سید مجاہد علیکالملکھاری

میثاق معیشت جیسا سنجیدہ معاملہ ایک سیاسی مذاق میں کیسے تبدیل ہوا؟۔۔سید مجاہد علی

پلاننگ و منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر خسرو بختیار نے میثاق معیشت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کو ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے اور بار بار آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج لینے سے بچنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی اپیل کی ہے۔ اگرچہ اپوزیشن کی طرف سے ہی پہلے ’میثاق معیشت‘ کی پیشکش کی گئی تھی لیکن وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز اسپیکر اسد قیصر کے ذریعے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ میثاق معیشت کے سوال پر اپوزیشن سے رابطہ کے لئے کمیٹی بنائی جائے گی۔
میثاق معیشت کو سیاسی نعرے اور ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ چند ماہ پہلے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملکی معاشی بحران کے تناظر میں پارٹی سیاست سے بالا ہو کر معاشی معاملات کے لئے تعاون و اشتراک کی بات کی تھی۔ یہ نظریہ دراصل سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی مالی پالیسیوں کے لئے اپوزیشن کی اعانت حاصل کرنے کے لئے 2017 میں پیش کیا تھا۔ تاہم انہیں اس مقصد میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ گزشتہ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو چونکہ واضح اکثریت حاصل تھی، اس لئے بجٹ کی منظوری یا دیگر قانون سازی کے لئے وہ اپوزیشن کی محتاج نہیں تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت البتہ مختلف چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے تعاون کے سہارے اقتدار سنبھالے ہوئے ہے۔
گزشتہ ہفتہ کے دوران تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا تھا لیکن ملک کی سنگین مالی صورت حال کی وجہ سے اسے ’بچت بجٹ‘ قرار دیا گیا ہے۔ بجٹ تجاویز میں ساڑھے پانچ کھرب کے ٹیکس جمع کرنے اور متعدد مراعات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اقدامات عالمی مالیاتی فنڈ سے چھے ارب ڈالر کا مالی پیکیج لینے کے لئے بھی اہم ہیں۔ اس مالی پیکیج کے بغیر ملک کے دیوالیہ ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ دوسری طرف اپوزیشن متفقہ طور پر بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کرچکی ہے۔
اپوزیشن کی مخالفت کے علاوہ تحریک انصاف کی اتحادی پارٹیاں بھی بجٹ کے علاوہ بعض سیاسی معاملات پر حکومت کے ساتھ اختلافات کا شکار ہیں۔ اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی خاص طور سے بلوچستان کے بارے میں چھے نکاتی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کا شکوہ کرتی ہے۔ دیگر اتحادی پارٹیوں کو بھی متعدد شکایات ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کو خوش رکھنے کے لئے گزشتہ دنوں اسے ایک نئی وزارت دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود حکومت کو بجٹ منظور کروانے کے لئے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چھتیس کا آنکڑا ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپنی طویل بجٹ تقریر میں ایک بار پھر ’میثاق معیشت‘ کا مشورہ دیا تھا۔ ان کی اس تجویز کا نیب کی حراست سے قومی اسمبلی آکر تقریر کرنے والے پیپلز پارٹی کے معاون چئیر مین آصف زرداری نے ان الفاظ میں خیر مقدم کیا تھا کہ ’حکومت حساب کتاب چھوڑے، مالی معاملات ٹھیک کرنے کی طرف توجہ دے‘ ۔ یہ تجاویز عمران خان کی طرف سے بجٹ پیش کرنے کے روز ہی تند و تیز لب و لہجہ میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں کو بدعنوان قرار دینے اور ہر قیمت پر ان کی سابقہ کرپشن کی سزائیں دلوانے کے دعوؤں کے باوجود دی گئی ہیں۔ اس تقریر میں عمران خان نے گزشتہ دس برس کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں لئے گئے غیر ملکی قرضوں کی تحقیقات کروانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اب اس بارے میں کمیشن بھی قائم کردیا گیا ہے۔
عام طور سے سمجھا جارہا ہے کہ قرضوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کرنے کا مقصد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے متعدد سینئر لیڈروں کو اس وقت نیب کے مقدمات کا سامنا ہے جبکہ حکومت نے کئی معاملات میں ایف آئی اے کو بھی متحرک کیا ہے۔ اس سیاسی تناؤ میں بجٹ کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ کے امکانات پہلے ہی معدوم تھے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں میثاق معیشت کی تجویز کو ’مذاق معیشت‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا اور کہا کہ اس قسم کا کوئی معاہدہ دراصل حکومت کو ’این آر او‘ دینے کے مترادف ہو گا جو اپنی بد انتظامی، نا اہلی اور معاشی بے اعتدالی کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔
مریم نواز کی بات اس حد تو درست ہے کہ بجٹ منظور کروانے کے لئے ہونے والی مصالحت کو ملکی معیشت بہتر بنانے کے منصوبے کا نام دینا درست نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے اس نام نہاد میثاق معیشت کے بارے میں اپوزیشن سے بات چیت کرنے کے لئے پارٹی کمیٹی بنانے کی ہدایت دی ہے لیکن اپوزیشن لیڈروں نے ابھی سے اصرار کرنا شروع کردیا ہے کہ عمران خان خود اس سوال پر اپوزیشن کی قیادت سے رابطہ کریں۔
عمران خان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ’چور‘ قرار دیتے ہوئے ان سے کسی بھی قسم کے رابطے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے تین اراکین کی نامزدگی کے معاملہ پر وہ آئینی طور سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کرنے اور مشاورت کے پابند تھے لیکن اس معاملہ کو بالواسطہ رابطوں اور خط لکھ کر حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اپوزیشن لیڈروں کے بارے میں عمران خان کا اب بھی یہی رویہ ہے۔ اپوزیشن نے اگر آنے والے دنوں میں بجٹ تعاون کے سوال پر وزیر اعظم سے براہ راست بات چیت پر اصرار کیا تو شاید یہ بیل کسی طور منڈھے نہ چڑھ سکے۔
اپوزیشن کی طرف سے بھی ملے جلے اشارے سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف میثاق معیشت کی بات کی جا رہی ہے تو دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کی دعوت پر اگلے ہفتے کے دوران آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس اے پی سی میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور بجٹ کی مخالفت کرنے کی حکمت عملی پر غور ہوگا۔ اس صورت حال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اپوزیشن واقعی حکومت کے ساتھ سنجیدہ ڈائیلاگ کے ذریعے معاشی بحران کے حل کا راستہ تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
دوسری طرف عمران خان اور ان کی حکومت نے اپوزیشن لیڈروں کے بارے مٰیں جو لب و لہجہ اختیار کیا ہؤا ہے اس کی روشنی میں حکومت کی طرف سے میثاق معیشت کے لئے بات چیت کی پیش کش کو سنجیدہ سمجھنا آسان نہیں ہے۔ خسرو بختیار نے آج قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس اندیشے کی تائید بھی کردی ہے۔ ایک طرف وہ میثاق معیشت کی ضرورت پر زور دے رہے تھے تو دوسری طرف سابقہ دور میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے اختیار کی گئی معاشی پالیسیوں کو تمام اقتصادی مسائل کی جڑ قرار دے رہے تھے۔
یوں لگتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس اصطلاح کو قومی مسائل حل کرنے کے لئے کسی اشتراک کی بنیاد رکھنے اور ٹھوس قومی اقتصادی منصوبہ بندی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے، سیاسی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ حکومت کا فوری درد سر بجٹ کی منظوری ہے جس کے لئے وہ اپوزیشن سے وقتی تعاون کی خواہش مند ہے۔ جبکہ اپوزیشن اس بات چیت کی آڑ میں نیب کے چنگل میں پھنسی ہوئی اپنی سینئر قیادت کے لئے مراعات حاصل کرنا چاہے گی۔ دونوں طرف سے میثاق معیشت کو سیاسی داؤ پیچ اور ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں ملک کی سیاسی قیادت سے یہ توقع کرنا عبث ہوگا کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں مل بیٹھیں گے اور معاشی اصلاح کے کسی منصوبہ پر اتفاق کرلیں گے۔
عمران خان نے سابقہ ادوار میں لئے گئے غیر ملکی قرضوں کو مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی بدعنوانی سے جوڑنے کا اعلان کیا ہے اور اس کی تحقیقات کا قدم بھی اٹھایا ہے۔ اس فیصلہ سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ ملک کے معاشی مسائل کو سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کے سیاسی مفاد سے علیحدہ کرنے کا جذبہ ابھی تک موجود نہیں ہے۔ بجٹ کے حوالے سے حکومت بعض حوالوں سے نرم رویہ کے باوجود، اہم اصولی معاملات پر کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے لئے ان اصولوں میں سر فہرست یہ نکتہ ہے کہ ملک کو جن معاشی مسائل کا سامنا ہے، اس کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ جبکہ اپوزیشن پارٹیاں موجودہ معاشی بحران کو تحریک انصاف کی ناکامی اور نا اہلی قرار دینے پر اصرار کرتی ہے۔ اس صورت میں سیاست اور معیشت کو الگ کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
عمران خان کو یقین ہے کہ شور شرابے اور احتجاج کے باوجود اپوزیشن بجٹ کی منظوری میں کوئی بڑی رکاوٹ کھڑی نہیں کرے گی۔ شاید اپوزیشن بھی اس مرحلے پر حکومت کے خلاف ایسا کوئی پارلیمانی اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جسے عمران خان کی حکومت پر عدم اعتماد سمجھا جائے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی مناسب موقع اور اشارے کی منتظر ہیں۔ یہ اشارہ فی الوقت عمران خان کی حمایت کر رہا ہے۔ اپوزیشن امپائر کا موڈ بدلنے کا انتظار کرنے پر مجبور ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker