افسانےزعیم ارشدلکھاری

سائیں بچل شاہ۔۔زعیم ارشد

سائیں بچل شاہ سرکار کو جاننے والا ہر شخص غمزدہ اور پریشان تھا ، جبکہ مریدین پر تو قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی، سائیں سرکار کے قتل کی خبر لوگوں پر بجلی بن کر گری تھی۔ بلاشبہ یہ ایک نہایت ہی اندوہناک اور ناقابل یقین واقعہ تھا، سائیں سرکار کو جاننے والا ہر شخص بس یہ سوال کر رہا تھا کہ آخر سائیں بچل شاہ کو کیوں اور کون قتل کر سکتا ہے، وہ تو نہایت ہر دل عزیز ، تعصب سے عاری، اور اختلافات سے پاک بہت ہی غیر متنازعہ شخصیت تھے۔ ان کے کسی سے بھی کسی بھی قسم کے اختلافات نہ تھے۔ ابھی تو ان کی سالانہ محافل بھی جاری تھیں، دور دور سے آئے ہوئے لوگ جمع تھے کہ اچانک یہ سب کچھ ہوگیا۔
گو کہ آج ایک گرم اور مرطوب دن تھا مگر مرشد کی سالانہ محفل سماع میں حاضری اور ملاقات کے شوق میں مریدین کشاں کشاں کھچے چلے آتے تھے۔ اور لطیف آباد حیدرآباد میں بڑی گہماگہمی اور چہل پہل تھی۔ مریدوں کی ٹولیاں مٹی کے برتن جن کے منہ انہوں نے لال کپڑے سے باندھ رکھے تھے سروں پر اٹھائے چلی آرہی تھیں ، ان میں سائیں سرکار کیلئے نذرانے تھے، شہنائی اور ڈھول کی تھاپ نے عجیب سماں باندھ رکھا تھا ، شہنائی نواز اور ڈھولچی بڑی مست دھنیں بجا رہے تھے، اور مریدین ننگے پاؤں ایڑی کے ٹھیکے سے جھوم جھوم کر ان کے ساتھ ہلکے ہلکے رقص کی کیفیت بناتے ہوئے بابا کے آستانے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ساتھ ساتھ بابا کی جے جے کاری کے نعرے بھی بلند کرتے جاتے تھے۔ یہ قافلے جب بابا کے دربار کے قریب پہنچتے تو جوش و خروش دیدنی ہوجاتا تھا ، سرور و سپردگی کے عجب ہی مناظر دیکھنے کو ملتے اور مریدین خوب لہک لہک کر میں تو دیوانی بابا کی گانے لگتے، اور جب بالکل ہی دربار کے اندر پہنچ جاتے تو بالکل خاموش با ادب ہوکر اس کوشش میں لگ جاتے کہ کسی طرح بابا کے ہاتھ کو بوسہ دے کر پیروں کو چھو لیں ، مگر یہ سعادت صرف جتھے کے بڑے کے حصے میں ہی آتی تھی۔ وہ اپنے اپنے نذرانوں پر بابا کا ہاتھ لگوا کر انہیں آستانے کے متولی کے حوالے کرکے آگے بڑھ جاتے تھے۔
بچل سائیں بڑی تمکنت کے ساتھ ایک تخت پر بیٹھے تھے، وہ ایک نہایت ہی حسین شخصیت کے مالک تھے، طویل قامت، چھریرہ بدن، پرکیف گمبھیر آواز، گوری رنگت، بڑی بڑی شربتی آنکھیں، جن میں لال لال ڈورے انہیں اور بھی خمار آلود اور پر اثر بنا ئے دے رہے تھے۔ ستواں ناک، سیاہ گھنے گھنگھریالے بال، جو کندھوں پر پھیلے ہوئے نہایت ہی بھلے معلوم ہو رہے تھے۔ بچل سائیں ہمیشہ سیاہ لباس زیب تن کیا کرتے تھے اور آج بھی وہ سیاہ لباس میں بہت ہی باوقار اور بارعب لگ رہے تھے۔ ساتھ ہی موٹے موٹے قیمتی پتھروں کی مالاؤں نے ان کی جاذب نظری میں چار چاند لگا رکھے تھے۔ یہ سب عوامل من جملہ بابا کو ایک سحر انگیز شخصیت بنائے دے رہے تھے۔ مریدین تو بس نشہ دید میں مبتلا تھے اور اپنے پیر و مرشد کے واری صدقے جارہے تھے۔ بابا ہمیشہ کی طرح خاموش اور گہری سوچ میں تھے، اور ضرورتاً ہی اشارے سے کسی بات کا جواب دے رہے تھے۔ اسقدر پرکشش اور حسین ہونے کے باوجود بابا کے دربار میں صرف مرد ہی مرد نظر آرہے تھے، حیرت انگیز طورپر عورت ایک بھی نہ تھی، بابا کے آستانے پر سالانہ محافل کا انعقاد کئی کئی روز تک جاری رہتا تھا۔ جس میں خوب لنگر تقسیم ہوتا تھا، ملک بھر سے نامی گرامی قوال و نعت خواں آتے تھے اور خوب اپنے جوہر آزماتے تھے۔ مریدین نعت خوانوں کو خوب سراہتے تھے اور قوالیوں پر خوب دھمال ڈالا جاتا تھا۔ ہر محفل کی ابتداء بابا کے اصلاحی بیان سے ہوتی تھی، مرید اپنی عرضیاں بھی پیش کرتے تھے اور بابا عمومی اور خصوصی دعائیں بھی کیا کرتے تھے، تعویذ بھی بنا بنا کر دیا کرتے تھے۔ان محافل کا آخری دن بہت ہی جذباتی مناظر سے بھرپور ہوتا تھا، مرید بابا کے قدموں کو چھوڑ کر ان سے بچھڑنا نہیں چاہتے تھے، لہذا خوب دلگرفتہ اور ملول نظر آتے تھے ، کچھ تو باقاعدہ رو رو کر ہلکان ہورہے ہوتے تھے اور کچھ تو رخصت کے وقت زمین پر لوٹ پوٹ ہو ہو جاتے تھے۔
لوگوں کی ایک کثیر تعداد بابا بچل سائیں کی کرامات کے بڑے معتقد تھے، بابا سائیں تھے بھی بہت ہی پہنچے ہوئے۔ سائیں بچل سرکار اتنے پرکشش اور مردانہ وجاہت کا شاہکار تھے مگر ان کے دربار میں عورتوں کا داخلہ بالکل ممنوع تھا، سنتے ہیں کہ اگر کوئی بھولی بھٹکی عورت آ بھی جائے تو جب تک وہ بابا کے آستانے کے دروازے پر ناک رگڑ کر یہ وعدہ نہ کرلے اب پھر کبھی نہیں آئے گی، اس پر پاگل پن کے دورے پڑتے رہتے تھے۔ نجات تب تک نہیں ملتی تھی جب تک وہ ناک رگڑ کر دوبارہ نہ آنے کا پکا وعدہ نہ کرلے ۔
بتانے والے اس کی وجہ کچھ یوں بتاتے ہیں کہ سائیں جب بہت چھوٹے تھے تب ہی سے ان میں کچھ ایسی مافوق الفطرت علامات نظر آتی تھیں جو انہیں عام بچوں سے منفر د و پراسرار بناتی تھیں، یہ بہت جلالی تھے عموما وہ ایسے کام کر جاتے تھے جو عام بچوں تو کیا بڑوں کے بس کے بھی نہیں ہوتے تھے۔ ان کا اصل نام تو صمصام اللہ شاہ جیلانی تھا مگر ان کی غیر معمولی شخصیت کی وجہ سے لوگ انہیں بچل شاہ کہنے لگے تھے، اور وہ بچپن میں ہی بچل شاہ کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔
سائیں کی جائے پیدائش شہر کا ایک بہت ہی پرانا محلہ تھا، جہاں برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہندو آباد تھے، جو ہرمیندر سنگھ لین کے نام سے جانا جاتا تھا، یہ ایک تنگ گلی پر مشتمل ایک بہت ہی پراسرار اور آسیب زدہ سا علاقہ تھا، تقسیم ہند سے پہلے کے مکانات آج بھی موجود تھے جو تنگ اندھیری گلی میں بنے تھے لکڑی کی جفری والے پراسرار جھروکے ، لکڑی کے بھاری بھرکم نقشین دروازے جن پر موٹی موٹی دھاتی کڑیاں لٹک رہی ہوتی تھیں جو کبھی کبھی بغیر تیز ہوا کے بھی بج اٹھتی تھیں۔ یہ تنگ گلی دن میں بھی خاصی ویران اور آسیب زدہ سی لگتی تھی، بچل سائیں اس گلی کے بالکل آخری مکان میں رہا کرتے تھے، جہاں گلی بند ہوجاتی تھی اور آگے جانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔
عموما جب دوپہر کے وقت اسکول سے واپس آرہے ہوتے تھے تو اس ویران گلی میں اچانک جانے کہاں سے ان ہی کی عمر کی ایک بچی ان کے سامنے آجاتی تھی اور ان سے ساتھ کھیلنے کی فرمائش کرتی تھی۔ بچل سائیں اسے ٹال کر آگے بڑھ جاتے تھے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ سائیں اکیلے گلی سے گزر رہے ہوں تو ایسا لگتا تھا جیسے کوئی دبے پاؤں ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ مڑ کر دیکھنے پر وہی انجان لڑکی کھڑی مسکرا رہی ہوتی تھی، سائیں کبھی مسکرا کر اور کبھی نظر انداز کرکے گزر جاتے تھے۔
یہ سلسلہ سالوں اسی طرح چلتا رہا، سائیں اسکول پاس کرکے کالج میں آگئے تھے، اور خوب رنگ روپ نکالا تھا، بڑے حسین و جاذب نظر ہوگئے تھے، محلے کی اکثر لڑکیاں آپ کی توجہ کی طالب رہتی تھیں اور موقع ملنے پر آپ سے بات کرنے یا مذاق کرنے سے بھی نہیں چوکتی تھیں۔ ایسے میں جو لڑکی زیادہ قریب ہونے کی کوشش کرتی اس کو دورے پڑنا شروع ہوجاتے اور ہمیشہ تشخیص یہی ہوتی تھی کہ اس پر جنات کا اثر ہے۔ اس دوران جو انجان لڑکی گلی میں ملتی تھی بچل سائیں سے خوب کھل کر اظہار انسیت کرنے لگی تھی، اور بڑے قیمتی تحائف بھی دینے لگی تھی۔ بچل سائیں ہمیشہ اس بات پر حیران رہتے تھے کہ اتنی تنگ اور چھوٹی سی گلی میں کبھی بھی اس کے گھر والوں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، بلکہ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کس گھر میں رہتی ہے۔ دراصل اتنے چھوٹے سے محلے میں جو ایک ٹیڑھی میڑھی سی گلی پر مشتمل تھا سب پرانے رہنے والے تھے اور ایک دوسرے کے باپ دادا تک کو جانتے تھے۔ مگر اس لڑکی کو سائیں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اور اس کے گھر والوں کو تو سائیں بھی نہیں جانتے تھے۔ محلے میں آہستہ آہستہ یہ مشہور ہونے لگا تھا کہ بچل سائیں یا تو کسی نفسیاتی عارضہ میں مبتلا ہیں یا پھر کسی جن بھوت کے زیر اثر ہیں کہ وہ اکیلے باتیں کرتے ہیں ان کے پاس قیمتی تحائف آتے ہیں جو وہ کہتے ہیں کہ اسی گلی میں رہنے والی ایک لڑکی نے دیئے ہیں۔ جبکہ گلی میں رہنے والے کسی بھی شخص نے کبھی بھی اس خدوخال کی لڑکی کو گلی میں دیکھا ہی نہیں تھا ، وہ اسے بچل سائیں کی ذہنی اختراع سمجھ کر ہنسنے لگتے تھے۔ دوستوں کے مسلسل انکار نے بچل سائیں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا کہ آخر ماجرا کیا ہے، لوگ کیوں نہیں مانتے کہ وہ ایک جیتی جاگتی حسین و جمیل دوشیزہ ہے، جو روز ان سے ملتی ہے۔ تنگ آکر انہوں نے خود اس لڑکی سے پوچھا کہ وہ کون ہے سچ سچ بتا دے ورنہ وہ ہر صورت اس سے ترک تعلق کرلیں گے۔ وہ دھیرے سے مسکرائی اور کہنے لگی کہ مجھے معلوم تھا کہ اب یہ مرحلہ آکے ہی رہے گا۔ مگر تم بھی وعدہ کرو کہ میری اصلیت جان کر مجھے چھوڑو گے نہیں، بچل سائیں بھی اب اسے پسند کرنے لگے تھے سو فورا ہی مان گئے۔ وہ دھیرے سے مسکرائی آج بچل سائیں نے پہلی بار اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھا تھا ایک سرد سی لہر ان کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں اترتی سی محسوس ہوئی، وہ آنکھیں عام انسانوں کی سی نہ تھیں، اس نے بھی سائیں کے چہرے پر پھیلی گھبراہت کو فورا ہی بھانپ لیا اور نہایت ہی لگاوٹ سے بولی کہ میرا نام رابیل ہے او ر اس کا تعلق جنات کے ایک قبیلے سے ہے جو یہاں صدیوں سے آباد ہے۔
سائیں کی تو خوف کے مارے گھگھی بندھ گئی ساری جان پہچان اور انسیت جاتی رہی وہ ایک دم انہیں انجان اور خوفناک نظر آنے لگی۔ رابیل نے بہت دلاسے دیئے پیار جتایا مگر سائیں کی حالت سنبھلنے میں ہی نہیں آرہی تھی۔ وہ جلدی سے اپنے گھر چلے آئے اور کسی سے کوئی بات کئے بنا لحاف میں دبک گئے۔ جب والدہ نے کھانے پر بلانا چاہا تو پایا کہ وہ تو شدید بخا ر میں پھنک رہے ہیں ۔ فورا علاج شروع کیا گیا، ڈاکٹر کو دکھا یا فائدہ نہ ہوا، حکیم کو دکھایا لا حاصل، اب گھر والے مایوس ہونے لگے تھے کہ بیماری ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ سائیں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی ہی جا رہی تھی۔ تب کسی نے مشورہ دیا کہ روحانی علاج کرایا جائے ، مرتا کیا نہ کرتا والدین فورا ہی راضی ہو گئے۔ ایسے میں ان کی ملاقات گلشن کمال کے قاری صاحب سے ہو گئی جو نہایت زیرک عالم تھے اور ان معاملات میں اللہ نے انہیں بڑا کمال عطا کیا تھا۔ انہوں نے والدین کو بتایا کہ آپ کا بیٹا جنات کے زیر اثر ہے۔ اور معاملہ بہت ہی شدید ہے آسانی سے شاید نہ سنبھل پائے۔ والدین بہت پریشان ہوگئے کہ اب کیا کیا جائے۔ بیٹے نے تو کبھی کچھ بتایا ہی نہیں۔ آخر جب انہوں نے سائیں سے بازپرس کی تو انہوں نے بچپن سے لیکر آج تک کی تمام روداد من وعن سنا دی، بلکہ یہ بھی بتایا کہ اب تو وہ رات کو جب سب سو جاتے ہیں تو اوپر والی منزل سے سیڑھیاں اتر کر آجاتی ہے اور ان سے باتیں کرتی ہے، وہ کہتی ہے کہ وہ انہیں کبھی بھی نہیں چھوڑے گی ، آجکل وہ بہت ناراض ہے کہ ہم لوگ پیروں فقیروں سے کیوں مل رہے ہیں۔
سائیں کے گھر والوں کے ذہن میں جیسے ایام گذشتہ کی ساری کہانی گھوم گئی، سائیں کوئی بہت مضبوط جسامت والے یا طاقتور بچے نہ تھے مگر اکثر خود سے کئی گنا بڑے بچوں کو پیٹ دیا کرتے تھے۔ پڑھنے میں بہت تیز نہ تھے مگر نتائج ہمیشہ غیر متوقع طور پر عمدہ آیا کرتے تھے۔ یونہی وہ کالج تک پہنچ گئے تھے اور اب یونیورسٹی کی تیاری میں تھے۔
والدین نے بہت سر مارا قاری صاحب نے بڑی کاوشیں کیں مگر نتیجہ لاحاصل ہی رہا۔ آخر تنگ آکر سب نے سائیں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ سائیں آہستہ آہستہ لوگوں سے دور ہوتے چلے گئے اور لوگ بھی اب ان سے ملنے سے کترانے لگے تھے۔ وہ بالکل ہی گوشہ نشین ہوگئے تھے، صرف نماز کیلئے اپنے حجرے نما کمرے سے نکلتے تھے۔ گھر والے ان کی اس کیفیت سے بہت پریشان رہتے تھے۔ ان کی اس حالت کی وجہ سے دوسرے بہن بھائیوں کی زندکی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ لہذا گھر والوں نے مجبور ہوکر انہیں ایک الگ گھر میں منتقل کردیا، اور ان کے کھانے پینے اور رہنے بسنے کے تمام انتظامات کردئیے جاتے تھے۔
بہت ہی قلیل عرصے میں لوگون نے دیکھا کہ بچل سائیں کا گھر ایک دربار یا آستانے کی شکل اختیار کرگیا، جو ہمہ وقت زائرین و عقیدت مندوں سے بھرا رہتا تھا۔ اب بچل سائیں ، بچل سائیں سرکار کے طورپر جانے لگے تھے۔ باقاعدہ سائلین کی قطاریں لگنا شروع ہوگئی تھیں، خدمت گاروں اور منتظمین کی ایک بڑی تعداد جو مرید بھی تھے ہمہ وقت بابا صاحب کی خدمت کیلئے دست بستہ تیار و حاضر رہتے تھے۔
اب بچل شاہ بابا کی شہرت گلی محلے سے نکل کر شہر اور شہروں سے نکل کر ملک بھر میں پھیل چکی تھی۔ مریدین کی کثیر تعداد تھی جو بابا سائیں کے ایک اشارے پر جان نچھاور کرنا عین سعادت سمجھتے تھے۔ اب سائیں بچل شاہ بابا ایک صاحب کرامات پیر کے طور پور ملک بھر میں مشہور ہوگئے تھے۔
سائیں بچل شاہ کی سالانہ محافل سب ہی کیلئے زبردست کشش کا سبب ہوتی تھیں، کہ ان دنوں بچل سائیں لوگوں سے خوب گھلا ملا کرتے تھے، اور آجکل بھی ان ہی کا دور چل رہا تھا۔ سب اپنی اپنی مصروفیتوں میں لگے ہوئے تھے، خوب گہما گہمی تھی، اس دورن بھی بابا ہر شام عصر اور مغرب کے درمیانی وقت اکیلے چہل قدمی کو آٹھ نمبر کے فٹبال گراﺅنڈ اور قبرستان کی درمیانی گلی میں جایا کرتے تھے یہ گلی اس وقت بالکل سنسان ہوا کرتی تھی۔ مرید اکثر بابا سے ساتھ چلنے کی درخواست کیا کرتے تھے مگر بابا انہیں سختی سے منع کردیا کرتے تھے۔
آج بھی بابا اپنی ترتیب کے مطابق چہل قدمی پر نکل گئے تھے، ابھی سورج پوری طرح ڈھلا نہ تھا بلکہ آسمان کے کناروں پر سرخی پھیلا رہا تھا، سائے ذ را گہرے ہو چلے تھے، بچے ابھی تک ساتھ والے گراؤنڈ میں کھیل میں مصروف تھے، مغرب کی اذان میں کچھ وقت تھا، کھلاڑی کھیل ختم ہونے سے پہلے اپنا پورا زور لگا رہے تھے کہ اچانک درمیانی گلی سے گولیاں چلنے کی آواز آئی، لوگ بھاگ بھاگ کر گلی میں جمع ہونا شروع ہوگئے، کیا دیکھتے ہیں کہ سائیں بچل شاہ گلی کے بیچوں بیچ زمین پر گرے ہوئے ہوئے ہیں۔ ان کے دونوں ہاتھ ان کے سینے پر تھے جن کے نیچے سے خون تیزی سے نکل نکل کر زمین پر بہ رہا تھا۔ لوگوں کے دیکھتے ہی دیکھتے سائیں بچل شاہ کی گردن اور ہاتھ ایک طرف کو ڈھلک گئے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker