تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

مذہب کی تبدیلی کا معاملہ اور اسلام آباد ہائی کورٹ ۔۔ سید مجاہد علی

یوں لگتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو اس بات کی پریشانی لاحق ہے کہ وہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کو بھی محفوظ رکھے لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ احمدی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر کڑی نظر بھی رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ نہ تو انہیں کوئی ڈھنگ کا کام مل سکے اور نہ ہی انہیں اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرنے یا دیگر بنیادی شہری سہولتوں سے استفادہ کرنے کا موقع ملے۔ جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف ایک پیٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے ان اہم معاملات کی تفہیم اور کسی نتیجہ تک پہنچنے کے لئے چار علمائے دین کو معاونین کے طور پر مقرر کر رکھا ہے اور اب سرکاری اداروں سے احمدیوں کے بارے میں مختلف کوائف طلب کئے جارہے ہیں۔ گزشتہ روز جسٹس صدیقی نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ وہ ان 6001 افراد کی ٹریول ہسٹری فراہم کرے جو احمدی عقیدہ میں داخل ہونے کے بعد حکومت پاکستان سے پاسپورٹ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ عدالت یہ تعین کرنا چاہتی ہے کہ ان لوگوں نے عقیدہ کیوں تبدیل کیا اور کیا پارلیمنٹ کو یہ ہدایت دی جاسکتی ہے وہ ستمبر 1974 کو احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بارے میں ہونے والی آئینی ترمیم کا جائزہ لے تاکہ اس میں موجود کمی کو دور کیا جاسکے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ملک کی ایک معمولی اور سب سے زیادہ ہراس کی جانے والی اقلیت کے بارے میں مباحث چھیڑنے اور اس حساس معاملہ پر یک طرفہ طور سے غور کرنے کی مجاز بھی ہے یا نہیں ۔ جب تک کوئی مجاز عدالت یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے واضح رولنگ نہ دے، کسی بھی شہری کے عقیدہ اور اس کی ذاتی مصروفیات کے بارے میں معلومات جمع کرنا اور ان کی بنیاد پر سوالات اٹھنا درست طریقہ نہیں ہو سکتا۔
گزشتہ برس انتخابی قانون میں ترمیم کے ذریعے دراصل حکمران جماعت نواز شریف کو وزارت عظمی سے نااہل قرار دیئے جانے کے عدالت عظمی کے فیصلہ کے بعد مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ سربراہ بننے کی سہولت فراہم کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس دوران اس ایکٹ میں ختم نبوت ﷺ کے متعلق حلف کو اقرار نامہ میں تبدیل کرکے ایک غیر ضروری تنازعہ کا سامان فراہم کیا گیا۔ اس معاملہ کو سیاسی فساد پیدا کرنے کے لئے اٹھایا گیا تھا لیکن بعد میں یہ موضوع مذہبی جماعتوں کے ہتھے چڑھ گیا جس کے نتیجے میں گزشتہ نومبر میں فیض آباد کا دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے کو ختم کروانے کے لئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپنی گڈ ول کو استعمال کرنا پڑا اور حکومت کو خاک چٹوا کر اور وزیر قانون کا استعفی لے کر ہی یہ قضیہ نمٹ سکا تھا۔ جو باتیں اس دھرنا کے دوران کی گئیں اور جن اصولوں پر لبیک تحریک اور اس کے زعما ملک میں انقلاب برپا کرنے کا عزم رکھتے ہیں ، ان کے بارے میں پاک فوج کے سربراہ خود ہی گزشتہ دنوں میونخ کی ایک دفاعی کانفرنس میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ 40 برس پہلے کی گئی غلطیوں کا تدارک کئے بغیر پاکستان یا دنیا کے معاملات درست نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دہشت گردی سے مناسب طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر دنیا کے لیڈروں کو مشورہ دیا تھا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی یعنی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر کوئی بھی سرخرو نہیں ہو سکتا۔ اس لئے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے مل جل کر کام کرنے اور دنیا کو اس عفریت سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے دنیا پاکستانی فوجی سربراہ کی باتوں کو پوری طرح سمجھنے یا ان پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسی لئے فناشل ٹاسک فورس نے گزشتہ ہفتہ کے دوران پیرس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ڈکٹر محمد فیصل نے واضح کردیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان کے ساتھ مل کر نگرانی کا میکنزم تیار کرنے کے بعد جون میں پاکستان کو باقاعدہ طور سے گرے لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کردے گی۔
غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی وجہ تو ہوگی کہ دنیا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قربانیوں کے باوجود اس کا ناطقہ بند کرنے پر آمادہ ہے۔ امریکہ اگرچہ یہ مانتا ہے کہ افغانستان میں حالات کو سنبھالنے کے لئے پاکستان کا تعاون ضروری ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور اب ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو واچ لسٹ میں ڈالنے کی تحریک بھی امریکہ نے برطانیہ کے ساتھ مل کر چلائی تھی ۔ پاکستان کا قریب ترین حلیف چین بھی سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کی حمایت واپس لینے کے بعد خود سفارتی شرمندگی سے بچنے کے لئے پاکستان کی حمایت سے تائب ہو گیا تھا اور آخر میں صرف ترکی نے ہی پاکستان کے خلاف یہ سخت اقدام کرنے کی مخالفت کی تھی ۔ اسی لئے پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال ترکی کو بہترین دوست اور برادر ملک قرار دیتے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ پاکستان ان حرکتوں سے باز کیوں نہیں آسکتا جو اسے عالمی برادری میں مطعون کرنے کا سبب بنتی ہیں۔اس کا جزوی جواب گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ کی سماعت اور اس دوران ہونے والی بحث میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ ایک ایسے قانون پر غور کررہی ہے جس کے بارے میں سپریم کورٹ ایک حکم کے ذریعے نواز شریف کو اپنی ہی پارٹی کی صدارت سے محروم کرچکی ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کا یہ صرف ایک پہلو تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار دوران سماعت یہ واضح کرچکے ہیں کہ عدالت اس قانون اور اس میں کی گئی سب ترامیم کا جائزہ لے گی۔ اس لئے یہ امکان موجود ہے کہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں دیگر پہلوؤں کے بارے میں بھی مزید احکامات سامنے آئیں ۔ اس صورت میں ایک ہائی کورٹ کیوں ایسے قانون کے بارے میں کسی پیٹیشن کی سماعت کرنے میں اس قدر متحرک اور سرگرم ہے۔ اس کے علاوہ اس درخواست پرغور کے دوران ایسے سوال اٹھائے جارہے ہیں اور ایسے تبصرے اورتجاویز سامنے لائی جا رہی ہیں جس سے ایک مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بطور شہری اور فرد حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ حکم دیا ہے کہ چھ ہزار سے زائد ان احمدیوں کے سفر کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں جنہوں نے عقیدہ تبدیل کرتے ہوئے احمدیت قبول کی تھی ۔ اس حوالے سے ایک سابقہ سماعت میں اسی عدالت کے ایک حکم کی تعمیل میں نادرا نے یہ بتایا تھا پاکستان میں ایک لاکھ 67 ہزار احمدی رہتے ہیں لیکن ان میں سے دس ہزار 200 افراد مذہب تبدیل کر کے احمدی ہوئے تھے۔تبدیلی مذہب کی وجوہات پر غور کرتے ہوئے عدالت نے پہلے ان کی تعداد معلوم کی پھر یہ جانا کہ ان میں سے کتنے لوگ پاسپورٹ حاصل کرچکے ہیں اور اب یہ جاننے کا حکم دیا گیا کہ پاسپورٹ لینے والے نئے احمدیوں کی سفری معلومات فراہم کی جائیں۔ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ان معلومات کی کیوں ضرورت ہے۔ اور ان کی روشنی میں وہ کون سا ایسا انقلابی فیصلہ صادر کرنے والی ہے جس سے عام شہریوں کی صورت حال پر خوشگوار اثر مرتب ہوگا۔ جیسا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس حوالے سے تازہ ترین حکم میں خود ہی سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی شہری کے عقیدہ اور مذہبی رجحانات کے بارے میں سوال کرنے سے بنیادی حقوق تو متاثر نہیں ہوتے۔ حیرت ہے کہ ایک طرف یہ اہم اور بنیادی سوال اٹھایا جارہا ہے اور دوسری طرف احمدی شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ فاضل جج 1974 میں کی گئی آئینی ترمیم کی کمزوریوں پر غور کرنے اور اس کے بارے میں ماہرین کی رائے کی روشنی میں پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ہدایات تیار کرنے کا کام کرنے سے پہلے اپنے ہی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ۔ اگر وہ خود کو اس قابل نہیں سمجھتے تو سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے تھے جو ایسے موضوعات میں دلچسپی کا اظہار کرچکی ہے اور ملک میں آئین و قانون کی تفہیم و تشریح کا مستند فورم بھی ہے۔ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ اپنا اختیار جانے بغیر ظلم و جبر کا شکار اقلیت کے بارے میں تبصرے اور رائے کا اظہار کرنے کے علاوہ احمدیوں کے بارے میں ایسے احکامات جاری کرتی رہے گی جو اس کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں ہے تو اس کے نتائج کا کون ذمہ دار ہوگا۔
عدالت میں کہا گیا کہ لوگ بیرون ملک پناہ لینے کے لئے یا اعلی ملازمت حاصل کرنے کے لئے بعض لوگ یا تو احمدی ہو جاتے ہیں یا احمدی ہوتے ہوئے مسلمان ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں۔ ان دونوں سوالوں کا جواب تلاش کرتے ہوئے اگر ایک اقلیت کو برا بھلا کہنے کی بجائے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ آخر درست عقیدہ پر چلنے والے کیوں معاشی فائدے کے لئے مذہب تبدیل کرتے ہیں۔ اور ان عوامل کو دور کرنے کے لئے اقدامات کی سفارش کی جائے تو یہ مسئلہ از خود حل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ملک کا آئین سب شہریوں کو عقیدہ کے علاوہ روزگار کا مساوی حق دیتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اعلی ملازمت حاصل کرنے کے لئے کسی احمدی کو مسلمان ہونے کا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ اس فعل کو عدالت کے ایک فاضل معاون نے غداری سے تعبیر کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے طرز عمل پر غور کرتے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ معاشرہ میں احمدیوں کے خلاف پائے جانے والے تعصبات کو ختم کرنے انہیں مساوی حقوق دینے کے لئے کام کیا جائے تو چند برس بعد وہ خود ہی یہ نوٹ کرسکتے ہیں کہ کوئی بھی شخص معاشی فائدہ یا سہولت کے لئے عقیدہ تبدیل کرنے کا گناہ نہیں کرے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ شاید اس بات سے آگاہ نہ ہو کہ کوئی ریاست شہریوں کے نجی معاملات اور عقیدہ میں مداخلت نہیں کرتی۔ دنیا بھر میں ایسی حرکت کو معیوب اور ناقابل قبول تصور کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ فرد کی آزادی اور مرضی کا عقیدہ اختیار کرنے کے حق سے متعلق ہے۔ ریاست پر شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کسی شہری کا عقیدہ ریاست کے ساتھ اس کے تعلق و رشتہ کو کمزور نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ریاست اپنے شہریوں میں عقیدہ کی بنیاد پر تخصیص کا سلسلہ شروع کردے گی تو پھر یوں ہی غداری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے ذریعے ایک اقلیت کو مورد الزام ٹھہرانے کا سلسہ جاری رہے گا۔ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد اور تعلق کمزور کرنے کی بجائے اسے مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker