تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : افغانستان کے ساتھ سرحد ی تنازعہ، عوام کو حقائق بتائے جائیں

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان سرحد پر طالبان کی طرف سے باڑ کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر حل کرلیا جائے گا۔ ان خبروں کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ ایسے کچھ واقعات ہوئے ہیں لیکن شر پسند عناصر انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ کا یہ طرز تکلم کابل سے موصول ہونے والی اطلاعات اور طالبان لیڈروں کے دعوؤں کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ حکومت پاکستان کو اس معاملہ پر پاکستانی عوام کو دھوکہ میں رکھنے کی بجائے، انہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملنے والی دو ہزار کلو میٹر سے زائد سرحد پر باڑ لگائی ہے لیکن کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان کی حکومت نے اس فیصلہ کی حکمت کو چیلنج کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں طالبان کے مسلح ہرکاروں نے سرحد پر باڑ کو اکھاڑا اور حفاظت پر مامور پاکستانی فوجیوں کے ساتھ ترش کلامی کی۔ بعض صورتوں میں طالبان کے ذمہ دار افسروں نے متنبہ کیا کہ یہ باڑ افغان علاقے میں لگائی گئی ہے اور پاکستانی فوج کو آئیندہ ایسا اقدام نہیں کرنا چاہئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس تنازعہ کو ’بڑھا چڑھا کر پیش کرنے‘ کا الزام شر پسند عناصر پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ افغان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر حل کرلیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان کابل سے آنے والے اشاروں سے میل نہیں کھاتا۔
طالبان کے قائم مقام وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے ایک یوٹیوب انٹرویو میں کہا ہے کہ ’پاکستان کو ڈیورنڈ لائن پر باڑ نہیں لگانی چاہئے کیوں کہ سرحد کا معاملہ ابھی تک تصفیہ طلب ہے۔ باڑ لگانے سے سرحد کے دونوں طرف رہنے والی ایک ہی قوم کے افراد میں تقسیم گہری کی جارہی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کا ایک دوسرے سے تعلق و قرابت داری ہے۔ ڈیورنڈ لائن نے ایک ہی قوم کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ ہم اسے تسلیم نہیں کرتے اور اس مسئلہ کا حقیقت پسندانہ اور منصفانہ حل تلاش کرنے پر زور دیتے ہیں‘۔ طالبان کا یہ مؤقف پاکستانی وزیر خارجہ کے طرز بیان سے متضاد ہے۔ ایک طرف طالبان کا نمائیندہ اور ترجمان سرحد پر باڑ کو ناجائز اور ناقابل قبول قرار دے رہا ہے لیکن پاکستانی وزیر خارجہ اس کا الزام شر پسند عناصر پر ڈالتے ہوئے ایک سنگین مسئلہ سے نگاہیں چرانا چاہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک یہ باور کرنے میں ہی کامیاب نہیں ہوئی کہ سفارت کاری ہو ، سیاست ہو یا معیشت، محض دعوے کرنے اور مسئلہ کو امکان اور مایوسی کو امید بتانے سے معاملات طے نہیں کئے جاسکتے۔
غلطی کسی سے بھی سرزد ہو سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت کی خارجہ پالیسی میں بھی بہت سے سقم ہیں اور گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران ان کمزوریوں کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ کچھ یہی حال پاکستانی سیاست اور معیشت کا بھی ہے۔ ان سب پہلوؤں میں ایک قدر مشترک ہے کہ حکومت عوام کے سامنے تمام حقائق پیش کرنے سے گریز کرتی ہے۔ اہم معاملات پر فیصلہ سازی کے بارے میں نامکمل اور ناقص معلومات کی وجہ سے غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور حکومت کو اپنی اصلاح کا موقع بھی نہیں ملتا۔ طالبان کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت اسی صورت حال کا سامنا کررہی ہے۔
عمران خان کی سربراہی میں حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد افغانستان میں پاکستان کے کردار پر رکھی تھی۔ حالانکہ اب حالات کی جو تصویر سامنے آرہی ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حکومت کو درحقیقت طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت اور امریکہ کے ارادوں کے بارے میں یقین سے کوئی معلومات حاصل نہیں تھیں۔ ناقص معلومات اور جائزوں کی بنیاد پر جو حکمت عملی تیار کی گئی اس میں یہ باور کرلیا گیا کہ پاکستان ، طالبان اور امریکہ کے درمیان مواصلت کرواکے ایک طرف امریکہ کا پسندیدہ ملک ہوجائے گا اور ماضی قریب میں سامنے آنے والی مشکلات سے نکل سکے گا ۔ دوسری طرف طالبان کو سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کرواکے وہ ان کا محسن بھی قرار پائے گا۔ اس خیالی کردار ہی کے تحت پاکستان نے سب افغان عناصر کو حکومت سازی کے کسی فارمولے پر متفق ہونے پر آمادہ کرنا تھا۔ اسلام آباد کا خیال تھا کہ اس سارے عمل میں پاکستان کو کلیدی حیثیت حاصل رہے گی۔ ایک طرف امریکہ خوش ہو گا تو دوسری طرف طالبان بھی پاکستان کے احسان مند ہوں گے۔
پاکستان البتہ یہ قیاس کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی کتنی جلدی ہے یا واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست اور جو بائیڈن کی کامیابی کے بعد امریکی حکمت عملی میں کیا تبدیلی رونما ہوسکتی ہے ۔ پاکستان اپنے تئیں امریکہ کا معاون اور طالبان کا ’سرپرست‘ بن کر بھارت کو افغانستان سے ’بے دخل‘ کروانے کو اپنی بہت بڑی اسٹریٹیجک و سفارتی کامیابی سمجھ رہا تھا۔ تاہم اگست کے دوران کابل پر طالبان کے اچانک قبضے کے بعد امریکی صدر کی وارننگ کے تحت امریکی شہریوں، امدادی کارکنوں اور دیگر سہولت کاروں کوہنگامی طور سے نکالا گیا۔ اس عمل میں پاکستان نے بھی ضروری تعاون فراہم کیا لیکن ایک بار پھر پہلے والی غلطی دہرائی گئی۔ یعنی یہ جائزہ لینے کی بجائے کہ طالبان کیوں کر اچانک کابل پر قابض ہونے میں کامیاب ہوئے، یہ باور کرلیا گیا کہ طالبان کی یہ کامیابی پاکستانی سفارت کاری کے لئے سود مند ثابت ہوسکتی ہے بشرطیکہ کہ وہ انخلا پر مجبور امریکی فورسز کو مناسب سہولت فراہم کرسکے۔
اب یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد اگرچہ کابل پر طالبان کے قبضہ کا خوش دلی سے خیر مقدم کرتا رہا ہے لیکن طالبان کی اس پیش رفت کے بارے میں شاید پاکستان کے پالیسی سازوں کو قبل از وقت علم نہیں تھا۔ اسے اپنی انٹیلی جنس کی کمزوری یا طالبان کے ساتھ مواصلت کی کوتاہی سمجھ کر تمام معاملات کا مناسب طریقے سے جائزہ لینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ نئی خوش فہمیوں یا نعروں کی بنیاد پر خارجہ پالیسی کے نتائج کی توقع کی جانے لگی۔ ان میں سے ایک توقع یہ تھی کہ امریکہ بحران میں مدد فراہم کرنے پر پاکستان کا ممنون احسان ہوگا اور دوسری امید یہ باندھی گئی کہ طالبان کابل پر قبضہ کو پاکستانی امداد کی دین سمجھ کر اب اسلام آباد کے اشارے پر اقدامات کریں گے۔ پاکستان کی یہ دونوں امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے غیر ضروری خوش فہمی کی بنیاد پر امریکی صدر کے فون نہ کرنے کو میڈیا ڈپلومیسی کے طور پر استعمال کیا اور یہ توقع باندھ لی گئی کہ اس کے بعد امریکی صدر کسی تابعدار بچے کی طرح عمران خان کو فون کرے گا اور اپنے تساہل کی معافی مانگ لے گا۔ لیکن پاکستانی اندازوں کے برعکس جو بائیڈن نے عمران خان کو فون نہیں کیا اور عمران خان اب ہر انٹرویو میں یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ’ امریکی صدر مصروف آدمی ہیں، انہیں وقت ملے گا تو بات کرلیں گے‘۔
اس فاش غلطی پر معید یوسف کی سرزنش کرنے اور انہیں بیان دینے اور تبصرے کرنے میں احتیاط کی ہدایت کرنے کی بجائے، پاکستان میں انہیں سیکورٹی حکمت عملی اور خارجہ تعلقات کا نابغہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ تاثر عام کیا گیا ہے معید یوسف ایسی کرشماتی صلاحیتوں سے بہرہ ور ہیں کہ دنیا بھر کے ممالک کو یقین دلا سکتے ہیں کہ انہیں پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس لئے پاکستان سے بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش بے سود ہوگی۔ حالانکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دنیا کا کوئی ملک پاکستان کو دوستی تو دور دشمنی کے قابل بھی نہیں سمجھتا۔ پاکستان کو اپنی تاریخ کے تمام زیر و بم میں کبھی ایسی سفارتی تنہائی اور ہزیمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ واشنگٹن میں پاکستان کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ بیجنگ اسلام آباد کی پالیسیوں سے پریشان ہے اور ریاض نے پاک سعودی تعلقات کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کے تقاضے پر منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اس کی گواہی دیتا ہے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم پاکستان کی خارجہ و سیکورٹی پالیسی کے اہم ترین موضوع کشمیر کا نام تک زبان پر نہیں لاسکے۔
اب طالبان کی حکومت کے ساتھ سرحد پر باڑ کے حوالے سے سامنے آنے والا تنازعہ پاکستان اور طالبان کے تعلقات کی حقیقت آشکار کررہا ہے۔ طالبان کی لاتعلقی اور پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا مظاہرہ تحریک طالبان پاکستان کے معاملہ میں بھی کیا جاچکا ہے۔ طالبان حکومت پاکستانی ریاست کے باغیوں کی سرپرستی سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے اور پاکستان کو مفاہمت کرنے اور عام معافی دینے جیسے اقدام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اب سرحد پر باڑ کے حوالے سے ڈیونڈر لائن کو متنازعہ اور غیر طے شدہ معاملہ قرار دینے کے علاوہ یہ دعویٰ کیا جارہاہے کہ اس باڑ سے ( بالواسطہ طور سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ڈیونڈر لائن ہی اس فساد کی جڑ ہے) ایک قوم کو تقسیم کیا گیا ہے جو ناقابل قبول اقدام ہے۔ یعنی پاکستان نے اربوں روپے صرف کرکے اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کا جو اقدام کیا ہے، اس کے بارے میں طالبان کا مؤقف دو بنیادی نکات پر استوار ہے: 1)اس سے ایک قوم تقسیم ہوتی ہے لہذا اسے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ 2)باڑ افغان علاقے میں لگائی گئی ہے ۔ اس لئے طالبان جنگجو اسے اکھاڑنے اور پاکستانی فوجیوں کو دھمکانے میں حق بجانب ہیں۔
اس اشتعال انگیز اور پاکستان کی سرحدی سلامتی پر براہ راست حملے کے جواب میں شاہ محمود قریشی کابل کی سرزنش کرنے کی بجائے ان واقعات کی رپورٹنگ کرنے والوں کو ہی شرپسند قرار دے کر اپنی کوتاہی ، نااہلی اور ناقص حکمت عملی کا ثبوت فراہم کررہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کا یہ رویہ پاکستانی عوام کے ساتھ براہ راست دشمنی کامظاہرہ ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ شاہ محمود قریشی اور عمران خان قوم کو بتائیں کہ ڈیونڈر لائن کے بارے میں اسلام آباد کا کیا مؤقف ہے اور اس بین الاقوامی سرحد کو للکارنے والے طالبان لیڈروں کی دھمکیوں کاکیسے جواب دیا جائے گا؟
پاکستانی عوام کو تمام حقائق سے باخبر رکھنے کے علاوہ اس نازک ، پیچیدہ اور مشکل معاملہ کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ شاہ محمود قریشی اور تحریک انصاف کے دیگر بزرجمہر پہلے ہی غلط قیاس آرائیوں اور مبالغہ آمیز دعوؤں کے ذریعے ملکی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اب اس معاملہ میں صاف بات کرنے اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے اقدام کی ضرورت ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker