ملک میں عمران خان کو ریلیف ملنے کی بات ہورہی اور کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف اور اسٹبلشمنٹ میں مصالحت کے امکانات روشن ہیں۔ خاص طور سے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ امین گنڈا پور کی کابینہ سمیت کور کمانڈر ہاؤس میں افطار دعوت میں شرکت کا حوالہ دیا جارہا ہے جس کے دوران میں صوبائی کابینہ کو سکیورٹی امور پر بریفنگ بھی دی گئی۔
بعض صحافیوں کا خیال ہے کہ امین گنڈا پور دراصل فوج کے ساتھ عمران خان کی صلح کروانے میں اہم کردار ادا کررہےہیں ۔ صحافی اعزاز سید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت اور ان کے دوستوں کی طرف سے عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ اگر وہ جیل سے باہر آ کر خاموشی کے ساتھ مثبت سیاست کریں اور سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کریں تو وہ باہر آ کر اپنی سیاست کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ پی ٹی آئی رہنماؤں کے رابطے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر عمران کی طرف سے ایک بار پھر احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی تو انہیں دوبارہ بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے‘۔
خیبر پختون خوا حکومت اور فوج کے درمیان براہ راست رابطوں کے علاوہ بعض لیڈروں رہائی اور بعض مقدمات میں عمران خان کو ریلیف ملنے کے حوالے سے بھی یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ عمران خان کے معاملے میں اسٹبلشمنٹ کا رویہ نرم ہؤا ہے ۔اسی لیے امید ہے کہ چند ہفتوں میں انہیں رہائی مل جائے گی۔ اگرچہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان رؤف حسن کا کہنا ہے کہ ’اس وقت مفاہمت کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ عمران خان کو مقدمات میں میرٹ پر ریلیف مل رہا ہے کیوں کہ ان کے خلاف تمام مقدمے جھوٹے ہیں اور زیریں عدالتوں سے ذبردستی انہیں سزائیں دلوائی گئی تھیں‘۔ رؤف حسن کا کہنا تھا کہ عمران کے خلاف کیسز میں نچلی عدالتوں کے ججز کو دباؤ میں لایا گیا تھا اور ان کی گردن پر انگوٹھے رکھ کر فیصلے لیے گئے لیکن اب یہ مقدمے بڑی عدالتوں میں ہیں۔ عدلیہ کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں جو بھی ہوا ، اس کے بعد اب عدلیہ بھی اس تمام صورت حال سے تنگ آ چکی ہے ۔ اب ان کی برداشت کی حد ہو چکی ہے۔
گویا ایک طرف صحافی یہ خبر لا رہے ہیں کہ تحریک انصاف اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کے ذریعے معمول کے مطابق سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے اشارے دے رہی ہے تو دوسری طرف پارٹی کے ترجمان کا اصرار ہے کہ ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔اس دوران البتہ عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ہفتے کے دن صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا نام لے کر ان پر الزامات لگائے تاہم یہ بھی کہا کہ وہ بات چیت پر تیار ہیں۔ اس گفتگو میں عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر الزام لگایا کہ ’انہوں نے مجھے توڑنے کے لیے توشہ خانہ ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دلوائی‘۔ اسی روز ایکس پر ایک بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ’ساری قوم کو پتہ ہے کہ جنرل عاصم منیر ملک چلا رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر اور نواز شریف کے درمیان لندن پلان ہوا جس کے تحت ججوں کو بھی ساتھ ملایا گیا اور آئی ایس آئی نے ججوں کی تقرریاں کروائیں‘۔ اس بیان میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری سے پہلے صدر عارف علوی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ ہم تمہارے مخالف نہیں لیکن مجھے لندن پلان کے بارے میں معلوم ہے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ صحافی کی خبر ہو یا سیاسی لیڈروں کی باتیں، ان میں فوکس اسٹبلشمنٹ اور فوج کے ساتھ مفاہمت، بات چیت یا پھر لڑائی پر ہی رہتا ہے۔ البتہ عمران خان کے الزامات سے بھرپور بیان سے قطع نظر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف اب اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر معاملات طے کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اگرچہ عمران خان نے کبھی بھی فوج کے ساتھ مفاہمت و مواصلت سے انکار نہیں کیا بلکہ یہ شکوہ نما اصرار کرتے رہے ہیں کہ ’ان سے کوئی رابطہ ہی نہیں کرتا‘۔ اس بات کو مزید سمجھنے کی کوشش کی جائے تو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لینے والے صحافی و کالم نگار ایاز امیر کی بات پر غور کیا جاسکتا ہے کہ ’پاکستان کا سیاسی سٹرکچر ایسا بن چکا ہے کہ آپ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ بہت مضبوط پولیٹیکل پلئیر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا استحقاق ہے‘۔ گویا تحریک انصاف خواہ اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے حوالے سے جیسے بھی بلند بانگ دعوے کرے، حقیقت یہی رہے گی کہ وہ اپنی عوامی پزیرائی کی آڑ میں فوج سے مفاہمت کرنے اور اس طرح سیاست میں دوبارہ قابل قبول ہونے کا راستہ تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
یہ صورت حال کوئی نئی نہیں ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے رہبر اعلیٰ نواز شریف بھی اپنی پارٹی کے اقتدار کے لیے ’ووٹ کو عزت دو ‘ کے نعرے سے ہی دست بردار نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے خود بھی عملی طور سے اقتدار کی سیاست سے ’ریٹائرمنٹ‘ قبول کرلی تاکہ ان کے بھائی وزیر اعظم بن سکیں اور صاحبزادی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن جائے۔ نواز شریف بھی عوام کے حق انتخاب کی بات کرتے ہوئے ،پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے چاہتے تھے اور فوج سے مطالبہ کرتے تھے کہ سیاست دانوں کے ہاتھ باندھنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور انہیں خود مختاری سے ملک چلانے کا اہل سمجھا جائے کیوں کہ انہیں عوام منتخب کرتے ہیں۔ البتہ 8 فروری کے انتخابات میں جو صورت حال دیکھنے میں آئی ہے، اسے اکثر تجزیہ نگار جولائی 2018 کے انتخابات کا ری پلے قرار دے رہے ہیں۔ ملک میں عام طور سے یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی گئی تھی تاکہ تحریک انصاف اقتدار میں نہ آسکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ تجزیے بھی کیے جاتے ہیں کہ عوام نے 8 فروری کو ووٹ کے ذریعے درحقیقت یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف ہیں۔ بعض عناصر اسے پروٹسٹ ووٹ بھی کہتے ہیں۔ جس میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار بڑی اکثریت میں کامیاب ہوئے۔
البتہ تحریک انصاف قومی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی بننے کے باوجود سیاسی اور پارلیمانی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی کیوں کہ اس نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ اسے انتہائی ابتر سیاسی حالات میں قابل ذکر انتخابی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب اس قوت کوکسی ایسے سیاسی لائحہ عمل کی بنیاد بنایا جائے جس سے ملک میں سیاسی قوتیں مضبوط ہوں اور اسٹبلشمنٹ کی سیاسی طاقت میں کمی واقع ہو۔ عمران خان اگر حکومت سازی کے وقت دوسری دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کا دروازہ بند نہ کرتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ شہباز شریف وزیر اعظم منتخب ہونے میں کامیاب ہوجاتے۔ اس وقت تو ’حقیقی آزادی‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے احتجاج اور تصادم کو ہی واحد حل بتایا گیا تھا اور اسی اسٹبلشمنٹ کے لیےسہولت کار کا کردار ادا کیا جس پر اپنے ’ہرکاروں‘ کو اقتدار میں لانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اور اب ایک بار پھر اسی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کا ڈول ڈالا جارہا ہے جس پر ’لندن پلان‘ بنانے اور آئی ایس آئی کے ذریعے عدالتوں میں جج بھرتی کروانے کا الزام لگایا جاتاہے۔
تو کیا عمران خان کی ’حقیقی آزادی‘ کا حشر بھی نواز شریف کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے جیسا ہونے والا ہے۔ اور اگر واقعی ملکی سیاست میں اب یہ المیہ بھی رونما ہوگا تو عوام ووٹ دیتے ہوئے کیسے کسی لیڈر کے نعرے اور وعدے پر یقین کرسکتے ہیں۔ ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں عمران خان فوجی سرپرستی میں اقتدار پر قابض رہے اور اس دوران میں وہ کوئی ایسا قابل قدر کارنامہ انجام نہیں دے سکے جس سے ملک میں نئے سیاسی کلچر، معاشی اصلاح یا نظام حکومت کی شفافیت کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ جنرل باجوہ سے اختلافات کے بعد اقتدار سے محروم ہونے کے بعد اسی فوج اور اس کے سربراہ کو مطعون کرنے کا حربہ اختیار کیا گیا جو پی ٹی آئی حکومت کے سرپرست رہے تھے۔
اس کھیل میں اسٹبلشمنٹ کا کوئی اور نقصان ہو یا نہ ہو لیکن اس کی ساکھ ضرور داؤ پر لگی ہے۔ ایک تو ہر کس و ناکس یہ اعلان کرتا ہے کہ ملک میں تباہی کی اصل وجہ فوج کی سیاست ہے۔ دوسرے سیاسی لیڈر ایک طرف درپردہ مفاہمت و مصالحت کی باتیں کرتے ہیں لیکن عوام میں آکر وہ مزاحمتی لیڈر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ فوج فی الوقت اپنے کارپوریٹ مفادات کے تحفظ میں ضرور کامیاب ہے اور سیاسی اقتدار کے تمام ’کردار‘ اسی کی انگلیوں پر تھرکتے ہیں لیکن فوجی قیادت کی کسی سطح پر ضرور یہ احساس اجاگر ہونا چاہئے کہ جس ملک کے برتے پر یہ اللے تللے روا رکھے گئے ہیں، پے درپے غلطیوں کی وجہ سے اب اس کی معاشی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں اور یہ عمارت کسی وقت بھی ناقابل برداشت قرضوں کے بوجھ سے ڈھے سکتی ہے۔ معاشی بحالی کا انحصار اعتبار پر ہے اور جب منڈیوں کو یہی یقین نہ ہو کہ امور حکومت کون طے کرے گا تو سرمایہ کاری کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے۔
ممکن ہے کہ فوج سیاست کے کمبل سے جان چھڑا نا چاہتی ہو لیکن یہ کمبل اب اس کی جان نہ چھوڑتا ہو ۔ کیوں کہ نظام حکومت چلانے کے لیے سیاست دان پارلیمنٹ کو متبادل و فعال ورکنگ فورس بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ گزشتہ تین چار دہائیوں کے دوران میں انہوں نے محض اقتدار کی سیاست کی ہے جس کی وجہ سے مملکت کے مفادات اور نظام حکومت کے معاملات نظر انداز ہوتے رہے ہیں۔ ابھی تک اقتدار میں شامل یا اس سے باہر رہنے والی سیاسی قوتیں مسائل حل کرنے، شکایات کے ازالے اور نتیجتاً اقتدار میں شراکت داری کے لئے فوج ہی کی طرف دیکھتی ہیں۔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر فوج کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ’جائیے آپ اپنا کام کیجئے، ملکی معاملات ہم خود دیکھ لیں گے‘۔
ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے تناظر میں یہ بہت ہی آئیڈیل صورت حال ہو لیکن جس ملک کی مٹی نے ان سب کو اقتدارو شہرت کی یہ معراج عطا کی ہے، اس کا اتنا حق تو ہے کہ وہ ملک کو تماشہ بنانے والے سب کرداروں سے عقل کے ناخن لینے اور ذاتی نفرت کو بالائے طاق رکھ کر کوئی تعمیری کردار ادا کرنے کی توقع کرسکے۔
(بشکریہ:کاروان)
فیس بک کمینٹ

