سید مجاہد علیکالملکھاری

سی پیک، فواد چوہدری اور سول ملٹری تعاون کے مزے۔۔سید مجاہد علی

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے بعد دوسری مرتبہ سی پیک منصوبوں میں سعودی عرب کی شراکت اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مثالی قرار دینے کے دعوے کئےہیں۔ اس بار وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا اتوار کو پہنچنے والا وفد سرمایہ کاری کی تفصیلات طے کرے گا تاہم وزیر اعظم کے دورہ کے دوران سعودی سرمایہ کاری کے بارے میں اصولی اتفاق رائے ہو چکا ہے اور اس سلسلہ میں دونوں حکومتوں نے تین معاہدوں پر بھی دستخط کئے ہیں۔ پاکستان میں سی پیک اور سعودی عرب کے حوالے سے مسلسل سوال سامنے آرہے ہیں ۔ ملک کی اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔ قومی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں ایوان کو ساتھ لے کر چلنے اور اس کے سامنے جوابدہ ہونے کا اعلان کرنے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے ابھی تک اپوزیشن کے اس مطالبہ کا جواب نہیں دیا ہے۔ سی پیک منصوبہ چین کی سرمایہ کاری اور فنی تعاون کے ساتھ شروع کیا گیا تھا اور پاکستان کی موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے علاوہ فوج نے بھی اس منصوبہ کو بہر حال تکمیل تک پہنچانے کا بارہا اعلان کیا ہے۔
سی پیک کے حوالے سے یہ دعوے بھی کئے جاتے ہیں کہ یہ گیم چینجر ہے اور اس کی تکمیل سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ انرجی کی ضروریات پوری ہوں گی، جدید مواصلاتی نظام استوار ہونے سے تجارت کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ۔ سی پیک اور اس سے متعلقہ منصوبوں کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پانچ برس تک یہ خواب اہل پاکستان کو بیچتی رہی ہے ۔ اب تحریک انصاف سابقہ حکمران پارٹی اور اس کی قیادت کے شدید مخالف ہونے کے باجود سی پیک کے بارے میں اسی رویہ کا مظاہرہ کررہی ہے جس کا نواز شریف اور ان کے وزرا کرتے تھے۔ شروع میں حکومت کی طرف سے سی پیک کو اختلافی موضوع بنانے کی کوششوں کو جلد ہی ترک کردیا گیا اور اب سی پیک موجودہ حکومت کے لئے بھی اسی طرح طرہ امتیاز بن چکا ہے جس طرح سابقہ حکومت اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتی تھی۔
اس وسیع اور کثیر الجہتی منصوبہ کے مالی ثمرات سے انکار ممکن نہیں ہے۔ امریکہ کے علاوہ بھارت جیسے بڑے ہمسایہ ملک کے ساتھ مسلسل تصادم کی وجہ سے پاکستان کے لئے چین پاک اقتصادی منصوبہ کی اہمیت معاشی بہتری کے علاوہ سیاسی اور اسٹریجک بھی ہو چکی ہے۔ ایک طرف چین کے لئے یہ منصوبہ درجنوں ملکوں کو مواصلاتی نظام میں پرونے والے ون روڈ ون بیلٹ کے صدر ژی جن پنگ کے خواب کی تکمیل میں اہم کڑی کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف گوادر اور کاشغر کو ملانے والی سڑکوں کے جال سے چین اقتصادی احیا اور تجارتی فروغ کے نئے دور میں داخل ہونے کا خواب بھی دیکھ رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کے لئے عالمی تجارت پر چین کی دسترس صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اس طرح چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور واحد سپر پاور کے دنیا پر سیاسی اختیار کو بھی چیلنج کرے گا۔
امریکہ نے اسی لئے پاکستان کے تعاون سے سی پیک منصوبہ کو ہمیشہ اپنے اسٹریجک مفادات کے خلاف سمجھا ہے۔ بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی مراسم کی بنیاد چین کے اثر و رسوخ کو روکنے، مشرق بعید کے ملکوں سے وابستہ امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے علاوہ بحر ہند اور بحر جنوبی چین کے آبی راستوں پر چین کی دسترس کو محدود کرنے کی حکمت عملی میں ایک اہم علاقائی طاقت کو فریق بنانے کی خواہش کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک منصوبہ کو محض پاک چین تعلقات اور محدود علاقائی معاشی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلکہ اسے عالمی تعلقات، ہمسایہ ملکوں و امریکہ سے مراسم اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ ایشیا میں رونما ہونے والی نئی تزویراتی صورت حال کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستا ن کو اسی بنیاد پر حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔ تاہم پاکستان کی رنگارنگ، اقتدار کی رسہ کشی سے بھرپور سیاست اور فوج کی سیاسی و معاشی منصوبوں میں براہ راست مداخلت کی وجہ سے سی پیک جیسے اہم اور پیچدہ مالی معاملہ پر کھل کر مباحث کرنے یا اس کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ سابقہ حکومت بھی اس کا کریڈٹ لینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھی اور موجودہ حکومت تو فوج کی انگلی پکڑ کر چلنے کے باعث اس معاملہ سمیت دیگر امور پر اعتماد سازی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی۔
مباحث میں یہ پہلو سامنے لانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ ملک کی سابقہ دو حکومتیں بالترتیب ایران اور سعودی عرب کے قریب تھیں اس لئے وہ پاکستان کے خارجہ تعلقات میں توازن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں ۔ اب عمران خان کی قیادت میں ایک ایسا وزیر اعظم سامنے آیا ہے جو ایران اور سعودی عرب کے علاوہ قطر جیسے تنہا کئے گئے ملک کے ساتھ بھی تعلقات کو پاکستانی مفادات کی روشنی میں متوازن رکھنے کی کامیاب پالیسی سامنے لا رہا ہے۔ حالانکہ خارجہ پالیسی کے معاملات پہلے بھی فوج کی اشیر واد سے ہی طے ہوتے تھے اور اب تو وہ براہ راست ان معاملات کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔ اس لئے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی بامقصد تبدیلی اسی وقت رونما ہو سکتی ہے جب فوج اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرے گی۔
اس پس منظر میں سی پیک منصوبہ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سعودی عرب سے پینگیں بڑھانا مالی لحاظ سے تو قابل فہم ہے۔ پاکستان کو سی پیک منصوبہ کے معاشی فائدے تو ملتے دیر لگے گی لیکن گزشتہ چار برسوں کے دوران ان منصوبوں پر لئے جانے والے چینی قرضوں کی وجہ سے پاکستان کے بیرونی قرض میں 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ اضافہ ہو چکا ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت نے روز اول سے مسلم لیگ (ن) کو اس بوجھ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کی بدعنوانی کا سیاسی نعرہ تو بلند کیا ہے لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ 90 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی کے لئے پاکستان کو دس بارہ ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔
امریکہ پاکستان کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومیو کہہ چکے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو چین کے قرضے اتارنے کے لئے آئی ایم ایف سے پیکج میں رکاوٹ ڈالے گا۔ ا س لئے متبادل کے طور پر سعودی عرب اور چین کی طرف دیکھنا اور ان سے معاملات طے کرنا حکومت کی مجبوری بن چکی ہے۔ سی پیک میں سعودی سرمایہ کاری کی باتیں اس حوالے سے اہم ہیں۔ لیکن ہر سرمایہ کاری کی طرح سعودی سرمایہ بھی اپنے ساتھ شرائط اور سیاسی وسماجی مجبوریاں لے کر آئے گا۔ سی پیک میں وسیع سعودی سرمایہ کاری کے صرف چین کے ساتھ تعلقات ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ریاض کی خواہش ہو گی کہ وہ اپنے سرمائے کے زور پر پاکستان کو ایران اور مشرق وسطیٰ کےان ملکوں سے بھی فاصلے پر لے جائے جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے۔
سی پیک کی اہمیت اور اس میں سعودی سرمایہ کاری کی پیچیدگی اور تہ دار مسائل کی وجہ سے یہ ضروری ہے حکومت صرف اپنے بڑبولے وزیر اطلاعات کی بجائے وزیر خزانہ کی طرف سے اس حوالے سے معلومات سامنے لائے۔ بہتر ہوگا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی میں تفصیلات بتاتے ہوئے ایوان اور قوم کو اعتماد میں لیں اور اس ضروری بحث کا آغاز کریں جو صرف سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ سی پیک سے پاکستان کو ملنے والے فوائد اور مشکلات کے بارے میں شروع کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس اہم منصوبہ پر قومی اتفاق رائے فی الوقت صرف فوج کی طرف سے منصوبہ کی مکمل حمایت تک ہی محدود ہے۔ سیاسی سطح پر صوبوں کی طرف سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔
سی پیک کو وسیع کرنے اور ایک مزید مالی لحاظ سے طاقتور ملک کو ملوث کرتے ہوئے تحفظات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان پر بات کرنے اور ان کا مناسب حل تلاش کرنا اہم ہوگا۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ وزیر اطلاعات باربار سی پیک میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا یقین دلا رہے ہیں اور پارٹی کے لیڈر ٹویٹ پیغامات میں اس کا حجم دس ارب ڈالر تک بتا بھی چکے ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے ان افواہوں کی تردید تو کی ہے لیکن انہوں نے سعودی سرمایہ کاری کے بارے میں تفصیلات پر بات نہیں کی۔ نہ ہی سعودی عرب کی طرف سے ان باتوں کی تصدیق یا تردید سامنے آئی ہے جو فواد چوہدری تسلسل سے عمران خان کی کرشمہ ساز لیڈر شپ کا امیج بنانے کے لئے بیان کرتے ہیں۔
عمران خان کے سعودی عرب کے دورہ کے دوران ہی پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بیجنگ کے دورہ پر گئے تھے جہاں ان کی صدر ژی جن پنگ سے بھی ملاقات بھی ہوئی تھی اور سی پیک کو مکمل کرنے کے عزم کا اعلان بھی سامنے آیا تھا۔ آج جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل نوید مختار کے ہمراہ وزیر اعظم عمران سے ملاقات کی ۔ سرکاری اعلان کے مطابق اس ملاقات میں ’سلامتی اور علاقائی استحکام ‘ کے امور زیر غور آئے۔ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ کے ساتھ تیسری بار وزیر اعظم سے ملنے آئے تھے۔ وزیر اعظم کے جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے دوران ہونے والی تفصیلی ملاقاتیں ان کے علاوہ ہیں۔ عمران خان یوم دفاع پاکستان کی تقریب کے مہمان خصوصی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔
اب کسی کو عمران خان کی اس بات سے انکار نہیں کہ سول ملٹری تعلقات میں کشمکش کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ اب تو صرف اس بات کا انتظار ہے کہ ملک کے منتخب وزیر اعظم قومی اسمبلی کو مباحث کا مرکز بنا کر یہ بھی واضح کریں کہ ان پر نامزدگی کی پھبتی بے بنیاد ہے۔
(بشکریہ:ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker