ملتان۔ (اے پی پی):والڈسٹی آف لاہوراتھارٹی جنوبی پنجاب کے پانچ تاریخی مقامات کومحفوظ بنارہی ہے اس منصوبے پردس کروڑ روپے لاگت آئے گی ۔ان تاریخی مقامات میں حضرت بہاءالدین زکریاملتانی کامزار ،فن تعمیر کے حوالے سے آغاخان ایوارڈیافتہ حضرت شاہ رکن عالمؒ کامزار ،حضرت بی بی پاک دامن کامزار اور حضرت خواجہ غلام فرید ؒکامزار شامل ہیں ۔
سرکاری ذرائع نے اے پی پی کو بتایاکہ والڈسٹی لاہوراتھارٹی کو یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ ان تاریخی مقامات کی تزئین ومرمت کے دوران محکمہ اوقاف اورمحکمہ آثاریات کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کرے کیونکہ اس سے پہلے اتھارٹی کی جانب سے کام میں کئی خامیاں بھی سامنے آئیں ۔حکام نے بتایاکہ والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کے کنٹریکٹرزنے ان تاریخی عمارتوں پرکام کے دوران سینڈ بلاسٹنگ کی تکنیک استعمال کی جس کے نتیجے میں ان عمارات کے ڈھانچے کو خطرات کاسامنا ہے ۔سینڈبلاسٹنگ کی تکنیک کے تحت ہواکے پریشر کے ذریعے ان عمارتوں پرریت کاسپرے کیاگیا جس سے ان پر صدیوں پرانی حفاظتی تہہ ختم ہوگئی ۔والڈ سٹی لاہور کے گزشتہ اجلاس میں محکمہ آثاریات ملتان کے ایس ڈی او نے سینڈ بلاسٹنگ پرشدید اعتراض کیا اورکہاکہ اس سے ان عمارتوں کو نقصان پہنچنے کاخطرہ ہے ۔انہوں نے بتایاکہ اجلاس میں حضرت شاہ رکن عالم اورحضرت بہاءالدین زکریاملتانی کے مزارات کی چاردیواریوں پرسینڈ بلاسٹنگ کی گئی ۔
اس کے علاوہ دربار حضرت خواجہ غلام فرید ؒکی تزئین ومرمت میں چھوٹی اینٹوں کے استعمال پربھی نکتہ چینی کی گئی ۔ان اینٹوں کے استعمال سے اس مزار کے ڈیزائن کاحسن مجروح ہونے کاخطرہ ہے اورمزارکی تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹوں کی یکسانیت بھی برقرارنہیں رہے گی ۔اجلاس میں لاہور والڈسٹی اتھارٹی کے حکام سے یہ بھی کہاگیا کہ وہ اپنے انجینئروں کے ہمراہ کام کاجائزہ لینے کے لئے ہرپندرہ دن کے بعد ان مقامات کادورہ کریں ۔
فیس بک کمینٹ

