صدر عارف علوی نے ایک خط میں الیکشن کمیشن کو اس کی آئینی ذمہ داری سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کا شیڈول جاری کیا جائے۔ دونوں صوبوں کی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 18 جنوری کو توڑ دی گئی تھیں لیکن صوبائی گورنروں نے ابھی تک ان صوبوں میں انتخابات منعقد کروانے کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ الیکشن کمیشن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے متعلقہ اداروں سے رپورٹ لینے کے بعد انتخابات کا حتمی فیصلہ کرے۔اس دوران پنجاب کے گورنر بلیغ الرحمان اور خیبر پختون خوا کے گورنر حاجی غلام علی نے ایک ملاقات کے بعد ملک کی مالی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے یہ عندیہ دیا ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات علیحدہ علیحدہ وقت پر کروانا مناسب نہیں ہوگا بلکہ انتخابات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں۔ وفاقی حکومت کے ترجمان بھی یہ واضح کررہے ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات 90 دن کی آئینی مدت میں کروانا ممکن نہیں ہے۔ وفاقی وزیر سعد رفیق نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’ملک بھر میں عام انتخابات ایک ہی وقت پر منعقد ہونے چاہئیں‘۔ اصولی طور سے اگر اس مؤقف سے اتفاق کر بھی لیا جائے تو بھی دو صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے بعد وزیر اعظم قومی اسمبلی تحلیل کرکے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیتے ۔ یوں یہ مسئلہ حل کرلیا جاتا۔ تاہم اس کی بجائے اب کوئی ایسا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ صوبوں میں قائم عبوری حکومتوں کو 90 دن سے زیادہ مدت تک قائم رکھا جائے اور صوبائی انتخابات عام انتخابات کے ساتھ ہی ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ تحریک انصاف کی ایک آئینی پٹیشن پر غور کررہی ہے جس میں پنجاب اور خیبر پختون خوا میں مقررہ آئینی مدت کے اندر انتخابات منعقد کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عدالتی رجحان کیا ہوگا اور صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد انتخابات کی مقررہ مدت میں کیوں کر توسیع ممکن ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے ابھی تک کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا ۔ البتہ لاہور ہائی کورٹ کی سابقہ سماعت پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ الیکشن کمیشن مقررہ وقت پر انتخابات کروانے کے لئے تیار ہے۔ صد عارف علوی کا خط دراصل اسی تناظر میں لکھا گیا ہے جس میں صوبائی گورنروں یا وفاقی حکومت کی بجائے الیکشن کمیشن کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ صدر کا خیال ہے کہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوجانے کے 90 روز کے اندر انتخابات منعقد کروانے کی حتمی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ہی عائد ہوتی ہے۔
صدر مملکت نے اگرچہ الیکشن کمیشن کو خط میں وضاحت کی ہے کہ انہوں نے آئین کی حفاظت کا حلف لیا ہواہے لہذا اسی حیثیت میں وہ الیکشن کمیشن کو اس کی ذمہ داری سے آگاہ کررہے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کو آئینی عہدے پر متمکن کسی صدر کی طرف سے ایسا خط لکھنے کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ ماضی میں قومی اسمبلی توڑنے کا حکم جاری کرتے ہوئے تو صدر عارف علوی نے اپنی آئینی ذمہ داری کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی لیکن اب وہ ایک ’بے اختیار‘ صدر ہونے کے باوجود ایک آئینی ادارے کو اس کی ذمہ داری سے باخبر کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ عارف علوی کا یہ رویہ مملکت پاکستان کے صدر سے زیادہ تحریک انصاف کے رکن اور عمران خان کے وفادار ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت ملک میں انتخابات کے حوالے سے واضح طور پر دو آرا موجود ہیں اور کوئی فریق بھی اس معاملہ پر مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ عمران خان نہ صرف پنجاب اور خیبر پختون خوا میں مقررہ آئینی مدت کے اندر انتخابات چاہتے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ شہباز شریف فوری طور سے قومی اسمبلی تحلیل کرکے عام انتخابات کا اعلان کریں۔ دوسری طرف حکمران اتحاد کسی صورت فوری انتخابات کا حامی نہیں ہے۔ آئینی طور سے جیسے پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات اپریل کے دوران منعقد ہونے چاہئیں، اسی طرح جون میں بجٹ پیش کرنے کے بعد کسی بھی وقت ملک میں عبوری حکومت کے قیام کا اعلان بھی ہونا چاہئے تاکہ اگست /ستمبر تک عام انتخابات منعقد ہوسکیں۔ تاہم وفاقی حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں کی طرف سے جس قسم کے بیانات میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں، ان سے تو اسی تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت شاید عام انتخابات بھی ملتوی کروانے کی خواہش رکھتی ہے۔
تحریک انصاف اور عمران خان کی طرف سے فوری انتخابات پر زور دینے کی وجہ خالص سیاسی ہے۔ اگرچہ وہ اسے قومی مسائل حل کرنے کا واحد راستہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن ملکی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ کسی انتخاب سے ملک میں کوئی پائیدار حکومت قائم نہیں ہوسکی اور مخالف سیاسی عناصر نے پہلے دن سے ہی اسے کمزور کرنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ خود عمران خان نے 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی واضح کامیابی کے بعد یہی رویہ اختیار کیا تھا اور دھرنے کے ذریعے عسکری قیادت کو نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کرنے پر اکسانے کی کوشش بھی کی تھی۔ یہ کوششیں بالآخر اس وقت بار آور ہوئیں جب 2017 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔ دریں حالات فوری انتخابات کے لئے عمران خان کا اصرار درحقیقت اس تاثر پر استوار ہے کہ وہ اس وقت مقبولیت کے عروج پر ہیں اور فوری انتخابات کی صورت میں وہ بہر صورت وفاق اور دو صوبوں میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ بلکہ وہ تو دو تہائی اکثریت لے کر ملکی سیاست کا چہرہ تبدیل کرنے کا عزم لئے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف حکمران جماعتوں خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کے لئے پنجاب میں سیاسی صورت حال مشکل تر ہوچکی ہے۔ مشکل معاشی فیصلوں اور ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے نتیجے میں پارٹی کی عوامی مقبولیت کو شدید دھچکا لگا ہے ۔ پارٹی کے پاس کوئی مقبول سیاسی نعرہ بھی نہیں ہے اور عدالتی فیصلوں کی وجہ سے اس کے رہبر اعلیٰ نواز شریف بدستور بیرون ملک مقیم رہنے پر مجبور ہیں۔ مریم نواز چار ماہ کی غیر حاضری کے بعد پارٹی کی چیف آرگنائزر بن کر واپس لوٹی ہیں اور انہوں نے تنظیم سازی اور عوامی رابطہ کے لئے مہم جوئی بھی شروع کی ہے لیکن ان کے پاس بھی تحریک انصاف کی ناکامیوں کا ذکر کرنے اور عمران خان کی عیب جوئی کے علاوہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں ہے۔ ایک صورت یہ ہوسکتی تھی کہ وہ چونکہ پارلیمنٹ کی رکن نہیں ہیں اور حکومت حصہ بھی نہیں ہیں لہذا وہ حکومت کی ناکام پالیسیوں پر ناقدانہ طرز عمل اختیار کرکے عوام کی ترجمانی کرتیں لیکن انہوں نے پاکستان واپس پہنچتے ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرکے اپنے سیاسی امکانات کو محدود کرلیا۔
ان حالات میں مسلم لیگ (ن) کسی بھی صورت انتخابات کو مؤخر رکھنا چاہتی ہے۔ بعض لیڈروں نے یہ اشارے بھی دیے ہیں کہ شاید عام انتخابات مقررہ وقت سے ایک سال بعد تک ملتوی کردیے جائیں۔ تاہم شہباز حکومت کو اس کا واضح اعلان کرنے کا حوصلہ نہیں ہورہا۔ اسی لئے صورت حال کو غیر واضح اور مشکوک رکھا جارہا ہے۔ اس دوران ایسے قانونی راستے تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کے ذریعے یہ مقصد حاصل ہوسکے۔ حکومت کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ تنازعہ سے باہر نکلنے کے بعد بیرونی امداد کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور اس طرح وہ جلد ہی عوام کو کچھ سہولتیں دے کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرسکے گی۔ تاہم آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں خود وزیر اعظم شہباز شریف نے جومعلومات بہم پہنچائی ہیں، ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ آئی ایم ایف سیاسی مقاصد کے لئے سبسڈی یا فنڈز فراہم کرنے کے سارے راستے مسدود کرنا چاہتی ہے تاکہ قومی معیشت کی بحالی کا کام شروع ہوسکے۔ دیکھا جائے تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کا بھی یہی نقطہ نظر ہوناچاہئے۔ لیکن ملک میں تقسیم و نفرت کی موجودہ فضا میں اس قسم کے اشتراک عمل کے تمام راستے مسدود ہوچکے ہیں۔ حتی کہ وزیر اعظم نے آل پارٹیز کانفرنس کے نام پر تمام پارٹیوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی جس خواہش کا اظہار کیا تھا، تحریک انصاف کے منفی رویہ کی وجہ سے وہ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔
انتخابات کا التوا اگر قومی مفاد میں ایک بہتر آپشن ہے تو اس پر ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو اتفاق کرنا چاہئے۔ اگر ایسا اتفاق رائے موجود نہیں ہے تو حکمران جماعتوں کو غیر آئینی ، غیر سیاسی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی طریقے اختیار کرتے ہوئے انتخابات کے التوا کی کوشش ترک کردینی چاہئے۔ ابھی اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے کوئی واضح رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ ممکن ہے حکومت عدالتی فیصلوں کے ذریعے آئینی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی خواہش رکھتی ہو لیکن ایسی کوئی کوشش نہ تو سیاسی طور سے حکمران جماعتوں کو کوئی فائدہ پہنچائے گی اور نہ ہی ایک منتخب جمہوری حکومت کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اقتدار پر قابض رہنے کے لئے غیر جمہوری طریقے اختیار کرے۔ کوئی حکومت محض اس عذر پر انتخابات سے انکار نہیں کرسکتی کہ اس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔
یہ تاثر کم فہمی پر مبنی ہے کہ موجودہ حکومت آئیندہ چند ماہ کے اندر کوئی ایسا معاشی معجزہ دکھا سکتی ہے کہ جس سے عوام کی رائے ایک بار پھر حکمران جماعتوں کے حق میں ہموار ہونے لگے۔ اس کے برعکس انتخابات سے بچنے کے طریقے ڈھونڈتے ہوئے، یہ دعوے کہ ’ہم انتخابات سے نہیں ڈرتے‘ مضحکہ خیز حد تک گمراہ کن رویہ ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے حکمران جماعتوں کی رہی سہی عزت و آبرو بھی خاک میں مل جائے گی۔ شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کو سوچنا چاہئے کہ آخر وہ کب تک انتخابات سے گریز کرسکتے ہیں۔ چند ماہ کی تاخیر سیاسی لحاظ سے سود مند ہونے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
تحریر : سید مجاہد علی
فیس بک کمینٹ

