تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔سمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد سمارٹ خود احتسابی کا انوکھا طریقہ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کیس میں سرکار کے وکیل فروغ نسیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کے نام سے بیرون ملک کوئی جائیداد موجود ہو تو اسے نیلام کرکے پیسہ قومی خزانہ میں جمع کروا دیا جائے۔ فروغ نسیم کو وزیر اعظم کی یہ خواہش بیان کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کے نام ایک خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انکشاف کیاتھا کہ وزیر اعظم سمیت متعدد سرکاری عہدیداروں کی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ ، صدر کی طرف سے اپنے خلاف دائر کئے گئے ریفرنس کی نیک نیتی کے معاملہ پر سپریم کورٹ میں مدعی ہیں۔ گزشتہ روز لکھے گئے خط میں واضح کیا گیاتھا کہ انہوں نے اسی سرچ انجن سے وزیر اعظم اور دیگر سرکاری عہدیداروں کی بیرون ملک املاک کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں جس کا حوالہ حکومت اور اس کے وکیل عدالت عظمیٰ کے سامنے دیتے رہے ہیں۔ اس خط کے بارے میں اگرچہ میڈیا میں وزیر اعظم، مشیروں اور دیگر عہدیداروں کی بیرون ملک املاک کے حوالے سے ہی خبریں سامنے آئی ہیں لیکن اس خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان املاک کا حوالہ دیتے ہوئے یہ نکتہ سامنے لانا چاہتے تھے کہ کسی سرچ انجن یا دوسرے ذریعے سے کسی جائیداد کی ملکیت کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات ، اس وقت تک قابل اعتبار نہیں ہوسکتیں جب تک متعلقہ سرکاری ادارے ان کی تصدیق نہ کرلیں اور ان کی خریداری کے لئے رقم کی فراہمی اور بیرون ملک سرمایہ کی منتقلی کے ذرائع کے بارے میں تمام حقائق کی چھان بین نہ کر لی جائے۔
گزشتہ سال کے شروع میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس دائر کرتے ہوئے صدر مملکت نے ان دو معزز ججوں پر سنگین الزامات عائد کئے تھے۔ ان الزامات کی بنیاد پر سرکاری ترجمانوں اور تحریک انصاف کے لیڈروں نے خاص طور سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزام تراشی پر مبنی سنسنی خیز مہم چلائی تھی۔ تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مؤقف رہا ہے کہ انہیں اپنی اہلیہ اور بالغ بچوں کی آمدنی کے ذرائع اور املاک کا جوب دہ کیوں کرقرار دیاجاسکتا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ اس سلسلہ میں غیر قانونی طریقے سےمعلومات جمع کرکے ان کی اور ان کے اہل خاندان کی نجی زندگی کو متاثر کیا گیا۔ کسی سرکاری ادارے کو سپریم کورٹ کے ایک جج کے خلاف اس طرح کی کارروائی کا حق حاصل نہیں ہوسکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وکلا تنظیمیں اس ریفرنس کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتی ہیں۔
اس دوران حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے گزشتہ چند روز کے دوران یہ کہتے ہوئے کہ ’جج بھی احتساب سے بالا نہیں ہوسکتا‘ بار بار اس بات پر اصرار کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم جوڈیشل کے شو کاز نوٹس کا جواب دینا چاہئے اور وہیں ریفرنس میں عائد الزامات کا سامنا کرنا چاہئے۔ اس پس منظر میں ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز ایک خط میں وزیر اعظم اور دیگر کی املاک کے بارے میں نیٹ سے حاصل شدہ معلومات فراہم کرتے ہوئے اپنے اس قانونی نکتہ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی کہ کسی سرچ انجن کی معلومات کو کسی جج یا عہدیدار کے خلاف دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
وزیر اعظم عمران خان جس تندہی سے کورونا وائرس کے خلاف اپنی حکومت کی ناکامی کو کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں اور سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اس حکمت عملی کی وجہ سے ’پاکستان کے غریب بھی بچ گئے، معیشت بھی بحال ہوگئی اور کورونا پر بھی قابو پایا جارہا ہے‘۔ عمران خان کو چنیدہ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ بے تکان بولتے ہیں اور اس میں خود کو دنیا کا عقل مند ترین لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نادر روزگار ’سمارٹ لاک ڈاؤن کے ویژن‘ نے دنیا بھر کو نئی راہ دکھائی ہے۔ اب کیا بھارت کا نریندر مودی اور کیا امریکہ کا ڈونلڈ ٹرمپ ، عمران خان کے بصیرت افروز فیصلوں پر ششدر ہیں ۔ اور عمران خان کے بقول دیر سے ہی سہی لیکن وہ بھی اب کورونا کے خلاف وہی طریقے اختیا رکررہے ہیں جن پر عمران خان شروع سے ہی زور دے رہے تھے۔
کورونا کے خلاف سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرز پر ہی وزیر اعظم نے سرکاری وکیل کے ذریعے اب سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ ’ اس بارے میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر ان کی ایک بھی جائیداد بیرون ملک ہو تو اسے نیلام کر کے پیسے قومی خزانے میں جمع کروادئے جائیں‘۔ گویا وزیر اعظم نے ایک ایسے الزام کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کی جو نہ تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط میں عائد کیا گیا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کے ججوں نے اس بارے میں استفسار کیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ وزیر اعظم اب سپریم کورٹ کے ججوں کو یہ ذمہ داری سونپ رہے ہیں کہ پہلے وہ ان جائیدادوں کی حقیقت معلوم کریں، پھر انہیں فروخت کرنے کا اہتمام کریں تاکہ قومی خزانے میں رقم جمع ہوسکے اور وزیر اعظم اپنی ایمانداری کی دھاک بٹھا سکیں۔ کیا اس طریقہ کو ’سمارٹ خود احتسابی‘ کا نام نہیں دیا جاسکتا؟ حکومت ایک جج کو صرف اس شبہ میں برطرف کروانا چاہتی ہے کہ اس نے اپنی خود کفیل اہلیہ اور بالغ بچوں کی بیرون ملک املاک کو اپنے ٹیکس کاغذات میں ظاہر نہیں کیا ۔ ایک سابق وزیر اعظم کو عمران خان کی حمایت یافتہ جے آئی ٹی کے اس الزام کے بعد سبکدوش کیا گیا کہ اس نے ایک ایسی تنخواہ ظاہر نہیں کی تھی جو کبھی وصول ہی نہیں کی گئی۔ لیکن اگر وزیر اعظم عمران خان جیسا دیانت دار اور عقل مند ہو اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے کامیاب تجربہ سے پوری دنیا میں اپنی مہارت اور دانش کی دھاک بٹھا چکا ہو تو وہ صرف یہ اعلان کرکے بری الذمہ ہوجائے گا کہ ’ٹھیک ہے۔ میری کوئی جائیداد ہے تو اسے بیچ لو‘۔
آج ہی قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے حکومت کی حمایت سے دست کش ہونے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت مزید کم ہوگئی ہے۔ اور آج ہی وزیر اعظم کورونا وبا پھیلنے کے بعد اہل سندھ کا احوال پوچھنے کے لئے کراچی پہنچے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ، لوگوں کے مرنے کی تعداد میں اضافہ ہورہا اور طبی سہولتیں دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن گورنر ہاؤس کراچی میں بیٹھ کر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے وزیر اعظم، سندھ کے وزیر اعلیٰ پر جھوٹ بولنے اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین پر غریب کی حالت زار سے نابلد ہونے کا الزام لگا رہے تھے۔ نہ جانے عمران خان کا وہ کون سا پس منظر ہے جس کی وجہ سے وہ غریبوں کے بارے میں بہتر آگاہی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص خود پسندی کی اس سطح پر پہنچ جائے کہ نہ اسے کوئی اپنے آپ سے خوبرو لگے، نہ وہ کسی کو خود سے زیادہ دیانت دار سمجھے اور نہ ہی کوئی اس سے بڑھ کر عقل مند ہو تو اسی قسم کی لغو بیانی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان کو کورنا وائرس کی صورت میں جس طبی ایمرجنسی کا سامنا ہے اور اس وبا سے جو عالمی مالی بحران پیدا ہؤا ہے، پاکستان میں اس کے شدید تر اثرات ظاہر ہوں گے۔ اس کا کسی حد تک اندازہ حال ہی میں پیش کئے گئے قومی بجٹ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ قومی اسمبلی میں ایک اہم سیاسی جماعت کی حمایت سے محروم ہونے کے بعد موجودہ حالات میں وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے اور قوم کو مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار کرنے کی بجائے، وزیر اعظم میڈیا کے ذریعے سندھ حکومت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس کا وزیر اعلیٰ جھوٹ بولتا ہے کیوں کہ وفاق کے ساتھ ملاقاتوں میں وہ ایک بات پر اتفاق کرکے چند گھنٹوں بعد ان سے مکر جاتا ہے۔ سیاسی عاقبت نااندیشی کے علاوہ یہ طرز عمل ملک کے مختلف صوبوں میں دوریاں پیدا کرنے اور ایک متاثرہ صوبے کے لوگوں میں دوری کا احساس بڑھانے کا سبب بنے گا۔
اسی میڈیا ٹاک میں عمران خان نے ایک بار پھر اٹھارویں ترمیم کو نقائص سے پر قرار دیا۔ قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے وسائل کی شرح کو نامناسب کہا اور واضح کیاکہ ان غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے کیوں کہ عمران خان کے بقول ’اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو آمرانہ اختیارات حاصل ہوگئے ہیں‘۔ وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں حکمرانی کا نظام تین سطحوں پر استوار ہوتا ہے لیکن صوبوں نے بلدیاتی نظام کو مؤثر نہیں بنایا اور اختیارات اور وسائل پر ’سانپ‘ بن کر بیٹھے ہیں۔ عمران خان کا کل مقدمہ پیپلز پارٹی اور سندھ میں اس پارٹی کی حکومت کے خلاف ہے لیکن وہ یہ بتانے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ جن تین صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے وہاں تحصیل کی سطح تک اختیارات کی تقسیم کا معاملہ کس حال میں ہے۔ اپنی غلطیوں سے آنکھیں بند کرکے دوسروں پر انگشت نمائی کرنا ہر مقبولیت پسند لیڈر کا وتیرہ ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے ووٹروں کو دھوکا دے سکے۔ عمران خان کے سیاسی بیانیہ کی عمارت بھی جھوٹ اور الزامات کی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔
حکومت اگر اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے خود کو مجبور محسوس کرتی ہے تو اسے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لانے سے کون روکتا ہے؟ آئین میں ترمیم یا رد و بدل کا فیصلہ تو پارلیمنٹ میں ہی ہوگا۔ پسندیدہ صحافیوں کے سامنے آئینی شقات کے خلاف پھنکارنے سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ لیکن اسمبلی کا یہ حال ہے کہ عمران خان اگر آج کی تاریخ میں اعتماد کا ووٹ لینا چاہیں تو شاید وہ اس میں کامیاب نہ ہوں۔ جن عناصر کے سہارے اگست 2018 میں یہ معرکہ سر کیا گیا تھا، وہ بھی اپنے بنائے ہوئے اس کردار کی حرکتوں کو دیکھ کر ہاتھ ملنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم میں کئے گئے فیصلوں کو تبدیل کرکے عمران خان مرکز کو مضبوط کرنے کے جس منصوبہ کو مکمل کرنا چاہتے ہیں ، اس سے جی ایچ کیو کے علاوہ کسی ادارے کی طاقت میں اضافہ نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم کو عقل کل ہونے کے بے پایاں گمان سے باہر نکل کر تسلیم کرلینا چاہئے کہ 20 ماہ کی حکمرانی میں تحریک انصاف نے جو گل کھلائے ہیں، اس کے بعد ملک میں سیاسی اقتدار کی اگلی تقسیم میں عمران خان پہلی پسند نہیں ہوں گے۔ اب فوج نہیں بلکہ ملک کے جمہوریت پسند عناصر ، خود مختار میڈیا اور عدلیہ ہی اقتدار میں موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے کروانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ البتہ دنیا کے سمارٹ ترین وزیر اعظم کی بصیرت، اس صورت حال کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker