ملک میں ہر پل کوئی نئی سیاسی پیش رفت دیکھنے میں آرہی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر معاشی دباؤ اور سکیورٹی مسائل سے گھرے اس ملک میں یہ دونوں پہلو نہ تو ’خبر‘ ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی پر مغز بحث سننے میں آتی ہے۔ البتہ شہ سرخیوں اور چیختی چنگھاڑتی بریکنگ نیوز میں یہ اعلان ضرور سنا جاسکتا ہے کہ خیبر پختون خوا اسمبلی توڑنے کی سمری کب اور کیسے جاری ہوگی یا تحریک انصاف کے جن 34 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہوئے ہیں، ان سب نشستوں پر عمران خان ہی پارٹی کے واحد امید وار ہوں گے۔
حیرت ہے کہ اتوار کو کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں شدید ہزیمت کے باوجود عمران خان اور ان کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے چند مصاحبین کے طویل زبانیں مسلسل زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے پر جوش بیانات کے زور پر تحریک انصاف کو عوام کی محبوب ترین پارٹی قرار دینے پر مصر دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان خود کئی بار دعویٰ کرچکے ہیں کہ تحریک انصاف کو اس وقت نوے فیصد تک عوام کی حمایت حاصل ہے۔ اب نہ جانے کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے موصول ہونے والے نتائج کے بعد عمران خان بدستور مقبولیت کے ان دعوؤں پر اصرار کرتے رہیں گے یا وہ کراچی و حیدر آباد کو بھی پاکستان کا حصہ سمجھتے ہوئے اور بلدیاتی انتخاب میں تحریک انصاف کی توقعات کے برعکس ان کی رائے کی روشنی میں اپنے دعوؤں پر نظر ثانی کرنے کی کوشش کریں گے۔
تحریک انصاف اگر فرد واحد کی نگرانی میں اس کی خوشی اور ضد کی تکمیل کے لئے متحرک کیا جانے والا گروہ نہیں ہے بلکہ واقعی کسی جمہوری نظام میں کام کرنے والی ایک بڑی اور ذمہ دار پارٹی ہے تو پھر تو اس کے چئیرمین کو کسی دوسرے معاملے پر غور کرنے کی بجائے فوری طور سے اپنی پارٹی کے فیصلہ کرنے والے سب سے بڑے فورم کا اجلاس بلا کر اس ناکامی کاجائزہ لینا چاہئے۔ اس حوالے سے مزید معروضات پیش کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ راقم الحروف نے تحریک انصاف کا ذکر کرتے ہوئے اسے فرد واحد کی خوشنودی کے لئے کام کرنے والا گروہ کہا ہے۔ اسے کسی مافیا کا نام نہیں دیا۔ کیوں کہ ملکی سیاست خواہ الزام تراشی اور پھبتیوں سے جتنی بھی آلودہ ہو، ذمہ دار صحافت کا تقاضہ ہے کہ سیاسی عمل میں شریک کسی بھی شخص یا گروہ کا ذکر احترام سے کیا جائے۔ اختلاف کیاجاسکتا ہے لیکن اختلاف کی بنیاد پر کسی شخص یا گروہ کی توہین نہ تو کوئی صحت مند تجزیہ ہوگا اور نہ ہی اس سے ملک میں انتشار کے خلاف رائے بنانے کا مقصد حاصل کیا جاسکے گا۔ بصورت دیگر حقیقت یہی ہے کہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد عمران خان نے اپنے چند منہ زور ساتھیوں کے ساتھ مل کر جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے، استعفوں ، اسمبلیاں توڑنے اور متعدد نشستوں پر عمران خان کو امید وار بنانے جیسے بے معنی اور غیر سیاسی ہتھکنڈوں کا جو عملی مظاہرہ کیا ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سارے رویے ایک شخص کا بت تراشنے اور اس کی زخمی انا کی تسکین کے لئے قومی مفاد کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہیں۔ عرف عام میں ماہرین لسانیات کسی ایسے گروہ کے لئے ضرور مافیا کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت دیں گے کیوں کہ عمران خان اور ان کی نگرانی میں کام کرنے والی نام نہاد سیاسی پارٹی نے گزشتہ 9 ماہ کے دوران جو ہتھکنڈے اختیار کئے اور اہم قومی معاملات کے بارے میں جیسے جھوٹ عام کئے گئے وہ کسی مجرمانہ فعل سے کم نہیں ہیں۔
تاہم یہ الفاظ و اصطلاحات کی بحث کا محل نہیں ہے، اسی لئے ہم نے عمران خان کا ذکر مافیا باس کی بجائے ایک ایسے گروہ کے لیڈر کے طور پر کیا ہے جو ذاتی مفاد اور اقتدار و اختیار کے لئے ہر قسم کی اخلاقی و قانونی ضرورتوں کو نظر انداز کرنے کی شہرت رکھتا ہے۔ اور جب کسی قانون شکنی پر کوئی ادارہ ان کی گرفت کا عندیہ دیتا ہے تو اپیلوں کے ذریعے اعلیٰ عدالتوں سے ریلیف لے کر ایسے کسی نئے ہتھکنڈے کی تلاش شروع کردی جاتی ہے جس سے قوم کو مسلسل بے یقینی کے عذاب میں مبتلا رکھا جاسکے۔ اس طرز عمل کو سیاسی ہنر مندی کا نام دے کر عمران خان اور ان کے چہیتے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’چوروں لٹیروں کی امپورٹڈ حکومت‘ عوام کی بے پناہ مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور عمران خان کسی بھی انتخاب میں مخالفین کا نام و نشان مٹا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ انتخاب کی بات کرتے ہیں اور حکومتی اتحاد انتخابات سے بھاگ رہا ہے۔
سندھ کے شہری علاقوں میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے واضح کامیابی حاصل کی ہے حالانکہ وہ پندہ سال سے سندھ میں بھی حکمران ہے اور موجودہ حکومتی اتحاد کا بھی حصہ ہے۔ دوسری پوزیشن جماعت اسلامی کو حاصل ہوئی ہے جس نے چھوٹی جماعت ہونے کے باوجود مسلسل عوام کے اندر رہ کر فلاح و بہبود کے کام کرنے کی کوشش کی جس کا صلہ اسے اب عوام کے اعتماد کی صورت میں حاصل ہؤا ہے۔ تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کی متعدد نشستیں حاصل کی تھیں اور وزیر اعظم کے طور پر پونے چار سالہ دورانیہ میں عمران خان کراچی کو بڑے بڑے مالی پیکیج دے کر رام کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے تھے۔ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد زوردار احتجاجی مہم اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے عمران خان کو عوام کے سامنے سیاسی شہید کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اور جس جنرل باجوہ کو سیاسی سرپرستی کے لئے طویل المدت ایکسٹینشن دینے کا لالچ دیا جارہا تھا ، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں مسلسل پاکستانی سیاست کا ’ولن‘ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قمر جاوید باجوہ کو اگر پاکستانی سیاست کا ولن مان لیا جائے تو عمران خان کو ان کا ’مغ بچہ‘ تسلیم کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ہی اپنے نام نہاد ہائیبرڈ نظام کو کامیاب کرنے کے لئے عمران خان جیسے سیاسی لاوارث کو دھونس دھاندلی کا ہر ہتھکنڈا استعمال کرکے وزارت عظمی تک پہنچایا۔ اب وہی عمران خان اپنے سرپرست اعلیٰ کی کردچار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تاکہ کسی طرح ان کے اس جرم پر پردہ ڈالا جاسکے کہ انہوں نے کیسے عوام کی رائے کے برعکس اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر پہلے اقتدار حاصل کیا پھر اس کی دھونس پر سارے سیاسی مخالفین کی زندگی حرام کی۔ کسی کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا اور کسی کو کسی ثبوت کے بغیر جیل میں بند کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی ناکامی متعدد سوال سامنے لاتی ہے جن پر عمران خان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ کیوں کہ وہ پنجاب کے بعد اب خیبر پختون خوا اسمبلی توڑ کر ان صوبوں میں انتخابی کامیابی کی امید لگائے بیٹھے ہیں تاکہ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر سیاسی مخالفین کا صفایا کرسکیں۔ کراچی سے آنے والی اطلاعات البتہ ان کے لئے شدید پریشان کن ہونی چاہئیں۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ جو کام کراچی یا حیدر آباد میں ہوسکتا ہے، وہی صورت اگر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں بھی دیکھنے میں آئی تو تحریک انصاف کا کیا مستقبل ہے۔ کراچی کے نتائج بتا رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ کے سہارے کے بغیر پی ٹی آئی ایک نعرے کا نام ہے جس پر عمران خان کے دیوانے رقص تو کرسکتے ہیں لیکن بیلٹ بکس بھرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عمران خان کے پاس پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا مثبت کردار ادا کرکے ملکی فلاح کے لئے سیاسی کام کرنے اور عزت کمانے کا راستہ کھلا تھا لیکن انہوں نے ’ناکامی‘ کے خوف سے اجلاس سے بھاگنے اور استعفے دینے پر اصرار کیا۔ اب اسپیکر راجا پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے مزید 34 ارکان کے استعفے منظور کرلئے ہیں تو ہا ہا کا رمچی ہے کہ اسپیکر نے سیاسی و پارلیمانی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ اگر پی ٹی آئی کی اس دلیل کو درست مان بھی لیا جائے تو پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا اخلاقیات سے دست درازی کا ٹھیکہ صرف عمران خان اینڈ کمپنی کے پاس ہے یا پاکستان میں انہوں نے بدکلامی، بدتہذیبی اور شرپسندی کے جملہ حقوق محفوظ کروا رکھے ہیں۔ دوسری پارٹیاں بھی حسب ضرورت اس حمام میں غوطہ لگانے میں آزاد ہیں۔ عمران خان کی طرف سے قومی اسمبلی واپس جا کر شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد لانے کا عندیہ دینے کے بعد استعفے قبول کرنے کا اقدام کچھ ایسا ہی منظر پیش کررہا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ یہ سطور پڑھنے والوں تک پہنچیں تو تحریک انصاف کے مزید ارکان قومی اسمبلی رکنیت سے محروم ہوچکے ہوں۔ نہ جانے اس سیاسی کھیل میں کون جیت رہا ہے لیکن کسی کو شبہ نہیں ہے کہ پاکستان ہار رہا ہے اور پاکستانی عوام بے بسی و لاچاری کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
اب تو نیب قانون میں ترامیم کے خلاف عمران خان کی اپیل پر غور کے دوران سپریم کورٹ کے فاضل جج بھی سوال کرنے لگے ہیں کہ تحریک انصاف یہ معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھانے سے پہلے سپریم کورٹ میں کیوں پہنچ گئی۔ کیا بہتر نہیں ہوگا کہ قومی اسمبلی میں جاکر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ بنچ میں شامل ایک فاضل جج نے تو یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ہم ایک قانون کے خلاف اس شخص کی اپیل پر کیوں غور کریں جو اسمبلی میں جاکر پارلیمانی کردار ادا کرنے سے انکار کررہا ہے۔ جب سیاسی لیڈر سیاست کو عبادت سمجھنے کی بجائے اسے جوڑ توڑ اور سازشوں کا ذریعہ بنا ئیں گے تو پھر عوام کو بھی تادیر نعروں ، دشنام طارزی یا سوشل میڈیا پروپیگنڈا سے گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔
حرف آخر کے طور پر آج قومی اسمبلی میں منظور کئے گئے ایک بل کا ذکر ضروری ہے جس کا تعلق اگرچہ تحریک انصاف کی سیاست سے تو نہیں ہے لیکن یہ ملک میں پائی جانے والی اس سوچ کی افسوسناک علامت ضرور ہے جو انتہا پسندی اور مذہبی شدت پسندی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے اور سیاسی لیڈر انتہائی ڈھٹائی سے مسائل سے نگاہیں چرانے کے لئے ان رویوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ بل جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے صحابہ کرامؓ و اہلبیت عظامؓ و امہات المومنینؓ کی توہین روکنے سے متعلق پیش کیا جسے ارکان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اب اس جرم کی سزا تین سال سے بڑھا کر دس سال کردی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ ریکارڈ پر یہ بات لانا بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے ایک گروپ نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیوں کو جبراً مذہب تبدیل کرنے اور کم سن بچیوں کی معمر مردوں سے شادیاں کروانے کے طریقہ پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور اس طریقہ کار کے خلاف قانون سازی اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ البتہ ملک میں مذہبی حجت کی بحث کو زیادہ اہم معاملہ سمجھتے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

