حکومت بظاہر قومی سلامتی، آئینی بالادستی اور ملکی معیشت کی بحالی کے نام پر ملک کے دو صوبوں میں فوری انتخابات کروانے سے انکار کر رہی ہے۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ دو بڑے صوبوں میں عام انتخابات سے پہلے اسمبلیاں منتخب کر کے حکومتیں قائم ہونے سے قومی اسمبلی اور سندھ و بلوچستان اسمبلیوں کے انتخابات کے وقت آئینی تقاضے کے تحت نگران حکومتیں موجود نہیں ہوں گی جس کی وجہ سے انتخابات کی شفافیت اور غیر جانبداری متاثر ہوگی۔ اور ملکی نظام کے آئینی جمہوری تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔
سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو اپنے فیصلہ میں پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کو مسلسل التوا میں رکھنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کا انتخاب منعقد کروانے کا حکم دیا ہے۔ سہ رکنی بنچ کے اس فیصلہ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے اور حکومت کی طرف سے مالی و سکیورٹی مجبوریوں کے سبب انتخابات میں اکتوبر تک التوا کی دلیل کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے اس بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے حکومت اور متعدد سیاسی جماعتوں اور بار کونسلز کی جانب سے اس معاملہ پر فل کورٹ بنچ بنانے کی تجویز بھی مسترد کردی تھی اور اصرار کیا تھا کہ تین رکنی بنچ ہی اس اہم معاملہ پر حتمی حکم جاری کرنے اور اس کے نفاذ کی نگرانی کرنے کا مجاز ہے۔
شہباز شریف حکومت نے اس عدالتی فیصلہ کو ’انصاف کا خون‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس فیصلہ کو 1978 میں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کے مماثل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ سے ملک میں آئینی انتظام کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ایک قرار داد میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل نہ کریں۔ ملکی سیاسی و عدالتی تاریخ میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کو قومی اسمبلی کی قرار داد کے ذریعے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی یہ روایت افسوسناک ہے لیکن موجودہ حکومت فوری انتخابات سے بچنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ اسی حوالے سے آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں ملکی سکیورٹی کی صورت حال اور متعلقہ امور پر غور کیا گیا۔ خبروں کے مطابق اب فوجی حکام سے سکیورٹی اور انتخابات کی نگرانی کے لیے فوج کی عدم دستیابی کے بارے میں نئی بریفنگ دینے کے لیے کہا جائے گا۔
حکومت یہ سب طریقے فوری انتخابات ٹالنے کے لیے اختیار کر رہی ہے۔ اگرچہ حکومتی موقف کے بعض پہلو قابل غور بھی ہیں اور ان پر بحث بھی ہونی چاہیے۔ مثلاً یہ کہ جب دو صوبوں میں کسی ایک پارٹی کی حکومتیں قائم ہوں گی تو عام انتخابات کی غیر جانبداری کی ضمانت کیسے فراہم ہوگی۔ یا یہ کہ اس وقت آئین کے مطابق ان صوبوں میں نگران حکومت قائم کرنے کا کیا امکان ہو گا؟ سپریم کورٹ نے اس پہلو پر غور کرنے یا رائے دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کا فیصلہ اس بنیاد پر استوار ہے کہ کسی صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات ہونے چاہئیں۔
سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کا کہنا ہے کہ اس آئینی حد کو عبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن خود سپریم کورٹ نے ہی 14 مئی کو پنجاب میں انتخاب منعقد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ حد عبور کرنے کا اقدام کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی 12 جنوری کو توڑی گئی تھی۔ یوں یہ انتخابات 12 اپریل سے پہلے ہونے چاہئیں تھے۔ اسی طرح 4 اپریل کے فیصلہ میں خیبر پختون خوا میں انتخابات سے متعلق اس اصول کو نظر انداز کر کے بھی سپریم کورٹ نے خود ہی اس اصول کی خلاف ورزی بھی کی ہے کہ کوئی اسمبلی ٹوٹنے کے 90 روز کے اندر انتخابات کا انعقاد ایسی آئینی شرط ہے جسے کسی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس معاملہ کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے نہ صرف 90 روز کی مقررہ مدت کے بعد انتخابات کا اصول مان لیا بلکہ ان افراد یا اداروں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا اقدام بھی نہیں کیا جن کی وجہ سے انتخابات مقررہ آئینی مدت میں منعقد نہیں ہو سکے تھے۔ یوں بالواسطہ طور سے سپریم کورٹ کا یہ سہ رکنی بنچ خود ہی حقیقت تسلیم کرنے کا سبب بھی بنا ہے کہ غیر معمولی حالات میں مقررہ مدت کو عبور کیا جاسکتا ہے۔ البتہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن اور حکومت کے دلائل ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ سال اپریل میں سوموٹو اختیار کے تحت قائم ایک پانچ رکنی بنچ نے قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد مسترد کرنے کے لیے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیتے ہوئے کیا تھا۔ اسی طرح وزیر اعظم کے طور پر عمران خان کی قومی اسمبلی توڑنے کی سمری اور اس پر صدر عارف علوی کے حکم کو بھی آئین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ لیکن آئین کی خلاف ورزی کرنے والے ان افراد کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے کا اہتمام نہیں کیا۔ گویا سپریم کورٹ نے مستقبل میں آئین کی خلاف ورزی کا راستہ خود ہی کھلا رکھا تھا۔ اگر اس وقت آئین کے خلاف اقدام کرنے والوں کی گرفت کی جاتی تو شاید ملک اور سپریم کورٹ کو موجودہ تکلیف دہ صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
یہ معاملہ چونکہ ملک میں سیاسی انتظام سے متعلق ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھا جا رہا ہے۔ ان میں گزشتہ سال کے دوران صدارتی ریفرنس پر آئینی شق 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے پارٹی لائن سے بغاوت کرنے والے ارکان اسمبلی کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ وہ فیصلہ بھی اختلافی تھا اور محض تین ججوں نے اس کی حمایت کی تھی۔ موجودہ فیصلہ بھی تین ججوں کی رائے پر استوار ہے۔ حکومت اور متعدد آئینی ماہرین کی رائے ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کے تحت یکم مارچ کو جاری ہونے والا فیصلہ اقلیتی ججوں کا حکم تھا جبکہ اس معاملہ پر سوموٹو لینے کے خلاف چار ججوں نے رائے دی تھی۔ اس لئے یہ معاملہ یکم مارچ ہی کو ختم ہو چکا تھا اور سپریم کورٹ کا کوئی ایسا حکم درحقیقت موجود ہی نہیں تھا جس پر عمل کیا جاتا یا جس کی خلاف ورزی ہوئی۔
ابتدائی بنچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے بھی آج اپنا اختلافی نوٹ جاری کرتے ہوئے اس رائے کی تصدیق کی ہے اور یکم مارچ کے فیصلہ کو چار تین کی اکثریت سے مسترد قرار دیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے اپنے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کو سیاسی امور پر فیصلے دیتے ہوئے سیاسی لیڈروں کی نیت اور سیاسی مقاصد کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ تحریک انصاف نے عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی سے استعفے دیے اور استعفے منظور ہونے کے بعد ان کے خلاف اپیلیں کر کے درحقیقت سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ سو موٹو لیتے ہوئے چیف جسٹس نے صوبائی ہائی کورٹس کے حقوق بھی مسدود کیے تھے۔
جس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ جاری ہونے کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر جائے گی کہ 4 اپریل کو حکم صادر کرنے والا سہ رکنی بنچ کیسے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یکم مارچ کا فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے کیا تھا اور اس کے تین ججوں نے اکثریت سے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں فوری انتخاب کروانے کا حکم دیا تھا جبکہ دو نے اختلاف کیا تھا۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی بنچ کو تبدیل کرنے یا قائم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ لیکن قانونی رائے یہی ہے کہ ایک جج کو کسی بنچ میں شامل کر لیا جائے تو جب تک وہ خود اس سے علیحدہ نہ ہو جائے، اسے بنچ سے نکالا نہیں جاسکتا۔ اب جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں واضح کیا ہے کہ وہ کبھی بنچ سے علیحدہ نہیں ہوئے اور نہ ہی انہیں اس سے علیحدہ کیا گیا تھا۔ اس طرح سہ رکنی بنچ کا 4 اپریل کا فیصلہ مزید متنازعہ ہو گیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے بھی یہی لکھا ہے کہ فل کورٹ بنچ ہی اس تنازعہ میں حتمی اور قابل قبول رائے دینے کا مجاز ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال البتہ اس مطالبہ کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
دوسری طرف حکومت کے بارے میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ وہ آئینی موشگافیوں کے نام پر درحقیقت عمران خان کی مقبولیت سے گھبرائی ہوئی ہے، اسی لیے انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔ اس حوالے سے یہ کہنا ضروری ہے کہ کسی بھی جمہوریت میں انتخابات محض نہ تو اس لیے ملتوی کیے جا سکتے ہیں کہ کوئی پارٹی مقبول ہے اور کامیاب ہو جائے گی اور نہ ہی اس لیے منعقد کروائے جا سکتے ہیں کہ خاص حالات میں ایک خاص پارٹی کو سیاسی فائدہ ہو گا۔ بیشتر پارلیمانی جمہوریتوں میں کوئی پارٹی یا پارٹیوں کا اتحاد انتخابات جیتنے کے بعد کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے غیر مقبول ہوجاتا ہے لیکن اس سے نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ شہباز حکومت کو بھی عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر انتخابات سے فرار کی راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ ’جمہوریت ہی بہترین انتقام‘ کے نعرے کا یہ مقصد نہ لیا جائے کہ جمہوریت کو صرف اقتدار حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ بلکہ یہ تفہیم بھی عام ہونی چاہیے کہ اگر کوئی لیڈر جعلی دعوؤں یا سستی نعرے بازی کے ذریعے عوام کے ووٹ لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اقتدار ملنے کے بعد اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو کر، وہ خود ہی عوام کی نگاہوں سے گر بھی جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی سابقہ حکومت اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حکومتی اتحادی پارٹیوں کو ملک میں انتخابی انتظام کی لڑائی لڑتے ہوئے اس تاثر کو تقویت نہیں دینی چاہیے کہ وہ انتخابات سے بھاگ رہی ہیں۔ اسی لئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف کابینہ کا اعلان یا قومی اسمبلی کی قرارداد نامناسب طریقہ ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کو اس معاملہ میں گھسیٹنا بھی اداروں اور ملک میں آئینی انتظام کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔ البتہ حکومت سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے فیصلہ کے خلاف قانونی جنگ ضرور لڑ سکتی ہے۔ اس کے لئے 4 اپریل کے فیصلہ کے خلاف ’بغاوت‘ کا اعلان کرنے کی بجائے، مروجہ طریقہ کے مطابق اس کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی جائے۔
جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ کے بعد کسی بھی عدالتی بنچ کے لئے اس فیصلہ پر اصرار آسان نہیں رہے گا۔ ایسی صورت میں یا تو فل کورٹ بنچ بنایا جاسکتا ہے یا خود عدالتی فورم سے 4 اپریل کا فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

