تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ۔۔آل پارٹیز کانفرنس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا

مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے عید الضحیٰ کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے دونوں پارٹیوں نے ایک مشترکہ ایکشن کمیٹی قائم کی ہے جو کانفرنس کے انعقاد کے لئے ضروری اقدامات کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ایک پریس کانفرنس میں اے پی سی بلانے کا اعلان کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیاہے۔
احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک ایسے وقت میں انتقامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جبکہ اندروانی اور بیرونی خطرات کی وجہ سے پاکستان میں یک جہتی اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غربت میں اضافہ، میڈیا کے خلاف اقدامات اور عالمی سطح پر سفارتی تنہائی جیسے مسائل میں یہ حکومت ملک کے لئے خطرہ بن چکی ہے ، اس لئے اس کا جانا ضروری ہے‘۔ پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ اپوزیشن پارٹیاں قومی اسمبلی میں تعاون میں اضافہ کریں گی۔ اور عیدا الاضحی سے پہلے آل پارٹیز کانفرنس کے لئے ہوم ورک مکمل کرلیا جائے گا۔
موجودہ حکومت کی پے در پے ناکامیوں کی روشنی میں اپوزیشن کی طرف سے احتجاج کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ خاص طور سے تحریک انصاف کی حکومت نے بنیادی آزادیوں کو کم کرنے، میڈیا کو دبانے اور پارلیمنٹ کو ناکارہ بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی جمہوری حکومت سے ایسے جابرانہ اور غیر متوازن طرز عمل کی توقع نہیں کی جاتی۔ اس کے خلاف احتجاج ضرور ریکارڈ پر آنا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی طے کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ملکی معیشت، جمہوریت اور آزادیوں کو لاحق اندیشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام اپوزیشن پارٹیوں کا ایک اجلاس کافی ہوگا؟ ماضی میں ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں کیوں کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان لائحہ عمل اور اہداف کے حوالے سے واضح فرق موجود ہے۔
یہ اختلاف گزشتہ برس کے آخر میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے دوران بھی کھل کر سامنے آیا تھا۔ اس وقت بھی اس ایک نکتہ پر تمام اپوزیشن لیڈر متفق تھے کہ عمران خان بطور وزیر اعظم ناکام ہوچکے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت ملک کو درپیش مسائل کا سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہے۔ اس کے باوجود دونوں بڑی پارٹیوں نے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے سے گریز کیا تھا۔ آزادی مارچ کے حوالے سے یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سوجھ بوجھ رکھنے والے لیڈر نے کیوں تن تنہا حکومت کے خاتمہ کے لئے مارچ اور دھرنے جیسا اقدام کیا اور پھر کن وجوہات کی بنا پر اچانک اسلام آباد میں دیا گیادھرنا ختم کردیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اس وقت یہ کہتے ہوئے دارالحکومت میں دھرنا ختم کیا تھا کہ احتجاج مختلف صورت میں جاری رہے گا اور ان کی پارٹی شاہراہوں پر دھرنا دے کر حکومت کے استعفیٰ تک دباؤ جاری رکھے گی۔ اس دوران یہ تاثر بھی دیا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے آخر اور اس سال کے شروع میں حکومت تبدیل ہوجائے گی یا نئے انتخابات منعقد ہوں گے۔ ان میں سے کوئی قیاس بھی پورا نہیں ہوسکا۔ نہ مولانا فضل الرحمان احتجاج کا سلسلہ جاری رکھ سکے اور نہ ہی تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کی امید بر آئی۔
احسن اقبال نے آج پریس کانفرنس میں موجودہ حکومت سے جان چھڑانے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اس سال کے شروع میں ’خود اپنے ہی بوجھ تلے دب کر ختم ہوجاتی‘ لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اسے سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ اس طرح حکومت کی تبدیلی کے بارے میں ان پرانی قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے جو آزادی مارچ کے دوران سامنے آئی تھیں۔ اس دوران پاکستانی میڈیا میں تسلسل سے مائنس ون کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدام اعتماد آنے والی ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز پنجاب سے ہوگا جہاں عثمان بزدار کو تبدیل کرکے تحریک انصاف کودفاعی پوزیشن پر لایا جائے گا۔ اسی اثنا میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک انٹرویو میں اپنی حکومت کی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وزیر اعظم نے کابینہ کو چھ ماہ کے اندر کارکردگی دکھانے کی ہدایت کی ہے ورنہ حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے‘۔ اس بیان سے کابینہ کی کارکردگی میں تو اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا لیکن ان افواہوں اور قیاس آرائیوں میں ضرور اضافہ ہؤا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں دراڑیں پڑنا شروع ہوچکی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ دورہ لاہور کے دوران پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر عثمان بزدار کی تائید کرتے ہوئے ایک بار پھر ان خبروں کو غلط ثابت کیا ہے کہ پنجاب میں کسی بھی قسم کی بڑی تبدیلی کا امکان ہے۔ ایسے میں ان خبروں کی وجہ تسمیہ اور مسلسل انہیں پھیلانے کے حوالے سے ضرور نئے سوالات سامنے آتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب تلاش کرلیا جائے تو ملکی سیاسی صورت حال، اپوزیشن کی حکمت عملی اور مستقبل کے منظر نامہ کے بارے میں رائے قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ عمران خا ن یا عثمان بزدار کی علیحدگی کی خبریں کیوں تواتر سے سامنے آرہی ہیں؟ کیا اس کی وجہ ملک کے سیاسی ڈرائینگ رومز سے پھیلائی جانے والی افواہیں اور صحافیوں کی گرمجوشی ہے جو کسی بریکنگ نیوز کی تلاش میں بے بنیاد افواہوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن جس تواتر سے اور جس سطح سے ان خبروں کو پھیلانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس سے یہ تاثر بھی قوی ہوتا ہے کہ ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے والے غیر منتخب ادارے ایسی خبروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانے کے علاوہ ، عوام کی بے چینی کا اندازہ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ سیاسی منظر نامہ پر پتلی تماشہ کرنے والی کوئی بھی قوت عوامی احساسات سے نابلد نہیں رہنا چاہتی۔
سیاسی تبدیلی کی خواہش رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ضرور جاننا چاہئے کہ وہ کیوں ایک ایسی حکومت کے خلاف احتجاج یا تحریک کی بات کررہی ہے جس کے بارے میں پہلے سے ایک خاص ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ اگر ان کوششوں کی بنیاد اپوزیشن لیڈر فراہم نہیں کررہے اور وہ کسی نہ کسی انداز میں اپنے دوست صحافیوں کے ذریعے مائنس ون، تحریک عدم اعتماد یا نئے انتخابات کی باتوں کو ’پکی خبر ‘ کے طور پر پھیلانے کا کام نہیں کرتے تو سوچنا چاہئے کہ پھر کون سے عناصر یہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔ ملک میں جمہوریت کی دہائی دینے والی سیاسی پارٹیوں کو کیا یہ زیب دے گا کہ وہ ملک میں سول حکمرانی کے خلاف کسی غیر واضح اور نامعلوم ایجنڈے کا حصہ بنیں یا منتخب حکومت کے مقابلے میں غیر منتخب طاقتوں کا آلہ کار بن جائیں؟
یقین کرنا چاہئے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حکومت مخالف جس تحریک کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتی ہیں، وہ جمہوری روایت کو مستحکم کرنے کے بنیادی مقصد کو آگے بڑھائے گی۔ اس حسن ظن سے کام لیا جائے اور اپوزیشن پارٹیوں کی جمہوریت دوستی اور نظام کو مضبوط کرنے کے ارادے پر یقین کرلیا جائے تو اس کے نمائیندہ لیڈروں کو حکومت کے خاتمہ کو مسائل کا حل قرار دینے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ لیکن احسن اقبال اور قمر زمان کائرہ کی پریس کانفرنس میں مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بظاہر ان سے نکلنے کا ایک ہی حل پیش کیا گیا ہے کہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کو ختم کیا جائے۔ یہ رویہ ایک طرف اپوزیشن کی تہی دامنی کی چغلی کھاتا ہے تو دوسری طرف یہ واضح کرتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں اور تحریک انصاف کی لڑائی جمہوری روایت کو مضبوط کرنے اور مسائل حل کرنے سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا مطمح نظر اقتدار میں حصہ داری ہے۔ ورنہ حکومت کی علیحدگی کی بجائے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ان تجاویز کو پیش کیا جاتا جن کے ذریعے حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یعنی مہنگائی کم ہوسکتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور معاشی کساد بازاری ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بدقسمتی سے اے پی سی کا اعلان کرتے ہوئے احسن اقبال یا قمر زمان کائرہ نے مسائل کا حوالہ اپنے اس مؤقف کی تائید میں دیا ہے کہ عمران خان کی حکومت ناکام ہوگئی ہے ، اس لئے اسے ختم ہونا چاہئے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ مسائل اور نظم حکومت کے حوالے سے اس کے بعد کیا ہوگا؟
اس صورت حال کو ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ بلند کرنے والے نواز شریف اور مریم نوز کی پراسرار خاموشی، کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن سے پہلے شہباز شریف کی لندن سے اچانک واپسی اور اس کے بعد سے متبادل کے طور پر خود اپنے آپ کو اہل امید وار ثابت کرنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ شہباز شریف گزشتہ کچھ عرصہ سے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرنے یا فون پر بات کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرف سے آج آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے اور سیاسی تبدیلی کے لئے مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی فون پر گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے۔ کیا اس گفتگو کے بعد یہ یقین کرلیا جائے کہ شہباز شریف اب کسی چور دروازے سے وزیر اعظم بننے کے طریقہ کو ترک کرچکے ہیں۔ اگر وہ اب بھی اسی اصول کو مانتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست کے لئے مقتدر حلقوں سے درپردہ معاملات طے کرنا ضروری ہے تو پھر عمران خان کے وزیر اعظم رہنے میں کیا خرابی ہے؟
ملک میں اس وقت تک کسی بااختیار جمہوری حکومت کے قیام کا تصور محال ہوگا جب تک پارلیمنٹ کے سوا کسی ادارے کو طاقت کا سرچشمہ قرار دینے کا اصول کسی بھی جد و جہد کا بنیادی نکتہ نہ ہو۔ نظام کی بجائے فرد یا پارٹی تبدیل ہونے سے پاکستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker