کیسا المیہ ہے ہمارے معاشرے کا ۔آج بھی بہت سے گھر ایسے ہیں جہاں بیٹے کی پیدائش پہ خوشی تو بیٹی کی پیدا ئش پہ غم کی کفیت ہوتی ہے۔ہزاروں آہیں بھری جاتی ہیں ۔ہاۓ ۓ ۓ ہاۓۓ بیٹی ہو گئی بیٹا ہوتا تو باپ کا بازو بنتا ۔الٹا بوجھ بڑھ گیا ۔بہت سے لوگ ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے ہیں جہاں بیٹی پہلی اولاد ہو یا دوسری خوشی کی کفیت بہت کم ہی ملتی ہے۔
یوں تو ہم ماڈرن عہد میں جی رہے ہیں۔پر دماغ آج بھی دقیانوسی ۔آج بھی تو بیٹی کو زمانہ جہالت کی طرح زندہ درگور ہی کیا جاتا ہے۔جب بے جوڑ رشتوں کی ڈور میں پرو کر ۔ذ مہ داری سے سبکدوش ہو جاتےہیں۔انکار کر دینا ، مزاج کے مطابق نہ پانا ، مزاج کا تیکھا پن ہونا ۔ہر برائی اس کی نظر انداز کر کے کہ اپنا ہے ۔بیٹی اک انسان میں اتنی برائیاں دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے تو کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ آپ کی عزتوں کا جنازہ نکال رہی ہے۔وہ تو اپنا ہمدرد سمجھ کے مان دے رہی کہ اپنے وجود پہ ظلم کون کرتا۔
سنا ہے والدین اپنی اولاد کا کبھی برا نہیں چاہتے لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے ان والدین پہ جو بے جوڑ رشتے میں اپنی بیٹی کو پرو تے ہوۓ اک لمحے کو نہیں سوچتے یہ۔ بلکہ اک بے زبان جانور کی طرح کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ۔چاہے وہاں خار دار جھاڑیاں ہوں یا دھوپ کی تپش ۔یا پھر اس لاغر ناتواں گدھے کی طرح جس کا مالک اپنی ملکیت سمجھتے ہوۓ اس پہ منوں بوجھ لاد دیتا ۔اور اس کے رک جانے پہ یا تھکن سے چور ہونے پہ لاٹھی سے مسلسل ہانکتا رہتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اس میں اس بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں ہے پھر بھی اس کے بے زبان ہونے کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
ہمارا معاشرہ بھی یوں بیٹی کے بارے میں تنگ نظر ہے۔ جب پیدائش پہ اتنی لمبی ہاۓۓۓۓ نکلی تھی کم بخت بیٹی پیدا ہوئی ۔بوجھ بڑھ گیا۔پھر بوجھ کی طرح ہی اتار کر پھینک دیا جاتا۔ قرآن کے ساۓ میں رخصت ضرور کرتے پر اس زہر آلود تیر کے ساتھ۔
اب وہی تیرا گھر ہے وہاں سے تیرا جنازہ ہی نکلے۔
وہ چاہے کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہو ۔اپنوں کے سامنے لبوں پہ ہنسی لیے پھرتی ہے۔اس کے اندر کا کرب کوئی آنکھوں سے بھانپ نہ لے۔اور پھر بھی دلاسہ نہ دے تو بچا کچھا مان بھی لوٹا بیٹھے گی کے ابھی اپنے ہیں اس کے۔
وہ اس مان سے تو اسی لمحے آزاد ہو گئی تھی جب رخصتی کے وقت اسے کہا گیا تھا کہ
جہاں وہ جارہی ہے اب لاش ہی نکلے اس گھر سے اس کی۔
وہ وہم تو وہیں دم توڑ گیا تھا کہ اس بھری دنیا میں اس کا بھی اپنا کوئی ہے۔جس کی گود میں سر رکھ کر اپنا دکھ کہہ سکتی ہے۔جس کا شفقت بھرا ہاتھ اس کے زخموں کا مرحم بن جاۓ گا۔
رب نے اگر تم کو رحمت کے قابل سمجھا اور عطا کر دی تو خدارا!!!
اس حقیقت کو پہچان لیں کے بیٹی اک خوبصورت احساس ہے۔یوں اس کے سر سے اپنی چھت ہونے کا مان نہ توڑیں۔جب ظلم برداشت کرتے کرتے ہمت جواب دے جاۓ ۔جب ہر تلخی حد سے بڑھ جاۓ ۔ساتھ ایسا بوجھ لگنے لگے کہ زندگی جیسی نعمت بھی عذاب لگنے لگے۔تو اس جہاں میں اس کے اپنوں کا احساس ہو کہ وہ اسےاپنے آغوش میں چھپا لیں گے بنا سوال کے ۔جس ٹھاٹھ سے پہلے رہتی تھی ویسے رہے ۔اچھا کیا ظلم کی لاٹھی توڑ کے ۔یوں اک جان سکون پا لیتی۔
معاشرے کی یہ ریت بدلیے کے ۔بیٹی کو سہارا دیں ۔ظلم سہنے کی بجاۓ اپنے گھر لوٹ آنے کی اجازت دیجیے۔کہ زندگی جیسی نعمت بے قدرے لوگوں کے ہاتھوں نہ گنوا دے۔
کیوں کہ جب سگے رشتے بے رحم ہو جایں تو غیر تو پھر غیر ہی ہوتے۔جب والدین سر سے ہاتھ کھینچ لیں تو زمانہ چادر کھینچ کر اپنی ملکیت جان کر رہے سہے وجود کی بوٹیاں کر دیتا ہے۔
بس درخواست ہے معاشرے کی اس ریت میں جکڑے لوگوں سے ۔کہ لوگ کیا کہیں گے ۔ اس پہ لوگوں کو سوچنے دیں ۔اس فکر سے خود کو آزاد کر کے بس بیٹی کو مان دیں کہ اس کے باپ کا دروازہ اس کے لیے ہمیشہ کھلا ہے ۔جب وہ زندگی کے تھپیڑوں سے تھک جاۓ تو ۔تو واپس پلٹ آۓ اسے الزام نہیں دیا جاۓ گا ۔
فیس بک کمینٹ

