سینئر وکیل اعتزاز احسن کے بعد اب سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سانحہ نو مئی کے تناظر میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کے خلاف پٹیشن دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عام عدالتوں کے ہوتے ہوئے ملٹری کورٹس کے ذریعے شہریوں کا ٹرائل غیر آئینی ہے۔ درخواست گزار کا سپریم کورٹ سے کہنا ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے لیے حوالے کیے گئے افراد کی تفصیلات سامنے لائی جائیں اور فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
اس سے پہلے مشہور وکیل اعتزاز احسن بھی اسی قسم کی درخواست دائر کرچکے ہیں جسے ابھی تک سماعت کے لئے مقرر نہیں کیا گیا تاہم ایک سابق چیف جسٹس کی طرف سے دائر ہونے والی پٹیشن کے بعد سپریم کورٹ ایسی درخواستوں کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کر سکتی۔ درحقیقت ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو اس اہم موضوع پر ہونے والے قانونی و سیاسی مباحث کی روشنی میں ازخود رائے دینے کے لئے کارروائی کرنی چاہیے تھی تاکہ ملک میں اس موضوع پر اختلاف اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا ایک نیا سلسلہ روکا جاسکتا۔ اور شہریوں کے حقوق، نظام انصاف کی فعالیت اور نو مئی کے بعد سامنے آنے والی نئی صورت حال میں ملک کے اعلیٰ ترین فورم کی رائے موجود ہوتی تاکہ راست قانونی طریقے پر عمل ممکن ہو سکتا۔
البتہ سپریم کورٹ نے اس اہم معاملہ میں کسی قسم کی دلچسپی لینے کی زحمت نہیں کی بلکہ چند روز پہلے اعتزاز احسن کی طرف سے دائر ہونے والی پٹیشن پر بھی کوئی عدالتی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ تاہم اب تازہ درخواست کے بعد یہ واضح ہو رہا ہے کہ ملکی سپریم کورٹ زیادہ دیر تک کسی غیر واضح مصلحت کا سہارا لے کر اس معاملہ کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اسے جلد یا بدیر اس معاملہ پر قانونی و آئینی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔
نو مئی کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات پر شہریوں کے حملوں کے بعد پاک فوج کی کور کمانڈر کانفرنس نے ایسے تمام شہریوں اور ان کے معاونین کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا تھا جو ان حملوں میں ملوث تھے۔ حکومت نے پہلے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اور پھر کابینہ کی طرف سے اس فیصلہ کی توثیق کی بلکہ قومی اسمبلی میں سانحہ نو مئی میں ملوث لوگوں کے خلاف مقدمے چلانے کی قرار داد بھی منظور کرلی گئی۔ بدقسمتی سے اس اہم قانونی و آئینی معاملہ پر فیصلہ کرتے ہوئے نہ تو فوجی قیادت نے غور و خوض کرنے اور حکومت سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی حکومت نے کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلے کے بعد فوجی قیادت کو اس معاملہ کے آئینی پہلوؤں اور بنیادی شہری حقوق کے حوالے سے صورت حال پر قائل کرنے کی کوشش کی۔ اس کی بجائے شہباز شریف کی حکومت نے بڑھ چڑھ کر فوجی قیادت کے فیصلے کو درست قرار دیا جس کا ایک نمونہ قومی اسمبلی کی قرارداد کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔
فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمے چلانے کے حوالے سے اس وقت ملک میں دو آرا موجود ہیں۔ متعدد قانون دان اور وکلا تنظیمیں اس کارروائی کو آئین میں انسانی حقوق کی ضمانت کے خلاف قرار دیتی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جب ملک کا نظام عدل کام کر رہا ہے اور ایک آئینی سویلین حکومت بھی موجود ہے تو پھر ایک سانحہ کے بعد کیسے عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلا کر انہیں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس طریقہ کو آئین میں بنیادی حقوق کے لئے فراہم کی گئی ضمانت کے برعکس بتایا جا رہا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ شہریوں کے کسی جرم کے خلاف ان پر آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کیوں کر کیا جاسکتا ہے۔ یہ قوانین تو مسلح افواج یا سرکاری ملازمین کے بارے میں ہیں۔ تاہم دوسری طرف حکومت کا موقف ہے کہ آرمی ایکٹ ملکی آئین کے تحت نافذ قانون ہے اور اس کا اطلاق ہر اس شخص پر ہونا چاہیے جو عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہوا ہو۔ اس ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں ہی مقدمہ چلانا ضروری ہے تاکہ قصور واروں کو فوری طور سے ان کے کیے کی سزا دی جا سکے۔
اس حوالے سے یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ سول عدالتوں میں مقدمے چلا کر سزائیں دلوانا مشکل مرحلہ ہے۔ اس بارے میں سول عدالتوں سے سانحہ 9 مئی میں ملوث لوگوں کو ملنے والی ضمانتوں کا حوالہ دے کر بھی نظام قانون کی سستی اور عدم فعالیت کے بارے میں دلیل دی جاتی ہے۔ حیرت ہے حکومت نے انصاف فراہم کرنے کے نظام میں اس کمزوری کو دور کرنے کے لئے اقدامات یا قانون سازی کی بجائے احتجاج میں حد سے گزرنے والے شہریوں کے مقدمات کو فوجی عدالتوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ اس موضوع پر سامنے آنے والے اعتراضات کا کوئی ٹھوس جواب دینا یا پارلیمنٹ میں ان پر مباحثہ کا آغاز کرنے کی بجائے عجلت میں فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد منظور کروا کے فوج کو خوش کرنے کا اہتمام کیا گیا۔
فوج بلاشبہ اس ملک کا اہم ادارہ ہے اور اس پر سرحدوں کی حفاظت اور شہریوں کو احساس تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ فوج کے خلاف سرزد ہونے والے کسی جرم کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں کو سخت ترین سزائیں دینا چاہئیں۔ لیکن بہتر ہو گا کہ یہ کام کسی قانون و ضابطہ کے تحت کیا جائے اور عجلت میں فیصلے کر کے عوام کے اعتماد کو مزید ٹھیس نہ پہنچائی جاتی۔ سانحہ 9 مئی میں فوج متاثرہ فریق ہے۔ اس لئے فوج کو ہی ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمے سننے اور سزائیں دینے کا اختیار دے دیا جائے گا تو اس کا یہی مطلب ہو گا کہ جس شخص یا ادارے کے خلاف کوئی زیادتی ہو تو اسے خود ہی منصف بن کر حکم صادر کرنے کا اصول تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ایسا کوئی بھی طریقہ جنگل کے قانون کے مترادف ہے جسے کسی مہذب آئینی ریاست میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت اس معاملہ میں بے جا طور سے فوج کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک رہی ہے۔ اس کے پاس پارلیمنٹ کی طاقت تھی اور وہ اس پلیٹ فارم کو نئی صورت حال سے نمٹنے کے لئے استعمال کر سکتی تھی تاکہ فوج کی شکایت بھی دور ہوجاتی اور بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی بھی سرزد نہ ہوتی۔ تاہم حکومت نے فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کا اصول مان کر انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ذریعے شہریوں کو فوج کے حوالے کرنے کے فیصلے بھی حاصل کرنے شروع کر دیے۔ اس عجلت کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں بھی سننے میں آ رہی ہیں کہ اس طریقہ سے درحقیقت تحریک انصاف پر دباؤ بڑھانا مقصود ہے۔ اور بالآخر سانحہ 9 مئی کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں عمران خان کو کسی فوجی عدالت سے سزا دلوائی جائے گی۔ ایسی کسی خواہش کی تکمیل ملک میں سیاسی و شہری آزادیوں کے حوالے سے متعدد سنگین سوالات سامنے لائے گی۔
پٹیشنز کی صورت میں جو سوال اعتزاز احسن اور سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اب سپریم کورٹ کے سامنے لائے ہیں، وہی سوال درحقیقت حکومت کو ریفرنس کی صورت میں عدالت عظمی کو بھیجنا چاہیے تھا۔ خاص طور سے جب کور کمانڈر کانفرنس میں آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے قائم کرنے کی بات کی گئی تھی تو حکومت کو اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا تاکہ فوج کی تسلی بھی ہوجاتی اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت آئین و قانون کی روشنی میں کوئی ایسا فیصلہ دیتی جو مستقبل میں بھی نظیر بنتا۔ تاہم اس مناسب اور راست اقدام کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اسی لئے اس شبہ کو تقویت مل رہی ہے کہ حکومتی پارٹیاں اپنے سیاسی فائدے کے لئے سانحہ 9 مئی کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی طرح تحریک انصاف اور عمران خان سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ کسی جمہوری حکومت کے بارے میں ایسا شائبہ ایک بدنما داغ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن حکومتی پارٹیاں فوری سیاسی فائدے کے لئے اصولوں یا شہرت کی پروا کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
اب سپریم کورٹ کے سامنے دو اہم افراد کی طرف سے آئینی درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔ فوج کی کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلے اور حکومتی تائید کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ کے لئے بھی ایک مشکل مسئلہ بن چکا ہے لیکن وہ اس سے نظر چرا کر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ بہتر ہو گا کہ اس معاملہ پر مناسب کارروائی کر کے ٹھوس عدالتی رائے سامنے لائی جائے۔ اس عمل میں فوج کو معاملہ کے آئینی و قانونی پہلوؤں سے آگاہ کر کے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو سب چاہتے بھی ہیں اور سب کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ ملک میں انارکی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سبق سکھا جا سکے۔ البتہ اس کے لئے سویلین نظام عدل کے تحت ہونے والی کارروائی ہی قابل قبول طریقہ ہو گا۔
سپریم کورٹ اس معاملہ میں فوجی عدالتوں سے مقدمات واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات میں کسی زیریں عدالت کو اپنی نگرانی میں کام کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے اور فیصلوں کے لئے مدت کا تعین بھی جا سکتا ہے۔ پاناما کیس میں سپریم کورٹ اس قسم کی روایت قائم کرچکی ہے۔ یوں عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف موثر اور جلد فیصلے کرنے کی خواہش پوری ہو جائے گی۔
فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے پر اصرار کی بنیادی وجہ عدالتی نظام میں مقدموں پر فیصلوں کا پیچیدہ عمل ہے۔ سپریم کورٹ موثر اور فوری انصاف کی ضامن بن جائے تو معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)

