سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مختلف علاقوں میں ورکرز کنونشن کیے ۔جس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں حیران کن طور پر اضافہ ہوا ۔ دوسری طرف یوسف رضا گیلانی کے چاروں صاحب زادے عبدالقادر گیلانی ، علی موسی گیلانی ، علی حیدر گیلانی اور قاسم گیلانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں زندہ کرنے میں دن رات مصروف ہوگئے ۔ موٹر بائیک ریلیاں ہوں یا ورکرز کنونشن گیلانی خاندان متحرک دکھائی دیا جبکہ خواجہ رضوان عالم ، راؤ ساجد ، عارف شاہ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ۔ اس دوران انتظامیہ نے گیلانی خاندان کو دبانے کے لیے مقدمات کا اندراج اور گرفتاریاں شروع کردیں۔ پہلی گرفتاری علی موسیٰ گیلانی کی تھانہ چہلیک میں ہوئی راؤ ساجد سمیت دیگر کارکنان بھی پابند سلاسل ہوئے جبکہ اس جلسہ کے چیف کوآرڈینیٹر قاسم گیلانی کو جلسہ گاہ سے گرفتار کیا کر کے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔ یہ سب کچھ گیلانی خاندان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکروں نے برداشت کیا ۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے تمام بیٹے کارکنوں کے ساتھ رہے ۔ ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ انہی کی اس محنت اور جستجو کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں دوبارہ زندہ ہوگئی جب کہ مخالفین اس بات سے متفق نہیں ۔جب پاکستان پیپلز پارٹی کی ریلی محترمہ آصفہ بھٹو کی قیادت میں گھنٹہ گھر پہنچی تو جلسہ گاہ میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔ ناصرف گھنٹہ گھر بلکہ حضوری باغ روڈ ، واٹر ورکس روڈ ، حسین آگاہی روڈ ، کچہری روڈ اور نواں شہر چوک کے اطراف جیالے ہی جیالے تھے جو گیلانی خاندان کی بڑی جیت ہے ۔
ایک بات آخر میں کرتا چلوں گیلانی خاندان اقتدار میں بھی رہا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ کے منصب پر بھی فائز ہوئے لیکن آج تک انہوں نے اس شہر کے کسی تھانہ میں سیاسی مقدمات کا اندراج نہیں کرا یا اور نہ کسی کو زدوکوب کیا ہر مشکل برداشت کی اور مفاہمت اور رواداری کی سیاست کو فروغ دیا لیکن اب یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادگان مستقبل میں کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔انتقامی سیاست اپناتے ہیں یا اپنے آباؤ اجداد کی طرح معاف کرنے اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker