عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

سوشل میڈیا یا قاتلوں کے گروہ : روزنِ دیوار سے / عطاءالحق قاسمی

میرا ایک دوست قاتل ذہنیت کا ہے مگر بزدل بہت ہے، وہ اکثر پامسٹوں کے پاس جاتا ہے اور اپنی ہتھیلی ان کے سامنے رکھ کر پوچھتا ہے کہ ذرا دیکھیں، اس میں قتل کی کوئی لکیر ہے۔ وہ وجہ پوچھتے ہیں تو کہتا ہے دو چار بدبختوں کو قتل کرنا چاہتا ہوں مگر حوصلہ نہیں پڑتا۔ چنانچہ پامسٹ محدب شیشے سے اس کی دونوں ہتھیلیوں کا بغور معائنہ کرنے کے بعد بتاتے ہیں کہ تمہارے ہاتھوں میں قتل کی کوئی لکیر نہیں ہے چنانچہ وہ مایوس و ناکام گھر واپس لوٹتا ہے اور اگلے دن پھر کسی پامسٹ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے اپنی روٹین کے مطابق وہ ایک دن پھر گھر سے نکلا اور ایک پامسٹ کے پاس جا پہنچااس پامسٹ نے اس کی ہتھیلیاں دیکھنے میں کچھ زیادہ دیر لگائی جس سے میرے دوست کے دل میں امید کی ایک جھلک سی پیدا ہوئی اور اس وقت اس کی یہ امید یقین میں بدل گئی جب پامسٹ نے اس کے ایک ہاتھ کی لیکر کو بار بار غور سے دیکھنا شروع کیا۔ بالآخر اس نے محدب شیشہ ایک سائیڈ پر رکھا اور میرے دوست کی طرف نگاہ کی، جس سے میرے دوست کے دل کی کلی کھل اٹھی، اور اس نے بے تابی سے پوچھا’’قتل کی لکیر نظر آئی‘‘ پامسٹ نے جواب دیا’’ہاں جناب، مگر یہ لکیر بتاتی ہے کہ آپ نے عنقریب کسی کے ہاتھوں قتل ہو جانا ہے۔آپ ذرا محتاط ہو جائیں۔‘‘ بس وہ دن اور آج کا دن میرا یہ دوست اپنے گھر کے آخری کمرے میں بند ہے اور اس تک پہنچنے کے لئے چھ دروازوں کے تالے کھول کر اس تک پہنچنا پڑتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ اکیلا شخص نہیں ہے جو کم از کم دس بارہ لوگوں کو قتل کرنا چاہتا ہے بلکہ اس جیسے قاتل ذہن کے بے شمار لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہ زیادہ تر اپنے جاننے والوں بلکہ انہیں بھی قتل کرنے کے خواہشمند ہیں جن سے وہ دوستی کے دعویٰ کرتے ہیں، بلکہ کچھ تو ایسے بھی ہیں جو انہیں زندہ دیکھنا نہیں چاہتے جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا تک نہیں۔ وجہ پوچھو تو کہتے ہیں بس یار زہر لگتا ہے ایک ریستوران کی ٹیبل پر بیٹھے چار لوگوں میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے اس طرح ہی کے کسی شخص نے اپنے دوست سے کہا ’’ان چار بندوں میں جس نے سرخ ٹائی باندھی ہوئی ہے نا وہ مجھے بہت زہر لگتا ہے‘‘ دوست نے کہا ’’سرخ ٹائی تو چاروں نے باندھی ہوئی ہے‘‘ دوست نے کہا جس نے بلیو رنگ کی جین پہنی ہے، دوست بولا’’بلیو جین تو چاروں نے پہن رکھی ہے‘‘ زہریلا دوست چڑ کر بولا ’’جس نے پنک رنگ کی شرٹ پہنچی ہوئی ہے‘‘دوست بولا’’ یار پنک رنگ کی شرٹ تو سب پہنے ہوئے ہیں ‘‘ یہ سن کر اس نے کوٹ کی اندرونی جیب سے پستول نکالا اور ان میں سے تین کو ہلاک کر کے کہا’’یہ جو باقی بچا ہے نا ، یہ مجھے بہت زہر لگتا ہے!‘‘
آپ یقین جانیں ہمارے ہاں بہت سے قتل ایسی ہی ٹھوس وجوہات ‘‘کی بنا پر ہوتے ہیں، میں فلاں لڑکی کو پسند کرتا ہوں، وہ مجھے پسند کیوں نہیں کرتی۔ بس اسی ناقابل معافی جرم پر وہ قتل کر دی جاتی ہے۔ میں کل بلو پان شاپ پر کھڑا تھا، پھیکا گجرادھر سے گزرا، اور اس نے مجھے گھور کر دیکھا، اس کا گھورکر دیکھنا یا سرے سے نہ دیکھنا بھی باعث قتل بن گیا۔ اس کے علاوہ سات پشتوں تک ایک دوسرے کے خاندان کے بچے کھچے افراد مسلسل قتل ہوتے رہتے ہیں ۔ مجھے ایک بہت عجیب و غریب واقعہ یاد آرہا ہے جو چند برس قبل اخبارات میں رپورٹ ہوا تھا کہ ایک طویل عرصہ اور امریکہ میں قیام کرنے کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب واپس وطن لوٹے تو انہوں نے ایسے کئی افراد قتل کرڈالے۔ جن کے کاموں کے شور سے ماحولیات پر برا اثر پڑتا تھا۔
چلیں یہ تو قتل کی ایک ہی شکل ہوئی جو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔مگر کچھ عرصے سے جو قتل عام سوشل میڈیا پر جاری ہے اور معزز خواتین و حضرات کوگندے الزامات سے جس بری طرح ’’قتل‘‘ کیا جا رہا ہے اس کا تو کوئی پرسان حال نہیں۔ ان میں سب قاتل ہیں مگر قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ یہ بدترین کردار کے حامل لوگ ہیں جو کسی کے دامن کو بے داغ نہیں دیکھنا چاہتے۔انہوں نے کیچڑ کی بالٹیاں اٹھائی ہوئی ہیں اور یہ سفید لباس والے پر پوری بالٹی انڈیل کر خوش ہوتے ہیں کہ اب یہ شخص بھی میرے ہی جیسا ہے،ان کی زد میں خصوصاً میڈیا اور دوسرے شعبوں کے وہ لوگ آتے ہیں جن کی عزت ان کے کردار کی وجہ سے ہے اگر آپ ان کی گالی کے جواب میں گالی دیں تو ایک طوائف کی دی ہوئی گالی کا جواب اسے طوائف کہنے سے تو دل کی تسلی نہیں ہوتی۔قاتل ذہنیت کا ایک طبقہ زندگی میں ناکام رہ جان والے ان حاسدوں کا ہے جو کبھی ان کے ہم سفر تھے مگر وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے نکل گئے اور اپنے امتحانی پرچوں کی خود مارکنگ کر کے سومیں سے سو نمبر حاصل کرنے والے یہ ’’جئنیس ‘‘ وہیں کے وہیں رہے ۔ ایک عجیب بات، معاشرے میں کچھ عرصے سے منفی سوچ بھی بہت عام ہو گئی ہے۔ کسی کے بارے میں کہی گئی منفی باتوں کی پذیرائی اور اچھی باتوں کی نفی کا رجحان عام ہے۔ میں ایک دفعہ پہلے بھی اپنے ایک کالم کی مثال دے چکا ہوں اب اسے یہاں دہرا رہا ہوں جب میں نے ایک کالم میں ملک کی سربراہ شخصیات پر من گھڑت گھناؤ نے الزام لگائے۔ مگر اگلے پیرے میں لکھا کہ میں نے اوپر جو کچھ لکھا ہے وہ جھوٹ ہے ، بکواس ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ جب میرا یہ کالم شائع ہوا ہوگا لوگ میرے جھوٹے الزامات کو سچ کے طور پر ایک دوسرے سے شیئر کر رہے ہوں گے ۔ آپ یقین کریں مجھے اگلی صبح سوا آٹھ بجے پہلا فون آیا کہ قاسمی صاحب آج تو آپ نے ان سب معززین کو ننگا کر دیاہے۔ میں نے پریشان ہو کر پوچھا ’’آپ نے میرے کالم کا آخری پیرا نہیں پڑھا؟‘‘بولے’’پڑھا ہے ، مگر وہ تو آپ نے لیپا پوتی کی ہے، اصل بات وہی ہےجو آپ نے کالم کے شروع میں کی ہے۔‘‘
پس نوشت! دو روز قبل میں نے اپنے کالم میں سہواً لکھا کہ واپڈا بجلی کے بلوں میں سے 20روپے سروس چارجز کے طور پر لیتا تھا جبکہ درحقیقت یہ پانچ روپے تھے جو میں نے ایک روپے میں تبدیل کرائے۔ دوسری پروف کی غلطی کل کے کالم میں تھی۔جائنٹس کی دکان پر بیٹھے گاہکوں نے مجھے رحم کی نظروں سے دیکھا تھا زہریلی نظروں سے نہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker