عمران خان کی سیاست نفرت ، جھوٹ اور اشتعال پر استوار ہے۔ سوال ہے کہ کیا حکومت اور اتحادی جماعتیں ویسی ہی نفرت انگیز سیاست سے عمران خان کے سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرسکتی ہیں؟ ظاہر ہے کہ نفرت اور اشتعال بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کے سوا کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ حکومت اور اس کے نمائیندے اگر ویسے ہی ہتھکنڈے اختیار کریں گے جو عمران خان لانگ مارچ کی تقریروں اور مختلف انٹرویوز میں استعمال کررہے ہیں تو اس سے بحران گہرا تو ہوگا لیکن اس سے قومی تعمیر کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکے گا۔
قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر لیڈروں کی طویل تقریروں میں عمران خان پر ذاتی حملے کئے گئے ہیں۔ بعض مقررین نے تو اپنی ہی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان پر فوج کے خلاف نفرت پھیلانے اور ادارے پر تنقید کرنے کے الزام میں مقدمات قائم کئے جائیں۔ عمران خان نے وزیر آباد قاتلانہ حملہ کی سازش کا الزام وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے علاوہ آئی ایس آئی کے ایک میجر جنرل پر بھی عائد کیا ہے۔ البتہ شہباز شریف کی حکومت نے عمران خان کے خلاف کوئی براہ راست کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے۔ حالانکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے عمران خان کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے فوج کے وقار کی حفاظت کے لئے اقدام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔شہباز شریف نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط میں فل کورٹ کمیشن بنانے اور حقائق سامنے لانے کی درخواست کی تھی۔ اب تحریک انصاف بھی اس معاملہ میں نامزد افراد کا نام ایف آئی آر میں شامل نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے گئی ہے۔ چیف جسٹس کا فیصلہ یہ تعین کرسکے گا کہ عدالت عظمی ملکی سیاسی بحران کو ٹالنے کے لئے کیا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ اداروں کے ذریعے خواہ وہ فوج ہو یا عدلیہ، سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے سے ملک آئینی پارلیمانی راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ ملک کے سب سیاست دانوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ منتخب ارکان اسمبلی کے طور پر ان ہی لوگوں پر تمام مسائل کا مناسب اور موزوں حل تلاش کرنے کی قانونی، پارلیمانی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عوام انتخابات میں ووٹ دے کر اپنے نمائیندے چنتے ہیں تو انہیں یہ امید بھی ہوتی ہے کہ ان کا منتخب کردہ رکن قومی یا صوبائی سطح پر معاملات کو سدھارنے کے لئے کردار ادا کرے گا۔ البتہ اس وقت ملک میں جو ماحول دکھائی دیتا ہے ، اس میں محض اداروں سے ہی یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے میں معاون ہوں گے۔ اس تاثر کو صرف سیاست دان ہی ختم کرسکتے ہیں۔ خاص طور سے حکمران جماعتوں پر اس حوالے سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف البتہ پانچ روز لندن میں قیام کے بعد گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے ہیں اور اب کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے آرام کررہے ہیں۔ اس دوران ملک میں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ہیجان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عمران خان حسب معمول اس معاملہ پر کئی قلابازیاں کھا چکے ہیں۔ وہ کبھی اس تعیناتی سے لاتعلقی کا اظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اسی سانس میں وہ شریف برادران کو ’چور اچکے‘ قرار دیتے ہوئے نیا فوجی سربراہ مقرر کرنے کے نااہل قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ حکمران جماعتوں کے لیڈر خود اپنی بدعنوانی کی حفاظت کے لئے اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔ یہ طرز استدلال درحقیقت سیاسی قیادت کے علاوہ فوجی قیادت کی ذاتی دیانت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اگر عمران خان کے انداز سیاست کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ کہنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ وقت آنے پر وہ اپنے ان بیانات کو مستقبل میں کسی بھی نئے آرمی چیف پر کیچڑ اچھالنے کے لئے استعمال کریں گے۔ حکومت البتہ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی اور منفی بیان بازی کا کوئی ٹھوس اور مؤثر جواب دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
حکومت کے پاس اپوزیشن کے برعکس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ عملی اقدامات اور اپنی کارکردگی کے ذریعے عوام تک یہ پیغام پہنچا سکے کہ ملکی مسائل اور عوامی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کام کیا جارہا ہے۔ حکومت کے پاس اپنی صلاحیت کا یہ پہلو دکھانے کا بہت محدود موقع ہے۔ ایک تو ملکی معاشی حالات ناقابل بیان حد تک دگرگوں ہیں اور ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے حکومت مسلسل نئے قرضے اور غیر ملکی امداد حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ دوسرے عالمی ادارے کسی ملکی معیشت کی اصلاح کے لئے جو اقدامات تجویز کرتے ہیں، ان کا براہ راست اثر عوام کو حاصل ہونے والی سہولتوں پر پڑتا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے مختلف اشیا اور سروسز پر سرکاری معاونت کا طریقہ ختم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں پیٹرلیم مصنوعات اور گیس و بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستانی عوام مسلسل اس صورت حال کا سامنا کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی پابندیوں کی وجہ سے جو اقدامات لئے گئے ہیں، ان کی وجہ سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہؤا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے عام شہری کو جدید مالی و معاشی نظام کی پیچیدگیوں سے تو آگاہی نہیں ہوتی لیکن وہ اپنی آمدنی اور حاصل سہولتوں کے تناظر میں ہی حالات کا جائزہ لے کر کسی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ اس ماحول میں اگر خاص طور سے عمران خان جیسا بڑا سیاسی لیڈر مسلسل معیشت و سیاست کے بارے میں جھوٹ بولنے اور پروپگنڈا کرنے میں مصروف ہو تو صورت حال مزید پیچیدہ و مشکل ہوجاتی ہے۔ شہباز حکومت کو اس وقت انہی حالات کا سامنا ہے۔
موجودہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ملک کے اوسط تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور سرکاری آمدنی میں اضافہ کے لئےکردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ پاکستانی معیشت کا ایک بڑا حصہ بلیک اکانومی شمار ہوتا ہے۔ جس میں معاشرے کا ایک بہت بڑا طبقہ لین دین کو دستاویزی شکل دینے پر آمادہ نہیں ہوتا اور نہ ہی قومی خزانہ میں ضروری حصہ ادا کرتا ہے۔ یہی صورت حال منی لانڈرنگ جیسی علت کو جنم دیتی ہے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے عالمی ادارے پاکستان کی نیک نیتی پر سوالیہ نشان لگانے لگتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ملکی سیاسی منظر نامہ میں مخالفین کی بے ایمانی اور بدعنوانی کے قصے تو ازبر کروائے جاتے ہیں لیکن قومی معیشت مستحکم کرنے کے لئے انفرادی ذمہ داری کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عام طور سے یہ تاثر قوی ہؤا ہے کہ غربت اور بیروزگاری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمران قومی دولت لوٹ لیتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اپنے حصے کا ٹیکس نہ ادا کرنے والا ہر شہری قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے میں حصہ دار ہے۔ نفرت ہی کی سیاست کا شاخسانہ ہے کہ سماجی اور قومی رویے تعمیر کرنے کا کام تو نہیں ہوتا البتہ اپنی اپنی پسند ناپسند کے مطابق انگشت نمائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
ان حالات میں شہباز شریف کی حکومت پر عوام کی تشفی کے لئے کارکردگی دکھانا آسان کام نہیں ہے۔ اسی مقصد کے لئے حکومت زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اور مقررہ وقت پر انتخابات کا اشارہ دیا جاتا ہے لیکن تحریک انصاف مسلسل جلد انتخابات کے لئے دباؤ ڈالتے ہوئے احتجاج کی شکل میں انتشار کا ماحول پیدا کئے ہوئے ہے۔ حکومتی جماعتوں کو یہ صورت حال صاف الفاظ میں عوام کے سامنے رکھنی چاہئے تھی تاکہ انتخابات کے بارے میں پیدا کیا گیا ابہام ختم ہو اور درپردہ ملاقاتوں میں اس حوالے سے دباؤ کی خبروں کا بھی خاتمہ ہوسکے۔ وزیر اعظم براہ راست یا اپنے وزیر خزانہ کے ذریعے یہ بتائیں کہ وہ معیشت کی درستی کے لئے کون سے اقدامات کررہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ حکومت کے خیال میں اگر اسے مزید ایک سال کام کرنے کا موقع مل گیا تو وہ عوام کو کچھ سہولتیں دینے کے قابل ہوجائے گی۔ موجودہ حالات میں کسی وضاحت اور شفاف حکمت عملی کے بغیر انتخابات کے معاملہ کو کسی ایک پارٹی کی کامیابی یا ناکامی کے خوف یا امید سے منسلک کرنے سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اپوزیشن کو دباؤ میں اضافہ کرنے کا موقع ملے گا۔ انتخابات کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف اختیار کرنا اور اس کی وجوہات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرکے بےیقینی کی غیر ضروری فضا ختم کرنا تو مشکل معاشی صورت حال کے باوجود حکومت کے اختیار میں ہے۔ عمران خان کا واحف مطالبہ جلد انتخابات کا انعقاد ہے۔ اس بارے میں بے یقینی کو قائم رکھنے سے اتحادی پارٹیوں اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کو نقصان ہورہا ہے۔ حالانکہ وہ شفاف پالیسی کے ذریعے قیاس آرائیوں کا قلع قمع کرسکتی ہے۔
اسی طرح آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ ہے۔ بوجوہ ملکی حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ ملک کے سیاست دانوں کو فوج کے مقابلے میں زیادہ سپیس حاصل ہے۔ عمران خان کی صورت میں فوج کا اپنا تیار کیا ہؤا منصوبہ اس کے لئے چیلنج بنا ہؤا ہے جو ہر معاملہ پر اسے للکارتا ہے کہ ’میرا ساتھ دو ورنہ میں درون خانہ ہونے والی باتیں افشا کروں گا‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔ ’نیوٹرلز‘ کے بعد ’ہینڈلرز‘ کا لقب بھی فوج ہی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف ایک حاضر سروس جنرل کو قاتلانہ حملے کی ایک ایف آئی آر میں نامزد کروانے کے لئے اب سپریم کورٹ پہنچ چکی ہے۔ ملکی معاشی حالات اور عالمی سفارتی صورت حال بھی پاک فوج کو کسی غیر آئینی ایڈونچر کی اجازت نہیں دیتی۔ حکمران سیاسی جماعتوں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کے آئینی کردار کی وضاحت کرسکتی ہے۔ اور اسے اسی حد کے اندر رہنے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ لیکن آرمی چیف کی تقرری کے سوال پر غیر ضروری کھچڑی پکا کر درحقیقت سیاسی قیادت اپنی خود ساختہ بے بسی اور خوف کا مظاہرہ کررہی ہے۔
جب یہ واضح ہوچکا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت نومبر کے آخر میں ختم ہورہی ہے اور یہ بھی پیش نظر ہے کہ کون سے جنرلز آرمی چیف کی پوزیشن کے لئے دستیاب ہوں گے تو اس بارے میں پراسراریت پیدا کرنا اور افواہوں کو پھیلنے کی اجازت دینا ، غیر ضروری تھا۔ حکومت کو آخری ساعتوں تک اپنے فیصلے کا انتظار کروانے کی بجائے فوری طور سے نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان کرکے ملک میں پیدا کی جانے والی تکلیف دہ سنسنی خیزی کو ختم کرنا چاہئے۔
تاہم یہ کام کرنے کے لئے شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کو یہ یقین بھی ہونا چاہئے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے بل پر سیاسی مقابلہ کی تیاری کریں اور انتخابی مقابلے میں اداروں کو استعمال کرنے کی دیرینہ روش ترک کردی جائے۔ یوں بھی مسلم لیگ (ن) اور شریف بردران سے زیادہ کون اس حقیقت سے آگاہ ہوگا کہ آرمی چیف وہی پالیسی بنائے گا جس میں اس کے ادارے کا مفاد ہوگا۔ اس وقت فوج کو ایسے آرمی چیف کی ضرورت ہے جو فوج کو دہائیوں کے غیر ضروری تجربات کے بوجھ سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نجات دلا سکے۔ کسی بھی وزیر اعظم کے لئے ایسا پروفیشنل جنرل تلاش کرنا کون سا مشکل کام ہے جو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا اہل ہو۔ اس کے باوجود اس اہم معاملہ کو غیر ضروری سیاسی کھینچا تانی اور افواہ سازی کی بنیاد بنا دیا گیا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

