تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔بھارتی جاسوس، سفارت کاری اور پاکستانی سیاست

ہونا تو یہ چاہئے کہ ملکی سفارتی معاملات کے بارے میں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے موجود ہو تاکہ دوسرے ملکوں سے معاملہ کرتے ہوئے نہ حکومت کو الجھن یا پریشانی ہو اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کو حکومت پر ’ملک فروخت‘ کرنے کا الزام عائد کرنا پڑے۔ تاہم پاکستان میں سیاسی منظر نامہ کو اس قدر آلودہ کردیا گیا ہے کہ نہ حکومت اہم سفارتی معاملات میں اپوزیشن پر اعتماد کررہی ہے اور نہ اپوزیشن حکمران جماعت کو نازک معاملات میں کوئی سہولت دینے پر آمادہ ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملہ میں یہ صورت حال کھل کر سامنے آئی ہے۔
پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے حکم کی روشنی میں بھارتی سفارت خانہ کو زیر حراست جاسوس کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں پہلی بار بھارتی سفارت کار کلبھوشن یادیو سے ملے تھے ۔ اصولی طور پر یہ معاملہ انسانی ہمدردی کے اصول کے تحت طے ہونا چاہئے تھا اور پاکستان اور بھارت دونوں کی حکومتیں اختلاف رائے کے باوجود اسے ایک فرد کے بنیادی حق کا معاملہ سمجھتے ہوئے طے کرتیں۔ کلبھوشن کو 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا ۔اس پر پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کا الزام ہے ۔ پاکستانی اطلاعات کے مطابق کلبھوشن چونکہ گرفتاری کے وقت بھارتی نیوی کاحاضر سروس کمانڈر تھا ، اس لئے اس کے خلاف ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ کلبھوشن کے اعتراف گناہ کی بنیاد پر فوجی عدالت نے اسے موت کی سزا دی اور آرمی چیف نے اس سزا کی توثیق بھی کردی۔
کلبھوشن یادیو نے اس سزا سے بچنے کے لئے رحم کی اپیل دائر کی تھی تاہم اس دوران بھارت نے اپنے شہری کی حراست کے دوران اس تک قونصلر رسائی نہ دینے کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرلیا۔ بھارت کا مؤقف تھا کہ پاکستان نے بھارتی سفارت کاروں کو کلبھوشن یادیو سے ملاقات کا موقع نہ دے کر جینوا کنونشن کی خلاف ورزی کی تھی ۔ بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے اس سزا کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عالمی عدالت نے اس معاملہ میں پاکستان کو جینوا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ پاکستان کو حکم دیا گیا کہ کلبھوشن کو بھارتی سفارت کاروں سے ملنے کا موقع دیا جائے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کیا اس شق پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت کے دوران کسی طرح کلبھوشن کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔ البتہ عالمی عدالت نے پاکستانی قانون کے مطابق بھارتی جاسوس کو سزا دینے کا حق تسلیم کیا اور اس حق سے انکار کا بھارتی دعویٰ مسترد کردیا۔
عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کی روشنی میں پاکستان نے موت کی سزا پر عمل درآمد روک دیا اور بھارتی سفارت کاروں کو قونصلر رسائی کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ بدقسمتی دونوں ملکوں نے اس معاملہ کو قانونی اور انسانی حقوق کا معاملہ سمجھ کر طے کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ اپنے اپنے ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کے لئے سیاسی و سفارتی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ بھارتی ترجمانوں نے مسلسل پاکستانی کوششوں کو مسترد کیا اور قونصلر رسائی کو بامقصد طور سے استعمال کرنے کی بجائے اسے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور سفارتی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا۔ خاص طور سے کلبھوشن کو سزا کے خلاف اپیل کا حق دینے کے حوالے سے قونصلر ملاقات کو دونوں ملکوں نے سیاسی رنگ دے کر نہ صرف کلبھوشن کے ساتھ بطور ایک انسان زیادتی کا ارتکاب کیا ہے بلکہ اپنے اپنے ملکوں کے عوام میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ حالانکہ موجودہ حالات میں دونوں ملکوں کو جذبات کی رو میں بہ کر فیصلے کرنے کی بجائے دلیل اور حجت کی بنیاد پر اقدام کرنے کی ضرورت تھی تاکہ اعتماد سازی کا اہم کام ممکن ہوسکتا۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ گزشتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارتی وزارت خارجہ کے بیانات نے اس کے برعکس کردار ادا کیا۔
اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ پاکستانی حکومت نے عالمی عدالت انصاف کی طرف سے کلبھوشن یادیو کو سزا کے خلاف اپیل کا حق دینے کے لئے 20 مئی کو ایک آرڈی ننس جاری کیا تھا جس کے تحت کلبھوشن یادیو اور بھارتی حکومت کو فوجی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا تھا۔ تاہم کلبھوشن کو یہ استحقاق 20 جولائی تک استعمال کرنا ہوگا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے چند روز پہلے اس حوالےسے ایک بیان میں بتایا تھا کہ کلبھوشن نے اپیل کا حق استعمال کرنے کی بجائے رحم کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی حکام کلبھوشن کے بارے میں پاکستانی ذرائع سے سامنے آنے والی کسی خبر کو مستند نہیں مانتے ۔ اس لئے اس اطلاع کو بھی قابل اعتبار نہیں سمجھا گیا۔ اسی لئے بھارت نے ایک بار پھر قونصلر رسائی طلب کی جو پاکستان نے قبول کرلی۔ اس حوالے سے ’محفوظ ‘ ملاقات کا مطالبہ بھی سامنے آیا جس کے دوران بھارتی سفارت کار اپنے شہری سے کسی دباؤ کے بغیر بلا روک ٹوک ملاقات کرسکیں۔ بھارت نے خاص طور سے ملاقات کے دوران شیشے کی دیوار، محافظوں کی موجودگی اور ملاقات کی ریکارڈنگ پر اعتراضات اٹھائے تھے اور مطالبہ کیا تھا کہ ان حالات میں ملاقات کو ’کسی مداخلت کے بغیر‘ نہیں سمجھا جائے گا۔
بظاہر پاکستان نے تمام بھارتی مطالبات تسلیم کئے تھے لیکن اس کے باوجود کلبھوشن سے ملاقات کے لئے آنے والے دونوں بھارتی سفارت کاروں نے انتظامات پر اعتراض اٹھایا اور پاکستانی وضاحت کو تسلیم کرنے کی بجائے احتجاج کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔ بعد میں شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے تمام بھارتی شرائط مانتے ہوئے سہولت فراہم کی تھی لیکن بھارتی سفارت کاروں نے اپنے شہری سے ملاقات کا موقع ضائع کردیا۔’ لگتا ہے وہ قونصلر رسائی کی بجائے اس معاملہ پر سیاست کرنا چاہتے تھے‘۔ بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ملاقات کے دوران ریکارڈنگ بھی کی جارہی تھی اور محافظ بھی موجود تھے۔ اس بیان کے مطابق کلبھوشن یادیو بھی دباؤ میں محسوس ہوتے تھے اس لئے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔بھارت نے پاکستان پر معاہدہ کی خلاف وزری کے علاوہ جینوا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے حکم کے مطابق سہولت فراہم نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ دونوں ملکوں نے اس موقع کو ایک دوسرے کے خلاف سفارتی سنگ زنی کے لئے استعمال کیا۔
اب پاکستان نے ایک بار پھر قونصلر سہولت دینے کا اعلان کیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ نہ تو ملاقات کی ریکارڈنگ کی جائے گی اور نہ ہی ملاقات کے دوران محافظ موجود ہوں گے۔ اگرچہ یہ پیشکش بظاہر فراخدلانہ ہے لیکن یہ سوال ضرور سامنے آئے گا کہ پاکستانی حکام نے 16 جولائی کی ملاقات میں ان سہولتوں کا اہتمام کیوں نہیں کیا؟ کلبھوشن یادیو نے پاکستان کے خلاف جو بھی جرائم کئے ہوں، وہ اب ماضی کا حصہ ہیں۔ اب وہ ایک مجرم کے طور پر موت کی سزا کا انتظار کررہا ہے۔ بطور انسان اسے منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق حاصل ہے۔ پاکستانی حکام کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے تھا کہ بھارت کو اس حوالے سے بلاجواز بیان بازی کا موقع نہ ملے۔ کلبھوشن اپنے سنگین جرائم کے باوجود اس وقت پاکستان کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اگر بھارتی سفارت کار اس سے تنہائی میں مل لیتے ہیں تو اس سے پاکستانی مفاد کو کسی طرح بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔ بلکہ اس طرح پاکستان کی فراخدلی اور قانون پسند ہونے کی تحسین ہوتی۔
اسی حوالےسے آج پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایک بیان بھی قابل غور اور ایک افسوسناک پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہاہے کہ حکومت نے کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دینے کے لئے آرڈی ننس خفیہ طور سے جاری کیا اور اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی منعقد ہوئے لیکن ا س معاملہ کو پارلیمنٹ میں لانے کی زحمت نہیں کی گئی۔ بلاول کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے قوم سے ’دھوکہ‘ کیا ہے، اس لئے وزیر اعظم کو فوری طور سے مستعفی ہونا چاہئے۔ بلاول بھٹو کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ دیگر معاملات کی طرح اس اہم معاملہ پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔ لیکن پاکستان میں پیدا کردہ سیاسی ماحول میں قومی اسمبلی اور سینیٹ ڈبیٹنگ فورم سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ کلبھوشن کا معاملہ ایک اہم سفارتی معاملہ ہے جس پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس معاملہ میں وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ غلط اور غیر ضروری بیان ہے جس سے پاکستان کی شہرت متاثر ہوسکتی ہے اور داخلی انتشار کے اثرات سفارتی معاملات اور دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی طرح اپوزیشن کو بھی اس معاملہ میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
پاکستان کو ضرور قومی مفادات کے خلاف کام کرنے والے اور دہشت گردی میں ملوث کسی شخص کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ لیکن اس حوالے سے نہ تو کسی فرد کے انسانی حقوق کو داؤ پر لگایا جائے اور نہ ہی غیر ضروری سیاست کی جائے۔ اس بارے میں قومی سطح پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ حیرت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ایک ایسے معاملہ پر بھی اختلاف پیدا کررہی ہے جس پر ملک بھر میں عمومی طور سے یکساں احساسات موجود ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker