نئے قومی بجٹ پر معاشی ماہرین ہی مناسب تجزیہ کر کے نتائج اخذ کر سکتے ہیں لیکن 7574 ارب روپے کے خسارہ بجٹ میں ملک کے عام شہری کے لئے کسی بہتری کی توقع عبث ہوگی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر اور کابینہ سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کی گفتگو سے واضح ہو رہا ہے کہ ملک شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور حکومت کے پاس ان مسائل سے باہر نکلنے کے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔
قومی بجٹ کا خسارہ ساڑھے سات سو ارب روپے سے زائد ہے لیکن حکومت پچیس کروڑ آبادی کے ملک میں صرف 9200 ارب روپے کے محاصل جمع کرنے کا تخمینہ لگا سکی ہے۔ آمدنی کی کم مائیگی کا اندازہ بجٹ خسارہ کے علاوہ دو دیگر عوامل سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ نئے بجٹ میں دفاع کے لئے 1804 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ساڑھے پندرہ فیصد زائد ہے۔ البتہ اس اضافہ کو روپے کی گرتی ہوئی قدر کے سبب مجبوری سمجھا جاسکتا ہے لیکن یہ نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ملک اپنی مجموعی قومی آمدنی سے دو گنا رقم دفاع پر صرف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یعنی قوم و ملک ایک ایسی عسکری مشینری برقرار رکھنا ضروری سمجھتے ہیں جو قومی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کرنے کے قابل نہیں ہے اور اسے اپنی ضرورتیں یا مصارف کا خسارہ پورا کرنے کے لئے مزید قرض لینا پڑیں گے۔
بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق قرض کی صورت حال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ نئے مالی سال میں 7303 ارب روپے بیرونی قرض اور ان پر سود کی ادائیگی پر صرف ہونے کا امکان ہے۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح مسلسل گرتی رہی تو ان اعداد و شمار میں اضافہ ہو گا البتہ اگر حکومت کسی طرح افراط زر اور روپے کی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر کرنے میں کامیاب ہوئی تو شاید اس مد میں اخراجات کم ہوجائیں۔ البتہ اس کا انحصار آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدے اور ملکی مالی معاملات میں ڈسپلن پیدا کرنے کی صورت حال پر ہو گا۔
بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق کل قومی بجٹ کا پچپن فیصد قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہو گا۔ یہ انتہائی پریشان کن اعداد و شمار ہیں لیکن لاتعداد مسائل میں گھری حکومت کے پاس ان مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم ہوں یا وزیر خزانہ وہ بدستور سابقہ حکومت کو مورد الزام ٹھہرا کر خود سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ اس طریقے کو سیاسی سہل انگاری کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔
بجٹ کے حوالے سے البتہ سب سے تکلیف دہ کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم کی گفتگو تھی جس میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی ہیں اور انہوں نے بنفس نفیس عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ سے ایک گھنٹہ فون پر بات کی ہے۔ اس دوران انہوں نے اپنے طور پر آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لینے کا وعدہ کیا جبکہ آئی ایم ایف کی سربراہ نے زبانی یہ وعدہ کیا ہے کہ اس صورت میں آئی ایم ایف کے موجودہ معاہدہ کے تحت قرض کی اگلی قسط ادا کردی جائے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ان شرائط کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جو آئی ایم ایف کی طرف سے ابھی تک موصول ہو رہی ہیں۔ لیکن عالمی مالیاتی فنڈ کی پالیسی کے حوالے سے دیکھا جائے تو کم آمدنی والی معیشت میں اس کی بنیادی شرط اخراجات کو کنٹرول کرنے سے متعلق ہوتی ہے۔ پاکستان نے حالیہ معاہدہ کے دوران چونکہ سیاسی مجبوریوں کے تحت متعدد بے قاعدگیاں کی ہیں، اس لئے اب فنڈ کی طرف سے تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اور مختلف مالی مدات کے بارے میں ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ شاید اسی قسم کی ہدایات شہباز شریف کو بھی آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹا لینا گوگیوا سے فون پر بات چیت کے دوران بھی موصول ہوئی ہیں۔
تاہم بحیثیت قوم پاکستانیوں کے لئے شہباز شریف کا یہ اعتراف باعث شرم ہونا چاہیے کہ انہیں فون پر آئی ایم ایف کی طرف سے بجٹ میں کمی بیشی کی ہدایات دی گئی ہیں اور انہیں یہ شرائط من و عن قبول کرنا پڑی ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف کو یہ بات نشر نہیں کرنی چاہیے تھی تاکہ قومی مالی برہنگی کا اظہار نہ ہوتا۔ لیکن شاید وہ بھی اس کا اعلان کر کے پاکستانی عوام سے رعایت مانگ رہے ہوں کہ انتخابات کے دوران حکومت کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت کے نمائندے مسلسل تحریک انصاف کی حکومت کو موجودہ مالی مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک سال سے زائد مدت تک حکومت میں رہنے کے بعد موجودہ صاحبان اقتدار کو اب اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ حیرت ہے کہ ہمارے رہنما یہ سادہ سی بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ عوام کو دو ہی باتوں سے رام کیا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ حکومت انہیں کیا مالی فائدہ پہنچا رہی ہے۔ دوئم یہ کہ ساری صورت حال صاف اور سچے الفاظ میں قوم کے سامنے رکھی جائے۔ دوسروں پر الزام تراشی اور خود کو طرم خان ثابت کرنے کا رویہ سیاسی لیڈروں اور عوام کے درمیان عدم اعتماد کی وہی صورت حال پیدا کرتا ہے جس کا مشاہدہ اس وقت کیا جاسکتا ہے۔
بجٹ تقریر میں اسحاق ڈار اگر تحریک انصاف کو نشانہ بنانے کی بجائے اپنی مالی و انتظامی غلطیوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرتے، اس کے بعد اعداد و شمار کی روشنی میں سارے حقائق عوام کے سامنے پیش کرتے تو عام لوگوں تک کوئی مثبت پیغام پہنچایا جاسکتا تھا۔ البتہ جب حکومتی عہدیدار خود کو غلطیوں سے مبرا سمجھتے ہوں اور مخالفین پر انگشت نمائی ہی کو سب سے اہم ہتھکنڈا بنایا جائے گا تو حکومت کی بعض سچی باتیں بھی عوام ماننے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں گے۔ کیوں کہ یہ اندیشہ موجود رہے گا کہ الزام تراشی کرنے والے وزیر خزانہ کی باقی سب باتیں بھی افسانہ و کہانی ہیں۔
پاکستان کی موجودہ مشکل مالی صورت حال کے فوری عوامل میں یوکرین جنگ کی وجہ تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور پاکستان کا ان کی درآمد پر انحصار، ناگہانی سیلاب اور اس سے ہونے والی تباہی اور ملک میں جاری سیاسی بے یقینی اور انتشار کی کیفیت سر فہرست رہی ہیں۔ وزیر خزانہ اور وزیر اعظم اگر تحریک انصاف کو موضوع گفتگو بنانے کی بجائے ان پہلوؤں کو پیش کرتے اور ان کے حل کے لئے اپنی کاوشوں کا ذکر کیا جاتا تو شاید عوام کو مشکل حالات کے لئے تیار کرنے میں آسانی ہوتی۔
سانحہ نو مئی کے بعد تحریک انصاف تو پہلے ہی ریاستی و حکومتی مشینری کے نشانے پر ہے اور اسے توڑنے اور دبانے کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈا بروئے کار لانا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس وقت عمران خان اور تحریک انصاف کو اس کے حامیوں کے علاوہ ملک کے عام شہری بھی مظلوم سمجھنے پر مجبور ہیں۔ اب اگر قومی معاشی مسائل کا الزام بھی نہایت ڈھٹائی سے سابق حکومت کے سر منڈھا جائے گا تو اس سے حکومت کے بارے میں غصہ اور تحریک انصاف کے ساتھ ہمدردی میں اضافہ ہو گا۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ انتخابات کا سال ہونے کی وجہ سے حکومت عوام کو مالی سہولتیں دینے کی کوشش کرے گی۔ بجٹ کے سرسری مطالعہ سے ایسی سہولتوں کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ البتہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ اضافہ معاشرے کے ایک محدود طبقے کو ہی پہنچے گا۔ حکومت کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ نجی شعبہ کو بھی اس حکومتی پالیسی کے مطابق اپنے ملازمین کو فائدہ دینے پر مجبور کرسکے۔
دوسرے یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے دوران ہونے والی مہنگائی کی شرح کو بمشکل پورا کرسکے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران قیمتوں میں 29 فیصد اضافہ ہوا۔ صرف مئی کے دوران افراط زر کی شرح میں اضافہ 38 فیصد تھا۔ نئے مالی بجٹ میں اسے 21 فیصد تک لانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے لیکن اس کا انحصار آئی ایم ایف سے معاہدہ کے علاوہ حکومت کے انتظامی کنٹرول پر ہو گا کہ وہ اخراجات پر قابو پائے اور مالی وسائل کا ضیاع روکا جائے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران قومی پیداوار کا ہدف پانچ فیصد رکھا گیا تھا لیکن اسے اعشاریہ 29 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے قومی پیداوار کو سات فیصد سے اوپر لے جانا ہو گا تاہم نئے مالی بجٹ میں اس کا اندازہ ساڑھے تین فیصد لگایا گیا ہے۔ یہ غیر واضح ہے کہ حکومت یہ ہدف کیسے حاصل کرے گی۔ ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتی و زرعی پیداوار میں اضافہ کی صورت حال بدستور مخدوش ہے۔ گو کہ نئے بجٹ میں زرعی شعبہ کو مراعات دینے کے علاوہ صنعتی شعبہ پر نئے ٹیکس لگانے سے گریز کیا گیا ہے لیکن اس سہولتوں سے ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کا انحصار امن و امان کی صورت حال اور عالمی مالی اداروں اور دوست ممالک سے قرضوں کے علاوہ تجارت کے معاملات سے ہو گا۔ جب تک ملک میں نئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی، اس وقت تک قومی پیدا وار میں اضافہ کا امکان پیدا نہیں ہو گا۔
مشکل مالی حالات کے باوجود حکومت نے ترقیاتی مد میں 1150 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس کثیر رقم کو اگر ایسے ترقیاتی منصوبوں پر صرف کیا جا سکا جن میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معاشی افزائش کا سبب بنیں تو اس سے قومی معیشت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ البتہ اگر یہ فنڈز انتخابات کے موقع پر ارکان اسمبلی میں بانٹنے کا روایتی طریقہ اختیار کیا گیا تو کچھ سیاسی فائدہ تو شاید حاصل ہو جائے لیکن قومی وسائل بھی ضائع ہوں گے اور ملکی معیشت بھی مسلسل زیر بار رہے گی۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

