اہل پاکستان کے لئے یہ خبر شاید انوکھی ہو کہ ناروے کی سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج اور قابل قدر قانون دان ینس ایڈون آندریاسن سکوگ ہائے نے ریٹائرمنٹ کی عمر سے دو سال پہلے ہی پنشن پر جانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ ستمبر 2022 سے ’تعلیمی رخصت‘ پر تھے۔ اس دوران انہوں نے اپنی سابقہ بیوی پر خود کو زہر دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ تاہم اس سال کے شروع میں پولیس نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس الزام پر کارروائی روک دی تھی۔
سکوگ ہائے نے رخصت پر جانے سے پہلے خود اپنے ساتھی ججوں کو بتایا تھا کہ انہیں توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور وہ چیزیں بھول جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے سکوگ ہائے کی طرف سے سابق بیوی پر الزام عائد کرنے کے بعد ان کا معاملہ ججوں کی نگران کمیٹی کے حوالے کیا تھا تاکہ وہ جائزہ لے سکے کہ کیا انہوں نے جج کے طور پر کسی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ البتہ اب انہوں نے خود قبل از وقت پنشن لینے کا فیصلہ کیا ہے تو قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس معاملہ کو بھی واپس لے لیا جائے گا۔
سکوگ ہائے ناروے کی سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج تھے اور اس دوران وہ اہم معاملات پر فیصلے کرتے رہے تھے۔ چیف جسٹس اور ماہرین کی طرف سے بطور جج اور ماہر قانون ان کی توصیف کی گئی ہے۔ اس کے باوجود کسی طرف سے اس معاملہ کا اسکینڈل بنانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے کیوں قبل از وقت پنشن لے لی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آئینی و قانونی نظام کے تحت کام کرنے والی کسی ریاست میں طویل عرصہ تک خدمات سرانجام دینے والا جج بھی اگر کسی وجہ سے اس عہدہ پر متمکن رہنے کا اہل نہیں رہتا تو وہ خود ہی علیحدہ ہونے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ یا پھر مروجہ طریقہ کے مطابق انہیں اس عہدے سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ نہ کوئی بڑی خبر بنتا ہے اور نہ ہی اسے آئین و قانون پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ سکوگ ہائے گزشتہ سال جب تعلیمی رخصت پر گئے تھے تب ہی وہ شاید جج کے طور پر خدمات سرانجام دینے میں مشکل محسوس کر رہے تھے۔
البتہ اس دوران انہوں نے اپنی سابقہ بیوی کے بارے میں ایک غیر روایتی بیان دے کر ضرور میڈیا میں جگہ بنائی۔ اب قبل از وقت عہدہ چھوڑنے کی خبر بھی درحقیقت اسی تناظر میں سامنے آئی ہے کیوں کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز کوئی شخص اپنی اہلیہ یا دیگر افراد کے خلاف میڈیا کے ذریعے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرے۔ اس کے سچ یا جھوٹ ہونے سے قطع نظر اس بیان نے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ان کی پوزیشن کو متاثر کیا تھا۔ شاید اسی لئے ان کا معاملہ نگران کمیٹی کو ریفر بھی کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے اب خود ہی عہدہ چھوڑ کر اپنے آپ کو اور ملک کی اس عدالت کو جہاں وہ کئی برس سے خدمات سرانجام دے رہے تھے، کسی بڑی پریشانی یا شرمندگی سے بچا لیا ہے۔
ناروے کی سپریم کورٹ سے سامنے آنے والی یہ خبر پاکستان کے تناظر میں یوں دلچسپی کا موضوع ہے کہ وہاں اس وقت سیاسی سرگرمیوں کا حقیقی مرکز عدالتیں ہی بنی ہوئی ہیں اور سیاست دان بھی خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے اپنی سیاسی کامیابی کے لئے اعلیٰ عدلیہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جیسے آج ہی لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ایک پٹیشن پر پنجاب پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ عید کی چھٹیوں کے دوران انہیں ہراساں نہ کرے۔ عمران خان نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا انہیں اندیشہ ہے کہ چھٹیوں میں جب عدالتیں بند ہوں گی، پولیس انہیں کسی نامعلوم بنیاد پر گرفتار کر سکتی ہے یا زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس پر پانچ رکنی بنچ نے پولیس کو محتاط رہنے کا حکم جاری کیا ہے لیکن یہ غور کرنے کی کوشش نہیں کی کہ صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت محض قیاسات کی بنیاد پر دائر کی گئی درخواست پر کیوں وقت برباد کرتی ہے۔ دیگر اہم مقدمات چھوڑ کر سیاسی مقدمات میں نہ صرف گہری دلچسپی کا اظہار کیا جاتا ہے بلکہ دوران سماعت دلچسپ ریمارکس کے ذریعے نت نئی قیاس آرائیوں کے امکانات پیدا کیے جاتے ہیں۔
ایسی ہی صورت حال ملک کی سپریم کورٹ میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ کبھی کسی جج کو یہ خیال نہیں گزرا کہ وہ اپنے تعصب، سیاسی جھکاؤ، طبی معذوری یا کسی دوسری وجہ سے بطور جج خدمات سرانجام دینے کے قابل نہیں رہا۔ پاکستان میں یہ رجحان صرف سیاست دانوں تک ہی محدود نہیں ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہے بلکہ کوئی بھی سیاست دان اس وقت تک پورے جوش و خروش سے سیاسی کردار ادا کرنے پر اصرار کرتا ہے جب تک اللہ کے ہاں سے اس کا بلاوا نہ آ جائے۔
بلکہ دیکھا جا چکا ہے کہ ملکی فوج کی سربراہی کے لئے مقرر ہونے والے جرنیل کیسی کیسی سازشوں اور ہتھکنڈوں سے اپنے عہدے کی مدت میں اضافہ کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ حتی کہ ایک آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں اضافہ کی کوئی امید نہ رہی تو انہوں نے اس حکومت کو ناکام بنانے اور وزیر اعظم کو بے توقیر کرنے کا سامان کیا۔ اب لگتا ہے یہ جذبہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں تک در آیا ہے۔
چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے درجن بھر ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے جا چکے ہیں لیکن ان ججوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ چیف جسٹس پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے اور کسی جج پر لگے ہوئے الزامات کی تحقیق کر کے اس پر فیصلہ کروانے کی ذمہ داری ہے لیکن انہوں نے اس معاملہ پر کوئی ضابطہ بنانے اور اصول طے کرنے کی بجائے، صرف اپنی صوابدید کے مطابق معاملات طے کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ اس طریقہ کے مطابق جب تک چیف جسٹس نہ چاہیں، اس وقت تک کسی جج کے خلاف شکایت پر غور نہیں ہو سکتا ۔
حالانکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شکایت صریحاً بے بنیاد ہو اور متاثرہ جج کی شہرت پر اس کا منفی اثر مرتب ہو رہا ہو۔ یا اگر ایسی کوئی شکایت درست ہو اور اس کے تحت متعلقہ جج واقعی ججوں کے لئے مقررہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے میں ناکام رہا ہو تو وہ محض اس لئے اس عہدے پر متمکن رہتا ہے کیوں کہ چیف جسٹس اس کے خلاف ریفرنس کو سماعت کے لئے مقرر کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ملکی تاریخ میں صرف ایک جج کو نہایت سرعت سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے برطرف کرنے کا اقدام دیکھنے میں آیا تھا۔
ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی نے ملکی انٹیلی جنس افسروں پر مقدمات کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور بنچ بنوانے میں اثر و رسوخ استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل یا چیف جسٹس نے ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی تو ضرورت محسوس نہیں کی لیکن فوری کارروائی کرتے ہوئے جسٹس صدیقی کو جج کے عہدے پر فائز رہنے کے لئے ناموزوں قرار دیا۔
اب بھی سپریم کورٹ میں سامنے آنے والے اختلافات اور متنازعہ فیصلوں کے ہجوم میں کوئی ایک بھی جج ایسا نہیں ہے جو اپنی کسی غلطی کا اعتراف کرے یا یہ اعلان ہی کردے کہ جب تک سیاسی جانبداری اور گروہ بندی کے الزامات میں اس کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس کا فیصلہ نہیں ہوتا، وہ اس وقت تک اس عہدے سے رخصت لے لیتا ہے۔ جیسا کہ ناروے کی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج سکوگ ہائے نے جب محسوس کیا کہ وہ جج کے طور پر فرائض انجام دینے میں مشکل محسوس کر رہے ہیں تو انہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں ہی تعلیمی رخصت پر جانے کا فیصلہ کیا اور عدالتی عمل کا حصہ بننے سے گریز کیا۔ اب دو سال پہلے پنشن لے کر انہوں نے خود ہی یہ اعتراف کر لیا ہے کہ ان کا جج کے منصب پر فائز رہنا مناسب نہیں ہو گا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تو پارلیمنٹ کی قانون سازی تک کو خاطر میں نہیں لاتے۔ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مجریہ 2023 کے تحت چیف جسٹس کے سوموٹو اختیارات کو تین سینئر ترین ججوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور بنچ سازی پر کچھ قدغن عائد کی تھیں لیکن چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تیزی سے ہم خیال ججوں کا آٹھ رکنی بنچ بنا کر ایک مختصر سماعت کے بعد ہی اس قانون کو کالعدم قرار دینے کا حکم دے دیا۔
کسی دلیل یا وضاحت کے بغیر پارلیمنٹ کے مشترکہ فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ان قابل احترام ججوں نے یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ اگر وہی قانون و آئین کا احترام نہیں کریں گے اور پارلیمنٹ کے قانون کو محض اس لئے عدالتی آزادی پر حملہ کہا جائے گا کہ اس سے ایک چیف جسٹس کے اختیارات محدود کیے گئے ہیں تو اس سے ملک میں قانون کے احترام کی کون سی مثال قائم ہوگی؟
اب پاکستان بار کونسل کے زیر انتظام ملک بھر کی وکلا تنظیموں کی کانفرنس نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ 13 اپریل کو جاری کیا گیا یہ حکم واپس لے اور ملکی سیاسی تقسیم کے ماحول میں فریق بننے سے گریز کیا جائے۔ ورنہ ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ گویا اب تصادم کی کیفیت محض سیاسی پارٹیوں، ججوں اور دیگر شعبوں میں ہی موجود نہیں ہے بلکہ وکیل بھی اعلان کر رہے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں وہ اعلیٰ عدلیہ کے طرز عمل سے مطمئن نہیں ہیں اور اس کے خلاف ممکنہ طور پر احتجاجی تحریک چلائی جا سکتی ہے۔
ناروے میں ایک جج نے ایک معمولی عذر پر اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز جج اس مثال سے کوئی سبق سیکھ سکتے ہیں؟ یا اسے ایک دور دراز ملک میں رونما ہونے والا ایک ایسا وقوعہ سمجھا جائے گا جس سے پاکستان جیسے بڑے اور ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کو کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے؟
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

