اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کی قرار داد منظور ہونے کے باوجود اسرائیل نے جنگ اور ہلاکت خیزی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 25 مارچ کو جنگ بندی کی قرار داد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران غزہ میں جنگ بند کی جائے، حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے اور غزہ کے شہریوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل میں سہولت فراہم کی جائے۔
اس قرارداد کی حمایت میں 14 ممالک نے ووٹ دیا تھا جبکہ امریکہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ امریکہ اس سے پہلے جنگ بندی کی ہر قرار داد کو ویٹو کرتا رہا ہے تاہم اس معاملہ میں عالمی دباؤ کی وجہ سے اس نے اس بار ویٹو سے گریز کیا البتہ اسرائیل سے محبت نبھانے کے لیے ووٹنگ میں بھی حصہ نہیں لیا۔ سلامتی کونسل کی قرار منظور ہونے کے باوجود غزہ میں جنگ بند نہیں کی گئی اور اسرائیل تمام عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کے مطالبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں جنگ جوئی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے سلامتی کونسل کی قرار داد کے باوجود اسرائیل کی فوجی امداد بند نہیں کی بلکہ امریکہ سے اسرائیل کے لیے اسلحہ کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ بائیڈن حکومت اسرائیل کو کئی ارب ڈالر کی نئی فوجی امداد دینے کے ایک منصوبہ پر بھی کام کر رہی ہے۔
سوموار کو شمالی غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کرنے والے 7 کارکن ٹارگٹ بمباری کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ لوگ امریکی امدادی تنظیم ورلڈ سنٹرل کچن کے لیے کام کرتے تھے اور ان میں متعدد ملکوں کے شہری شامل تھے جن میں برطانوی شہری بھی تھے۔ امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک نے اس حملہ کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران میں عالمی عدالت انصاف بھی اسرائیل کو غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد فراہم کرنے میں سہولت کاری کا حکم دے چکی ہے لیکن تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی حکومت اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہے اور غزہ میں جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حماس مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ اسرائیل اپنے یرغمال شہریوں کے بدلے میں چند ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی پیش کش کر رہا ہے جسے حماس نے مسترد کر دیا ہے۔
ورلڈ سنٹرل کچن نے بتایا ہے کہ اس کی ٹیم وسطی غزہ کے ایک اسٹور پر ایک سو ٹن امدادی سامان پہنچا کر واپس جا رہی تھی اور اسرائیلی حکام کو اس بارے میں معلومات فراہم کردی گئی تھیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور اسرائیلی فوج کے سربراہ نے اس سانحہ پر معافی مانگی ہے اور اسے شناخت کی غلطی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی لیکن اس معاملہ میں غلطی سرزد ہوئی ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس وضاحت کو امدادی کام کرنے والی تنظیموں اور غزہ میں جاری جنگ کی صورت حال سے آشنا لوگوں نے مسترد کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس جنگ میں اندھا دھند طاقت کا استعمال کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ بن چکی ہے جس میں کسی اصول و ضابطہ کی پاسداری نہیں کی جاتی۔
عام طور سے حماس کو اسی لیے دہشت گرد تنظیم کہا جاتا ہے کہ وہ فلسطین کی آزادی کے مقصد سے جنگ میں شہریوں کو نشانہ بنانے کو بھی جائز جنگی ہتھکنڈا قرار دیتی ہے۔ گزشتہ سال 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کرتے ہوئے حماس کے جنگجوؤں نے شہری یا فوجی کی تخصیص کیے بغیر لوگوں کو ہلاک کیا تھا اور اڑھائی سو کے لگ بھگ لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس طریقہ کو دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت سے یک طرفہ جنگ جوئی میں اسرائیل غزہ میں 34 ہزار افراد کو ہلاک کرچکا ہے۔ پورے علاقے کی آبادی کو پناہ گزین مراکز میں دھکیل دیا گیا ہے۔ غزہ کے لیے امداد کے تمام راستے مسدود کیے گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس علاقے میں قحط کی صورت حال موجود ہے۔ اس وقت اسرائیلی جنگ جوئی ریاستی دہشت گردی کے زمرے میں ہی آتی ہے۔ کوئی عسکری طاقت اس کے مدمقابل نہیں ہے لیکن اسرائیل حماس کو ختم کرنے کا نام لے کر اس وقت غزہ کے زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ آزادی کی جد و جہد میں شامل ہر قسم کی آواز کو خاموش کروانا چاہتا ہے۔ غزہ کی جنگ کا ایک پہلو تو انسانوں کی ہلاکت اور املاک کی تباہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی فلسطینی تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے لیے ہزاروں نوجوان فلسطینیوں کو گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ اس تمام تر بربریت کے باوجود اسرائیلی فوج اپنے ایک سو کے لگ بھگ شہریوں کو رہا نہیں کروا سکی جو اب تک حماس کے پاس یرغمال ہیں اور لگ بھگ چھے ماہ کی جنگ اور غزہ کی مکمل تباہی کے باوجود اسرائیل ساڑھے تین سو کلو میٹر کے اس علاقے میں اپنے لوگوں کو تلاش کر کے رہا نہیں کروا سکا۔ اسی لیے وہ مسلسل مصر و قطر کے ذریعے حماس کو عارضی جنگ بندی کی پیش کش کر کے اپنے شہری رہا کروانا چاہتا ہے۔
ڈاکٹروں کی تنظیم ایم ایس ایف (ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز میڈیکل چیریٹی) نے اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے کہ ورلڈ سنٹرل کچن کے کارکنوں پر حملہ ’افسوسناک واقعہ‘ ہے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل کرسٹوفر لوک ائر نے کہا ہے کہ ماضی میں امداد فراہم کرنے والے کارکنوں، طبی عملے، صحافیوں اور اسکولوں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ اس لئے سوموار کو ورلڈ سنٹرل کچن کی تین گاڑیوں پر حملہ اور سات افراد کی ہلاکت اسرائیلی طریقہ کار کے مطابق کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے یا تو جان بوجھ کر کیے جاتے ہیں یا یہ انتہائی نا اہلی کا ثبوت ہے۔ ورلڈ سنٹرل کچن کے کارکنوں پر حملے سے واضح ہو رہا ہے کہ جب کسی قاعدے قانون کے بغیر کوئی جنگ لڑی جا رہی ہو تو تنازعہ کم کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ایم ایس ایف نے بتایا ہے کہ نومبر میں اس کے کارکنوں پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ ایم ایس ایف کے سیکرٹری جنرل نے بتایا ہے کہ امدادی کارکن اپنی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کے بارے میں اسرائیلی حکام کو پیشگی اطلاع دیتے ہیں۔ اس لیے ان پر حملے اور ہلاکتوں کو محض اندازے یا شناخت کی غلطی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ کسی قاعدے قانون کے بغیر لڑی جانے والی جنگ میں ایسے ناجائز ہتھکنڈے استعمال کر کے دہشت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
اس دوران میں دو صحافتی اداروں کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ جوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایک پروگرام ’لیونڈر‘ بنایا ہے جس کے ذریعے حماس کے ممکنہ کارکنوں کو شناخت کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی فوج اس اصول پر عمل کرتی ہے کہ اگر حماس کے ایک معمولی کارندے کو مارنے کے لیے پندرہ بیس شہریوں کو بھی ہلاک کرنا پڑے تو دریغ نہ کیا جائے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی فوج مصنوعی ذہانت کے اسی پروگرام کی مدد سے بمباری کرتی رہی تھی۔ اس قسم کے حملوں کو اندھادھند طاقت کے استعمال کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے اسی پروگرام نے طے کیا ہے کہ غزہ میں 37 ہزار فلسطینی مشکوک شدت پسند ہیں یا ان کا حماس سے تعلق ہے۔ اس طرح اسرائیلی فوج ان لوگوں کو مارنے کے لیے شہری آبادیوں، ہسپتالوں حتی کہ اسکولوں کو نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔
اقوام متحدہ کی قرار داد اور دنیا بھر سے اسرائیلی جنگ جوئی کی مذمت کے باوجود امریکہ مسلسل اسرائیل کو جنگی ساز و سامان فراہم کر رہا ہے۔ خبروں کے مطابق سوموار کو امدادی تنظیم کے کارکنوں کی ہلاکت کے باوجود بدھ کو امریکہ سے گولہ بارود کی ایک نئی کھیپ امریکہ سے اسرائیل روانہ کی گئی تھی۔ اگرچہ وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس ترسیل کا پہلے سے فیصلہ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک امریکہ نے اسرائیل کے لیے فوجی امداد کی روکنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔ باقی دنیا کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا حوالہ دے کر قانون کا احترام سکھانے والی امریکی قیادت اب سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی کی قرار داد کے بعد منہ میں گھنگنیاں ڈالے ہوئے ہے۔ اور اسرائیل معصوم فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ اب امدادی سامان فراہم کرنے پر والے کارکنوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
اس دوران میں اسرائیلی کنیسٹ نے 10 کے مقابلے میں 71 ووٹوں کی اکثریت سے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت حکومت کو اسرائیلی سلامتی کے خطرہ بننے والے میڈیا ہاؤسز کو بند کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس قانون کے تحت الجزیرہ کو فوری طور سے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل الجزیرہ کی نشریات اور رپورٹنگ سے خوفزدہ رہا ہے اور اسے اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ الجزیرہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ اسرائیلی حکومت کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے نتیجے میں دنیا بھر میں اس کے عملے یا املاک کو نقصان پہنچتا ہے تو اس اشتعال انگیزی کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔ امریکہ کے علاوہ عالمی صحافی تنظیموں نے میڈیا کا گلا گھونٹنے کی حرکتوں کو جمہوری روایت اور عالمی اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے۔
اسرائیل اپنی تمام تر فوجی طاقت کے باوجود غزہ کے نہتے لوگوں سے یہ جنگ ہار رہا۔ گولہ و بارود سے پھیلائی گئی ہلاکت و تباہی کے باوجود غزہ کے فلسطینی آزادی اور خود مختاری کے لیے پرعزم ہیں۔ نہتے شہریوں کے خلاف ایک طاقت ور فوج کی اس سے بڑی ناکامی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اسرائیل اگرچہ حماس کا نام لے کر غزہ پر حملے کرتا ہے لیکن یہ جنگ درحقیقت ہر فلسطینی اور آزادی کی خواہش رکھنے والے ہر شہری کے خلاف ہے۔ اسی لیے اسرائیل اس میں ناکام ہے اور اب جنگ کی اس دلدل سے نکلنے کے لیے اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی جنگ جوئی کا کل انحصار امریکی امداد پر ہے لیکن دنیا کی رائے عامہ میں بڑھتا ہوا غم و غصے کی حدت اب واشنگٹن میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
اس جنگ کا ایک ہی منصفانہ حل ہے کہ دو ریاستی اصول کی بنیاد پر فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور اسرائیل اس ریاست کو فلسطینی عوام کی جائز نمائندہ کے طور پر منظور کرے۔ اسرائیل پر جب تک انتہا پسند سیاست دانوں کا غلبہ ہے اور امریکہ اس شدت پسندی کو قبول کرتا رہے گا، اس وقت تک اسرائیلی دہشت گردی کی روک تھام بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن غزہ میں اسرائیلی فوج کی ناکامی اور بدحواسیوں سے اسرائیل اور امریکہ کے آپشن محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

