سوموٹو اختیار کے حوالے سے چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے کے بل کے خلاف آٹھ رکنی بنچ نے سماعت کی ہے۔ تاہم بل کے خلاف درخواست دہندگان کے وکیلوں کے دلائل کے بعد سماعت ’غیر معینہ‘ مدت تک ملتوی کردی گئی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے کی مصروفیات کے حوالے سے ساتھی ججوں سے مشاورت کے بعد آئندہ پیشی کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری طرف حکومت اور پاکستان بار کونسل نے یک طرفہ بنچ کی تشکیل اور قانون نافذ ہونے سے پہلے ہی اس پر سماعت کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔
سوموار کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سو موٹو اختیار کو محدود کرنے اور آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت ہونے والے فیصلوں میں اپیل کا حق دینے کی دوبارہ منظوری دی تھی۔ یہ بل پہلے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو چکا تھا لیکن صدر عارف علوی نے اسے مبینہ طور پر آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سوموار کو مشترکہ اجلاس میں منظوری کے بعد یہ بل صدر کے دستخط کے بغیر ہی دس روز کے اندر نافذ ہو جائے گا۔ البتہ اس دوران متعدد شہریوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں تین درخواستیں دائر کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے فوری طور سے ان پٹیشنز پر غور کے لیے آٹھ رکنی بنچ تشکیل دے دیا۔ بنچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں جبکہ اس میں شامل باقی ججوں میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔ ان سب ججوں کو چیف جسٹس کے گروپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے بظاہر اپنے ہی اختیارات محدود کرنے والے بل پر اپنے ہم خیال ججوں پر مشتمل بنچ قائم کر کے سپریم کورٹ کی تاریخ میں ایک نئے سیاہ باب کا اضافہ کرنے کی تیاری کی ہے۔ وہ اگر اس مقصد میں کامیاب ہو گئے تو سپریم کورٹ میں ججوں کی تقسیم کو دستاویزی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور یہ بھی طے ہو جائے گا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ترقی پانے والے فاضل جج صاحبان قانون و آئین کو اپنی صوابدید کے مطابق سمجھنے اور رائے دینے کی بجائے گروہ بندی کو مستحکم کر کے اپنے اختیار و حیثیت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بنچ کی تشکیل اور اس کے وقت سے متعلق فیصلہ کرنے میں شدید غلطی کی ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ اس بنچ کے ذریعے حکومت کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن ان کا یہ طریقہ ان کی ذاتی شہرت، بطور چیف جسٹس ان کی کارکردگی اور سپریم کورٹ کی یک جہتی و وقار کے لیے شدید نقصان دہ ہو گا۔
اس حوالے سے حکومت کی نیت اور اس وقت یہ بل لانے اور عجلت میں منظور کروانے کے سیاسی مضمرات کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے لیکن دوسری طرف پارلیمنٹ اور حکومت درحقیقت سیاسی ایجنڈے کی تکمیل ہی کے لیے کام کرتے ہیں اور جب بھی کسی گروہ کو کسی خاص موضوع پر اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے قانون سازی کا موقع ملتا ہے، وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ حکومت نے بھی سپریم کورٹ میں اصلاحات کا بل محض قانون کی بالادستی، سوموٹو اختیار کے حوالے سے وکلا تنظیموں کے اعتراضات ختم کرنے یا کسی قانونی کمزوری دور کرنے کے لیے منظور نہیں کروایا بلکہ اس اقدام کے دو پہلو نمایاں ہیں۔ ایک تو موجودہ چیف جسٹس کو یہ پیغام دینا مطلوب ہے کہ وہ مطلق العنان نہیں ہیں اور پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات اور دائرہ کار کو ریگولیٹ کر سکتی ہے۔ اس کا دوسرا مقصد خاص طور سے نواز شریف کو اپنی نا اہلی کے خلاف اپیل کا حق دینا ہے۔ 2017 میں نواز شریف کو سوموٹو اختیار کے تحت قائم مقدمہ میں ہی تاحیات نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ اسی لیے وہ اس عدالتی فیصلہ کے خلاف اپیل دائر نہیں کرسکے تھے۔ نیا قانون منظور ہو جانے کے بعد انہیں یہ حق مل جائے گا۔
البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہو گا کہ آئینی شق 184 ( 3 ) کے حاصل اختیار کو ماضی میں متعدد چیف جسٹسز نے غیر ضروری طور پر استعمال کیا۔ اس طرح عدالتی آمریت نافذ کرنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ یہ شق عام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آئین میں شامل کی گئی تھی تاکہ اگر کسی شہری کی کسی دوسرے طریقے سے داد رسی نہ ہو رہی ہو یا کسی طریقہ کار سے شہریوں کے بنیادی حقوق کو براہ راست خطرہ لاحق ہوتو چیف جسٹس براہ راست مداخلت کرتے ہوئے انصاف فراہم کرسکیں۔
سو موٹو اختیار کی وضاحت یا جواز فراہم کرنا چونکہ چیف جسٹس یا ان کے مقرر کیے گئے بنچ کے اختیار میں ہوتا ہے، اس لیے اس طریقہ سے اختیارات کے غلط استعمال کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ ماضی قریب میں ایسے متعدد معاملات مشاہدہ کیے گئے ہیں جن میں سوموٹو کو اس کے اصل تناظر کے بغیر محض چیف جسٹس کی اتھارٹی کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسی صورت حال میں گزشتہ کئی سال سے بار کونسلز کی طرف سے احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ آئینی شق 184 ( 3 ) کی تشریح کے لیے فل کورٹ طلب کر کے حدود متعین کرلی جائیں۔ لیکن موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت کسی بھی چیف جسٹس نے اس مشورے پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا جس کی وجہ سے سوموٹو اختیار پر سوال بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں اور بعض ایسے فیصلے بھی ہوئے ہیں جو ملکی عدالتی تاریخ میں بری مثال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ ان میں خاص طور سے ایسے معاملات شامل ہیں جن کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوئے۔
موجودہ چیف جسٹس نے گزشتہ سال مارچ میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت اقدام کر کے ایسا ہی افسوسناک فیصلہ کیا تھا۔ موجودہ حکومت چیف جسٹس کے اسی اقدام اور بعد میں پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ کے نتیجہ میں ہی قائم ہو سکی تھی کیوں کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک مسترد کرنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی توڑنے اور نئے انتخابات کروانے کے حکم کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس حوالے سے کہا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ساتھی ججوں کی مشاورت کے بعد کیا تھا کیوں کہ آئین پامال ہو رہا تھا۔ لیکن یہ سوال ہمیشہ جواب طلب رہے گا کہ ایک سیاسی معاملہ میں ہونے والی کارروائی پر چیف جسٹس کیسے یک طرفہ طور سے بنیادی حقوق کی شق استعمال کرتے ہوئے کارروائی کر سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس وقت سپریم کورٹ کے اقدام کو اپنے سیاسی فائدے میں سمجھتے ہوئے اسے قانون و آئین کی بالادستی قرار دیا تھا لیکن درحقیقت اس عدالتی فیصلے نے پارلیمنٹ کی حیثیت و اہمیت کو براہ راست چیلنج کیا تھا اور ملک میں عدالتی آمریت کی راہ ہموار کی تھی۔
اب وہی حکومت چیف جسٹس کے بعض ایسے اقدامات سے عاجز ہے جس نے اس کی حیثیت کو متاثر کیا ہے اور جن کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان میں خاص طور صدارتی ریفرنس کے نتیجہ میں آئینی شق 63 اے کی نئی تشریح ہے جس کے تحت منتخب ارکان اسمبلی کو پارٹی سے بغاوت کے بعد ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اسی فیصلہ کے نتیجہ میں پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہوئی تھی اور پرویز الہیٰ وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ فروری کے آخر میں پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخاب کے سوال پر سوموٹو نوٹس لے کر چیف جسٹس نے یک طرفہ طور سے یکم مارچ کو فوری انتخابات کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس فیصلہ کے سوال پر سپریم کورٹ میں گہری تقسیم دکھائی دی اور ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا ہے کہ یکم مارچ کا فیصلہ اکثریتی ججوں کا حکم تھا یا ججوں کی اکثریت نے اس معاملہ پر سوموٹو لینے کی مخالفت کی تھی۔
آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت چیف جسٹس کے اختیار کے بارے میں مارچ کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے فیصلہ میں بھی اعتراضات سامنے آئے تھے۔ ان دونوں ججوں نے اپنے حکم میں سوموٹو اختیار کے استعمال کے بارے میں قواعد بننے سے پہلے اس اختیار کے تحت قائم تمام مقدمات پر کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا۔ فیصلہ میں واضح کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس کو ’ون مین شو‘ کا اختیار حاصل نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ البتہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پہلے رجسٹرار کے ذریعے ایک سرکلر میں اور بعد میں 4 اپریل کو ایک چھ رکنی بنچ کے ذریعے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دیا۔ لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک اضافی عدالتی حکم میں سوموٹو کے بارے میں اپنے فیصلہ کے خلاف چھ رکنی بنچ کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بنچ کو اس معاملہ میں سماعت کا اختیار نہیں تھا۔
ججوں کے درمیان پائی جانے والی اس تقسیم ہی کی وجہ سے حکومت کو موقع ملا کہ وہ آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت چیف جسٹس کے اختیارات فرد واحد کی بجائے سینئر ترین ججوں کی سہ رکنی کمیٹی کے حوالے کرنے کا قانون بنائے۔ اس کے علاوہ اس قانون کی یہ شق بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے کہ سوموٹو اختیار کے تحت کیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دے دیا جائے۔ اب متفرق درخواستوں کو فوری طور سے قبول کرتے ہوئے جیسے ہم خیال ججوں کا بنچ بنانے کا اقدام کیا گیا ہے، اس سے یہ تاثر قوی ہوا ہے کہ چیف جسٹس اس قانون کو اپنی ذات پر حملہ تصور کر رہے ہیں اور کسی بھی طرح پارلیمنٹ کو نیچا دکھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’آزاد عدلیہ کی بہت اہمیت ہے تاہم اُن کے دل میں پارلیمنٹ کے لیے بھی بہت احترام ہے۔ دیکھنا پڑے گا کہ یہ بل آئین سے متصادم تو نہیں ہے‘ ۔
چیف جسٹس کے ارادے سے قطع نظر ایک غیرنافذ شدہ قانون کے بارے میں درخواستوں کو عجلت میں سماعت کے لیے منظور کر کے فوری طور سے 8 رکنی بنچ بنانے کا اقدام متعدد شبہات کو جنم دیتا ہے۔ کچھ تشویش کا اظہار پاکستان بار کونسل اور حکومتی بیانات میں کیا جا چکا ہے۔ یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ یہ اقدام ایک ایسی عدالت کے چیف جسٹس نے کیا ہے جس کے پاس پچاس ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں اور متعدد مقدمات پر غور کے لیے کئی کئی سال بیت جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں سپریم کورٹ کے فورم کو مسلسل سیاسی تنازعات حل کرنے اور عدالتی ’وقار‘ کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ بہر حال انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ یا غیر ضروری تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔ ملک کی اعلی عدلیہ اور تمام متعلقہ اداروں کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ چیف جسٹس اپنے اختیارات پر قدغن کے سوال پر اگر پارلیمنٹ کے فیصلہ کے خلاف ہم خیال ججوں اور ایک سیاسی پارٹی کی حمایت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا اقدام کرتے ہیں تو اس سے پارلیمنٹ کی بجائے سپریم کورٹ اور عدالتی نظام کے اعتبار پر سوال اٹھے گا۔ چیف جسٹس اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ تحریک انصاف نے سیاسی حکمت عملی کے طور پر قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیا اور دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑ دیں۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے ریلیف یک طرفہ سیاسی مہم جوئی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ اب اگر چیف جسٹس حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے تحریک انصاف کی سیاسی مقبولیت کو اپنی طاقت سمجھنے کی غلطی کریں گے تو اس سے ملک کا پارلیمانی نظام اور عدالتوں کا اعتبار کمزور پڑے گا۔
موجودہ سیاسی تقسیم کی صورت حال میں مستقبل قریب میں کسی سیاسی گروہ کو اتنی اکثریت حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے کہ وہ دوررس آئینی ترمیم کرسکے۔ ایسے میں اگر سپریم کورٹ ہر قانون کو آئینی تشریح کے خلاف قرار دے کر خود اپنی اتھارٹی مسلط کرنے کی کوشش کرے گی تو ملک میں عدالتی آمریت کا سماں تو پیدا ہو جائے گا لیکن اس سے نہ عدالت مضبوط ہوگی اور نہ ہی جمہوریت کو کام کرنے کا موقع ملے گا۔ زیر بحث قانون پر غور کرتے ہوئے چیف جسٹس ہی نہیں بلکہ بنچ میں شامل تمام فاضل ججوں کو اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ متعدد جج حال ہی میں سپریم کورٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ انہیں محض کسی جذبہ ممنونیت میں غلط قانونی عمل کا حصہ بننے سے گریز کرنا ہو گا۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

