تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:ملک میں گہری ہوتی سیاسی تقسیم، جمہوریت کے لئے خطرہ ہے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت 33 قانونی بل منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی ہے تاہم جس طریقہ سے یہ عمل پایہ تکمیل کو پہنچا ہے، اس سے ملک میں سیاسی تقسیم گہری ہوئی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کے امکانات مزید محدود ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن نے تکنیکی بنیاد پر اس قانون سازی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا طریقہ مروج ہونے کی صورت میں آئیندہ انتخابات کے نتائج قابل قبول نہیں ہوں گے۔
آج منظور کئے گئے بلوں میں آئیندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کرنے کی ترمیم کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کی ترمیم بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ملکی عدالتی نظام میں اپیل کا حق دینے کے لئے ایک ترمیمی بل منظور کروایا گیا ہے۔ اپوزیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کو دھاندلی کا ایک نیا طریقہ قرار دے رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں گنے چنے ممالک میں ہی یہ مشینیں استعمال ہوتی ہیں کیوں کہ یہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن پاکستان بھی ان مشینوں کے استعمال کی مخالفت کرچکا ہے لیکن حکومت نے زبردستی یہ ترمیم ٹھونسنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی کی بنیاد رکھ لی گئی ہے۔ شہباز شریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو شیطانی مشینیں قرار دیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ شیطانی مشینیں نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعے شیطانی عزائم کی روک تھام ہوگی۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی طرف سے اس ترمیم کو کالا قانون قرار دینے کا جواب دیتے ہوئے اصرار کیا کہ یہ کالا قانون نہیں بلکہ ماضی کی سیاہی دھونے کا طریقہ ہے۔
شاہ محمود قریشی جوش بیان میں نہ جانے ماضی کی کون سی سیاہی کی بات کررہے تھے تاہم اگر وہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا خاتمہ کرنے کی بات کررہے ہیں اور ماضی میں ہونے والی دھاندلی کو سیاہ باب سے تعبیر کررہے تھے تو یہ مضحکہ خیز بیان ہے کیوں کہ پاکستان تحریک انصاف پرانے انتخابی طریقہ کے تحت ہی 2018 کے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اپوزیشن ان انتخابات میں سنگین دھاندلی کا الزام لگاتی ہے اور وزیر اعظم عمران خان تمام تر وعدوں کے باوجود ان انتخابات کی جانچ کروانے اور اپوزیشن کے ’نامزد وزیر اعظم ‘ کے الزام کا مناسب جواب دینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اب شاہ محمود قریشی اگر اسے ماضی کا سیاہ باب کہہ رہے ہیں تو انہیں جاننا چاہئے کہ اس سیاہی کے چھینٹے خود پاکستان تحریک انصاف کے دامن پر بھی نمایاں ہیں۔
اپوزیشن اگرچہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی حمایت کرتی ہے لیکن اس کا دعویٰ ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی مناسب اور قابل قبول طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا بلکہ کوئی پاکستانی خواہ دنیا کے کسی بھی ملک میں مقیم ہو ، اسے پاکستان میں اپنے آبائی یا رہائشی حلقے میں ووٹ دینے کا حق ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیسے قبول کیاجاسکتا ہے کہ پیرس یا کیلی فورنیا میں رہنے والے پاکستانی کراچی یا قبائیلی علاقوں کے عوام کی طرف سے فیصلہ کرے۔ ان کا علیحدہ حلقہ بنانے کی ضرورت تھی‘۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں اسی طریقہ کے تحت آزاد کشمیر سے باہر مقیم شہریوں کو حق نمائیندگی دیاجاتا ہے۔ تاہم حکومت انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ شروع سے ہی وزیر اعظم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو دھاندلی کے مسائل کا واحد حل بتاتے ہوئے اس معاملہ پر بحث و تمحیص کے تمام دروازے بند کردیے تھے۔ اس حوالے سے اپوزیشن لیڈروں کے اعتراضات کو مسترد کرنے کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے نکتہ وار اٹھائے گئے اعتراضات پر حکومتی وزیروں نے شدید رد عمل ظاہر کیا تھا۔ دو وفاقی وزیروں نے تو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے خلاف اس قدر شدید لب و لہجہ اختیار کیا کہ اب اعظم سواتی اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کی توہین کے الزام کا سامنا کررہے ہیں۔
صدر عارف علوی نے پہلے 11 نومبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایاتھا تاہم 10 نومبر کو یہ حکم واپس لے لیا گیا اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی ہوگیا۔ اس فیصلہ سے یہ تاثر قوی ہؤا تھا کہ حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم پاکستان کو ان ترامیم پر تحفظات ہیں۔ تاہم گزشتہ ہفتہ کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں سے متعدد ملاقاتوں میں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی جس کے بعد آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے تمام متنازعہ بل منظور کروا لئے گئے۔ حکومت کی طرف سے اسے اپوزیشن کی عبرت ناک ناکامی کہا جارہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ حکومت درحقیقت اہم قانون سازی میں اپوزیشن کو انگیج کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے آج اپنی تقریر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس ناانصافی پر وہ قوم کو جواب دہ ہوں گے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسد قیصر نے انتخابی بل میں ترمیم کے بارے میں اپوزیشن کو خط لکھا جس کا جواب انہیں فراہم کردیا گیا اور اپوزیشن کی طرف سے متبادل تجاویز بھی پیش کی گئیں لیکن اسپیکر نے اس کے بعد رابطہ ختم کردیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسد قیصر نے حکومت مہلت دینے کے لئے اپوزیشن کو دھوکے میں رکھا۔ ’حکومت یا اسپیکر کبھی بھی اپوزیشن کے ساتھ بامعنی بات چیت پر تیار نہیں تھے‘۔ اس حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
انتخابی اصلاحات کا متنازعہ بل منظور ہونے کے بعد ایک طرف بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی صورت میں آئیندہ انتخابات کے نتائج قبول نہیں کریں گے ۔ اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے آج منظور کئے گئے بلوں کا معاملہ عدالت میں لے جانے کا اعلان کیا ہے کیوں کہ اس کے خیال میں حکومت نے اس قانون سازی میں متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے 2007 میں منظور شدہ ضوابط کے تحت حکومت کو مشترکہ اجلاس میں بل منظور کروانے کے لئے کل ارکان کی اکثریت کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ صورت میں یہ تعداد 222 بنتی ہے۔ اجلاس میں حکومت کے بلوں کو 221 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا آئین کی شق 72 کے تحت حکومت حاضر ارکان کی اکثریت سے کوئی بل منظور کرواسکتی ہے۔ اسپیکر اسد قیصر نے حکومتی مؤقف تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کا اعتراض مسترد کردیا تھا۔ اب اسی نکتہ کی بنیاد پر اپوزیشن عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کررہی ہے۔
اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں رائے شماری کے دوران غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا دعویٰ ہے کہ حکومت کو 221 ارکان کی حمایت بھی حاصل نہیں تھی لیکن ارکان کوگننے میں گڑ بڑ کی گئی اور حکومت کے زیادہ ارکان دکھائے گئے۔ بلوں پر اعتراض اور گنتی پر پیدا ہونے والی بدمزگی میں ووٹنگ کے دوران اپوزیشن نے شدید تنقید اور ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث اب میڈیا میں بیانات کے ذریعے جاری رہے گی اور فریقین ایک دوسرے کی نیت پر شبہ کا اظہار کرتے رہیں گے۔
حکومت نے مشترکہ اجلاس میں تین درجن کے قریب بل منظور کروائے ہیں۔ ان بلوں پر بحث اور غورو خوض کا مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ خاص طور سے جس طرح انتخابی اصلاحات کے بل کو منظور کروایا گیا ہے ، اس سے وسیع تر پارلیمانی اشتراک و تعاون کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن اگر یہ معاملہ عدالتوں میں لے جاتی ہے اور وہاں اس پر غور کیا جاتا ہے تو یہ بھی ملکی پارلیمنٹ کی خود مختاری اور فیصلہ سازی کی صلاحیت و حق پر سوالیہ نشان ہوگا۔ ایسی کسی بھی صورت حال کی ذمہ داری اپوزیشن اور حکومت دونوں پر عائد ہوگی۔ تمام پارلیمانی پارٹیوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کو اعلیٰ ترین اور سب سے بااختیار ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے فیصلوں پر پارلیمنٹ ہی میں غور ہونا چاہئے اور اگر ان میں تبدیلی کی ضرورت ہو تو پارلیمنٹ ہی کو اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے۔ قانون سازی پر ووٹنگ کے طریقہ کی بحث کو پارلیمنٹ سے باہر عدالتوں میں لے جا کر درحقیقت ملک کے جمہوری پارلیمانی اختیار کو مشکوک بنایا جائے گا۔ اپوزیشن کو اس حوالے سے اپنی پوزیشن پر پھر سے غور کرنا چاہئے۔
تاہم اس معاملہ میں حکومتی طریقہ بھی پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے شروع سے ہی اپوزیشن لیڈروں پر الزامات عائد کرتے ہوئے ، ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ بھی اسی طرح عوام کے ووٹ لے کر ہی ایوان میں آئے ہیں جس طرح حکومتی ارکان کو اسمبلیوں کا رکن بننے کا اعزاز حاصل ہؤا ہے۔ پارلیمانی جمہوری نظام اعتماد اور باہمی احترام کے اصولوں پر استوار ہوتا ہے۔ قائد ایوان اس نظام کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اسپیکر پر تمام ارکان کے مفادات کا تحفظ کرنا لازم ہوتا ہے۔ تاہم حکمران پارٹی سے تعلق کی بنیاد پر منتخب ہونے والے اسپیکر اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔
مشترکہ اجلاس میں حکومت کی کامیابی اور بلوں کی منظوری کوئی حیرت انگیز واقعہ نہیں ہے۔ لیکن اس عمل میں حکومتی اتحاد کی صفوں میں دراڑیں نمایاں ہوئی ہیں۔ اس لئے عمران خان اور حکومت کی موجودہ کامیابی وقتی اور عارضی بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ حکومت کا اصل چیلنج ملکی معاشی مسائل سے نمٹنا ہے۔ اس حوالے سے ابھی تک سرکاری حکمت عملی ناکام ہے۔ بحالی معیشت کے کسی قابل عمل منصوبے کی تکمیل کے لئے حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ تصادم اور تنازعہ کی بجائے، مصالحت اور تعاون کی ضرورت ہوگی۔ عمران خان نے ابھی تک تصادم کو ہی اپنی کامیابی کی بنیاد بنایا ہے لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کی یہ پالیسی نہ تو موجودہ حکومتی اتحاد کے تسلسل کی ضمانت بن سکتی ہے اور نہ ہی جمہوری روایت کے فروغ کا سبب بنے گی۔
کہا جارہا ہے کہ ادارے ابھی حکومت کو کچھ مزید وقت دینا چاہتے ہیں اور اپوزیشن ابھی تک تبدیلی کے لئے مناسب حلقوں کے مثبت اشاروں کی منظر ہے۔ جس ملک میں یہ باتیں روزمرہ کا معمول بن جائیں وہاں عوام کی رائے اور جمہوری طریقہ کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker