تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔پاکستان سمت درست کرے اور ترجیحات متعین کی جائیں

وزیر اعظم عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے لیڈروں پر زور دیا ہے کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ غریب ممالک اپنے طور پر اس وائرس سے پیدا ہونے والے عوامی صحت اور معاشی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس دوران امریکہ کی سبکدوش ہونے والی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو موجودہ مشکل سے نکالنے کے لئے اس کے قرضے معاف کرے یا ان کی ادائیگی مؤخر کی جائے۔ ان دونوں بیانات سے پاکستان کودرپیش چیلنجز اور مشکلات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی سمت درست کرے اور سفارتی، معاشی اور قومی معاملات میں واضح اور دوٹوک ترجیحات متعین کی جائیں۔
ملک کو بنیادی طور پر یہ طے کرنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران میں آگے بڑھنے کے لئے پاکستان کیا اقدام کرسکتا ہے۔ کیا قرضوں اور امداد کے ذریعے معیشت کو چلاتے ہوئے 22 کروڑ کی کثیر آبادی اور محدود ہوتے وسائل کے ساتھ کسی عوام دوست منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس کے نتیجہ میں پاکستان کو تین طرح سے معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے:
1)برآمدات رک جانے سے ملکی آمدنی اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ اسے پورا کرنے کے لئے مزید قرضوں یا قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف کی کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔ برآمدات میں کمی سے ملکی صنعت و حرفت کے متعدد شعبوں میں افرادی قوت کی ضرورت بھی کم ہوگئی ہے۔ اس طرح طویل مدت کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد بیروزگار ہوگی اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع محدود ہوجائیں گے۔ ان مشکلات کو فوری ریلیف پیکج کی بجائے طویل المدت پالیسیوں کے ذریعے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔
2)اس وبا نے چوں کہ دنیا کے ہر ملک کو متاثر کیا ہے لہذا اس کا اثر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی معاشی ترجیحات پر بھی پڑا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے تیل کی آمدنی پر انحصار کرنے والے سب ملکوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہاں سرکاری مصارف اور عوامی سہولتوں میں کمی کی جارہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں غیر ملکی تارکین وطن کو کثیرتعداد میں روزگار سے محروم ہونا پڑا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بیروزگار ہونے والے تارکین وطن میں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ یہ لوگ پاکستان کو زر مبادلہ بھیجنے کا اہم ذریعہ تھے۔ بڑی تعداد میں تارکین وطن کی واپسی کے پاکستان کی مجموعی معاشی اور سماجی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ طویل عرصہ تک تارکین وطن کی ترسیلات زر قومی بجٹ میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اب حکومت کو مختلف مالی حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
3)لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت منجمد ہوگئی اور کاروبار بند ہو کر رہ گیا۔ حکومت کو کثیر رقوم فوری امداد کے طور پر لوگوں میں تقسیم کرناپڑی ہیں۔ عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیاہے کہ حکومت طویل عرصہ تک ملک کی نصف سے زائد آبادی کو گھر بیٹھے وسائل فراہم کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ عمران خان تو یہ بات لاک ڈاؤن کے بارے میں اپنی پالیسی کو درست ثابت کرنے کے لئے کہتے ہیں لیکن اس حقیقت کو وسیع تر سماجی و معاشی تناظر میں پرکھا جائے تو واضح ہوگا لاک ڈاؤن کھولنے اور کاروبار شروع کرنے کی اجازت دینے سے غریبوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت میں روزگار کی مارکیٹ سکڑے گی اور دہاڑی دار سب سے پہلے اس کساد بازاری کا شکار ہوگا۔ چھوٹا اور متوسط تاجر طبقہ بھی اس معاشی بحران کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرے گا۔ مارکیٹ میں گاہک اسی وقت آتا ہے جب روزگار میسر ہو اور لوگوں کو آمدنی کے ذرائع حاصل ہوں۔
یہ ایسے عوامل ہیں جن کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان کو طویل المدت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے معاشی و سماجی ترجیحات بھی تبدیل کرنا پڑیں گی اور اہداف بھی از سر نو متعین کرنا ہوں گے۔ وفاقی حکومت اس وقت اس مشکل سے نمٹنے کے لئے دو نکاتی فارمولے پر عمل کررہی ہے:
الف) عالمی اداروں سے مزید قرضہ لیا جائے یا امیر ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ یا مہلت دینے پر آمادہ کیا جائے۔ جی۔20 کے حالیہ اجلاس میں اس سلسلہ میں اہم فیصلے بھی کئے گئے ہیں۔ ان فیصلوں کا پاکستان کو بھی فوری فائدہ ہؤا ہے لیکن دنیا کا کوئی ملک یا مالی ادارہ پاکستان یا کسی بھی ملک کو طویل المدت ریلیف فراہم نہیں کرے گا۔ یہ منصوبہ بندی خود پاکستانی حکومت اور عوام کو کرنا ہوگی۔
ب) صوبوں اور مرکز کے درمیان وسائل کے فارمولے کو تبدیل کرکے وفاقی حکومت کے مالی مسائل کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ صدر مملکت نے نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے جو اہداف مقرر کئے ہیں ان میں یہ بات واضح کردی گئی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ صوبے دفاع، قومی منصوبوں پر ہونے والے خسارہ، سبسڈیز کے اخراجات حتی کہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی وسائل فراہم کریں۔ اس مؤقف سے ملک میں ایک نئی اور تکلیف دہ بحث کا آغاز ہوگا اور صوبے مرکزی حکومت کے متعدد تقاضوں کو اپنی خود مختاری اور آئینی طور پر مقررہ حصہ پر نقب لگانے کی کوشش سمجھیں گے۔
اس کے باوجود یہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہئے کہ یہ دونوں فیصلے عبوری سہولت تو فراہم کرسکتے ہیں لیکن اس سے ملکی معیشت کو نئی پائیدار بنیاد فراہم کرنے کے کام کا آغاز نہیں ہوسکے گا۔ عالمی ادارے ایک یا دو سال تک دیے گئے قرضوں کی ادائیگی کا تقاضہ کرنے لگیں گے اور صوبوں کے ساتھ وسائل کی شراکت کی بنیاد کو چھیڑنے سے صوبوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہوگا جو کسی بھی قومی معاشی منصوبہ کی کامیابی کے لئے نقصان دہ رویہ ثابت ہوگا۔ مرکزی حکومت کو فوری طور سے مالی وسائل کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔ اسے تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے قابل قدر ریلیف ملا ہے ۔ اس کے علاوہ قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ اور فوری طور سے رعائیتی قرضوں کی فراہمی سے حکومت کی مالی پوزیشن مستحکم ہے۔ تاہم اگر حکومت ان مالی وسائل کو کو مثبت معاشی منصوبہ بندی کے لئے استعمال نہ کرسکی تو یہ وسائل بھی سرکاری بداعتدالی و بد انتظامی کی نذر ہوجائیں گے۔
حکومت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے وسائل کم کرنے کی بات تو کرتی ہے لیکن یہ بات سامنے لانے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ ٹیکس و محاصل میں کمی کی وجہ سے قومی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس لئے عملی طور سے مرکز ہی نہیں صوبوں کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوگی۔ وفاقی حکومت اگر صوبوں کے حصے سے وسائل نکال کر اپنے مسائل حل کرے گی تو صوبائی حکومتیں عوامی بہبود کے منصوبوں کو ختم کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اس طرح عوام کی بھلائی کے کسی ایسے منصوبے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا جس کا حوالہ عمران خان عام طور سے دیتے رہتے ہیں۔
اس پس منظر میں امریکی سفیر ایلس ویلز کی طرف سے چین کو پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا بیان اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ اس طرح امریکی حکومت دراصل چین کے ساتھ اپنی مخاصمت کا بدلہ لینے کے لئے پاکستان کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ امریکی حکومت کو یہ ہتھکنڈے اختیار کرنے کا حوصلہ بھی اس لئے ہوتاہے کیوں کہ پاکستان اپنی معاشی و سفارتی منصوبہ بندی میں امریکہ اور مغربی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ جب تک یہ انحصار جاری رہے گا، امریکی حکام اپنے مفادات کے لئے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرتے رہیں گے۔
کساد بازاری کا مقابلہ کرنے کے لئے عام طور سے حکومتیں ترقیاتی منصوبوں کے لئے وسائل فراہم کرکے ملک میں معاشی تحرک اور روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں ۔ اس طرح بحران پر قابو پا کر عوام کے لئے خوش حال مستقبل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ قرضوں پر چلنے والی پاکستانی حکومت ایسا کوئی قدم اٹھانے کے لئے بھی مزید قرضوں کی محتاج ہوگی۔ اس طرح پاکستان پر قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ بڑھتا چلا جائے گا۔ پاکستان کے معاشی معاملات اس کے سفارتی اور قومی سلامتی سے متعلق امور سے منسلک ہیں اور ان کا براہ راست اثر پاکستانی عوام کی سماجی صورت حال پر مرتب ہوتا ہے۔
ان حالات میں پاکستان کو اپنی دفاعی، خارجہ اور معاشی ترجیحات پر بیک وقت غور کرنا ہوگا۔ دنیا سے عوامی بہبود کے شعبوں کے لئے مدد مانگتے وقت اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ دنیا بھی پاکستان سے یہ سوال کرسکتی ہے کہ ملک خود اپنے وسائل کیوں عوامی بہبود پرصرف نہیں کرتا ۔ کیا پاکستان اپنی موجودہ مالی صلاحیت کی بنیاد پر دفاع اور فوج پر بجٹ کا 20 فیصد حصہ صرف کرنے کے قابل ہے؟ پاکستان کو یہ بھی طے کرنا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کا انحصار مغربی ممالک کے ساتھ مراسم پر ہے یا چین و روس کے ساتھ تعلقات کو اس نہج پر لے جانے کی ضرورت ہے کہ اسے امریکہ اور مغربی ممالک پر سفارتی انحصار کی ضرورت پیش نہ آئے۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کو یہ طے کرنا ہے کہ کیا معاشی احیا کا موجودہ طریقہ جاری رکھنا ہے یا قومی پیداوار میں اضافہ کے لئے نئے طریقوں پر غور کرنا چاہئے۔
پاکستان زرعی ملک ہے۔ ملکی آبادی کی اکثریت اب بھی زراعت سے ہی روزگار حاصل کرتی ہے۔ لیکن قومی پالیسیوں میں یہی شعبہ سب سے زیادہ محروم رہتا ہے۔ اس کی ترقی کے لئے وسائل فراہم نہیں ہوتے۔ پاکستان میں فی ایکڑ پیدا وار ہمسایہ ملک بھارت سے بھی کم ہے اور آبپاشی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ سوچنا چاہئے کہ کیا وقت آگیا ہے کہ پاکستان زراعت کو معاشی احیا کے نئے منصوبہ کی بنیاد بنا کر قومی ترقی کا نیا باب رقم کرے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker