اس سال مارچ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کی طرف سے عدالتی امور میں ایجنسیوں کی مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے معاملات پر سپریم جوڈیشل کونسل کے نام خط کے بعد عدالتی خود مختاری مسلسل موضوع بحث ہے۔ اب سپریم کورٹ کے ججوں نے مختلف مواقع پر تقاریر میں عدالیہ کی خود مختاری پر زور دیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی اس معاملہ پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران واضح کیا تھا کہ عدلیہ کی آزادی میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ البتہ کسی بھی آزادی کی طرح عدلیہ کی آزادی بھی غیر مشروط نہیں ہوسکتی۔ عدلیہ کی آزادی اسی وقت یقینی بنائی جاسکتی ہے جب اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے کردار اور ان کے طرز عمل کی نگرانی کا نظام بھی درست اور فعال ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ اگرچہ ان امور کی نگرانی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل موجود ہے لیکن اس کے کام کا طریقہ کار غیر واضح اور غیرمؤثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ججوں کے خلاف آنے والی اکثر شکایات پر غور ہی نہیں ہوپاتا ۔ا س دوران میں متعلقہ جج عہدے کی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوجاتا ہے اور اس کے کیے ہوئے فیصلوں کا بوجھ متاثرہ فریقوں کو اٹھانا پڑتا ہے لیکن جج ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ٹیکس دہندگان کے فراہم کردہ وسائل سے عیش و آرام کی زندگی بسر کرتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ’مقدس گائے‘ کا مقام دیا گیا ہے۔ ججوں کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت پر سپریم جوڈیشل کونسل ہی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے لیکن اکثر صورتوں میں اس کونسل کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان اس کا اجلاس بلانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔ ججوں کے احتساب کی صورت حال یوں بھی ناقابل فہم ہے کہ جج ہی کسی بدعنوان یا نااہل جج کا احتساب کرسکتے ہیں۔ اگر وہ کسی جج کی بے اعتدالی کو نظر انداز کرنے پر مصر ہوں تو کوئی ادارہ کسی جج سے اس کی کسی غلطی پر جواب دہی نہیں کرسکتا۔ ملک میں خود احتسابی کا یہی طریقہ فوج میں بھی موجود ہے۔ البتہ فوج کے مقابلے میں عدلیہ خود احتسابی کے معاملہ میں سست روی کا شکار رہی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججو ں کے کھلے خط میں اگرچہ اہم معاملہ کو زیر بحث لانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس میں ججوں کی ذمہ داری کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی تھی۔ اس خط سے یہی اندازہ ہوتا تھا جیسے صرف ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہی ’کالی بھیڑیں‘ ہیں جو عدالتی نظام کو گندا کررہی ہیں حالانکہ کسی دباؤ کے تحت غلط فیصلے کرنے والے یا ایسے دباؤ پر خاموشی اختیار کرنے والے جج بھی اس جرم میں برابر شریک ہوتے ہیں۔ عدالتی خود مختاری ضرور اہم ہے لیکن اس کا تدارک کرنے کے لیے عدالتوں کو خود بھی زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس بات کی نگرانی کرنا پڑے گی کہ اگر کوئی جج کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے تو فوری طور سے اس کا احتساب ہوسکے اور اسے کسی غلطی یا دباؤ میں کیے گئے فیصلوں پر تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔
سپریم جوڈیشل کونسل اس حوالے سے سرعت سے کام لیتے ہوئے عدلیہ کو ایسے جج سے پاک کرے۔ ہائی کورٹ یاسپریم کورٹ میں مقرر ہونے والے ججوں کو وسیع اختیارات کے علاوہ کثیر مالی مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ کسی قسم کا دباؤ سامنے آنے کی صورت میں ، وہ اس کا سامنا کرنے کے قابل ہوں۔ اور اگر کوئی جج اس دباؤ کو مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تو وہ خود ہی اس عہدے سے علیحدہ ہوکر نظام کی اصلاح میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم ملکی تاریخ میں ایسا کوئی وقوعہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی جج نے اس عذر پر اپنا عہدہ چھوڑ دیاہو کہ اس پر غلط فیصلے کرنے کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ لیکن ایسے درجنوں عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جو بادی النظر میں دباؤ ہی کی وجہ سے کیے گئے تھے لیکن انہیں کبھی تبدیل نہیں کیا جاسکا۔
ایسے متعدد معاملات میں سے اہم ترین فیصلہ مولوی تمیزلدین کیس میں فیڈرل کورٹ کی طرف سے نظریہ ضرورت کے تحت دستور سازاسمبلی توڑنے کو جائز قرار دینے کا فیصلہ تھا۔ نظریہ ضرورت کی اصطلاح کو بعد میں بھی فوجی حکومتوں کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج تک کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت کے ججوں کو یہ شرمناک فیصلہ کرنے اور گورنر جنرل کی طرف سے آئین ساز اسمبلی توڑنے کو درست قرار دینے پر کس نے آمادہ کیا تھا۔ نظریہ ضرورت کی اصطلاح سے ہی ظاہر ہے کہ فاضل ججوں کے پاس اس فیصلہ کی تائید کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ اس لیے غیر قانونی مرضی ٹھونسنے کے لیے ’نظریہ ضرورت‘ کی لاٹھی تھام لی گئی۔ 70 سال بیت گئے لیکن کوئی جج اس معاملہ کو ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے تہمت قرار دے کر یہ جعلی فیصلہ کرنے والے ججوں کی نیک نیتی پر سوال نہیں اٹھا سکا۔
دوسرا معاملہ ذوالفقار علی بھٹو کو ناروا طور سے پھانسی کی سزا دینے کا فیصلہ ہے ۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھٹو کو ’فئیر ٹرائل‘ کا موقع نہیں ملا۔ لیکن نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے باوجود اس فیصلہ کو غلط قرار دینے کے لیے کوئی عدالتی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نہ تو سپریم کورٹ نے اس اہم معاملہ پر سو موٹو کے تحت کارروائی کرتے ہوئے کوئی ایسی نظیر قائم کی ہے کہ مستقبل میں کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کو بھی غیر منصفانہ فیصلہ میں پھانسی کی سزا دینے کو غلط قرار دے کر بھٹو کی بجائے ان کے خلاف بے بنیاد اور بلاجواز فیصلہ دینے والے ججوں کو مجرم قرار دیا جائے۔ اور نہ ہی ملکی پارلیمنٹ میں اس حوالے سے قانون سازی کرنے اور عدالتی ناانصافی کا شکار ہونے والے کسی بھی شخص کو انصاف دلانے کا کوئی طریقہ متعین کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ خود مختاری کی بات کرنے والے تمام ججوں اور عدالتوں کو اس پہلو سے بھی معاملہ جانچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے عدلیہ کے گرد ’فائر وال‘ بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہےکہ کسی بیرونی مداخلت کی صورت میں عدلیہ کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ عدلیہ کی آزادی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب اداروں کو سمجھنا چاہئے کہ آزاد عدلیہ کے بغیر ان کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس لیے سب کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ کو کمزور کرنے کی بجائے اس کی خود مختاری کی حفاظت کریں۔ ’مضبوط عدالتی نظام میں ہی تمام ادارے مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں‘۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے ہی ایک دوسرے جج اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس اطہر من اللہ نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ضلعی عدلیہ کے ججز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ججز پر یہ واضح ہونا چاہئے کہ وہ کسی کے ماتحت نہیں ہیں۔ ججز کو کسی کا اثر رسوخ لینے کے بجائے قانون پر چلنا چاہئے۔ صرف آزاد خیال جج ہی شفاف ٹرائل یقینی بناسکتا ہے۔ ’ججز کو مکمل آزاد ہونا چاہیے کیونکہ آزاد ججز ہی عدلیہ پر عوام کے اعتماد کا باعث بن سکتے ہیں۔ ججز کی تربیت ہی ایسی ہونی چاہیے کہ وہ خود کو آزاد خیال تصور کریں‘۔
عدالت عظمی کے دونوں فاضل ججوں کے ارشادات بجا ہیں۔ امید کرنی چاہئے کہ سپریم کورٹ اس حوالے سو موٹو سماعت کے دورن میں کسی حتمی نتیجہ پر پہنچے گی۔ لیکن یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ جیسے آزاد عدلیہ کے بغیر ملک میں آئینی انتظام کے تحت چلنے والا کوئی بھی ادارہ توانا نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح عدالت بھی اس وقت تک مضبوط و خودمختار نہیں ہوسکتی جب تک وہ خود احتسابی کا مضبوط نظام استوار نہیں کرے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور میں تقریر کے دوران اس طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ سقم دور ہوسکیں۔ ’جس شخص کو عدلیہ کا حصہ بنایا جائے، اس کے بارے میں ہمارا ذہن بالکل صاف ہونا چاہئے کیوں وہ شخص بیس سال تک عدلیہ کا حصہ رہے گا۔ اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ جو جج کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتے انہیں فوری طور سے عدلیہ سے فارغ کیا جائے۔ اگر جج نااہل ہے، سست ہے یا کام نہیں کرتا ، اسے عدلیہ میں برداشت نہیں کرنا چاہئے‘۔
البتہ اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کے کردار اور اس کے طریقہ کار میں اصلاح احوال کی بھی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ میں خود احتسابی کا طریقہ نافذ ہے جو بادی النظر میں کام کرنے میں ناکام ہورہا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں ججوں کی تقرری اور ان کے احتساب کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں سیاست دانوں کو منظم سازش کے تحت اس حد تک بدنام کردیا گیا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ بے توقیر ہوکر رہ گئی ہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آنے والے لوگوں پر اعتبار کرنے کی بجائے عام شہری بھی عدالتوں کے ججوں پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں ۔حالانکہ بدنصیبی سے ملکی عدلیہ اس حوالے سے کوئی قابل ستائش مثال قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
جسٹس منصور علی شاہ اس سال اکتوبر میں چیف جسٹس بنیں گے۔ اور تین سال سے زیادہ مدت تک اس عہدہ جلیلہ پر فائز رہیں گے۔ امید کی جانی چاہئے کہ ججوں کی تقرری اور احتساب کے حوالے سے انہوں نے گزشتہ روز جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ ان کے مطابق مستقبل میں عدلیہ کو واقعی فعال اور خود مختار بنانے کے لیے کام کریں گے۔ ماضی کے بوجھ سے جان چھڑائے بغیر پاکستانی عدلیہ کے لیے مکمل خود مختاری کا مقصد حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کسی نہ کسی چیف جسٹس کو اپنے ادارے کا وقار بحال کرنے کے لیے یہ بھاری پتھر اٹھانا ہی پڑے گا۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

