پاکستان میں سیلاب و بارشوں کی بگڑتی صورت حال اور نقصانات نے پاکستان کے معاشی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لئے جس قومی ہم آہنگی اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے، وہ اس وقت دکھائی نہیں دیتی۔ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بڑھتا ہؤا تصادم اور اداروں کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات سے بطور ملک، پاکستان کی ساکھ اور مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
ان حالات میں پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کا مطالبہ بھی ہے اور عام طور سے کہا بھی جاتا ہے کہ نئے انتخابات کے انعقاد سے موجودہ سیاسی افراتفری پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن تصادم اور عدم قبولیت کی موجودہ صورت حال میں شاید انتخابات بھی کسی مسئلہ کا کوئی حل ثابت نہ ہوں بلکہ تصادم اور انارکی کی ایک نئی صورت درپیش ہو۔ انتخابات کے انعقاد کے لئے بھی کسی حد تک ماحول کو پرسکون کرنے اور حقیقی سیاسی مقابلہ کے لئے مساوی مواقع فراہم ہونا اہم ہے۔ اس وقت ملک میں ایسے حالات موجود نہیں ہیں۔ یوں انتخابات کا مطالبہ کرنے والی پارٹی اور لیڈر کے لئے بھی اہم ہے کہ وہ سیاسی درجہ حرارت کو بڑھانے کی بجائے اس میں کمی کریں اور مفاہمت کی فضا پیدا کرنے میں کردار ادا کریں تاکہ انتخابات کے لئے حکومت پر حقیقی دباؤ بڑھایا جاسکے۔ کوئی بھی حکومت بحران اور تشدد و تصادم کے ماحول میں انتخابات کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔
عمران خان انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے درحقیقت دو باتوں کا اہتمام کررہے ہیں۔ ایک تو وہ چاہتے ہیں کہ فوری طور سے قومی اسمبلی کا انتخاب کروایا جائے ۔ وہ جان بوجھ کر عام انتخابات کی بات نہیں کرتے جن میں قومی اسمبلی کے علاوہ تمام صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بھی منعقد ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے مؤقف کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ ان کے خیال میں ایک ’غیر ملکی سازش‘ کے تحت قومی اسمبلی میں اکثریت کو تبدیل کرکے ان کی حکومت کو فارغ کیا گیا تھا۔ اس لئے موجودہ اسمبلی اپنا اعتبار کھو چکی ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مطالبہ کرتے ہوئے وہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ موجودہ اتحادی پارٹیوں نے بھی اپوزیشن میں رہتے ہوئے ساڑھے تین سال تک تحریک انصاف کی اکثریت کو جعلی قرار دیا تھا اور عمران خان کو نامزد وزیر اعظم قرار دیتی رہی تھیں۔ ان الزامات سے لیکن قانونی اور عملی صورت حال تبدیل نہیں ہوتی۔
یوں بھی عام انتخابات کے انعقاد کی مقررہ آئینی مدت ایک سال میں ختم ہورہی ہے۔ اس لئے فوری طور سے قومی اسمبلی کے انتخاب کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب سے گریز کی حکمت عملی عوام کو دھوکہ دینے اور خود اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرنے کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔عمران خان اگر عام انتخابات کا مطالبہ کریں اور اس کے لئے حکومت کو مجبور کرنے کے لئے ان صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کروادیں جہاں ان کی حکومتیں قائم ہیں تو وہ شاید کسی بڑے احتجاج اور تصادم کے بغیر بھی عام انتخابات کا مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ بوجوہ وہ یہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں بلکہ قومی اسمبلی کے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے لئے حالات مشکل اور ناساز گار بنانا چاہتے ہیں۔
عمران خان کی حکمت عملی کا دوسرا پہلو قومی اداروں کو متنازعہ بناکر ایک تو عوام میں اپنی قبولیت میں اضافہ کروانا ہے اور دوسرے انہی اداروں مثلاً فوج، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور انتظامی مشینری کو خوفزدہ کرکے اپنی بالواسطہ حمایت پر مجبور کرنا ہے۔ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں عمران خان کی یہ پالیسی بھی مؤثر ثابت نہیں ہورہی۔دوسری طرف یہ حقیقت اب عیاں ہوچکی ہے کہ اتحادی جماعتوں کی طرف سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کا خواہ کوئی بھی مقصد رہا ہو لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد شہباز حکومت کو سنگین مالی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس معاملہ پر قصور وار کا تعین کئے بغیر بھی یہ ماننا چاہئے کہ شہباز شریف کی قیادت میں مشکل معاشی فیصلوں سے عوام پر مالی بوجھ میں اضافہ نے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی پوزیشن و مقبولیت کو داؤ پر لگایا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے اور ملک کو دیوالیہ ہونے کے خطرہ سے نکالنے کے لئے کئے گئے اقدامات غیر مقبول اور ناپسندیدہ ہیں لیکن شاید ہی کوئی معیشت دان ہو جو موجودہ حالات میں ان اقدامات کی ضرورت، مجبوری اور اہمیت سے انکار کرتا ہو۔ اس لئے یہ واضح ہونا چاہئے کہ شہباز حکومت پر تنقید کے باوجود یہ تسلیم کرنا اہم ہے کہ پاکستان درآمدات و برآمدات میں عدم توازن اور کم قومی آمدنی کے باوجود زیادہ اخراجات کرتے ہوئے ایک مشکل اورسنگین معاشی صورت حال کا شکار ہوچکا ہے۔ ایسی حالت سے نجات پانے کے لئے جو بھی اقدام کیا جائے گا ، وہ مشکل اور سیاسی لحاظ سے غیر مقبول ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اگر اتحادی پارٹیوں نے انتخابات سے محض ایک سال پہلے یہ تکلیف دہ ذمہ داری قبول کی ہے تو اس کی توصیف ہونی چاہئے۔ بلاشبہ یہ ایک قومی فریضہ تھا جسے ادا کرنے کے لئے نواز شریف اور کسی حد تک آصف زرداری نے سیاسی قیمت ادا کرنے کا مشکل فیصلہ کیا۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی عمران خان کے بیانیہ کی مقبولیت سے بڑھ کر موجودہ حکمران جماعتوں کے مشکل سیاسی فیصلوں پر عوامی رد عمل ہے۔ وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہونے پر جوں جوں حقیقی حالات عوام پر واضح ہوں گے اور مشکلات میں کمی ہوگی تو یہ سیاسی صورت حال تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ حکومت اسی لئے انتخابات کے لئے ایک سال انتظار کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کی ذمہ داری کسی ایک پارٹی یا حکومت پر عائد کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ مسائل دہائیوں کی غلط پالیسیوں اور سیاسی عدم استحکام کے تسلسل کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جن میں تمام سیاسی پارٹیوں اور اداروں نے کردار ادا کیا ہے۔ عمران خان اس وقت سیاسی فائدے کے لئے اپنے دور حکومت کی ’کامیاب معاشی پالیسیوں‘ کا ڈھنڈورا ضرور پیٹتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کی حکومت بھی کوئی غیر روائیتی معاشی حکمت عملی اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بیرونی قرضوں پر انحصار جاری رہا اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک پر اس وقت بیرونی قرضوں کا بوجھ 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے وقت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ موجودہ حکومت آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے مزید قرض لے کر معاشی احیا کی جو تگ و دو کررہی ہے، اس کے نتیجہ میں بھی قرضوں میں اضافہ ہی ہوگا۔ یہ صورت حال قومی پیدا وار میں اضافے اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ذریعے تبدیل کی جاسکتی ہے لیکن سیاسی تصادم کی وجہ سے یہ دونوں مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
عمران خان نے اپنی سیاسی مہم جوئی میں جو مکالمہ شروع کیا ہے ، وہ امر بالمعروف کے اصول پر استوار ہے۔ یعنی اچھائی کا ساتھ دو۔ یہ کہتے ہوئے وہ عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق اچھائی یا اپنے لئے بہتر سیاسی متبادل کا فیصلہ کرسکیں بلکہ وہ خود کو اچھائی کے نمائیندے کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے سوا کسی دوسرے کو اقتدار کا حق ہی حاصل نہیں ہے۔ اس ایک نکتہ کی بنیاد پر وہ فوج اور دیگر اداروں سے بھی ٹکر لئے ہوئے ہیں جن کا خمیازہ وہ مختلف پابندیوں اور مقدمات کی صورت میں بھگت بھی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج نے درپردہ موجودہ حکومت قائم کرنے کے لئے راہ ہموار کی تھی۔ ان کے خیال میں بند کمروں میں کیا گیا یہ فیصلہ امر بالمعروف کے اصول کے خلاف ہے ، اس لئے ادارے اس غلط فیصلے کو تبدیل کرنے کا اقدام کریں تاکہ اقتدار کی حقیقی ’حقدار‘ تحریک انصاف دوبارہ برسر اقتدار آجائے اور موجودہ حکمران جیلوں میں بند کئے جائیں۔
یہ مطالبہ ملکی آئینی انتظام اور بنیادی جمہوری اصولوں سے متصادم ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان پر یہ حقیقت تو اب عیاں ہوچکی ہے کہ ملک میں اسٹبلشمنٹ یاغیر منتخب اداروں کے کردار کی وجہ سے عوام کے چنے ہوئے نمائیندوں کو اپنی مرضی اور سیاسی منشور کے مطابق کام کرنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ انہیں ان عناصر کی خوشنودی پیش نظر رکھنا پڑتی ہے جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر کوئی سیاسی جماعت اقتدار تک پہنچتی ہے۔ عمران خان سے پہلے نواز شریف بھی اس سچائی سے آشنا ہوچکے تھے۔ اسی لئے انہوں نے اداروں کو غیر سیاسی رکھنے کی مہم چلائی تھی اور ’ووٹ کو عزت دو ‘ یا عوام کے حق حکمرانی کے احترام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ عمران خان اس کے برعکس ضرور اداروں کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں لیکن وہ عوام کے حق حکمرانی یا جمہوریت کی بالادستی کا مطالبہ کرنے کی بجائے اداروں سے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ’نیوٹرل‘ ہوکر غلطی کی ہے۔ انہیں بدستور عمران خان کا ساتھ دینا چاہئے۔ بدقسمتی سے یہ مطالبہ کسی صورت ملک میں آئینی انتظام کا راستہ ہموار نہیں کرتا بلکہ عمران خان کے نقطہ نظر کے مطابق فوج، الیکشن کمیشن اور عدالتوں کو صرف ’حق‘ کا ساتھ دینا چاہئے اور اس کی نمائیندگی عمران خان کرتا ہے۔گویا سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے منفی اثرات کا نشانہ بننے کے باوجود عمران خان وہ سبق نہیں سیکھ سکے جو اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سیکھ چکی ہیں کہ ملک میں عوام کی رائے سے منتخب ہونے والی پارٹیوں کو ہی حق حکمرانی حاصل ہونا چاہئے اور فوج یا دیگر اداروں کو اس میں مداخلت کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان اس کے برعکس اداروں ہی کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں اور اپنی عوامی مقبولیت کا ہوّا دکھا کر ’نیوٹرلز‘ کو متنبہ کررہے ہیں کہ وہ غیر جانبداری کی بجائے حسب معمول جانبدارانہ طرز عمل اختیار کریں۔ ملک میں موجودہ تناؤ و تصادم کا اصل سبب یہی غیر متوازن اور غیر آئینی طرز عمل ہے۔
عمران خان اسٹبلشمنٹ کی تائد کے لئے اپنی مقبولیت کا دباؤ ڈالنے کی بجائے اگر عوام کی حمایت سے پارلیمانی اکثریت حاصل کریں۔ اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک کر کسی ایسے قابل عمل معاہدے پر راضی ہوسکیں جس کے تحت فوج اور عدلیہ کا سیاسی کردار محدود کیا جائے اور سیاسی پارٹیاں ہی پارلیمنٹ میں نمائیندگی کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی مجاز ہوں تو ملکی سیاسی ہیجان میں قابل ذکر کمی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی عمران خان کو مسئلہ سمجھنے کی بجائے، ان کی سیاسی حیثیت اور مقام کے مطابق ان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے حالات سازگار بنانے چاہئیں۔ بصورت دیگر تصادم کی موجودہ فضا مشکل معاشی فیصلوں کے باوجود ملکی مسائل حل کرنے میں رکاوٹ بنی رہے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

