رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : پہلے جنازے سے پہلی بے روزگاری تک

ایک بات تو طے ہے کہ میرا مان ٹوٹنا چاہیے تھا اور وہ ٹوٹ گیا ۔۔ مجھے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر بہت مان تھا ۔ اور مان یہ تھا کہ اگر آپ با صلاحیت ہوں تو اداروں کی ضرورت بنے رہتے ہیں‌۔ یہ مان اس لیے بھی تھا کہ چالیس برسوں کے دوران میں نے اپنی مرضی سے اداروں کو خیر باد کہا اور ایک بار نہیں کئی بار کہا اور ہر بار اپنی مرضی سے ہی اداروں میں واپس گیا ۔ ایک سے زیادہ مرتبہ نوائے وقت کو خیر باد کہا اور ہر مرتبہ نوائے وقت نے مجھے قبول کیا ۔ ان چالیس برسوں کے دوران کئی مرتبہ گزر اوقات کے لیے ایک سے زیادہ اداروں میں‌بھی کام کرنا پڑا ۔ میں ہفتہ وار چھٹیوں کو بھی ترستا تھا ۔ اور اس بات پر فخر محسوس کرتا تھا کہ میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اداروں کی ضرورت ہوں ۔
گزشتہ چار ماہ کے دوران میرا صرف یہی ایک غرور نہیں ٹوٹا اور بہت سے بت بھی مسمار ہو گئے ۔مجھے احساس ہو گیا کہ پیشہ ورانہ مہارت کی اب اس ڈیجیٹل معاشرے کو ضرورت ہی نہیں‌۔
اب جب کہ یہ مشکل وقت بہت آسانی کے ساتھ گزر گیا ہے میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ چار مہینے میری زندگی میں نہ آتے اور پہلے جنازےکی طرح اگر میں اپنے جیون کی پہلی بے روزگاری نہ دیکھتا تو کتنی حقیقتوں سے بے خبر رہتا ۔
پہلے جنازے کے بعد مجھے سنبھالنے والے موجود تھے لیکن پہلی بے روزگاری کے بعد مجھے خود کو کندھا بھی خود ہی دینا تھا ۔ دوست رشتہ دار اور احباب میرے ساتھ ضرور تھے لیکن سب کے اپنے اپنے مسائل بھی تھے اور مجھے ان مسائل کا ادراک بھی تھا ۔ مجھے اگست کے وسط میں اندازہ ہو گیا تھا کہ جی کا جانا اب ٹھہر گیا ہے لیکن کچھ دوست یہ سمجھتے تھے کہ اس عوام دشمن فیصلے پر عملدرآمد آسان نہیں ہو گا ۔ لیکن میرے سامنے کچھ اور عوام دشمن فیصلوں کی مثال موجود تھی جن پر آسانی سے عمل درآمد کرا لیا گیا تھا کہ ہم ایک وکھرے ٹائپ کے دور میں جی رہے ہیں ۔
پھر ایک روز خواجہ عارف ، شاہد محمود اور میرے سوا سارے دفتر کی تنخواہ آ گئی ۔ پیغام چونکہ واضح تھا سو خاموشی کے ساتھ دفتر کی سیڑھیاں اتر گیا ۔ فیس بک پر چند لائینوں کی ایک پوسٹ لگائی تو کئی روز تک لوگوں نے فون چارج کرنے کی مہلت بھی نہ دی ۔ ۔ سب کو اپنی کہانی سنانا تکلیف دہ عمل تھا ۔ لیکن سنانا پڑی ۔۔ میں اپنے ان بہت سے دوستوں کا آج بھی ممنون ہوں جنہوں نے اس موقع پر مجھے فون کرنے سے گریز کیا ۔ ملازمت کے دوران کوئی کاروبار کرنا میں بددیانتی سمجھتا تھا ۔ نجی شعبے میں تو خیر یہ مہلت بھی نہ ملتی تھی لیکن سرکار کی نوکری میں تو سب ہی اپنا اپنا کاروبار چلا رہے تھے ۔ باقاعدگی سے اور بر وقت دفتر حاضری بھی ایک طرح سے جرم ہی سمجھا جاتا تھا ۔ اور میں یہ سب جرائم تسلسل کے ساتھ کر تا رہا ۔
ملازمت ختم ہوئی تو سوچا کہ اب کیا کروں گا کہ ” مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا “
اطمینان یہ تھا کہ میرا شہزادہ عبدالحنان اب برسر روزگار ہے اور اس نے پہلے روز ہی مجھے کہہ دیا کہ بابا آپ اب آرام کریں میں سب کچھ سنبھال لوں گا ۔
کچھ دوستوں کی جانب سے ملازمت کی پیشکش ہوئی کسی اخبار یا چینل سے منسلک ہونے کی کا مشورہ بھی دیا گیا لیکن میں اے پی پی کی سیڑھیاں یہ سوچ کر اترا تھا کہ اب میں‌نے ملازمت کی بجائے روزگار کے دیگر ذرائع تلاش کرنا ہیں ۔اس دوران میں‌نے گردو پیش پبلی کیشنز اور چینل پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی لیکن یہ ایک صبر آزما کام تھا ۔ پھر ایک روز این نیوز سے فدااللہ چوہدری نے ٹاک شو کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں‌ ویر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ رابطہ ہوا اور ہم سب دوست ان کے ایک پراجیکٹ کا حصہ بن گئے ۔ یوں قطرہ قطرہ جمع ہونے لگا ۔
فیصلے کو ہم نے پہلے روز ہی چیلنج کر دیا تھا ۔ اسلام آباد کا محاذ سبطین رضا لودھی ملک سلیم اعوان ، طاہر امین اور دیگر دوستوں نے سنبھالا اور ٹھیک چار ماہ بعد ہم بحال ہو گئے ۔
میں یہ کالم صرف اظہار تشکر کے لیے لکھ رہا ہوں‌۔ ان تمام بزرگوں اور دوستوں کے لیے جنہوں‌نے میرا ساتھ دیا ۔
مشکل وقت آسانی سے گزارنے کے باوجود ان چار ماہ میں بہت کچھ آشکار بھی ہو گیا ۔ اچھا ہوا یہ چار ماہ میری زندگی میں‌آئے اور کئی چہرے بے نقاب بھی ہو گئے ۔ لیکن جو بے نقاب ہوئے انہیں تو اب بھی نہیں معلوم کہ میں‌ان کا اصل روپ دیکھ چکا ہوں ۔ اور میں ان پر عمر بھر یہ بھید آشکار نہیں ہونے دوں گا جیسے اور بہت سوں پر آشکار نہیں ہونے دیا کہ مجھے بھرم رکھنا ہمیشہ سے آتا ہے ۔۔
پہلے جنازے اور پہلی بے روزگاری میں‌بنیادی مماثلت یہ ہے کہ ان دونوں مواقع پر میری ماں کا سایہ میرے سر پر سلامت ہے ۔ پہلے جنازے کے موقع پر وہ نوجوان تھیں‌اور انہوں نے سارے مصائب خود جھیل لیے ۔ اب وہ بہت نحیف ہو چکی ہیں چلنے پھرنے میں دشواری بھی محسوس کرتی ہیں‌لیکن ان کی دعائیں اب بھی بہت طاقت ور ہیں‌اور یہ طاقت مجھے گرنے نہیں دیتی ۔ دعا کیجئے کہ ان کا سایہ میرے سر پر سلامت رہے ۔۔
آخر میں اپنا ہی ایک شعر جس کی میں ان چار ماہ میں عملی تفصیر بنا رہا ۔۔
خوشی کے وقت تو آنسو چھلک ہی جاتے ہیں
کوئی ہنسے تو سہی زور سے ملال کے وقت

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker