طویل کھینچا تانی کے بعد جمعرات 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ صدر عارف علوی نے اسمبلی نامکمل ہونے کا عذر بنا کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد وزارت پارلیمانی امور نے وزارت قانون اور سابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی مشاورت سے اجلاس دس بجے صبح طلب کیا۔ تاہم نصف شب کے لگ بھگ صدر علوی نے بھی اجلاس بلانے کے لیے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے تھے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس بلانے کے ایک آسان معاملے کو ہفتہ عشرہ تک موضوع بحث بنایا گیا۔ اس دوران میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت متعدد سیاست دانوں نے 29 فروری تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کو آئینی تقاضا قرار دیا تھا۔ آئین کے مطابق انتخابات کے انعقاد سے 21 دن کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلانا لازم ہے۔ تاہم صدر عارف علوی نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کو عذر بنا کر اجلاس بلانے سے انکار کیا۔ اس طرز عمل پر بلاول بھٹو زرداری نے متنبہ کیا تھا کہ اس کوتاہی پر عارف علوی کو آئین شکنی کے الزام میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آج الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے لیے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں میں حصہ دینے کے سوال پر غور کیا اور حتمی فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سماعت کے دوران میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے انکشاف کیا کہ سنی اتحاد کونسل تو ایک خط میں الیکشن کمیشن سے کہہ چکی ہے کہ ان کی پارٹی نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی اسمبلیوں میں اس کا کوئی رکن منتخب ہوا ہے، اس لیے اسے خصوصی نشستوں کا کوٹہ نہیں چاہیے۔ تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے اس خط کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وکیلوں نے ایک ایسی جماعت کو خصوصی نشستوں کا کوٹہ دینے کی مخالفت کی جسے پارلیمانی حیثیت ہی حاصل نہیں ہے۔ ان کا موقف تھا کہ یہ نشستیں دیگر جماعتوں کو ان کی نمائندگی کے مطابق ملنی چاہئیں۔
اس قانونی بحث سے قطع نظر لگتا ہے کہ سنی اتحاد کونسل، تحریک انصاف کے ’آزاد‘ ارکان کی شمولیت کے بعد کس حد تک خصوصی نشستوں کے کوٹے کی حقدار ہے، تحریک انصاف کی سنی اتحاد کونسل جیسی چھوٹی سیاسی پارٹی میں شمولیت سے خصوصی نشستوں کے بارے میں اس کا سیاسی موقف کمزور ہوا ہے۔ تحریک انصاف سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد انتخابی نشان واپس لیا گیا تھا لیکن پی ٹی آئی پر پارٹی کے طور پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔ اسی نکتہ کی بنیاد پر سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے کہ انتخابی حوالے سے انہیں آزاد رکن کی بجائے تحریک انصاف کا امید وار سمجھا جانا چاہیے۔ یہ نکتہ قابل غور بھی ہے اور سپریم کورٹ کو اس کی قانونی حیثیت کی وضاحت بھی کرنی چاہیے۔ تحریک انصاف اگر اس اصول پر قائم رہتی اور انتخابات کے بعد آزاد حیثیت میں جیتنے والے ارکان کو ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی میں شامل کر کے خصوصی نشستوں کا تقاضا کرتی تو شاید الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے میں زیادہ غور و خوض کی ضرورت نہ پڑتی۔
تاہم غلط فیصلے کرتے ہوئے اور پھر انہیں سیاسی مباحث کا حصہ بنا کر ملک میں بدمزگی، بے اعتباری اور گروہی تقسیم کا افسوسناک ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ پاکستان کی حد تک انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حتی کہ 1970 کے جن انتخابات کے بارے میں اتفاق رائے سے کہا جاتا ہے کہ وہ شفاف اور منصفانہ تھے، ان کے بارے میں بھی بعض حلقوں میں شبہات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ چالیس سال میں ہونے والے کسی انتخاب کو کبھی شفاف نہیں سمجھا گیا۔ ان کے خلاف احتجاج بھی ہوا اور پھر اسمبلیوں میں بیٹھ کر سیاسی کام کرنے کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ تحریک انصاف جو اس وقت ’مینڈیٹ چوری‘ کو قومی کیا، عالمی نعرہ بنانے کی شدید تگ و دو کر رہی ہے، 2018 کے انتخابات میں شدید دھاندلی شدہ انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار حاصل کر پائی تھی۔ بلکہ شدید دھاندلی کے باوجود اور انتخابات سے پہلے زور زبردستی الیکٹ ایبلز کو تحریک انصاف میں دھکیلنے کے باوصف پارٹی قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی اور اسے ایم کیو ایم پاکستان سمیت متعدد چھوٹی پارٹیوں کا تعاون حاصل کرنا پڑا تھا۔ اب عمران خان اسی ایم کیو ایم سے بات چیت کرنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔
بنیادی نکتہ صرف یہ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام مانا جاسکتا ہے تاہم اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی کی دو سو سے زیادہ نشستیں جیت کر باقی پارٹیوں کو اسمبلیوں اور سیاست سے باہر کرچکی تھی لیکن راتوں رات نتائج تبدیل کر دیے گئے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف فارم 45 کا تواتر سے ذکر کرتی ہے۔ پریس کانفرنسوں، ٹاک شوز یا سوشل میڈیا پروپیگنڈے میں اس فارم کی بنیاد پر انتخابات کو جعلی قرار دینے کی لگاتار کوشش کی جا رہی ہے۔ اب جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ متعدد دوسری جماعتیں بھی اس ہنگامہ آرائی میں شامل ہو گئی ہیں۔ اگر اس دلیل کو جائز مان لیا جائے تو بھی ان پارٹیوں کو ہر حلقے کے تمام فارم 45 کی بنیاد پر اپنا مقدمہ کسی عدالتی فورم پر ثابت کرنا ہو گا۔ تب ہی یہ دعویٰ مانا جاسکتا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی یا بے قاعدگی کی کیا نوعیت رہی ہے۔ الیکشن کمیشن اور ٹریبونلز میں شکایات ضرور آئی ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسلام آباد کی نشستوں کے لیے مقدمہ بھی قائم کیا گیا ہے لیکن کسی بھی پلیٹ فارم پر اب تک ایسا کوئی دعویٰ ثابت نہیں کیا جا سکا۔ اگر عدالتی نظام کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے، پھر بھی پریشان حالی عام کرنے کی بجائے تحریک انصاف و دیگر کو اپیلوں و شکایات پر فیصلوں کا انتظار کرنا چاہیے تاکہ ان کی بات میں وزن پیدا ہو۔ یوں بھی جب عدالتیں ہی کسی بھی حلقے کے بارے میں سامنے آنے والے نتیجہ کو مسترد کر دیں گی تو متعلقہ پارٹی کی حق تلفی کا معاملہ خود ہی طے ہو جائے گا۔
لیکن یہ طریقہ اختیار کرنے پر کام نہیں کیا جا رہا۔ اس کی بجائے پروپیگنڈا پر زور ہے اور ملک میں قائم ہونے والی متوقع حکومت کو بے اعتبار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں تحریک انصاف نے اب تصدیق کردی ہے کہ اس نے آئی ایم ایف کو انتخابی نتائج کا آڈٹ کروانے کے لیے خط لکھا ہے۔ آج اسلام آباد میں تحریک انصاف کے لیڈروں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا۔ پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بدھ کو بانی چیئرمین عمران خان کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ جب یہ خط واشنگٹن پہنچے گا تو پھر اسے میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس خط میں پاکستان کی معیشت کے خلاف کچھ نہیں لکھا گیا بلکہ آئی ایم ایف کو صاف و شفاف انتخابات کا وعدہ یاد دلایا گیا ہے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کا کہنا تھا کہ جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے پروگرام شروع کیا تھا تو عمران خان کی مرضی معلوم کی گئی تھی۔ تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے صاف و شفاف انتخابات کی ضمانت مانگی تھی جو فراہم کردی گئی تھی۔ پارٹی کے لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم ایف کو اب اپنے وعدے کے مطابق پاکستان میں دھاندلی کے الزامات کی ’تحقیقات‘ کروانی چاہئیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف جیسا عالمی مالیاتی ادارہ کس بنیاد پر کسی ملک کے ایک سیاسی لیڈر یا پارٹی کے ساتھ انتخابات کی ’شفافیت‘ کے بارے میں کوئی وعدہ کر سکتا ہے۔ یہ تو مانا جاسکتا ہے کہ آئی ایم ایف نے جب شہباز حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کی تو تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی رائے بھی مانگی گئی ہو۔ البتہ یہ کہنا ناقابل اعتبار ہے کہ آئی ایم ایف نے شفاف انتخابات کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد عمران خان نے امدادی پروگرام کی ’اجازت‘ دے دی تھی۔ اب اسی وعدے کو پورا کرنے کے لیے خط لکھا گیا۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہو سکتا کہ یہ خط پاکستان کے مالی مفادات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے نہیں لکھا گیا۔ تحریک انصاف آئی ایم ایف سے اس کے علاوہ اور کیا کہے گی کہ انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں اس کا موقف مان کر یہ ادارہ کسی آئندہ حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کرے۔
پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے اس سے گہرا اور کیا وار ہو سکتا ہے؟ آئی ایم ایف نے اگر تحریک انصاف کے ساتھ انتخابات کے بارے میں کوئی ’معاہدہ‘ کیا تھا، تو اس کے حوالے دینے اور سیاسی غلط بیانی کا سہارا لینے کی بجائے، اس معاہدہ کو عام کر دیا جاتا تاکہ پاکستانی عوام خود ہی جان لیتے کہ بیرونی ادارے کیوں کر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ لین دین کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کا یہ دعویٰ بظاہر ویسے ہی بے بنیاد لگتا ہے جیسے اس کا یہ خواب کہ اسے قومی اسمبلی کی دو سو سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اگر خواہشات کی بنیاد پر عوامی نمائندگی کا حق تفویض کیا جائے گا تو ہر پارٹی اپنی علیحدہ اسمبلی بنا کر بزعم خویش ملک پر حکمرانی کا دعویٰ کرے گی۔
انتخابات میں دھاندلی کی نوعیت، حجم یا اس کے نتائج پر مرتب ہونے والے اثرات کا اندازہ دو ہی صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ تحریک انصاف اور دیگر متاثرہ فریق اپنا اپنا مقدمہ عدالتوں میں لے جائیں اور ایک ایک حلقے میں اپنا دعویٰ جیت لیں۔ یہ سب سے موثر، کسی شک و شبہ سے بالا اور شفاف طریقہ ہو گا۔ شفاف انتخابات کا مطالبہ کرنے والوں کو اپنے طرز عمل میں کم از کم اتنی شفافیت تو دکھانی ہی چاہیے۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ملک کی نئی حکومت تحقیقات کا اہتمام کرے اور کوئی عدالتی کمیشن 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کردے۔ واضح رہے کہ 2018 کے انتخابات کے بارے میں شدید تحفظات اور الزامات کے باوجود عمران خان کی حکومت نے ان کی عدالتی تحقیقات کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ البتہ نواز شریف کی حکومت نے 2013 کے انتخابات کی عدالتی تحقیقات کروائی تھیں جن میں دھاندلی کے بارے میں تحریک انصاف کے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
دھاندلی کہانی چونکہ رسیلی اور ہاتھوں ہاتھ بکنے والی ہے، اس لیے ایک طرف سیاسی پارٹیاں اعداد و شمار، حقائق اور مناسب فورمز پر بات کرنے کی بجائے نت نئے نعروں کے ساتھ خود کو منوانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اور دوسری طرف ملک کے ’مستعد و ہوشیار‘ صحافی، کالم نگار اور تجزیہ نگار ماضی کی کہانیاں سنا کر یا کسی ایک شخص کا قصہ بتا کر دھاندلی کو ایک مسلمہ حقیقت بنا کر پیش کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ ملک میں اگر سیاست نعرے کے گرد گھومتی ہے تو صحافت بھی چسکہ فروشی کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ ایسے میں انتخابات بہر حال دھاندلی زدہ اور صحافت شفاف کہلاتی رہے گی۔ رہا ملکی مفاد اور عوام کی سہولت کا معاملہ تو دکانداری کرنے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

