سید مجاہد علیکالملکھاری

کیا نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے عمران خان مضبوط ہو جائیں گے؟۔۔ سید مجاہد علی

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی تیاریاں مکمل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر نعیم الحق نے کہا ہے کہ حکومت ان کا نام ای سی ایل سے نکال رہی ہے۔ اس بارے میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو باقاعدہ درخواست بھی دی ہے۔ دوسری طرف آزادی مارچ کے رہنماو¿ں اور حکومت کے درمیان مواصلت تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ فوری طور پر ملک میں جاری سیاسی تنازعہ حل ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز واضح کیا تھا اگر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے پاس وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں تو وہ بات چیت کے لئے آنے کی زحمت نہ کریں۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کا یہ جواب سامنے آیا ہے کہ ’میرا استعفیٰ ہی اگر مذاکرات کی واحد شرط ہے تو پھر بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں کسی قیمت پر استعفیٰ نہیں دوں گا‘۔ مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے ان بیانات کے علاوہ وزیروں اور مشیروں کے بیانات بھی سیاسی مصالحت کی بجائے تصادم کا پیغام سامنے لارہے ہیں۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا مضحکہ خیز انداز میں ذکر کیا اور کہا کہ اگر وہ وقت گزارنے لئے بیٹھے رہنا چاہتے ہیں تو حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں ، بس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو ’غیر منتخب‘ ہونے کا طعنہ بھی دیا اور عام انتخابات میں مولانا کو شکست دینے والے تحریک انصاف کے لیڈر اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر اور گلگت و بلتستان علی امین گنڈا پور پر فخر کا اظہار کیا۔
علی امین گنڈا پور نے ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے 38 سے مولانا فضل الرحمان کو شکست دی تھی۔ آج قومی اسمبلی میں اس بات کا چرچا ہو¿ا تو مولانا کے صاحبزادے مولانا اسد محمود نے وفاقی وزیر کو چیلنج کیا کہ وہ ابھی استعفیٰ دیں، وہ خود بھی قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم امین گنڈا پور نے اپنے استعفیٰ کو آزادی مارچ ختم کرنے سے مشروط کرکے بات ختم کردی۔ مولانا فضل الرحمان نے تھوڑی دیر پہلے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ آج پرویز خٹک کی باتوں سے واضح ہو گیا ہے کہ حکومت بات چیت اور مصالحت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ یہ تصادم اور جھگڑے کی بات کرتے ہیں‘۔ تاہم فریقین یکساں طور سے انتہائی سخت مو¿قف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دو روز پہلے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کے متحرک ہونے سے برف پگھلے کے جو آثار پیدا ہوئے تھے، اب ان کی جگہ تلخی ، الزام تراشی اور طعنہ بازی نے لے لی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی یہ بات قابل فہم ہے کہ انہیں سیاسی دباو¿ کے ماحول میں استعفیٰ نہیں دینا چاہئے۔ اس طرح ہجوم کی سیاست کو طاقت ملے گی جو بہر حال ملک میں جمہوری روایت کے لئے مہلک ہوگا۔ لیکن عمران خان آزادی مارچ کی صورت میں سامنے آنے والے سیاسی احتجاج سے نمٹنےکے لئے کوئی پیش رفت کرنے یا متبادل تجاویز سامنے لانے میں بھی ناکام ہیں۔ ابھی تک مذاکراتی ٹیم نے عوام کو یہ بھی نہیں بتایا کہ اگر ان کے لئے وزیر اعظم کے استعفیٰ اور نئے انتخابات کا مطالبہ تسلیم کرنا ممکن نہیں تھا تو انہوں نے متبادل کے طور پر اپوزیشن کو کیا پیش کش کی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کی طرف سے البتہ یہ کہا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو حکومت تین ماہ کے اندر نئے انتخابات کروانے کا اعلان کردے۔
تحریک انصاف نے اس مطالبے کا تمسخر اڑایا ہے۔ سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا ہے کہ مولانا کسی ضدی بچے کی طرح نئے انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انتخابات کروانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ چند روز تک خاموش رہنے کے بعد وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی اب سرگرم ہوئی ہیں اور ایک ٹوئٹ میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان پر ذاتی حملے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مولانا صاحب اگر دھاندلی ہوئی تھی تو آپ نے صدر کا الیکشن کیوں لڑا تھا؟ آپ کے صاحبزادے نے ایم این اے کا حلف کیوں اٹھایا تھا؟ ایک سال بعد دھاندلی کا واویلا عوام کو گمراہ او رجمہوری نظام کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں‘۔ حکومتی نمائیندوں کے اس طرز گفتار اور اپوزیشن کے مطالبات کا جواب دینے سے گریز واضح کرتا ہے کہ حکومت ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ یہ طریقہ حکومت کی سیاسی مشکلات میں کمی نہیں کرے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے بلاشبہ سخت گیر سیاسی پوزیشن اختیار کی ہے۔ بظاہر وہ اس سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں لیکن دوسری طرف حکومت تحمل کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ اس کے نمائیندوں کے بیانات سے لگتا ہے کہ حکومت صرف ایچ نائن میں جمع ہونے والے مظاہرین کی اسلام آباد میں موجودگی کو ہی مسئلہ سمجھنے کی غلطی کررہی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر کسی طرح بہلا پھسلا کر یا ڈرا کر مولانا فضل الرحمان کو دھرنا یا احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرلیا جائے تو معاملات پہلے کی طرح ہموار ہوجائیں گے۔ حکومت کا یہ اندازہ سیاسی اور انتظامی لحاظ سے خطرناک اور افسوسناک حکمت عملی ہے۔ اس سے یہ اندازہ کرنا بھی مشکل نہیں ہے کہ حکومت عوام کی مشکلات اور معاشی مجبوریوں کا ادراک اور اپنی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف کرنے پر تیا رنہیں ہے۔
موجودہ صورت حال میں حکومت اگر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مذاکرات میں کامیاب نہیں ہورہی تھی تو وہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں مصالحانہ رویہ کا مظاہرہ کرسکتی تھی۔ دو روز پہلے سینیٹ میں اور کل و آج کے دوران قومی اسمبلی میں، حکومتی نمائیندوں نےاپوزیشن کو مشتعل کرنے کا اہتمام کیا۔ یہ رویہ وزیر اعظم سے منسوب اس بیان کی تصدیق نہیں کرتا کہ وہ اپنے استعفیٰ کے علاوہ ہر سیاسی معاملہ پر بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ حکومت نے کسی بحث کے بغیر درجن بھر کے لگ بھگ صدارتی آرڈی ننس قومی اسمبلی سے منظور کروائے۔ اس طرح اپوزیشن کو یہ واضح پیغام دیا گیا کہ حکومت کو اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومتی نمائیندوں نے اس جلد بازی اور پارلیمانی تکبر کا مظاہرہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کیا۔ وہ گزشتہ روز بلوں پر رائے شماری کے دوران اپنے چیمبر میں موجود رہے لیکن ایوان میں آکر اپوزیشن سے مکالمہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکے۔
جب حکومت اور اس کا سربراہ منتخب ایوان میں مکالمہ کرنے سے گریز کرے گا تو اسے آزادی مارچ جیسے احتجاج سے ہی چیلنج کیا جائے گا۔ عمران خان اور ان کے مشیر اس احتجاج کی سنگینی کو سمجھنے اور اس کے عواقب کا اندازہ کرنے سے انکار رکرہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مولانا تھک کر چند روز میں احتجاج ختم کردیں گےکیوں کہ مولانا فضل الرحمان تصادم اور فساد کی سیاست سے بچتے ہیں۔ ا س کے علاوہ حکومت کو گمان ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مولانا کا ساتھ نہیں دیا ہے ، اس لئے مولانا کی حیثیت کمزور ہے۔ حکومتی سرد مہری کی ایک وجہ یہ قیاس بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں کی زیر حراست سیاسی قیادت کو مراعات دینے سے اپوزیشن کے درمیان انتشار مستحکم ہوجائے گا اور مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حیثیت میں کمی واقع ہوگی۔
ان خطوط پر حکمت عملی استوار کرتے ہوئے البتہ یہ فراموش کیاجارہا ہے کہ مولانا ہوسکتا ہے کہ حکومت کے ساتھ کسی سیاسی معاہدے کے بغیر احتجاج ختم کردیں لیکن یہ حکومت کی سیاسی فتح کی بجائے اس کی شکست ہوگی۔ اس طرح حکومت اپوزیشن کو طویل عرصہ کے لئے مطمئن و خاموش کروانے کا موقع گنوا بیٹھے گی۔ اس وقت مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کسی قسم کاسیاسی معاہدہ حکومت کو ورکنگ سپیس فراہم کر سکتا ہے۔ ایسے معاہدے میں وزیر اعظم کے استعفیٰ اور نئے انتخابات کے مطالبات تسلیم نہ بھی کئے جائیں لیکن عوام اور سیاسی حلقے اگر اسے حکومت کی طرف سے مفاہمت کی علامت سمجھ لیں تو یہ تحریک انصاف اور عمران خان کی بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔ واضح رہے مولانا فضل الرحمان حکومت کے ساتھ بات چیت اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ذریعے کررہے ہیں جس میں سب پارٹیاں شامل ہیں۔ بڑی اپوزیشن پارٹیاں اگرچہ آزادی مارچ میں شامل نہیں ہیں لیکن وہ مولانا کے سیاسی مطالبات کا مکمل ساتھ دے رہی ہیں۔ اپوزیشن کے ساتھ سیاسی اصولوں پر سمجھوتہ کی صورت میں حکومت کی ساکھ بحال ہو سکتی ہے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ عمران خان اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کو ئی سنجیدہ کوشش کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کسی معاہدہ کے بغیر اگر موجودہ احتجاج ختم کردیا تو یہ حکومت کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ جمیعت علمائے اسلام تنہا یا دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گی اور حکومت کے لئے مسلسل پریشانی کا سبب بنی رہے گی۔ حکومتی معاشی پالیسیوں سے تنگ آئے ہوئے لوگ زیادہ تعداد میں مولانا کے مو¿قف کو درست سمجھنے لگیں گے۔ اس صورت حال میں معاشی احیا اور ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی نقصان پہنچے گا۔ جبکہ اپوزیشن کے ساتھ کسی سیاسی ایجنڈے پر اتفاق رائے کے ذریعے حکومت تصادم اور بے یقینی کی فضا کو ختم کرسکتی ہے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے آج قومی اسمبلی میں مولانا سے کہا ہے کہ ’آپ جتنی دیر چاہیں بیٹھے رہیں، بس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں‘۔ پرویز خٹک نے اپنے طویل سیاسی تجربہ کا حوالہ بھی دیا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت کی ہٹ دھرمی ان مظاہرین سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔
حکومت اگر یہ سمجھ رہی ہے کہ نواز شریف کی بغرض علاج بیرون ملک روانگی اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو کچھ مراعات دے کر اس کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوجائے گی تو ایک غلط سیاسی تجزیہ ہوگا۔ ان مراعات کو عوام عمران خان کے این آر او نہ دینے کے اعلان سے یو ٹرن قرار دیں گے یا یہ تاثر قوی ہوگا کہ ملک کا انتظام حکومت نہیں کچھ دوسری قوتیں چلا رہی ہیں۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker