زندگی ہےسفر مختصر مختصر مگر میں وی کیتے مختصر مختصر ۔۔۔ جب نواز بھٹہ نے اصغرگرمانی اور شاکرمہروی کی لکھی غزل کی ریکارڈنگ کروائی تھی تو میں روہی سرائیکی چینل کی ابتدائی ٹیم کا حصہ تھا۔کنٹرولر نیوزملتان کے ساتھ کچھ پروگرامز کا پروڈیوسر اور ایک پروگرام کا اینکر بھی تھا۔۔اسی دوران ایک پروگرام جس کا نام شاید لوک ریت تھا میں پروڈیوس کیا کرتا تھااور سرائیکی کے ایک مہان ادیب اس کے میزبان بنائے گئے تھے۔اردو کی شمائلہ اس وقت شمائلہ حسین نہیں بنی تھی۔وہ میاں چنوں کی ریلوے لائن کی کچی آبادی میں رہتی تھی۔اور ہمارے ایک پروگرام کی میزبان تھی۔ایک دن میرے پروگرام کے مہمان سلپ اوور ہوگئے اور سیٹ ریڈی تھا۔پریشانی ہوئی کہ لائیو پروگرام تھا متبادل مہمان کہاں سے لاتے ۔ملتان کینٹ میں روہی آفس ایک بہت بڑی عمارت میں تھا۔ شمائلہ آ فس کے ایک کمرے میں سورہی تھی اسے جگایا اور جلدی جلدی پروگرام کے لئے تیار کیا۔ نیند سے بیدار ہوکر میک اپ کے بعد شمائلہ ہمارے اس میزبان کو بہت بھائی اورانہوں نے شاید اسی پروگرام میں اسے ” فتح” کرنے کا ارادہ کرلیا ۔بعد میں مہان میزبان کی ضد پر فارمیٹ تبدیل کیا گیا اور دومیزبانوں کے ساتھ پروگرام شروع ہوا جس میں اس ادیب کے ساتھ شمائلہ کواینکرہوگئی۔اطہر لاشاری سمیت کئی افراداس چینل میں میرے ساتھ کام کرتے تھے جن میں "آ ج” ٹی وی ملتان کا بیوروچیف ناصر ظہیر بھی شامل ہے ۔ ہم دونوں اس وقت روزنامہ خبریں سے روہی ٹی وی میں آئے تھے۔جہانگیرترین اس ٹی وی کے مالک تھے اور سیلری پیکج کے ساتھ سہولیات بھی بہت تھیں۔سعدیہ کمال ہماری پہلی نیوز اینکر تھیں اور ارشاد تونسوی کے بیٹےشہر یار تونسوی نیوز پروڈیوسر۔۔روہی ٹی وی میں سعدیہ کمال بہاولپور سے ریاض سندھڑ کی خاص سفارش پر آئی تھی۔۔
شہر یار بھی میرے ساتھ بہت سارےمعاملات کا شاہد تھا۔عامر متین نے اسلام آ باد کی اینکر عاصمہ شیرازی کے بھائی عاصم شیرازی کو اس وقت پروڈیوسر بنادیا جب وہ نیوخان بس سروس راولپنڈی ٹرمینل میں ٹکٹیں کاٹتا تھا۔میں نے احتجاج کیا۔کیونکہ اس وقت میں نظریات کومقدم سمجھنے والا ایک پاگل نوجوان تھا۔تمام تر کوششوں کے باوجود آ فس کےڈیکورم کو کنٹرول نہ کرسکا۔خبریں ملتان میں میرے ہی جونئیر وسیب سنگ کے ایک ٹرینی غصنفرعباس نے روہی ٹی وی میں نازیہ حسن "خاکوانی” کو فتح کیا ادا کیا ۔ ۔بہت بعد میں دونوں میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہوئے۔آ فس میں اخلاقیات اور دم توڑتی اقدار پر شدید احتجاج کرتے ہوئے جذبات میں آکر میں نے اچھی بھلی جاب سے استعفی دے دیا۔دو ہفتے بعد میں اسلام آباد نوائے وقت گروپ کے وقت ٹی وی،اردو اور انگریزی اخبار کے لئے ایک اچھے عہدے پر سلیکٹ ہوگیا اور فیمیلی کے ساتھ اسلام آباد منتقل ہوگیا۔
پھر عامرمتین سے لڑائی کرکے شہریار تونسوی بھی وقت ٹی وی اسلام آ باد میں آ گیا۔ہم روہی سرائیکی کے 8لوگ وقت ٹی وی اسلام آ باد میں پھر سے ساتھ ہوگئے۔پھر شہریار تونسوی نے ایک دن یہ خوش خبری دیتے ہوئے لوک ورثہ اسلام آ باد میں ٹریٹ دی کہ اس نے سعدیہ کمال سے منگنی کے ساتھ نکاح بھی کرلیا ہے۔ میں دنگ رہ گیا اور ٹریٹ میں ہم دو ہونے کے باوجود میں کچھ کھا سکا نہ پی سکا۔۔سعدیہ کمال اور شہر یار کے گھر میں بہت جاتا تھا وہ اس وقت اکثرمیری گاڑی استعمال کرتے تھے اور رات میں انہیں چھوڑنے کے لئے چلاجاتا اور رات گئے واپس لوٹتا۔ ( جاری )
فیس بک کمینٹ

